صفحہ اولناول

بیٹیاں بوجھ کیوں – صوبیہ امجد

نی چل اٹھ جا ثریا دن چڑ آیا، تیرے سر نیند کا بھوت نہیں اتر رہا۔ اب تو 12 بج گئے ہیں۔ کتنے بار کہا ہے کہ صبح سویرے سورج نکلتے وقت ککڑ کی بانگ کے ساتھ اٹھ جایا کرو اور کوئی نماز قرآن بھی پڑ لیا کرو۔ ہر وقت گھوڑے بیچ کر سوتی رہتی ہو۔

میں آہستہ آہستہ اپنی آنکھوںکو مسلتے ہوئے اٹھ بیٹی۔ اماں ! آپ کو سکون کیوں نہیں آتا ہر وقت لعن طعن کرتی رہتی ہیں۔ کبھی تو پیار سے بات کرلیا کریں۔ نی بدجلی! کیا جوتے مار کے اٹھاتی ہوں۔ تمہارے سر پر ناجانے کون سا بھوت سوارہے۔ چل جاکر موت دھو لے۔ ٹھنڈے پانی کی بالٹی تمہارے منہ پے خود آکر انڈیلنی پڑے گی۔

میں منہ بسورتے بغیر کچھ کہے نل کے پاس جا بیٹھی۔ ذرا گھر کی صفائی ستھرائی کر لینا۔میں کچھ دیر کے لیے شنی کے گھر جارہی ہوں۔ دوپہر کا کھانا بھی بنا لینا اور نماز بھی پڑھ لینا۔ کہیں جا کر سو مت جانا۔ کام کو تو ہاتھ تم نے لگانا نہیں ہے۔ اماں کی گرج دار آواز میرے کانوں تک پہنچی۔ گویا وہ مجھے ایک نہیں کئی حکم ایک ساتھ دے رہی تھیں۔

اماں ! آپ کو ہو کیا گیا ہے؟ آپ بھول کیوں جاتی ہو کہ میں صبح سویرے مرغے کی بانگ کے ساتھ ہی اٹھ جاتی ہوں۔ نماز پڑھ کر تلاوت کرتی ہوں اور پھر سوجاتی ہوں۔ میں صبح کا کام آپ کے ساتھ نہیں کرواتی باقی کا سارا دن تو آپ کے ساتھ لگی رہتی ہوں۔ میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اپنی دستان دل کہہ ڈالی۔

اماں کی گرج دار ایک بار پھر گونجی تمہارے منہ زبان بڑھ چلی جارہی ہے۔ اسے سنبھال کر رکھو۔ اماں! آپ کو میری سچی باتیں کڑوی کیوں لگتی ہیں۔اچھا بس کرو۔ اپنی زبان کو روکو۔ لازمی نہیں ہوتا کہ ہر غیر ضروری بات کی جائے۔ میں گھر آﺅں تو سارے کام کر کے رکھنا۔ اماں اپنی بات مکمل کرکے چلتی بنیں۔

اس وقت میرے پاس اماں کے سارے سوالوں کے جواب موجود تھے۔ مگر اس وقت جواب دینا مناسب نہیں تھا۔ ویسے بھی اماں ہمیشہ ہی کچھ نہ کچھ بولتی رہتی تھیں۔ جن میں بہت ساری باتیں محض باتیں ہی ہوتی تھیںجن کا جواب دینا یا ضروری نہیں تھا اور اگر کہیں ضروری تھا بھی تو سوائے اماں کے غصے کے اور کچھ حاصل نہیں ہونا تھا۔

اب اماں کو کون سمجھا سکتا تھا کہ صبح صبح اتنے غصے میں بولنے کی بجائے وہیں باتیں نرمی اور پیار سے بھی کی جاسکتی ہیں۔ ابھی میں پھول جیسے چہرے کو دھو رہی تھی۔ چھوٹی سکینہ نے آکر حکم دیا۔ مجھے اماں نے ناشتہ بنا کر نہیں دیا۔ وہ بنا دیا جائے۔ میں جلتی کڑھتی ناشتہ بنانے لگی۔ ابھی پورے گھر کو بھی چمکانا تھا۔ میں نے سبزی بنا کر ہانڈی چھڑا دی اور ساتھ میں آٹا گوندنے لگی ابھی اس کام سے فارغ ہوکر چار پائی پر بیٹھی ہی تھی کہ دماغ نے یاد دلایا کہ ابھی صفائی بھی کرنی ہے۔ ورنہ اماں نے آکر پھر سے تقریر چھاڑ دینی ہے۔

ابھی گھر کو شیشے کی طرح چمکا کر ہٹی ہی تھی کہ خالہ حاضراں آن پہنچی۔ بڑی بوکھلائی ہوئی اماں کو پکارنے لگیں۔ زینت زینت کہاں ہو۔۔۔ ان کے مٹی سے بھرے جوتوں سے میرے پورے آگن کی صفائی کا بیڑا غرق ہوگیا ۔ ان کا نام رقیہ تھا ۔ لیکن ہم سب بلکہ پورا محلہ انہیں خالہ حاضراں کہاں کہتے تھے۔ یعنی رقیہ خالہ عرف خالہ حاضراں۔ ان کا یہ نام محلے والوں نے اس لیے رکھا تھا کہ وہ ہر روز پورے محلے میں حاضر ہونے کا ٹھیکے لے رکھا تھا۔ وہ مزید کچھ بولتیں اور میں ان کے پاس جا بیٹھیں۔ اری خالہ کیا بات ہے کیوں ڈھونڈ رہی ہو اماں کو۔ مجھے بتا دیں اماں شنی آنٹی کے پاس گئی ہوئی ہیں۔

شنی آنٹی محلے کی پہلی خاتون تھی جنہیں سب لوگ آنٹی کہتے تھے۔ اچھا وہ جو کپڑے سیتی ہیںکارنر والی ۔ خالہ حاضراں نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ جیسے کہہ رہی ہوں کہ میری یا د کمزور پڑ گئی ہو۔ ہاں ہاں خالہ، اسی کی گھر گئی ہیں۔ اچھا چلو جاﺅ میرے ایک گلاس ٹھنڈے شربت کا بنا کر لاﺅ۔ اتنی گرمی میں آئی ہوں۔ خالہ حاضراں نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ خالہ حاضراں کھانے پینے کے معاملے میں بہت معروف تھیں۔ جہاں جاتی تھیں ان کی فرمائشیں شروع ہوجاتی تھیں۔ سارے دل ہی دل میں اس کے بارے میں کڑہتے رہتے تھے۔ لیکن ان کے منہ پر تعریف ہی کرتے اور ان کی فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کی جاتی تھیں۔ ان کو کون سمجھاتا کہ پیٹ کو پیٹ ہی سمجھیں۔ میں ان کے ہاتھ میں شربت کا گلاس پکڑایا ۔وہ گلاس سے گھونٹ بھرتے ہوئے پورے آنگن میں چکر کاٹنے لگیں۔ آنگن کا فرش جو اس وقت کچھ صاف دیکھائی دے رہی تھا وہ بھی ان کے قدموں کے نشانات سے خراب ہوگیا۔ میں ان کو کچھ کہتی اتنے میں اماں بھی آگئیں۔

حاضراں کیوں من من بھر کے چکر لگائے جارہی ہو۔ اپنا خون خشک کرنا ہے کیا۔ اماں آتے ہی بولنا شروع ہوگئیں۔ اگر تمہارا خون خشک ہوگیا تو چارپائی کی ہوکر رہے جاﺅ گی اور تمہاری تیماداری کرنی پڑے گی ا ور ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا پڑے گا۔ خالہ ڈری سہمی چارپائی پر بیٹھ گئیں اور اماں کی نان اسٹاپ باتیں سننے لگیں۔ اماں مزید کچھ کہتیں میں اماں کی درمیان میں آگئی۔ اماں آرام سے خالہ کی بات سن لیں ورنہ آپ کا بلڈ پریشر بھی عروج پر پہنچ جائے گا اور آپ کو بھی ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔

ؑثریا کچھ تو منہ سے اچھا نکال لیا کرو۔ اب ماں کو ڈاکٹر کو دیکھلوائے گی۔ اماں کی صلوٰاتیں اب مجھ پر برسنے لگیں تھیں۔ میں نے کانوں میں انگلیاں دیں اور کمر میں جاکر سکون کا سانس لیا۔ اگلی صبح چائے کا کب اور گاجر کا حلوہ جو مجھے بہت پسند تھا اور اماں کو حلوہ بہت کم ہی بنانے دیتی تھیں۔ میرے پاس لیے آ بیٹھیں۔ ثریا اٹھ جاﺅ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لائی ہوں۔ اماں پیار بھرے انداز میں اٹھاتے ہوئے بولیں۔ میں اٹھ کر ہکا بکا انہیں دیکھنے لگیں۔ اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔ جاﺅ جا کر منہ دھو لو اور ناشتا کرلو۔ میں بھی یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے جلدی سے اٹھیں منہ دھویا اور ناشتے میں لگ گئیں۔ کھا پی کر فارغ ہو تو بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ اماں کا کیوں صبح صبح اٹھ کر صفائی کرنا اور پھر یوں ناشتہ جو مجھے پسند تھا وہ لاکر دینا اور پیار بھرے انداز سے بولنا۔ سب کچھ حیران کن اورکیخلاف معمول تھا۔ یہ بات ابھی میں سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی۔ اماںنے سارا دن میری خدمت میں گزارا، شام کو اصل وجہ پتا چلی کو خالہ کہیں دور پار سے میرے لیے رشتہ لے کر آئیں تھیں اور اگلے ہی اتوار کو وہ مجھے دیکھنے کے لیے آرہے تھے۔

پھر اللہ اللہ کر کے اتوار بھی آگیا۔ وہ لوگ آئے اور مجھے ایسے دیکھنے لگے جیسے یہ تو میرا منہ نہ ہوا کسی شوپیس میں سجا پتلا ہوگیا۔ کہ کھانا ایسے کھانے لگیں جیسے کبھی کھانا دیکھا تک نہ ہو۔ خیر پتا نہیں وہ لوگ کیسے ہاں کرگئے اور اماں ابا نے بھی بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی۔ جبکہ زنجیر میرے گلے میں ڈال دی گئی۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ زنجیر میں نے باخوشی و رضا کیوں اپنے گلے میں لٹکائی اور انکار کیوں نہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے میں ہر ممکن کوشش کی تھی کہ انکار کرنے کی مگر اماں اور ابا کے پاس صرف ایک ہی جواب تھا تم جاﺅ گی تو تمہارے بعد تمہاری چھوٹی بہن کی باری آئے گی اور ہم اکھٹے دو دو بوجھ اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اب نہیں کون سمجھاتا کہ بیٹیوں کو بوجھ سمجھ کر گھر کی دہلیز سے ماں باپ رخصت تو کر دیتے ہیں مگر وہ بیٹیاں ہمیشہ سسکیوں بھری زندگی ہیں۔ جب میںنے دیکھا کہ اماں ابا کو سمجھانا نا ممکن ہے تو میں نے یہ سوچ کر ہتھیار ڈال دیے کہ ہو سکتا ہے اس میں کوئی بہتری ہو۔

ادھر چٹ منگنی اور پٹ بیاہ والی بات کی گئی۔ اماں ابا منگنی پر تو فورا مان گئے مگر رخصتی کے لیے تین ماہ کا وقت لیا۔ منگنی کے بعد تین ماہ گزرنے میں پتا ہی نہیں چلا۔ مہندی کی رات آگئی، ہر طرف ڈھولک کی تاپ سنائی دے رہی تھے۔ سب خوش تھے اور یوں لگ رہا تھا جیسے یہ خوشیاں ختم نہیں ہوں گی مگر میرا دل ہول کھا رہا تھا۔ ایک انجان سا خوف دل میں کہیں بسا ہوا تھا۔ ساری لڑکیاں خوب بن سنور کر آئی ہوئی تھیں۔ زرق برق کپڑوں میں گھرے سب لوگوں کو بارات کا انتظار تھا۔ ہر کسی کی نظر مجھ پر تھی۔ آخر کیوں نہ ہوتی بقول ان لڑکیوں کے سولا سنگھار کر کے میں بہت اچھی لگ رہی ہوں۔ ہر کوئی مجھے یہ کہتا تھا کہ محلے کی سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی۔ آپ یہ نہ سمجھ لیجیے گا کہ میں اپنی تعریف کر رہی ہوں ۔ میری توبہ جو میں ایسا کروں۔ یہ تو محلے والوں کے خیالات بتا رہی ہوں۔ تھوڑی ڈری ہوئی اور کچھ سہمی ہوئی تھی مگر پیا کا انتظار تو مجھے بھی تھا۔ میں ان کو اب تک نہیں دیکھا تھا۔ اس لیے تو زیادہ خواہش ہورہی تھی انہیں دیکھنے کی۔ آخر بارات آگئی۔ لڑکیاں خوشی سے جھوم رہی تھیں۔بارات کا خوب استقبال کیا گیا۔ دولہے کو میرے نزدیک اسٹیج پر بیٹھا یا گیا۔ پہلے لوگوں کی نظروں کا مرکز میں تھیںا ور پھر میرے ساتھ انہیں بھی دیکھا جارہا تھا۔

نکاح شروع ہونے کو ہی تھا کہ میری ہونے والی ساس آگئیں۔ نکاح سے پہلے ہماری کچھ شرائط سن لیں۔ میں ابا اماں سمیت سب ہی اچانک ان کی شرط والی بات پر حیران اور پریشان ہوگئے۔ میری صرف ایک ہی شرط ہے کہ نکاح کے بعد دولہن کے والدین دولہے کو منہ دیکھائی کے تحفے میں سونے کی گھڑی اور موٹرسائیکل دیں گے اگر نہیں دے سکتے تو ہم بارات واپس لے جانے کے لیے تیار ہیں۔

اماں ابا اور میرے قدموں کے نیچے سے جیسے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اگر انہیں اپنی شرائط منوانی ہی تھی تو شادی کی تاریخ طے کرنے سے پہلے ہی منواتے۔ میرے اماں ابا اپنی حیثیت سے بڑھ کر مجھے جہیز دے رہے تھے کہ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ سب کچھ بھی دے سکتے تھے۔ مجھے زندگی اس وقت ٹوٹی پھوٹی اور بکھری ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ زمین باجود اپنی فراخی کے مجھے تنگ سی محسوس ہونے لگی تھی۔ میں جیسے زمین میں دھنستی چلی جارہی تھی۔ ناجانے مجھ میں ہمت اور جوش کہاں سے آیا کہ میں اسٹیج سے اٹھ کر ان تک پہنچی جہاں اماں ابا اور وہ لالچی لوگ کھڑے تھے۔ اگر آپ کو یہ چیزیں چاہئیں تھیں تو رشتے طے کرتے وقت بتانا چاہیے تھا۔ اگر ہم لوگ آپ کے معیار پر پورا اترتے تو اس رشتے کی حامی بھرتے ورنہ انکار کا راستہ موجود تھا۔

بڑی تیز زبان چلتی ہے تمہاری۔ ہمیں معلوم ہوتا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ رشتہ جوڑ رہے ہیں تو پہلے ہی اس رشتے پر تھوک چکے ہوتے۔ اتنی بد لحاظ لڑکی، جانے چال چلن کیسے ہوں گے۔ ہم لوگ جارہے ہیں۔ بہت عزت افزائی ہوگئی ہماری، یہ غالبن میرے ہونے والی ساس کے الفاظ تھے۔ اماں روتی ہوئیں میری ساس محترمہ کے آگے آئیں۔ بہن ہم پر رحم کریں۔ ہم آپ کی یہ خواہش کچھ دنوں بعد پوری کردیں گے۔ بس تھوڑی سی مہلت دے دیں۔ ہماری عزت کو یوں مٹی میں رول کر تو ناجائیں۔ اماں جانے دیں انہیں۔ جنہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فرمان کا پتا نہ ہو۔ جنہیں صرف جہیز کا لالچ ہو وہ بھلا تمہاری بیٹی کو کہاں خوش رکھ سکتے ہیں۔ اس سے تو بہتر ہے کہ میں ساری زندگی اسی دہلیز پر بیٹھی رہوں۔ اماں کبھی میری طرف اور ابا کی طرف دیکھتیں اور کبھی ان لالچ پرست لوگوں کی طرف دیکھتیں۔ زینت کیا دیکھ رہی ہو جانے دو۔ تمہاری بیٹی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ خالہ حاضراں اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوئیں۔ تو حاضراں کون کرے گا اس سے شادی۔ لڑکی ذات کو تو ہم ساری زندگی اپنی دہلیز پر نہیں بیٹھا سکتے۔ ہاں تو کون کہے رہا ہے بیٹھانے کو ۔ مولوی صاحب آپ نکاح شروع کریں۔ دلاور جاﺅ اپنی دلہن کو لے کر مولوی صاحب کے پاس جاﺅ۔ اس افرا تفری میں نکاح ہوگیا۔ سب اپنی اپنی جگہ حیران کھڑے رہے تھے اور وہ زیادہ لالچ کے چکر میں آنے والے سب کچھ گنوا کر شرمندہ شرمندہ سے نظریں لیے جاچکے تھے۔

اب آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ دلاور کہاں سے آگیا۔ تو میں آپ کو بتاتی چلوں کہ دلاور خالہ حاضراں کا بیٹا تھا۔ آج میں اپنی زندگی میں خوش ہوں۔ لیکن ان ماں باپ سے کہوں گی کہ جو میرے ماں باپ کی طرح اپنی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور بغیر کچھ سوچے سمجھے ان کی زندگیوں کے فیصلے کردیتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ زندگی ان کی بیٹیوں کے لیے کتنے کانٹوں کے سیج سجھاتی ہے۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کوئی ثریا اپنے ماں باپ کے انہیں فیصلوں کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے تو کوئی ثریا میری طرح سر عام تماشا بنتی ہے۔ کاش وہ سمجھ جائیں ہر ثریا کو خالہ حاضراں نہیں ملے گی اور نہ ہی آخر میں خوشیاں نہیں ملیں گی اور نہ دلاور جیسا شوہر ملے گا۔ ہاں ایک صورت میں انہیں خوشیاں مل سکتی ہیں کہ اگر ماں باپ بیٹیوں کے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں۔ ارے ثریا جلدی کر کھانا تیار کرلو۔ دلاور آنے والا ہوگا۔ یہ تو خالہ حاضراں کی آواز ہے میں تو چلی ۔ بہت باتیں کر لیں آپ دوستوں کے ساتھ۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close