صفحہ اولناول

طالب و مطلوب (ناول: حصہ دوم)

ازقلم: عروج احمد، لاہور
وہ مسلسل اذیت سے گزر رہی تھی۔ ایک انسان جو آپ کے لیے سب کچھ ہو مگر اس کے لیے آپ کچھ بھی نہ ہوں یہ احساس کتنا شدید اذیت ناک ہو سکتا ہے وہ اس سے واقف ہو رہی تھی۔ وہ کل رات بہت زیادہ روئی تھی اور خود سے لڑتی رہی پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ذاکر سے امیدیں لگانا چھوڑ دے گی۔ اسے جو اپنے شریک حیات سے چاہیے تھا وہ اسے ذاکر سے نہیں مل سکتا تھا۔

اس کی اس گھر میں ایک رانی کی حیثیت ضرور تھی مگر اس رانی کی جس کا کوئی راجہ نہیں ہوتا، جس کا صرف نام کا کردار ہوتا ہے۔ وہ اس کردار کو نبھاتے نبھاتے تھک چکی تھی۔ یہ تھوڑا عرصہ نہیں تھا یہ اس کی زندگی کے دس سال تھے۔ وہ دس سال جو اس نے خاموشی سے امیدیں لگاتے گزار دیے کہ اچانک سے سب بدل جائے گا اور ذاکر ااے سمجھ جائے گا مگر ایسا کبھی نہیں ہوا۔

ابھی وہ اس مایوسی کے دور سے گزر ہی رہی تھی اور خودکشی کے طریقے سوچ رہی تھی کہ اچانک سے ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس کو ذہنی طور پر ہلا کر رکھ دیا۔

ذاکر کو وہاں سے گئے دو دن گزر چکے تھے اور آج تیسرا دن تھا۔ صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ ٹی وی لاؤنج کے بڑے ہال میں ایل ای ڈی کے عین سامنے صوفے پر بیٹھی کوئی مووی دیکھ رہی تھی۔ بظاہر وہ صوفے کی پشت پر بازو پھیلائے پرسکون نظر آرہی تھی۔ اس کی نظریں سامنے اسکرین پر جمی تھیں مگر درحقیقت وہ کہیں اور پہنچی ہوئی تھی۔
سامعہ ہال میں داخل ہوئی۔ کہنے کو وہ اس گھر میں کام کرنے والی معمولی سے ملازمہ تھی مگر عروش کا ہمیشہ سے اس کے ساتھ بہت دوستانہ رویہ تھا۔ جب وہ اس علاقے میں گھر لے کرشفٹ ہوئے تھے وہی تھی جس نے اس کا یہاں دل لگایا تھا۔ سامعہ ان ملازمین میں سے تھی جو مالک کے لیے جان بھی دینے سے گریز نہیں کرتے۔

سامعہ ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد آج ذاکر ہاؤس لوٹی تھی اور آتے ہی اس نے مالکن کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ اب اسے ہال میں موجود پا کر وہ خوشی سے اجازت لے کر وہیں آ بیٹھی۔

”یہ کیا ہوا! آپ نے کیوں اپنا حال خراب کیا ہوا ہے؟“

شاید اس نے عروش کے چہرے سے اس کے روتے رہنے کا اندازہ کر لیا تھا اور کچھ اس نے واقعی اپنا حال بگاڑ رکھا تھا۔ اس نے بال برش کیے بغیر بے ترتیبی سے باندھ رکھے تھے۔ اس کی بادام جیسی بناوٹ کی خوبصورت آنکھوں میں جھانکنے سے واضح طور پر غم اور مایوسی دیکھی جا سکتی تھی جسے دیکھ کر سامعہ سنجیدہ ہو گئی۔ اس کا رنگ پھیکا پڑا ہوا تھا اور چہرہ بھی بہت اترا ہوا تھا اس کے ساتھ اس نے بے رنگ سا لباس پہن رکھا تھا۔

”میں ٹھیک ہوں۔۔ بس کچھ طبیعت ناساز ہے۔ تم سناؤ ماں جی کی طبیعت کیسی ہے اب؟“

”اب تو وہ بہتر ہیں۔۔ بھابھی بھی میکے سے آ گئی ہیں تو اب مجھے ان کی فکر نہیں۔ آپ سنائیں۔ لگتا ہے صاحب آ کر جا چکے ہیں!“
عروش نے اپنی آنکھوں میں بلاوجہ کی ٹھہری ہوئی نمی کو جذب کر کے ہوش کا سا انداز اختیار کیا۔

”ہممم وہ تو آ کر چلے گئے۔“ سامعہ اس کے مختصر سے جواب پر سمجھ چکی تھی کہ وہ ان کی وجہ سے ہی منتشر حال نظر آ رہی تھی۔ اس نے مزید زخموں کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا اور وہ خاموشی سے کام میں لگ گئی۔

ڈور بیل نے عروش کو متوجہ کیا تھا۔ وہ بے دلی سے اٹھی اور دروازے تک چلی آئی۔ دروازہ کھلنے پر اسے پارسل والا لڑکا نظر آیا۔ وہ حیران نظر آ رہی تھی کیونکہ اس نے کچھ بھی نہیں منگوایا تھا۔ اس نے ڈلیوری مین سے کہا وہ غلطی سے کسی اور کا آرڈر یہاں لے آیا ہے اور وہ اندر چلی آئی۔ کچھ دیر بعد پھر سے ڈور بیل ہونے لگیں۔ وہ اکتائے ہوئے پھر سے باہر آئی اور اب غصے سے برسنے لگی۔

”مجھے اسی گھر کا پتہ دیا گیا ہے۔۔ میرا کام تو سامان پہنچانا ہے آپ لے لیں اور جس نے بھیجا ہے اسی سے پوچھ لیں۔“ ادب سے اس لڑکے نے درخواست کی تھی۔ آخر وہ پارسل لینے پر مجبور ہو گئی۔ جب وہ لڑکا کار میں سے ایک بڑی سی پیک پینٹنگ نکال رہا تھا تو وہ حیران سی ہوئی۔ ذاکر کو تو پینٹنگ منگوانے کی عادت نہیں تھی۔ اکثر وہی آرٹ گیلری سے پینٹنگز پسند کر کے لایا کرتی تھی اور دیواروں کو آراستہ کیا کرتی تھی۔ اس نے تجسس سے اسے اندر رکھوایا اور اسے بھیجنے والے کا نمبر لے کر کال لگائی لیکن وہ نمبر بند تھا۔ وہ لڑکا جا چکا تو اب وہ اندر لوٹ آئی اور تجسس سے اس پینٹنگ کی پیکنگ اتارنے لگی۔

اس کے دل میں کہیں نہ کہیں پھر سے امید جاگی کہ شاید یہ ذاکر کی طرف سے ایک تحفہ ہو۔ اس کے دل میں پھر سے ایک جھوٹی امید پنپنے لگی کہ ہو سکتا ہے دور جا کر اسے اپنے رویے کا احساس ہو گیا ہو اور وہ اسے یہ تصویر بھیج کر خوش کرنا چاہتا ہو۔ اچانک سے اس کے دل میں جشن کا سا سماں ہونے لگا۔ اسے لگا کہ وہ جیت گئی۔ اس کے دل نے کہا دیکھا سب ٹھیک ہو گیا نا!

وہ خوشی سے تصویر کی پیکنگ اتار رہی تھی اور سوچنے لگی کہ اتنے سالوں بعد ہی سہی مگر ذاکر اسے سمجھ گیا کہ اسے کیا پسند ہے۔
ذاکر نے اس کی پسند کا خیال کیا، کیا یہ کافی نہیں! آخر اس کو یاد آ گیا کہ اس کی بیوی ایک آرٹسٹ تھی اور اسے یہ چیزیں پسند ہیں۔۔ تو اس نے اتنے سالوں بعد اس کی پسند کا کوئی گفٹ اسے بھیج ہی دیا۔
وہ اندر ہی اندر بہت خوش تھی اس کے چہرے پر ڈھیروں امیدیں جگمگانے لگیں۔

اس نے پینٹنگ کو آدھا بے پردہ کیا تو اسے جھٹکا سا لگا۔ وہ اندر سے ہل کر رہ گئی۔ اس نے جلدی سے کھینچ کر ساری پیکنگ اتار دی اور وہ اس کے سامنے بے نقاب ہو گئی۔ یہ تو وہی پینٹنگ تھی جو اسے پارک میں دیکھنے کو ملی تھی۔ اب اسے پرسرار سبز آنکھوں والے مرد کی گھورتی آنکھیں یاد آئی تھیں۔

وہ حیران پریشان سی یہ سوچ رہی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ یہ تصویر اسے کیوں بھیجی گئی ہے؟

اس کی نظریں اس تصویر پر جم گئیں۔ وہ وحشت کے عالم میں کئی منٹوں تک اسے ہی تکتی رہی۔

وہ مکمل ہونے کے بعد مزید پرسرار معلوم ہو رہی تھی۔ اس نے مصور کا نام پڑھنے کی کوشش کی جو اسے سمجھ نہیں آ سکا۔ اس کی سانسیں حلق میں اٹک رہی تھیں۔ وہ صوفے پر بیٹھ کر کئی منٹ سامنے دیکھ کر کچھ سوچتی رہی۔ اس میں کچھ ایسا ضرور تھا کہ وہ اس منظر میں کھو جاتی تھی۔ اس نے دوبارہ سے اس نمبر پر کال لگائی مگر وہ نمبر اب بھی بند تھا۔ وہ مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ یہ اسے کیوں بھجوائی گئی؟
وہ خود سے سوال کرتی رہی۔ اچانک اس کے دل میں پھر سے امید پیدا ہونے لگی کہ یہ ذاکر کا ہی سرپرائز دینے کا کوئی نیا انداز ہے۔۔ تو اسے احساس ہو گیا کہ مجھے سرپرائز پسند ہیں جیسے کہ مجھے پینٹنگز پسند ہیں۔ اس کے دل نے اظہارِخیال کیا۔

پھر اسے خیال آیا کہ اگر ایسا نہیں ہو تو پھر اس کی کیا حقیقت ہے۔ مجھے ایک مصور نظر آیا اور وہ جو پینٹنگ بنا رہا تھا اس نے اپنی پینٹنگ مجھے بھیج دی۔ آخر یہ کیا ماجرہ ہے؟ وہ کہانی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی. اس نے ملازمہ سے کہہ کر اسے وہیں ہال میں جگہ منتخب کر کے لگوا لیا۔ نماز پڑھ کر وہ سونے کے لیے کمرے میں چلی آئی تھی۔ اب اس کا ذہن ذاکر سے ہٹ کر اس تصویر میں اٹک گیا تھا۔ اسے پل پل اس عورت کی جگہ اپنا وجود محسوس ہونے لگا۔ وہ اس کانٹے دار بیل میں جکڑی عورت کی جگہ خود کو محسوس کرنے لگی۔ اچانک سے اسے لگا ذاکر اسے دکھانا چاہتا ہے کہ وہ ایک بےبس عورت ہے اور اس بیل میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ کبھی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔۔ تو آخر یہ اس کے دل پر پھر سے ایک وار تھا۔

اچانک اس کا زخمی دل رونے لگا۔۔ سب کچھ گڑ مڑ ہو گیا۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے کیا ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ آخر اس نے ذاکر کو فون لگایا۔ ذاکر نے ہنس کر سلام دعا کے بعد پوچھا خیریت ہے اس دفعہ تو وہ منائے بغیر خود ہی مان گئی اور اسے فون کر لیا۔

اس نے سیدھا مدعہ پر آتے ہوئے پوچھا ”یہ پینٹنگ والا سرپرائز آپ کا ہے؟“
ذاکر حیران سا ہو گیا۔ ”کون سی تصویر! تمہیں پتہ ہے مجھے ان چیزوں کا شوق نہیں۔۔ ایسے فضول شوق صرف تم ہی پالتی ہو۔“

وہ اب مزید حیران ہو گئی۔ ”تو پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے گھر پہ ایک تصویر آئی اور نہ اسے آپ نے منگوایا اور نہ ہی میں نے۔“

ذاکر کچھ حیران ہوا اور پھر مسکرا دیا۔ ”ٹھیک ہے یہ اچھا بہانہ تھا بات کرنے کا۔۔ ویسے کسی اور بہانے سے بھی کال کی جا سکتی تھی۔“ اب عروش کو اس پر شدید غصہ آنے لگا اور ہتک محسوس ہوئی کہ دو دن بعد بھی اسے ہی بات کرنا پڑئی اور اب شرمندہ بھی ہونا پڑا۔

وہ اندر ہی اندر خود کو ذلیل کرنے لگی، کوسنے لگی۔ ذاکر نے پھر سے کہنے لگا۔

”تم نے پینٹنگ منگوا بھی تو لی کوئی بڑی بات نہیں۔۔ ویسے یہ بتاؤ کتنے پیسے اڑائے اس دفعہ!“

وہ پریشان ہو گئی یعنی ذاکر کو اس پر یقین نہیں تھا۔

”ہاں میں نے ہی منگوا لی اور آپ کی ایک مہینے کی تنخواہ اڑا دی۔ اب سکون آ جائے گا؟“ وہ ناراضگی سے چڑ کر بولی اور ابھی وہ کوئی جواب دیتا اس نے پہلے ہی کال کاٹ دی۔

اس کا دماغ اچانک سے سوال کرنے لگا یہ کیا ماجرہ ہے؟ پھر اسے لگا کہ ایک پارک میں اس کا ایک شخص کو پینٹنگ کرتے دیکھنا اور پھر دو دن بعد اس پینٹنگ کا گھر آ جانا اس کا ذاکر سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اتفاق ہی تھا کہ وہ ایک پارک میں گئی اور اسے وہاں ایک پینٹنگ کرتا شخص نظر آیا۔ پھر اس نے پیچھا کیا اور یہ پینٹنگ بھیج دی گئی۔ اب اس میں ذاکر کا تعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ شاید پینٹنگ میں بنی لڑکی کی صورت اس کی صورت سے مل رہی تھی اسی لیے اسے لگا کہ یہ پینٹنگ اسی کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس نے غور کیا تو اسے یاد آیا کہ اس دن یہ پینٹنگ ابھی ادھوری تھی اور باغ کو خوبصورت بنانے پر کام کیا جا رہا تھا پر آج یہ مکمل تھی۔ اس کے دل میں یہ امید اسی لیے پیدا ہوئی کیونکہ اس دن ذاکر نے اس سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں جانے کا پروگرام بنا رہی ہے تو اس نے بتا دیا تھا کہ وہ اس پارک میں جا رہی ہے۔

اس کے دل میں آیا کہ شاید ذاکر نے پینٹر کو اس پارک میں بھیجا ہوگا تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی صحیح صورت بنا سکے۔ اسی لیے اسے یہ وہم ہوا کہ یہ ذاکر کی طرف سے کوئی اس کے لیے تحفہ ہے۔

اس کے دل نے اس کو امید دلا کر پھر سے ذلیل کروا ڈالا۔ وہ اندر ہی اندر خود پر ہنس رہی تھی اور اپنی قسمت پر رو رہی تھی۔

وہ پھر سے اس تصویر کو دیکھنے ہال میں چلی آئی اور دیکھتے دیکھتے اندر ہی اندر کلپنے لگی۔ وہ فیصلہ کرنے لگی کسی بھی طرح اسے خود کو اس بیل سے آزاد کروانا ہے۔ انہی سوچوں میں الجھی ہوئی وہ بیڈ روم کی طرف چلی آئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کار سڑک پر تیز رفتار میں چل رہی تھی۔ وہ اس کی باتیں سنتے ہوئے شیشے سے باہر تکتی جا رہی تھی۔ وہ پینٹنگ والے واقعہ پر عروہ سے تبصرہ کر رہی تھی۔ اس واقعے کو دو دن گزر چکے تھے۔ ہفتے کی رات تھی اور وہ دونوں شہر کے مشہور ترین کیفے پر چند گھنٹے گزارنے جا رہی تھیں۔ جلد ہی وہ پینٹنگ کی مالیت پر تبصرہ کرنے لگیں اور عروش کو دل ہی دل میں یقین ہونے لگا کہ یہ ذاکر نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ کبھی بھی ایسی فضول خرچی کے لیے دل بڑا نہیں کر سکتا۔ یہ سب اسی کے پالے ہوئے شوق تھے اور ایسی ہی فضول خرچیوں پر ذاکر اسے عیاش عورت کہا کرتا تھا۔ عروہ کچھ بھی حتمی کہنے سے پرہیز کر رہی تھی۔

کیفے پر پہنچ کر وہ سب بھول کر خوشگوار موڈ کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ اس نے عروہ کے اصرار پر آج معمول سے الگ لباس پہن رکھا تھا۔ اورنج چھوٹی کرتی کے نیچے کھلا سا ٹراؤزر اور اس پر قیمتی گاؤن اسے بہت جچ رہا تھا۔ عروہ نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اپنی پسند کی میز منتخب کی تھی اور پھر وہ وہیں آمنے سامنے بیٹھ گئیں۔ عروہ ہلکے سبز رنگ کے سلک کے کرتے پاجامے میں ملبوس اس کے سامنے موبائل کان سے لگائے فون سننے میں مصروف تھی۔ ایک جانب بڑے سے اسٹیج پر قوالی چل رہی تھی۔ اس سے پچھلی دفعہ جب وہ دونوں یہاں آئی تھیں تب قوالی کے ساتھ مردانہ رقص نے محفل سجا رکھی تھی۔

اسے امید تھی کہ آج بھی محفل جمی ہوگی جس سے اس کی اداسی دور ہو جائے گی مگر قوالی کے علاوہ وہاں کوئی رونق نہیں تھی۔ اسے آج ہر بات اداس کر رہی تھی۔ وہ ساز اور رقص کے شور میں اپنے دل کی پھٹتی ہوئی آوازوں کو دبانا چاہتی تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا اس کے دل میں کیا چل رہا ہے۔

اس کی زندگی میں کوئی تھا ہی نہیں جو اسے سننا چاہتا ہو، اس کو سمجھنا چاہتا ہو اور شاید یہی کمی اسے اداس کر رہی تھی۔ وہ خود کو سمجھا رہی تھی کہ جب اسے کوئی سننا ہی نہیں چاہتا تو وہ خود کو بھی کیوں سنے۔ وہ خود کے لیے کر ہی کیا سکتی ہے۔ سامنے بیٹھی لڑکی کہنے کو اس کی دوست ضرورت تھی مگر وہ اسے کیا بتاتی۔ وہ اسے پہلے ایک بار کہہ چکی تھی کہ وہ ذاکر سے علیحدگی چاہتی ہے جس پر اس نے کہا تھا کہ وہ اس میں کبھی اس کا ساتھ نہیں دے گی کیونکہ وہ خود طلاق لے کر رل رہی تھی تو وہ اپنی پیاری دوست کو کیسے رلنے دے سکتی تھی۔
اس نے افسوس سے اسے ایک نظر دیکھا تھا۔ اب وہ سگریٹ سلگا کر دھواں اڑا رہی تھی۔

اسے اس کے کہے ایک جملے کے یاد آتے ہی لگنے لگا کہ وہ اس کے ساتھ دل سے مخلص نہیں ہے ورنہ وہ کبھی اسے یہ محسوس نہ کرواتی کہ اس کا شوہر اسے دھوکا دے رہا ہے۔ اور جب وہ اسے بتا رہی تھی کہ وہ اپنی زندگی میں بہت بے آرام ہے تو وہ خاموش ہو جاتی اور کوئی مستقل حل بتانے کی بجائے اسے بے چین دیکھ کر سکون اور اطمینان سے کچھ سوچنے لگتی۔ عروہ نے اسے بھی سگریٹ پیش کی تھی آج اس نے خود کو زیادہ بے چین محسوس کر کے سیگریٹ لے لی تھی۔ اب وہ بھی دھیرے سے کش لینے لگی تھی۔

وہ جانتی تھی اس دنیا میں وہ بہت تنہا ہے اور سامنے بیٹھی دوست بظاہر اس کے ساتھ ضرور ہے مگر دل سے اس کے ساتھ نہیں ہے۔ عروہ چاہتی تھی وہ اس کی طرح ایک بے سکون اور ادھوری زندگی جیتی رہے اور اس کی دکھاوے کی شادی بھی چلاتی رہے اور وہ اس کے ساتھ مل کر زندگی کے بےہنگم سے مزے بھی لوٹتی رہے۔

عروہ اپنی زندگی میں ناکام تھی تو اسے اپنی دوستوں کی برباد حالت دیکھ کر سکون ملتا تھا۔ وہ اکثر یہ کہا کرتی کہ اگر میں طلاق یافتہ ہوں اور یوں جی رہی ہوں تو شادی شدہ بھی کون سا سکون سے جی رہے ہیں۔
ابھی وہ انہیں سوچوں میں گم تھی کہ عروہ نے اسے مخاطب کیا۔
”ذاکر تو جا چکا ہے اب تم کیا کرو گی؟ اس دفعہ تو مجھے تم ہمیشہ سے زیادہ بے حال نظر آرہی ہو!“

نجانے وہ سچ میں اس کے لیے فکر مند تھی یا اس کو ٹٹولنا چاہتی تھی۔ شاید سیگریٹ نے اسے مسرور کر دیا تھا وہ خود کو روک نہیں پائی۔
”مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے سوائے ایک چاہنے والے دیوانے عاشق کے۔۔ جو دیوانا کرنا بھی جانتا ہو۔۔ ایسا شخص جو کچھ پاگل بھی ہو۔۔ اس دور میں کوئی معمولی انسان عشق کر بھی نہیں سکتا۔۔ اس کے لیے تو کوئی خاص دل ہی ہو سکتا ہے۔۔ میں چاہتی ہوں وہ خاص شخص بن کہے میرے جذبات سمجھے۔۔اور اس کی چاہت میں شدت کی انتہا ہو۔۔“
آخری جملہ بولتے ہوئے وہ اس کے چہرے کو تکتی رہی تھی۔ اسے دل کی بات کہنے سے سکون ضرور ملا تھا مگر درحقیقت وہ دیکھنا چاہتی تھی عروہ کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ وہ جانتی تھی اس کی بات اسے ہلا کر رکھ دے گی۔

اس کی بات نہیں عروہ کو اندر سے تڑپا کر رکھ دیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک ابھری تھی جو آج تک اس کو ان آنکھوں میں نظر نہیں آئی تھی۔

کم از کم جب سے وہ دوست رہی تھیں اس کی آنکھوں نے ایسا نہیں دیکھا تھا۔

”مگر میں جانتی ہوں یہ ناممکن ہے۔۔ اس دور میں عشق نام کا کوئی جذبہ نہیں۔۔ پھر کوئی ایسا کیوں چاہے گا جب ذاکر بھی تو۔۔“
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں مسکرا کر بات اڑا دی اور جملہ ادھورا چھوڑ کر اپنے الفاظ بچا لیے۔

عروہ کے پیچھے سائیڈ پر ایک میز کے گرد تین دوست بیٹھے نظر آ رہے تھے اب ان میں سے ایک اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔ وہ اس کی نظروں سے الجھ کر رہ گئی۔ اس کی بلوری آنکھوں سے اسے مانوسیت سی محسوس ہوئی اور پھر وہ اندر ہی اندر گڑبڑا کر رہ گئی۔ وہ ان آنکھوں کو پہلے بھی کہیں دیکھ چکی تھی پر اب اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔

اس نے نگاہیں نیچی کر کے پھر سے عروہ کو مخاطب کیا۔

”آج یہں وہ مزہ نہیں جو پچھلی دفعہ تھا۔ میں تو یہاں زبردست سا مردانہ رقص دیکھنے آئی تھی۔ اب لگتا نہیں کہ ایسا کچھ دیکھنے کو ملنے والا ہے۔۔ بس ہم دس منٹ میں یہاں سے نکلتے ہیں۔“

عروہ کچھ غیر مطمئن نظر آنے لگی۔ ”ابھی تو تھوڑا سا وقت ہوا ہے۔۔ اتنی جلدی کیوں چلیں۔۔ تمہیں مردانہ رقص سے ایسا کیا خاص سکون ملنے والا ہے؟“ عروش مسکرائی اور معصومیت سے کہنے لگی۔

”معلوم نہیں۔۔ شاید کسی اور کو بھی بے چینی میں تڑپتا دیکھ کر سکون ملتا ہے۔۔ تم بھول رہی ہو کہ میں ایک آرٹسٹ رہی ہوں اور کلا مجھے ایک الگ ہی سکون دیتی ہے۔“

عروہ مسکرا کر سر ہلا دی۔ اس نے بے خیالی میں اسی بلوری آنکھوں والے نوجوان کو دیکھا تھا۔ وہ اپنے دوستوں سے کچھ کہہ رہا تھا اور اس کے دوست مسکرا رہے تھے۔ اس نے بے وجہ دل کو اس پر تبصرہ کرتے پایا۔ وہ اپنے دوستوں سے کئی گناہ زیادہ حسین تھا اور شاید بے باک طبیعت رکھتا تھا اس کا انگ انگ بتاتا تھا کہ وہ کچھ الگ کرنے کے لیے بنا تھا۔ وہ معمولی سوچ نہیں رکھتا تھا اور نہ معمولی کر سکتا تھا۔ اس کا بولنے کا انداز اور اعتماد بہت خاص تھا۔ اب وہ اٹھ کر اس جگہ سے دور جا رہا تھا اور وہ نہ چاہتے ہوئے اسے تکتی رہی تھی۔ پھر اس نے خود کو ٹوکا اور اسے دیکھنے سے خود کو روک لیا۔

عروہ کی نظر بھی اب اس پر پڑی تھی۔ ”آج تو یہاں حسن امڈ آیا ہے۔۔ لگتا ہے رونق لگ ہی جائے گی۔“

وہ جانتی تھی عروہ حسن پرست تھی اور اکثر ایسی باتیں وہ بے باکی سے کہہ دیا کرتی تھی۔ اس کی بات پر عروش بے دلی سے مسکرائی تھی۔
وہ لڑکا قوالی والے سے کسی خاص گیت کی فرمائش کر رہا تھا۔

عروش نے دل میں سوچا۔ میں صحیح تھی وہ کچھ الگ ہی بے چین طبیعت لے کر دنیا میں آیا ہے۔

وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگی تھیں کہ قوال نے اس نوجوان کی فرمائش کے شعروں کا آغاز کر دیا۔

تیرا عشق نچاؤاند اے سجنا، سانوں تے نچنا نئی آوندا۔۔
تیرے عشق دی مستی ایسی اے، سانوں تےدسنا نئی آوندا۔۔

اس نے اپنے پسند کے گیت کے شعر سن کر شاک اور دلچسپی سے نظریں وہیں کر لی تھیں۔ اب وہ وہیں دیکھتے رہنے پر مجبور ہو چکی تھی۔ نوجوان نظروں کو جما کر رکھ دینے والا رقص کر رہا تھا۔ وہ اس کے ہر انگ سے اس کی دیوانگی کو محسوس کر سکتی تھی۔

تیرے ورگا یار نہیں ملیا، تیرے ورگا پیار نئیں ملیا۔۔
تیرا کر کے ہسنے آں سانوں تے ہسنا نئیں آوندا۔۔

وہ مبہوت سے انداز میں اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کی ایک ایک حرکت اس کے دل کی شدت کی گواہ تھی۔ عروہ بھی شاید اسے ہی دیکھ رہی تھی اب وہ بھی بول نہیں پا رہی تھی۔ ناصرف وہ بلکہ پورا ہال صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

تینو ملیا ہاسے ملدے، مرجھائے وی دل نے کھلدے

اب وہ اسے ہی دیکھ کر رقص کر رہا تھا۔ وہ کچھ گڑبڑا کر رہ گئی اور شرما کر یہاں وہاں دیکھنے لگتی۔ کبھی اسے دیکھنے پر مجبور ہو جاتی۔
مگر وہ حیران تھی اور بے چین بھی۔۔ عروہ نے تبصرہ کیا۔

”نجانے تم نے کتنے دل سے چاہا تھا کہ فوراً ہی ایک عاشق رقاص بھی آن ٹپکا۔۔“ اس کے جملے نے عروش کو اندر تک گرما کر رکھ دیا۔ عروہ رشک اور محبت سے اسے خوش قسمت ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔ وہ لال چہرے کے ساتھ مسکرا دی۔

نوجوان اب رقص کرتے ہوئے مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہاں موجود سب کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ اس کے لیے ہی یہ رقص کر رہا ہے۔ اب باری باری وہاں موجود سب لڑکیاں اسے حسرت اور رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ اس نے دل میں سوچا کیا اتنی جلدی اسے یہ سب دیکھنے کو ملنے کی امید تھی۔۔ وہ نوجوان کو پاگل عاشقوں کی طرح رقص کرتا دیکھ کر تعجب، بے یقینی اور گھبراہٹ کی کیفیت میں تھی مگر بظاہر یوں اطمینان سے بیٹھی رہی جیسے یہ سب عام ہو اور اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہو۔

ساز اور شاعری کے ساتھ رقص کافی لمبا ہو گیا۔ نوجوان آخری جملے کے ساتھ قوال کا شکریہ ادا کر کے وہیں سے اسے بے باکی سے تکتے ہوئے پھر سے اپنی میز کی جانب لوٹ گیا۔

”دیکھنا اب وہ خود ہی تم سے تمہارا نمبر لینے آئے گا۔“ عروہ نے نوجوان کی نظروں کا رخ مسلسل عروش کی جانب پا کر تبصرہ کیا۔
”جیسے میں تو اسے دینے کے انتظار میں ہی بیٹھی ہوں۔“ عروش نے عروہ کی بات مذاق میں اڑا دی۔

وہ بار بار اس لڑکے کو اپنی جانب تکتا پا کر بے چینی اور بے یقینی سے خود کو ٹوکنے لگی کہ آج کے دور میں مرد عورت سے محبت نہیں کرتا۔ یہ سب دھوکا ہے، ڈرامہ ہے۔ وہ خود پر غصہ ہوتی ہوئی آخر عروہ کو حتمی لہجے میں بولی۔ ”چلو یہاں سے چلیں۔“

عروہ کچھ حیران ہوئی۔ ”تم اس سے دوستی نہیں کرنا چاہو گی۔“
اس نے غیر دلچسپی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔

وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور خاموشی سے وہاں سے چل پڑی۔ عروہ بھی اب اٹھ کر اس کے پیچھے چلی آئی۔ ”تم بہت عجیب ہو۔۔ محبت کو ترس رہی تھی اور جو مل رہا ہے اسے ٹھکرا کر جا رہی ہو۔“ وہ سنجیدہ تھی اور اس کے لیے اب مخلص نظر آ رہی تھی۔

”تمھیں لگتا ہے میں اپنے سے کم عمر کسی جذباتی سے نوجوان سے دوستی کروں گی۔ ایسے لڑکے دوستی میں اچھے نہیں ہوتے۔“

عروہ نے اس کی بات کو رد کرنا چاہا۔ ”کم عمر نوجوان جوشیلے ہوتے ہیں۔۔ دوستی میں جان بھی دینے سے گریز نہیں کرتے اور۔۔“

”ان کو اپنے علاؤہ کسی کے جذبات کی فکر نہیں ہوتی۔۔ وہ بس اپنے سکون کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں اور کسی دوسرے کا احساس کرنا ان کو نہیں آتا۔“

عروش نے اس کی بات کاٹ ڈالی تھی۔

عروہ اسے خاموشی سے دیکھتی ہوئی اس کے ساتھ باہر کو نکل آئی۔
اچانک سے عروش سنجیدہ اور غمگین نظر آنے لگی تھی۔

”شادی تو میری چھوٹی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ جب میں ٹھیک سے اس کا مطلب بھی نہیں جانتی تھی۔۔ اور اسی لیے مجھے اسلامی لوگ پسند نہیں، کیونکہ وہ اسلام کے نام پر لوگوں کے احساسات و جذبات مجروح کرتے ہیں۔۔ شاید اسی لیے میں شادی کے بعد اسلام سے دور جانے لگی۔۔
عروش نے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا۔

”لیکن ہم جتنے بھی خود ساختہ ماڈرن بن جائیں مگر میں اور تم ایسے گھرانے سے ہیں جہاں اسلام کی تعلیمات بچپن سے دی جاتی ہیں اور شوہر کو خدا بتایا جاتا ہے۔ شوہر سے بے وفائی کو بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔۔ کیا ہم اتنے آزاد ہیں کہ اپنی زندگی کھل کر جی سکیں؟“

اب وہ کار کی جانب بڑھ رہی تھیں اور وہ اسے تکتی جا رہی تھی۔
”ذاکر تم سے بے وفائی کر رہا ہے۔۔ سال بھر گھر سے دور رہتا ہے اور پھر یہاں آ کر بھی تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا تو تم کیوں یہ سوچ رہی ہو۔۔ وہ بھی اسی اسلامی معاشرے کا مرد ہے۔ جب وہ نہیں سوچتا تو تم کیوں خود کو مجبور کر رہی ہو۔“ عروا نے اس سے افسوس سے دیکھا تھا۔
”ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں گناہ کو برائی کی نظر سے تو دیکھا جاتا ہے مگر اسے کرنے پر بھی خود ہی مجبور بھی کیا جاتا ہے۔“

عروہ افسوس سے سر جھکا کر رہ گئی۔ ”بات ہے تو سچ مگر ہے رسوائی کی۔۔ مگر جب آج کا مرد اتنا مطلبی ہے تو عورت کیوں نہ بنے۔ ایک مخلص عورت کو کبھی مخلص شوہر نہیں ملتا۔۔ تم اس سے دوستی تو کر کے دیکھو ذاکر تو چلا گیا اب تمھیں بھی تو اپنا وقت گزارنا ہے ناں!“
عروش نے نفی میں سر ہلا کر کہا تھا۔

” اس شخص نے میرے دل میں تھرتھلی سی مچا دی ہے۔۔ میں اس سے دوستی نہیں کر سکتی۔ نجانے کیوں میرا دل کہتا ہے اس شخص کے میری زندگی میں آتے ہی سب کچھ بدل جائے گا۔۔ اور میں خود کو بدلنا نہیں چاہتی۔۔ میرا ذہن ابھی کسی بھی چیز کے لیے تیار نہیں ہے۔۔“

باتوں میں راستہ جلد ہی کٹ گیا اور وہ دونوں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔

اس کی اداسی غائب ہو چکی تھی اور اس کا ذہن اب کسی اور سوچ میں کھو چکا تھا۔
************

اسے مال سے گھر کا کچھ ضروری سامان لینے جانا تھا۔ اس سے پہلے وہ گھر کا سامان ڈرائیور سے منگوا لیا کرتی تھی مگر اب چونکہ ڈرائیور نہیں تھا تو گھر کا سامان بھی لانا اس کی ذمہ داری تھی۔ اس نے سامعہ کو ساتھ لیا اور مال کے لیے نکل پڑی۔ خریداری کرنے کے بعد جب وہ سامان لیے اپنی کار کی جانب بڑھ رہی تھی تو اسےدور سے اپنی کار کے قریب ایک دوسری کار کھڑی نظر آئی۔

کار سے ٹیک لگائے وہی بلوری آنکھوں والا نوجوان اسے گھور رہا تھا۔ اسے لگا اس کی گہری نظریں اس کے اندر گڑی جا رہی ہیں۔ وہ گھبراتے ہوئے آگے بڑھتی رہی۔ وہ اس بلوری آنکھوں والے نوجوان کو دن کی روشنی میں دیکھ کر حیران تھی۔ وہ رات میں الگ حسن کا پیکر تھا اور دن میں اس کا الگ ہی حسن تھا۔ دور سے اس کا پورا وجود شفاف کانچ کی طرح نظر آتا تھا۔ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے اس کی سبز آنکھیں دیکھ کر اس کو جھٹکا سا لگا تھا۔ اس کے دل میں عجیب ہلچل سی مچ گئی۔ وہ اس کی آنکھوں سے پہچان گئی کہ یہ وہی پینٹنگ والا مصور تھا۔

اچانک سے اس کو ایسا لگا کہ اس کا یہاں ہونا اتفاق نہیں ہے۔ اسے اس پینٹنگ کو لے اس سے تفتیش کرنی چاہیے تھی مگر وہ ایسا کرنے کی ہمت نہ کر پائی اور اپنی دھڑکنوں سے گھبرا کر اسے نظر انداز کرتے ہوئے سامعہ کے ساتھ کار میں سامان رکھتی رہی۔ وہ مسلسل وہیں کھڑا اسے گھورتا رہا۔ وہ سامعہ کا خیال کرتے ہوئے خاموشی سے سامان رکھ کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھی۔

وہ الجھی ہوئی کار ڈرائیو کرنے لگی۔ جب وہ سڑک پر کار دوڑا رہی تھی تو اسے تو وہی کار اپنی کار کے ساتھ آتی نظر آئی۔ اب وہ مزید پریشان ہو گئی۔

وہ سامعہ کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ کبھی کار اس کار سے آگے کرتی اور کبھی پیچھے کرتی۔ کبھی کبھی وہ کار اس کے برابر میں آ جاتی۔ اس نے دل میں خواہش کی کہ وہ اسے دوبارہ دیکھ کر یہ یقین کر سکے کہ کیا وہ واقعی پارک میں نظر آنے والا مصور ہی ہے۔۔ اور جیسے اس کے دل کی سن لی گئی۔ کار کے سیاہ شیشے نیچے کیے گئے۔

وہ شخص اب عینک لگائے اپنی آنکھیں چھپا چکا تھا۔ اس کا بقایا چہرہ نظر آ رہا تھا مگر اس کے لیے کار چلاتے ہوئے ایک جھلک میں اسے دیکھ کر پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے وان کر رہی تھی۔ وہ شخص مسکرایا۔

وہ جو بھی تھا جوشیلا اور خوش مزاج معلوم ہوتا تھا۔
عروش نے مشتمل انداز میں اسے لتاڑا۔
”مسٹر بلائنڈ آگے دیکھ کر چلاؤ۔“ نوجوان مسکرا دیا۔
”کچھ چہروں کو دیکھنے کے بعد بلائنڈ ہو ہی جانا چاہیے۔“

یہ بات سن کر اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی مگر وہ اپنی کار چلانے پر فوکس کر رہی تھی۔ سامعہ نے تعجب سے پوچھا۔ ”میڈم یہ کون ہے جو مسلسل ہماری کار کا پیچھا کر رہا ہے؟“

اس نے گھبرائے ہوئے کہا۔ ”معلوم نہیں.. میں اسے ابھی مزہ چکھاتی ہوں..“
اب عروش نے راستہ بدلنے کی کوشش کی تو ایسا راستہ نکال کیا جس میں ایک ذرد پٹی کی آڑ دونوں کی کاروں کے درمیان میں آگئی۔ اب وہ کار چلاتے ہوئے اسے دیکھ کے فخر سے مسکرائی تھی کہ وہ اس سے دور جا چکا تھا اور مزید پیچھا نہیں کر سکتا تھا۔ دونوں کے روٹ بدلنے والے تھے اس دوسری کار والے کو آگے آڑ کی وجہ سے کہیں اور نکل جانا تھا اور وہ انڈر پاس سے اپنا روٹ ایسے بدلنے والی تھی کہ اسے پتہ بھی نہ چل سکتا تھا۔ عروش نے ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے تیزی سے انڈرپاس سے گزرتے ہی کار کو گھما کر پچھلی سڑک پر لے لیا۔

اب مزید وہ سیاہ کار نظر نہ آئی۔ وہ اطمینان سے مسکراتی ہوئی کار ڈرائیو کر رہی تھی۔ اب اس نے گھر کے راستے پر کار ڈال لی۔ کچھ ہی دیر بعد وہی کار اس کے پیچھے دکھائی دی۔ وہ نوجوان اسے پھر سےدیکھ کر مسکرا دیا۔

ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے گھر کا راستہ جانتا تھا۔ وہ سوچوں میں ڈوب گئی۔ اچانک سے اسے یاد آیا یہی وہ مصور ہے جو اس دن پارک میں پینٹنگ کر رہا تھا اور اس کے گھر تک یہ پینٹنگ بھیج دی گئی تھی۔ جب وہ اس کے گھر کا راستہ پہلے سے جانتا تھا تو پھر اس سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

اس کا دل اسے بار بار الارم دے رہا تھا کہ اس کی زندگی میں کوئی انہونی ہونے والی ہے جس سے وہ گھبرا رہی تھی اور اس شخص سے مسلسل دور بھاگ رہی تھی۔

اب وہ خیالات میں الجھی ہوئی کار چلاتی رہی اور سیدھا اپنے گھر کو لوٹ آئی۔ اس کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی دوسری کار والا اپنی کار کا رخ موڑ چکا تھا۔ سامعہ نے کہا ”ہو سکتا ہے اس کا گھر بھی کہیں ہمارے گھر کے آس پاس ہی ہو، ہمیں غلط فہمی ہو گئی ہو گی۔“

عروش نے کہا۔ ”ہاں! بالکل ایسا ہی ہے۔“

وہ گھر تو آگئی مگر اس کا دل اب بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے عروہ کو کال کر کے سب بتایا تو وہ یہ سن کر دیوانوں کی طرح بھاگی بھاگی اس کے گھر چلی آئی۔ وہ دونوں بیڈ روم میں آ بیٹھیں اور اس پر تبصرہ کرنے لگیں۔ وہ واقعات سے واقعات جوڑ کر مزید سوچنے لگیں تو عروہ کے ذہن میں فوراً سے دھماکہ ہوا۔

”کہیں یہ سب ذاکر تو نہیں کروا رہا۔۔ یاد ہے نا پچھلی دفعہ اس نے کیسے ہمارا پیچھا کروایا تھا۔“

اس کی بات سنتے ہی عروش کو پچھلے سال کی بات یاد آگئی۔ عروش وہ یاد کر کے مزید پریشان ہو گئی۔ اس کے ذہن میں بھی سب سے پہلے یہی آیا تھا کہ یہ ذاکر کا کام ہو سکتا ہے۔ لیکن جب اس کی ذاکر سے پینٹنگ کو لے کر بات ہوئی تو ذاکر نے انکار کر دیا۔ اب وہ مزید ذہن پر زور ڈال رہی تھی تو اسے عروہ کی بات صحیح لگنے لگی۔ پچھلے سال ذاکر نے ان دونوں کا پیچھا کروایا تھا اور اسے یہ بات سنائی بھی تھی کہ تم دونوں سہیلیاں کہاں پھرتی رہتی ہو مجھے سب پتہ چلتا رہتا ہے۔۔

نجانے وہ کیا جتانا چاہتا تھا لیکن اس کے بعد اس نے دوبارہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی۔ اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ذاکر کیا چاہتا ہے۔
”خر اس کا مقصد کیا ہو سکتا ہے؟“ وہ عروہ سے پوچھنے لگی۔

”دو باتیں ہیں۔۔ یا تو وہ تمھیں چھوڑنے کا سوچ چکا ہے اور چھوڑنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔۔ یا پھر وہ تمھیں لے کر ان سیکیور ہو گیا ہے۔“

وہ یہ سن کر مزید غصے میں آگئی۔۔ ”اب تو میں اس کے ساتھ وہ کروں گی کہ وہ اپنا منہ چھپاتا پھرے گا۔۔“

عروہ یہ سن کر قہقہ لگا کر ہنس پڑی۔ ”وہ تو پہلے ہی اپنا منہ لے کر یہاں سے یہاں سے نکل گیا ہے، منہ چھپانے کی نوبت نہیں آنے والی۔۔ کچھ اور سوچو۔۔“ اور اس کو مزید غصہ آنے لگا۔

”وہ کیا سمجھتا ہے! میرا پیچھا کروائے گا یا مجھے آزمانے کی کوشش کرے گا اور میں اس کے لیے اپنی وفائیں سنبھالے بیٹھی ہوں۔۔ میں اسے بہت مایوس کرنے والی ہوں۔“ عروہ نے اطمینان سے سر ہلا دیا۔

”ویسے اگر یہ اسی کا کام ہے تو بہت غلط بات ہے۔۔ خود وہ تم سے اچھے شوہروں والا رویہ نہ اپنائے اور تمھیں آزمانے یا نظر رکھنے کے لیے خفیہ جاسوس لگا دے۔۔ یہ تو بہت ناانصافی کی بات ہے۔“ عروہ نے اس کے زخموں پر نمک چھڑکا تھا۔

عروش اب اس کا سلوک یاد کرنے لگی اور دل ہی دل میں وہ یہ بھی سوچنے لگی کہ آخر عروہ کو کیا پریشانی ہے جبکہ پیچھا تو اسی کا کروایا جا رہا ہے۔

سب کچھ اس کی سمجھ سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔ عروہ کا پرسرار سا انداز۔۔ اور اس کا بھی ذاکر پر ہی شک کرنا۔

اس کا دماغ کہہ رہا تھا ماجرا کچھ اور ہی ہے۔ اس نے اب ٹھان لیا وہ جان کے رہے گی کہ یہ سب کیا چل رہا ہے۔
*********

وہ منڈیر کے پاس خاموشی سے کھڑی ایک جانب دیکھتی جا رہی تھی۔ شام کا وقت تھا. وہ اکثر ان اوقات میں چھت پر چلی آتی تھی۔ یہ وقت اس کا اداس ہونے کا تھا۔

اسے بچپن کی یادیں اداس کر رہی تھی۔ چھت پر ہر رنگ کی پتنگ اڑتی دیکھنا اس کو خوش کرتا تھا۔

اسے جشن بہاراں کی بہت یاد آیا کرتی تھی۔ وہ حسرت کرنے لگتی کاش پھر سے وہ بچپن کے جشنِ بہاراں لوٹ آئے۔ اسے پھر سے آسمان پر رنگ برنگی پتنگیں اڑتی دیکھنی تھیں۔

اس نے پرندوں کو اڑتے دیکھ کر یہ محسوس کرنے کی کوشش کی کہ یہ پتنگیں ہیں۔ وہ خوشی سے مسکرائی۔ ابھی وہ سوچوں میں ہی تھی کہ اسے سچ میں ایک پتنگ اڑتی نظر آئی۔ وہ حیرانی اور خوشی کے عالم میں اسے اڑتا دیکھتی رہ گئی۔ اس نے دلچسپی سے اس کے اڑنے کا زاویہ دیکھا اور یہ دیکھ کر وہ حیران ہوئی کہ وہ اسی کی چھت سے ایک گھر چھوڑ کر اگلی چھت سے اڑائی جا رہی تھی۔ اس نے غور سے دیکھا تو وہاں دو لڑکے موجود تھے۔

وہ غیر ارادی طور پر انہیں دیکھنے لگی۔ مزید غور کرنے پر اس نے دیکھا کہ ان میں سے ایک کم عمر لڑکا تھا اور اس کے ساتھ ایک نوجوان تھا۔ دونوں کے چہرے وہ دوسری جانب ہونے کے باعث دیکھ نہیں پا رہی تھی مگر وہ اتنا سمجھ پائی تھی کہ کم عمر لڑکا پتنگ اڑا رہا تھا اور نوجوان اس سے سیکھ رہا تھا۔ پھر وہ آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔ مزید کچھ بچپن کی باتیں اسے یاد آنے لگیں۔ بے خیالی میں وہ وہاں سے چلتے ہوئے اسی جانب چلی آئی جس طرف کو وہ دونوں لڑکے موجود تھے۔ اس نے نظر اٹھا کر ان کی جانب نگاہ کی تو نوجوان اسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اب اس کے دیکھنے پر مسکرا دیا تھا۔

وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ سبز آنکھوں والا مصور ہی تھا یا اس جیسا کوئی اور۔۔ وہ گڑبڑا کر رہ گئی اور اس نے نظروں کا رخ تبدیل کر لیا۔ اسے سمجھ نہیں آیا یہ اس کا وہم ہے یا حقیقت۔۔

اس نے دل میں خود کا کوسا کہ وہ اس کے دماغ میں بیٹھ گیا ہے اسی لیے ہر جگہ وہی نظر آ رہا ہے۔ اس نے یہ سوچ کر کہ کہیں انہیں محسوس نہ ہو جائے کہ وہ انہیں ہی دیکھ رہی ہے وہ دوبارہ سے آسمان پر دیکھنے لگی۔ چند منٹوں بعد اس کے ذہن میں آیا کہ کہیں یہ حقیقت تو نہیں ہے اور پھر اس نے دوبارہ سے ان کی جانب نظر کی۔

اس نے اب کی بار بھی اس نوجوان کو اپنی جانب تکتے پایا تھا۔ وہ وہی مصور تھا اور قوالی پر رقص کرنے والا بلوری آنکھوں والا نوجوان بھی۔ وہ بہت ڈسٹرب ہو گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس کے ساتھ والے گھر کی چھت پر کیسے آ پہنچا تھا۔

اس کو مزید تجسس ہونے لگا۔ اس کا جی چاہا اسی وقت جائے اور جا کے اس کا گریبان پکڑ کر پوچھے کہ وہ اس کا مسلسل پیچھا کیوں کر رہا ہے؟
پھر اس کے ذہن میں آیا کہ وہ اس سے کہے گا میں تو اپنی چھت پر کھڑا ہوں اور جس طرح سے وہ اس چھوٹے لڑکے سے سیکھ رہا تھا اس سے ایسے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے قریبی رشتےدار تھے۔ آخر اس نے خود کو روک لیا اور نیچے چلی آئی۔

وہ راکنگ چئیر پر بیٹھ کر مسلسل جھولتی رہی اور سوچتی رہی، سوچتی رہی، سوچتی رہی۔

اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اس نے سامعہ کو بلا کر پوچھا آج اس نے کھانے میں کیا بنایا ہے؟

سامعہ نے بتایا کہ آج کھانے میں بریانی اور کھیر بنی ہے۔ اس نے سامعہ سے کہا وہ ان دونوں کو رائتہ اور سلاد کے ساتھ ٹرے سجا کر اسے لا دے وہ خود دینے جائے گی۔

سامعہ ٹرے سجائے باہر لائی تو وہ مسکراتی ہوئی کہنے لگی۔ ”خیر ہے میڈم! آپ تو کسی کے گھر جانا پسند نہیں کرتیں۔۔ دیکھ لیں آپ واقعی میں دے آئیں گی یا میں دے آؤں؟“ عروش نے کہا۔ ”نہیں، نہیں میں خود دے کر آؤں گی۔“ سامعہ نے ٹرے اسے تھما دی۔ اس نے ٹرے پکڑی اور اسی گھر کی جانب چل پڑی جس گھر کی چھت پر اس نے انہیں پتنگ اڑاتے دیکھا تھا۔

اس نے ڈور بیل کی تو خوش قسمتی سے وہی بچہ دروازے پر آیا جسے اس نے نوجوان کے ساتھ پتنگ اڑاتے دیکھا تھا۔ بچے نے ٹرے لیتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کہاں سے آئی ہیں؟“ اس نے اشارے سے بتایا۔ ”میں اس گھر سے آئی ہوں۔“ اسے یاد آیا وہ لوگ ابھی کچھ دن پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئے تھے۔ اس نے بچے سے پوچھا۔

”آپ نئے آئے ہو؟“ اس نے کہا. ”جی۔۔ ہم دو دن پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئے ہیں۔“
عروش نے دلچسپی سے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ہممم پتنگ تو بہت اچھے سے اڑا رہے تھے۔“

بچہ فکرمندی سے بولا۔ ”کہیں آپ کے گھر میں کوئی پولیس میں تو نہیں ہے؟ آپ ہماری پولیس میں رپورٹ تو نہیں کر دیں گی نا!“ وہ کھلکھلا کر مسکرائی ”نہیں نہیں۔۔ ایسا کچھ نہیں کروں گی۔ مجھے تو خود پتنگ اڑانے کا بہت شوق ہے۔۔ میں دیکھ رہی تھی تم اپنے بڑے بھائی کو پتنگ اڑانی سکھا رہے تھے۔۔ کمال کی بات ہے بڑے بھائی کو پتنگ اڑانی نہیں آتی اور چھوٹے کو اتنی اچھی اڑانا آتی ہے۔۔“

بچہ دوستانہ انداز میں کہنے لگا۔ ”وہ میرے بڑے بھائی نہیں تھے وہ تو میرے خالہ زاد بھائی ہیں اور انہیں پتنگ وغیرہ نہیں اڑانی آتی۔۔ یہ تو مجھے ہی شوق ہے۔ میں کبھی کبھی فارغ ٹائم میں پتنگ اڑاتا ہوں۔“
”اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔ پھر میں بھی تم سے کسی دن پتنگ اڑانا سیکھوں گی۔“

اس نے اشتیاق سے کہا۔ ”ضرور ضرور۔۔ میں آپ کو پتنگ اڑانی سیکھا دوں گا۔“

بچہ ٹرے لے کر اندر گیا اور وہ مزید سوالات کو ترتیب دینے لگی۔ جب وہ برتن لے کر واپس آیا تو اس نے رازداری سے پوچھا۔ ”وہ جو تمہارا کزن پتنگ سیکھ رہا تھا اس کا گھر یہاں کہیں پاس میں ہی ہے؟“

”نہیں، ان کا گھر یہاں سے کچھ دور ہے۔“ وہ سر ہلا کر رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ اندر چلا جاتا اس نے پھر سے بات چھیڑ ڈالی۔ ”تمھارے کزن سے تو تم بہتر ہو، اس سے کم عمر میں پتنگ اڑانی آتی ہے حالانکہ تمھیں اس سے سیکھنا چاہیے تھی۔“

بچہ پہلے فخر سے مسکرایا اور پھر اپنے کزن کے لیے صفائی دینے لگا۔
”وہ ان کاموں میں بہت اناڑی ہیں۔۔ اصل میں میرے خالو بہت سخت ہیں وہ تو انہیں بچپن میں کبھی ایسے کھیل کھیلنے نہیں دیتے تھے اور وہ باہر پڑھنے چلے گئے تھے اب کچھ ایک سال پہلے ہی یہاں آئے ہیں اور بزنس وغیرہ سنبھالتے ہیں۔۔ وہ تو ان کو ذرا یوں ہی میں نے بتا دیا کہ میں پتنگ اڑانے جا رہا ہوں تو وہ میرے ساتھ اوپر چلے آئے۔ یہ ہم دونوں کا راز ہے اور آپ وعدہ کریں کسی کو نہیں بتائیں گی پھر میں آپ کو بھی پتنگ اڑانی سیکھا دوں گا۔“

وہ یہ سن کر مسکرائی اور اس نے وعدہ کر لیا۔

گھر لوٹتے ہوئے وہ بہت الجھی ہوئی تھی مگر اسے خود پر غصہ آیا کہ اس نے تو ان دونوں کا نام تک نہیں پوچھا۔ ساری باتوں میں اہم اس کے لیے یہ بھی تھی کہ وہ پتنگ اڑانا سیکھنے والی تھی۔ بچپن سے یہ اس کا بھی خواب تھا۔ اس نے رات کو سونے سے پہلے آنکھیں بند کیں تو خود کو ہوا میں پتنگ اڑاتا محسوس کیا۔ اس نے ارادہ کیا کہ وہ اس بچے سے لازمی پتنگ اڑانا سیکھے گی۔

جاری ہے

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close