صفحہ اولناول

طالب و مطلوب (تیسرا حصہ)

از قلم: عروج احمد، لاہور

وہ قد آدم آئینے میں کھڑے وجود کو مسلسل گھور رہا تھا اور اس سے لڑ رہا تھا۔
”جوڑے پہلے میری جیسی اولاد کی خواہش کرتے ہیں اور پھر دنیا میں آنے کے بعد افسوس کرتے ہیں کہ کاش ان کی کوئی اولاد نہ ہوتی۔۔
جب اولاد کا وجود ماں باپ کے لیے بوجھ بن جائے تو ان کے لیے اور کیا غم ہو سکتا ہے۔۔“ اس نے خود کو کوسا تھا۔
”میں اس دنیا میں بہت تنہا ہوں۔۔ میرا کوئی دوست نہیں جس سے میں اپنا اصل متعارف کروا سکوں۔۔ میرے باپ کو مجھ سے محبت نہیں۔۔ وہ ہمیشہ سے ایک سخت گیر انسان تھے۔ ان کی سخت مزاجی کی وجہ سے ہی میری ماں کو ان سے نفرت تھیں۔۔“ اس کی خود سے شکایتیں شورع ہو گئیں۔
”وہ مجھ سے بھی محبت نہیں کرتی تھیں۔ انہیں لگتا تھا میرے پیدا ہونے کی وجہ سے وہ اس رشتے میں بندھ گئی ہیں اور میرے باپ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتیں۔
اپنے ہوش سنبھالنے کے بعد میں نے کبھی ان کو خود سے پیار کرتے نہیں پایا۔ میں جب بھی ان کے قریب جاتا تو وہ نفرت سے مجھے دور کر دیتی تھیں۔ میں ان کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنے کو ترستا تھا۔“ پھر وہ خود ہی سوچنے لگا۔
”شاید اس میں بھی میرے حساس ہونے کا زیادہ قصور ہے۔ میں وہ چھوٹی چھوٹی باتیں محسوس کر لیتا تھا جو نہیں کرنی چاہئیں۔۔ اور وہ باتیں محسوس نہیں کرتا تھا جو محسوس کرنی چاہئیں۔“
اس کا دل بھاری سا ہو رہا تھا۔ ”نہیں وہ مجھ سے محبت کرتی تھیں مگر وہ ظاہر نہیں کرتی تھیں۔“
اب پھر سے وہ اس بات کے رد میں خود سے الجھ پڑا۔
”نہیں، ایسا نہیں تھا۔۔ میرا ہونا نہ ہونا ان کے لیے ایک برابر تھا۔“ وہ نظریں جھکائے رہ گیا۔ اس کی سانسیں دھیرے دھیرے چل رہی تھیں۔
وہ ہمیشہ ماں کی گود میں سویا رہنا چاہتا تھا۔ اس کے لیے دنیا کی سب سے زیادہ آرام دہ اور محفوظ جگہ ماں کی گود ہی تھی اور وہ کبھی اس سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ نجانے کیوں وہ اتنی جلدی بڑا ہو گیا۔ اس نے سر جھکا کر خود سے شکوہ کیا۔
جلد ہی وہ ہوش میں آیا۔ اس نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔ نجانے کیوں وہ خود سے الجھ گیا۔ آج تو وہ بہت خوش تھا اور بہت الگ محسوس کر رہا تھا۔ یہ احساس اسے مسرور کر رہا تھا کہ وہ پہلی بار ماں کی گود سے باہر آ چکا ہے۔ اسے لگا وہ اپنے بچپن کو بھلا سکتا ہے۔ اسے آج اپنی ماں کے بعد ایسی کوئی عورت نظر آئی تھی جسے
وہ پلکیں جھپکائے بغیر دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔ جب سے وہ گھر لوٹا تھا اسے ہی سوچ رہا تھا۔ پہلی بار اسے لگا، وہ کسی ایسی عورت سے ملا تھا جس کی آنکھوں میں اس کی ماں جیسی وحشت، اذیت اور بے چینی تھی۔ وہ بھی اسے اس کی ماں کی طرح غیر دلچسپی سے دیکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی۔
اسے آج شدت سے اپنی ماں کی یاد آئی تھی۔ اس کے ویسے ہی ہھورے سلکی بال تھے جسے اس نے دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کے چہرے کے خوبصورت نقوش اسے بھول ہی نہیں پا رہے تھے۔
وہ ایک عورت کا گرویدہ ہو چکا تھا۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ اس پر وہ جشن منائے یا ماتم کرے۔ مگر وہ آج بے سبب خوش تھا تو اسے اپنی خوشی کو کم نہیں ہونے دینا تھا۔
وہ پیشے سے ایک بزنس مین تھا اور مصوری اس کا شوق تھا۔ وہ کئی دنوں سے یہ تصویر مکمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ آج بڑے اچھے موڈ کے ساتھ اس پارک میں گیا تھا۔ وہ صرف پینٹنگ پر فوکس کرنا چاہتا تھا اور وہ اسی میں منہمک تھا جب وہ حسین دوشیزہ اس کی پینٹنگ دیکھنے وہاں چلی آئی تھی۔ وہ اس تصویر کو دیکھ کر اتنی گھبرا گئی تھی کہ اسے لگا اس نے وہ تصویر بنا کر کوئی جرم ہی کر ڈالا ہو۔
شاید اس نے تصویر میں وہ بات دیکھ لی تھی جو وہ چھپا رہا تھا۔ وہ اس کی تصویر کو گھورتی نگاہوں سے جان گیا تھا کہ وہ اس کی طرح ضرور کوئی آرٹسٹ رہی ہو گی۔ وہ لڑکی کے لباس اور جسم کے خدوخال سے اسے بنانے والی سوچ کو پڑھ چکی تھی اور اسے دیکھ کر یوں گھبرا گئی تھی گویا اس کے اندر جھانک چکی ہو۔ وہ اس سے نظریں ملانے کی بجائے نظریں چرا کر وہاں سے چل دی تھی۔
وہ بڑی دور تک اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا تھا۔ اس کا دل شدت سے چاہا تھا وہ اس سے نظریں ملاتی اور وہ اس سے تصویر کے حوالے سے چند باتیں کرتا، پھر اس کا نام پوچھتا اور ان میں جان پہچان سی بن جاتی۔ مگر وہ وہاں سے فرار ہو گئی۔
اس کے جانے پر اس نے محسوس کیا جیسے اس کا کچھ اسی کے ساتھ جا رہا ہو۔ اس نے اپنے گارڈ کو اس کا پیچھا کرنے کا کام لگا کر وہاں سے بھیج دیا تھا۔
مگر اس کے بعد تصویر بنانے میں اس کا دل نہیں لگ پایا تھا۔ وہ زیادہ دیر وہاں نہیں رکا تھا۔ اس نے اپنی کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی اور گارڈ سے اس کی کار کی لوکیشن جان کر اس کے پیچھے اپنی کار بھی ڈال لی تھی۔
وہ دلربا سی مغرور لڑکی اس کو اپنا پیچھا کرتے دیکھ کر اتنی گھبرا گئی تھی کہ وہ پہلی بار کسی کو یوں ستانے میں مزہ محسوس کر رہا تھا۔ وہ تو جیسے اس کو بھٹکانے کی پوری کوشش کر رہی تھی مگر وہ کیا جانتی تھی کہ اس کا پیچھا کرنے والا بھی پورا پاگل تھا۔
جہاں وہ جان بوجھ کر نہیں جاتا تھا وہاں اس کا گارڈ پیچھا کر رہا تھا۔ آخر اس نے گھر کا پتہ لگا لیا تھا۔ وہ مطمئن تھا کہ اس نے اسے کھو نہیں دیا۔
اب وہ اسے مزید تنگ کرتا رہے گا۔ وہ کھلکھلا کر مسکرایا تھا۔ اس کے قہقہوں سے اس کا کمرہ گونجنے لگا۔ اسے خوشی سی ملی تھی کہ آج وہ اپنے کمرے میں اکیلا نہیں تھا، اس کی ہنسی بھی اس کے ساتھ تھی۔ اس نے اسی لمحے فیصلہ کیا تھا کہ وہ یہ تصویر پوری کر کے اسے ہی بھیجے گا۔
اس تصویر کو دیکھ کر اس دوشیزہ کے چہرے پر آنے والے تاثرات کا سوچ کر اس کا چہرہ قمقمے کی طرح روشن ہو گیا تھا۔
اس نے کمرے کی ایک دیوار پر نصب اپنی پہلی پینٹنگ پر نظر ڈالی تھی۔ اسے ایک خوبصورت جوان عورت اپنی گود میں دو سالہ بچہ اٹھائے نظر آئی۔ شیرخوار بچے نے ماں کے وجود پر زور سے اپنے بازو پھیلا کر جما رکھے تھے جیسے اسے ڈر تھا کہیں وہ اسے خود سے دور نہ کر دے اس کا ننھا سا منہ اس عورت کے ساتھ یوں جڑا تھا گویا وہ کچھ اور دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو۔ وہ آنکھیں موندیں اپنی ماں کی گود سے لپٹا ہوا تھا۔
اس تصویر کو دیکھنے میں وہ اتنا محو تھا کہ اچانک سے اسے ایک مردانہ نفرت سے ڈوبی گرجدار آواز سنائی دینے لگی۔
”بے غیرت نے ماں کی تصویر بنا کر دیوار پر ٹانک لی۔۔ جسے میں نے سات پردوں میں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔“
حسن صاحب نے پہلی بار اس تصویر کو اس کے کمرے میں لگا دیکھ کر بہت غصہ کیا تھا۔
وہ شرمندگی سے سر جھکا کر رہ گیا تھا مگر دل میں نفرت سے جتائے بغیر نہ رہ پایا تھا۔ ”انہیں سات پردوں میں چھپا کر رکھ لیا مگر دل میں اپنے لیے محبت نہ ڈال سکے۔۔ اس لیے وہ آپ کو چھوڑ کر چلی گئیں اور آج آپ اکیلے جی رہے ہیں۔“
ان کے سامنے کچھ بولنے کی اس میں آج بھی ہمت نہیں تھی۔ وہ کیسے بھی تھے مگر فارہ بیگم کے لیے ان کا پیار سچا تھا۔ تبھی وہ ان کے جانے کے بعد دوبارہ کسی عورت کو دل میں جگہ نہ دے پائے۔
پھر ایک دن ایک عورت ان کے حسن اور امارت کو دیکھ کر ان کے پیچھے لگ گئی اور اس نے نجانے کون سے جادو منتر کر کے انہیں شادی کے لیے راضی کر لیا ورنہ وہ تو دوبارہ شادی کے لیے کبھی راضی نہ تھے۔
انھوں نے اسے اس گھر میں نہیں آنے دیا جس میں وہ فارہ بیگم کو لائے تھے۔ انھوں نے گھر سے ایک گلی کے فاصلے پر ایک الگ کوٹھی لے کر حنا بیگم کو وہاں رکھا تھا اور آج بھی وہ ان سے الگ ہی رہ رہے تھے۔ ہفتے میں دو دن کے لیے وہاں جاتے ورنہ یہیں اس گھر میں پہرے داری کرتے رہتے۔
ان کے دو بیٹے اور بھی تھے مگر وہ ان سے روز مل کر واپس یہیں آ جاتے۔ کبھی کبھی اسے پاپا بہت عجیب لگتے تھے۔ جب وہ اس پر بہت غصہ کرتے تو وہ سوچتا کہ اچھا ہوا مام انہیں چھوڑ کر چلی گئیں ورنہ وہ آج بھی ان کے غصے کی وجہ سے کسی کونے میں چھپ کر رو رہی ہوتیں۔
انہیں یاد کرتے ہی اس کے چہرے پر حسرت سی در آئی تھی۔
چھٹی کا دن اس کے لیے ایسے ہی اداسی اور اذیت کا باعث بن جاتا تھا۔ کوئی نہ کوئی پرانی یاد اس کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتی تھی۔ اسی لیے وہ خود کو مصروف رکھتا تھا۔
آج وہ حیران تھا کیونکہ اسے اپنا ماضی غیر سا لگ رہا تھا۔ اسے خوشی تھی کہ اب اس کے پاس کرنے اور سوچنے کو کچھ نیا تھا۔
وہ مڑ کر ایزل پر لگی پینٹنگ کو گھورنے لگا۔ اسے یہ سوچ کر خوشی مل رہی تھی کہ اسے پینٹنگ گفٹ کرنے کے لیے کوئی مل گیا تھا۔ اسے بناتے ہوئے اس نے ارادہ کیا تھا کہ وہ اسے مام کو بھیج دے گا مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس کی محنت میں چھپی چاہت کو سمجھنے والا وہاں کوئی نہیں ہے۔ یہ تو صرف اس کے دل کی خوشی تھی کہ وہ اسے انھیں بھیجنا چاہتا تھا۔
اس نے اداسی سے سر کو جھٹکا۔
اس نے دن رات محنت کر کے پینٹنگ کو مکمل کیا اور فریم کروا کر اسے بھیجنے کے لیے پیک کروا دیا۔
وہ دل ہی دل میں خواہش کرتا رہ گیا کہ کاش اسے کھول کر دیکھتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھ سکتا۔
اس کے بعد وہ اس کا پیچھا کرنے لگا۔ وہ ہر بار اسے الجھا ہوا پریشان سا پا کر بہت محظوظ ہوتا تھا۔
وہ خود جو ہمیشہ سے بے چین تھا اب کسی اور کو بے چین کر کے اسے عجیب سا سکون مل رہا تھا۔
اس نے اس کے متعلق پتہ لگوایا تو یہ جان کر اسے زیادہ فرق نہیں پڑا کہ وہ نا صرف شادی شدہ تھی بلکہ دو بچوں کی ماں بھی تھی۔ پہلے پہل وہ اس پر یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ وہ چھوٹی عمر کی دوشیزہ دو بچوں کی ماں ہو سکتی ہے مگر چونکہ اس کی اپنی ماں بھی کم عمری میں اس گھر میں آئی تھی تو اسے کرتے کرتے یقین آ ہی گیا۔ پھر اسے صدمہ لگ گیا کہ وہ ایک شادی شدہ عورت کے عشق میں پڑتا جا رہا تھا۔
اسے اس موقع پر پھر سے اپنی ماں کی یاد آ گئی۔
اسے یاد تھا جب وہ 10 سال کا تھا تو انہیں دیکھ کر سوچتا تھا کہ اس کے کلاس فیلوز اور دوستوں کی مائیں عمر رسیدہ ہیں تو اس کی ماں اتنی جوان کیسے ہو سکتی ہے۔
12 سال کے بعد جب اچانک سے اس نے قد نکال لیا تو اس کے دوست مذاق میں کہنے لگے کہ کہیں وہ اپنی ماں کا سوتیلا بیٹا تو نہیں ہے۔ جب وہ اپنی ماں کے ساتھ کھڑا ہوتا تو دیکھنے والے انہیں بہن بھائی سمجھ لیتے۔ پھر اس کے اسکول میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ وہ اپنی ماں کا سوتیلا بیٹا ہے۔ اگر اس کی یادداشت اچھی نہ ہوتی تو وہ شاید یقین بھی کر لیتا مگر اسے تو شیرخوارگی کے زمانے میں اپنی ماں کی گود میں کھیلنا بھی یاد تھا۔ وہ کوئی بھی اچھا لمحہ بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ پھر بھی کسی لمحے ناراضگی میں وہ انہیں کہہ دیا کرتا کہ میں تو آپ کا سوتیلا بیٹا ہوں۔
ایک دن مام نے اسے گلے سے لگا کر سمجھایا تھا کہ وہ ان کا سگا بیٹا ہے اور چاہے کوئی کچھ بھی کہہ لے مگر یہ حقیقت کبھی نہیں بدل سکتی۔
اسے اس دن ان سے بہت شرم آئی تھی کیونکہ وہ ان کے برابر آ چکا تھا اور حسن گردیزی صاحب نے اس کے 10 سال کے ہونے کے بعد فارہ بیگم کو اس سے بھی پردہ کرنے کی ہدایات کر دی تھیں۔ وہ کم عمر میں ہی اپنی ماں سے دور کر دیا گیا تھا۔
اس نے ناراضگی سے سوچا۔ اچھا ہوا وہ یہاں سے چلی گئیں۔ مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس نے خود کو ٹوکا کہ وہ انہیں یاد ہی کیوں کر رہا ہے۔
شاید اسے ہر لمحہ انہیں یاد کرنے کی عادت ہو گئی تھی۔ وہ اس کا اپنی ماں سے موازنہ کرتے ہوئے خود پر غصہ کرنے لگا۔
”طالب گردیزی..! تم بھی کیا ہر جگہ ماضی لے کر بیٹھ جاتے ہو۔۔ ٹھیک ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کی بھی میری ماں کی طرح 12 یا 14 سال کی عمر میں شادی ہو گئی ہو گی۔ وہ دور تھا اسلام کے نام پر عورتوں کو قربان کر دیا جاتا تھا پر آج کے دور میں تو ایسا کوئی نہیں کرتا۔“ اس نے خود کو الجھن سے باہر نکلنا چاہا۔
وہ اس بات پر یقین کرنا نہیں چاہتا تھا۔ آخر اسے یقین کرنا پڑا۔
اس کی چھٹی حس اسے خبردار کر رہی تھی کہ اس سے کوئی غلطی ہونے والی ہے۔
”کیا طالب گردیزی ایک بار پھر غلط جگہ دل لگا کر چوٹ کھانے والا ہے؟“ اس نے خود سے سوال کیا۔
”پتہ نہیں میں کیوں کسی کو اتنا سوچ رہا ہوں؟“ اس نے اپنے دل کو سختی سے اس کے بارے میں سوچنے سے روک لیا۔
اور پھر پتہ نہیں اسے کیا ہوا وہ خود کو روکنے کے باوجود خود سے چوری چوری اس کےبارے میں سوچنے لگا۔ اس عورت کی آنکھوں میں ٹھہری اذیت اور تکلیف بھرے تاثرات نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا تو اس نے مزید اس کے بارے میں پتہ کروانا شروع کر دیا۔
اسے مزید معلوم کہ وہ دو بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی ہے اس کا شوہر ملک سے باہر ہی رہتا ہے۔ اسے جس دوست نے بتایا تھا اس نے کہا۔ ”تم اتنا سوچ کیوں رہے ہو؟ ایسی عورتیں دل لگانے کے لیے دوست بنا ہی لیتی ہیں۔۔ تم کوشش کر کے تو دیکھو کیا معلوم اس کی زندگی میں تمہارے جیسے کسی کی کمی ہو۔“
وہ اس کا مشورہ غیر سنجیدگی سے سن کر نظر انداز کر چکا تھا مگر اندر ہی اندر وہ بے چین تھا۔ اس کے بعد وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے ہی سوچنے لگا۔
اسے سمجھ آ گئی تھی کہ وہ بیل میں جکڑی عورت کو دیکھ کر کیوں اتنی پریشان ہو گئی تھی۔ وہ اس کی جگہ خود کو محسوس کر رہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں خوش نہیں ہے۔ اس نے خود کو سمجھایا کہ وہ اس کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو اس کا خیال اپنے دل سے نکال دے۔
———-
ایک عجیب سا خواب دیکھ کر وہ بے چینی سے اٹھ بیٹھا تھا۔ اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی تو شام کے چار بج رہے تھے۔ بمشکل ہوش کرتے ہوئے وہ وہیں بیٹھے کچھ سوچتا چلا گیا۔ اچانک سے بجنے والی فون کی گھنٹی نے اسے متوجہ کیا۔ اس نے فون ریسیور کیا تو حاتم بول رہا تھا۔ فون پر بات کرتے ہوئے اس کی نظر سامنے لگی پینٹنگ پر جا ٹھہری۔ اچانک سے اسے گود میں بچہ اٹھائی ہوئی عورت عروش نظر آنے لگی۔ پھر اسے خیال آیا اس کی صورت اس کی ماں سے کچھ تو ضرور ملتی ہے اسی لیے وہ اسے بھولتی نہیں۔ فون بند ہونے کے بعد وہ الجھنے لگا۔ اسے اب ہر جگہ وہی نظر آنے لگی۔ اس نے خود کو سمجھا کر ذہن سے اس کا خیال جھٹکا۔
وہ اور حاتم مزید دو دوستوں کے ساتھ مل کر کہیں اکٹھے ہونے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔
وہ اٹھا اور فریش ہو کر باہر نکل گیا۔ سب دوست کیفے پوائنٹ پر اکٹھے ہوئے تو اسے وہ اپنی دوست کے ساتھ بیٹھی نظر آئی۔
اس نے بالکل اس کے نزدیک والی میز کا انتخاب کر لیا۔ قوالی نے رونق کا سماں پیدا کر رکھا تھا اب ساتھ میں اس کا دیدار اسے بہت محظوظ کرنے لگا۔ وہ اسے دیکھ کر بہت حیران تھا۔ کیا دل اسے آج بار بار کہہ نہ رہا تھا کہ وہ اسے اپنی نظروں کے سامنے دیکھنے والا ہے۔ وہ خود کو بلاوجہ بہت زیادہ خوش محسوس کر رہا تھا۔ اچانک سے اسے سب بہت حسین لگنے لگا تھا۔
وہ اورنج لباس میں ملبوس تھی اور ہلکے سے میک آپ کے ساتھ وہ بہت جاذب نظر لگ رہی تھی۔
طالب کا دھیان اپنے دوستوں کی بجائے اسی کی جانب تھا۔ قوالی کے بیچ کہیں وقفہ ہوا تو اسے اس کی آواز سنائی دینے لگی۔
اس نے سنا وہ ایک پاگل کی تلاش میں ہے جو اسے دیوانوں کی طرح چاہے۔ وہ ہمیشہ سے کسی جنونی عاشق کی منتظر رہی جو اسے کبھی ملا ہی نہیں۔ وہ اپنی بورنگ زندگی سے بیزار نظر آ رہی تھی۔
اس نے اسی لمحے فیصلہ کیا وہ اب خود کو مزید نہیں روک سکتا۔ اگر پاگل پن میں چین ہے تو وہ ہمیشہ سے بے چین تھا۔۔ وہ جانتا تھا طالب گردیزی ہی وہ پاگل عاشق ہو سکتا ہے جو اسے دیوانوں کی طرح چاہے گا۔
اس نے ایک قوالی پر رقص کر کے اس کو متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ طالب گردیزی عشق میں کیا کچھ کر سکتا ہے۔
وہ اسے رقص کرتے دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی مگر براہراست دیکھنے سے کترا رہی تھی۔ جب اس نے لوگوں کے ہجوم کو اپنی جانب تکتے پایا تو گھبرا گئی اور کچھ ہی دیر میں وہاں سے جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔
وہ وہاں سے جا رہی تھی تو اسے زیادہ مایوسی نہیں ہوئی۔ وہ پہلی نظر میں جان چکا تھا کہ وہ کتنی ضدی ہو سکتی ہے۔
اگر وہ نخرے دکھانا چاہتی تھی تو وہ نخرے اٹھانے کو تیار تھا۔ آخر وہ بھی ایک آرٹسٹ تھا، اپنے دل کی مراد پوری کیے بغیر کیسے آرام سے بیٹھ سکتا تھا۔ وہ اتنی جلدی اس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والا تھا۔ یہ بھول کر کے وہ ایک کور کمانڈر کا بیٹا ہے اور اگر اس کے باپ کو یہ پتہ چلا کہ اس کا بیٹا اتنے گرے ہوئے کام کر رہا ہے تو اس کو کتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
——–*
شام کے چار بج رہے تھے۔ بیزار سی طبیعت کے ساتھ وہ بستر سے اٹھی تھی۔ آج صبح اس کی ذاکر سے فون پر کچھ بحث ہو گئی تھی تب سے اس کا موڈ کچھ اچھا نہ تھا۔ اس نے اٹھ کر نماز عصر پڑھی اور بے دلی سے چھت کی جانب چلی آئی۔
ایسا لگتا تھا مغرب کی اذان میں بہت کم وقت رہ گیا ہو۔ اس کا دل بے چین سا ہو رہا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی ہوئی منڈیر کی جانب چلی آئی۔ اس کی نگاہ آسمان کی جانب تھی جہاں پرندے اپنی آوازوں کے ساتھ آسمان میں رونق بکھیر رہے تھے۔ یہ منظر اس کے لیے ہمیشہ سے پسندیدہ تھا مگر آج چونکہ اس کا موڈ اچھا نہ تھا تو وہ خود کو پرسکون نہ پا رہی تھی اور بے چینی سے انہیں اڑتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
بے خیالی میں اس کی نظر دوسری جانب کی چھت پر ٹھہر گئی۔ اس نے دیکھا وہی چھوٹا لڑکا پتنگ اڑا رہا ہے۔ دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائیں تو اس نے زبردستی خود کو مسکرانے پر مجبور کیا۔ بدلے میں وہ بھی مسکرایا اور اس نے آواز دے کر پوچھا۔
”آپی آپ نے پتنگ اڑانی سیکھنی ہے نا!“ وہ کچھ سوچتے ہوئے پہلے تو چپ سادھے رہی پھر دھیرے سے بولی۔
”آج میرا موڈ نہیں ہے۔“
”ٹھیک ہے۔۔ پھر آج آپ مجھے اڑاتے ہوئے دیکھیں۔“
ان کے درمیان ایک چھت کا فاصلہ تھا مگر وہ دور سے ہی اس کو پتنگ اڑاتے ہوئے غور سے دیکھنے لگی۔ نجانے وہ اسے دیکھ کر کیا سوچ رہی تھی۔ شاید اسے اپنا بچپن یاد آ رہا تھا یا بچپن کی بسنتیں، جو اسے اکثر اپنی یادوں میں گم رکھتی تھیں۔ اسی اثناء میں اس چھت پر بلوری آنکھوں والا مصور بھی چلا آیا۔
اسے آتے دیکھ کر اس نے آنکھیں ٹپٹپائیں اور کتراتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اس نے آج اپنی آنکھوں کے رنگ سے میل کھاتی سبز شرٹ پہن رکھی تھی جو اسے بہت سوٹ کر رہی تھی۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس حسن کے پیکر کو دیکھے بنا نہ رہ پائی تھی۔
وہ اس کی نگاہیں اپنی جانب پا کر خوشی سے مسکرانے لگا۔ عروش نے نظروں کا رخ بدل لیا۔
اچانک سے اس کا موڈ تبدیل ہونے لگا۔ وہ دلچسپی سے بچے کو پتنگ اڑاتے تکنے لگی۔
بچہ اسے اپنی جانب متوجہ دیکھ کر پوچھنے لگا۔ ”کیا آپ تھوڑی دیر کے لیے بھی ڈور ہاتھ میں نہیں لینا چاہیں گی؟“
وہ اشتیاق سے دریافت کرنے لگی۔ ”کیا میں اڑا پاؤں گی؟“ بچہ یقین سے بولا۔ آپ کو کچھ باتیں سمجھنی ہوں گی اور پھر کچھ دن پریکٹس کرنی پڑے گی۔“
وہ جواب میں سر ہلا کر مسکرائی۔
”واہ چھوٹے! آج بھائی کو کوئی لفٹ ہی نہیں۔“ طالب نے اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر طنز سے کہا۔
”اسے کہتے ہیں عورت کی طاقت۔۔“ اب وہ اپنے چھوٹے کذن کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کا موڈ بہت اچھا لگ رہا تھا۔
عروش دلچسپی سے انھیں دیکھ رہی تھی پر ان کی باتیں واضح سن نہیں سکتی تھی۔
چھوٹے لڑکے نے اشارہ کر کے پوچھا۔ ”میں آپ کی چھت پر آ جاؤں؟“
اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔
یہ سیکھنا اس کا شوق تھا وہ چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پا رہی تھی۔ وہ کچھ دنوں سے خود کو اپنے بچپن میں محسوس کرنے لگی تھی۔
وہ چھوٹا لڑکا درمیانی چھت سے گزرتا ہوا ڈور لیے اس کے پاس چلا آیا۔ پہلے سے ہوا میں رقص کرتی پتنگ کی ڈور اس نے عروش کے ہاتھ میں تھمادی۔ وہ گھبرا گئی۔ ”نہیں، نہیں میرا یقین نہیں کرو۔ میں اسے اڑا نہیں پاؤں گی۔“
اس نے یقین سے کہا۔ ”کبھی تو ڈور ہاتھ میں لینی پڑے گی۔۔ تبھی تو اڑانی آئے گی۔“
وہ آسمان میں اڑتی پتنگ کو تکنے لگی۔ اسے اچانک سے سب بہت دلچسپ لگنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ایسی پتنگ کی ڈور تھی جو آسمان میں رقص کر رہی تھی۔ اس کی نظریں اب وہیں تھیں۔
چھوٹا لڑکا اسے کچھ اصول سمجھا رہا تھا۔ وہ سیکھتے ہوئے پر جوش نظر آنے لگی۔
”دیکھا آپ کا موڈ اچھا ہو گیا نا!“ لڑکے نے خوشی سے دریافت کیا۔ اسے خیال آیا بچے کتنے پر خلوص من کے ہوتے ہیں۔ کوئی انا نہیں، کوئی دکھاوا نہیں۔ اسے آج پہلی بار احساس ہوا کہ اداسی کے لمحات جادوئی اثر کی طرح ہوتے ہیں جسے ختم کرنے کے لیے پرخلوص اور پرجوش سے جذبات ہی کافی ہو سکتے ہیں۔
طالب دور سے وہ انہیں اشتیاق کے عالم میں دیکھ رہا تھا۔ جوش سے اس کے ہونٹ اور کان لال ہو رہے تھے۔ کوئی بھی دیکھ کر اس کی دیوانگی کو محسوس کر سکتا تھا۔
وہ قرمزی لباس میں ملبوس خربوزے جیسی رنگت کی لڑکی کو چور نگاہوں سے دیکھنے میں مشغول تھا۔ اس کے لمبے بال کمر کو ڈھانپے ہوئے تھے۔ وہ کسی تصوراتی حسینہ کا وجود تھا جو اسے کسی خواب کا احساس دلا رہا تھا۔ آسمان پر ننھے ننھے بادلوں سے خوبصورت سا منظر بنا تھا۔
کبھی وہ آسمان کو تکتا تو کبھی حسینہ کو اور دل میں کہتا ”اللہ تیری تخلیقات کی کیا ہی مثال۔۔ بھلا ہم انسان بھی کبھی تیرے برابر کا حسن اپنی تخلیق میں لا سکتے ہیں؟“
ناممکن۔ اس کے دل نے گواہی دی۔
عروش نے چھوٹے لڑکے سے باتوں ہی باتوں میں ان دونوں کا نام جان لیا۔
کچھ دیر بعد اس نے اسد سے کہا۔ ”اب تم جاؤ۔ مغرب کی اذان ہونے والی ہے، اب کل سیکھیں گے۔“
وہ خوش ہو کر واپس جانے لگا۔ وہ شفون کا دوپٹہ اپنے ہاف سلولیس بازو پر پھیلاتی ہوئی اسے جاتے ہوئے تک رہی تھی۔ اس نے دل میں شکر کیا کہ ان کے درمیان میں واقع چھت کا فاصلہ کم ہی تھا۔
وہ وہیں منڈیر کے قریب کھڑی انھیں دیکھتی جا رہی تھی۔ ان کے درمیان کا فاصلہ بہت پر کشش تھا۔ اسے طالب کی گھورتی ہوئی چور نگاہوں کا احساس ہو رہا تھا۔ اس نے آواز دے کر اسد سے کہا۔ ”اب مجھے تب سیکھانا ہے جب تمھارا کزن نہ آئے۔“ طالب اس کی بات سن کر اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
”کیا میرا آنا آپ کو اتنا برا لگا ہے؟ جبکہ میں نے تو آپ دونوں کو ٹوکا بھی نہیں۔“ اسد پتنگ واپس نیچے لانے میں مگن تھا۔ اس نے طالب کو وہیں کھڑے اسے خود کو تاڑتے دیکھ کر بے باکی سے دریافت کر ڈالا۔
”لگتا ہے آپ کے گھر میں عورتیں نہیں ہیں؟ جیسے دوسری عورتوں کو گھورتے رہتے ہو؟“
یہ سن کر وہ شرم لال ہو گیا۔ ”عورتوں کو تو نہیں۔۔ بس آپ کو ہی۔۔“ اس نے معصومیت سے صفائی پیش کی۔
وہ دل میں خود کو کوسنے لگی۔ پتہ نہیں مجھے اس پر غصہ کیوں نہیں آتا۔ اس سے پہے کہ وہ مزید کچھ کہتی وہ وہاں سے دور جانے لگا۔ عروش اسے دوسری جانب جاتے دیکھ کر سوچنے لگی۔
شاید اس نے یہ زمانہ کھو دیا تھا جس میں وہ دوبارہ داخل ہو چکی ہے۔ اب اسے جی بھی کر اپنا بچپن جینا ہے۔ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
اگلے دن کی دوپہر میں وہ ایک ولیمے کی تقریب پر تھی جب اسے خیال آیا گھر لوٹتے ہوئے شام ہو جائے گی۔
اسے فکر ہونے لگی کہ اگر آج بھی وہ دیر سے پتنگ سیکھنے جائے گی تو زیادہ وقت نہیں مل پائے گا۔ یوں بھی وہ شادی کی تقاریب پر بور ہو جاتی تھی۔ اسے اپنی شادی کا برا وقت یاد آنے لگاتا تھا۔
وہ اداسی سے سوچنے لگی کہ آج لازمی اسے پتنگ اڑانے کی مشق کرنی ہے ورنہ یہ اداسی اسے رات تک مارتی رہے گی۔ اس نے تقریب ختم ہونے سے پہلے ہی بہانہ کر کے وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا۔
وہ جب لوٹ رہی تھی تو شام ڈھل رہی تھی۔ مغرب کے وقت میں 45 منٹ باقی تھے۔ اس نے وقت پکڑنے کی خاطر اپنی سیاہ کرنکل کی خوبصورت ساڑھی کا خیال نہ کیا کیونکہ وہ جانتی تھی لباس بدلنے میں 15 منٹ مزید ضائع ہو جانے والے تھے۔ وہ ساڑھی میں ہی بھاگتی ہوئی چھت پر چلی آئی۔ اسے یہ دیکھ کر خوشی ملی کہ وہ دونوں پہلے سے اس کی ہی چھت پر پتنگ اڑانے میں مگن تھے۔ اس نے اسد کو کہا تھا کہ وہ کل سے اس کی چھت پر پتنگ اڑائے گا تاکہ اسے ڈور کو لے کر اپنی چھت سے وہاں آنے میں مشکل نہ ہو۔
اس آتا دیکھ کر اسد بے انتہا خوشی اور جوش سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔ شاید طالب نے اس کی کل کی بات کا کچھ اثر لیا تھا آج پہلی نظر پڑتے ہی اس نے اپنی نظریں جھکا لی تھیں۔ وہ جوش و خروش سے پتنگ کو تکتے ہوئے ان کی جانب چلی آئی۔
اسد کی سنگت اسے اپنے بچپن میں لے جانے لگتی تھی۔ جہاں انسان اپنے جینس کے احساس سے ماوراء ہو کر بس اپنے بچپن کے جوش و جنون میں جیتا ہے اور صرف من کی کرتا ہے، وہ بھی صرف من کی سن رہی تھی۔
اسے سیاہ ساڑھی میں دیکھ کر اسد ہنسنے لگا۔ ”لگتا ہے آپ کسی تقریب سے سیدھا یہیں چلی آئی ہیں۔“
وہ کھل کر ہنسی۔ ”ہاں.. ایک ولیمے سے جلدی نکل کر سیدھا یہیں چلی آئی ہوں۔ وقت کا خیال کرنا پڑتا ہے نا!“ وہ دلچسپی سے پوچھنے لگا۔ ”آپ کی ساڑھی تو بہت پیاری ہے۔۔ ویسے کھانے میں کیا کیا تھا۔“ وہ ساڑھی کی تعریف پر مسکرائی اور پھر اشتیاق سے بتانے لگی۔ ”بہت کچھ تھا، پر میرا موڈ وہاں بہت خراب ہو رہا تھا۔۔ کچھ کھانے کو جی نہیں چاہا۔“ وہ پتنگ کی ڈور کھینچتے اور چھوڑتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔ اسد ڈور اسے پکڑا کر خود بے فکری سے منڈیر پر بیٹھ گیا تھا اور شرارتی صورت بنائے اس سے سوالوں پر سوال کرنے لگا۔
”موڈ کیوں خراب تھا؟ آج تو موسم بھی اتنا اچھا ہے۔“
وہ اداسی سے بولی۔ ”ویسے ہی۔۔ شادیوں پر جانا میرے لیے بڑا امتحان ہوا کرتا ہے اور موسم سے میرا موڈ کہاں بدلنے والا تھا۔“
”شکر ہے آپ آگئیں، ورنہ ہم تو ڈر رہے تھے کہ آج اس چھت والے ہی نہ اوپر چلے آئیں اور ہمیں ٹوک دیں کے کسی چھت پر کیا کر رہے ہو۔“
وہ اطمینان سے کہنے لگی۔ ”ان لوگوں کی فکر نہ کرو۔۔ یہاں بوڑھے میاں بیوی رہتے ہیں وہ چھت پر نہیں آنے والے۔“ یہ سن کر وہ سکون میں آگئے۔
”مجھے تو بڑا شوق ہے تقریبات پر جانے کا۔۔ مگر مام ڈیڈ مجھے صرف رشتےداروں کی شادیوں پر ہی لے کر جاتے ہیں اور وہ بھی اتنے کم ہیں کہ جلدی کوئی شادی ہی نہیں آتی۔“ وہ یہ سن کر کھلکھلائی۔
طالب نے متوجہ ہو کر اسے دیکھا تھا۔ وہ ساڑھی میں بہت حسین لگ رہی تھی اور اس پر کھلکھلا کر ہنسنا اس کو دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔
”اچھا..! چلو اب کسی شادی پر جانا ہوا تو میں تمھیں ساتھ لے چلوں گی۔۔ اس نے صلح ماری۔
اسد خوش ہونے لگا۔ ”اگر تمھارے مامی پاپا پرمیشن دے گے تو۔۔“ اس نے جملہ مکمل کیا تو اس کا چہرہ اتر گیا۔
”وہ تو اجازت نہیں دیں گے۔ اور آپ مجھے ساتھ لے بھی گئیں تو کیا بتائیں گی کسی کو کہ میں کون ہوں؟“
وہ اس کی باتوں پر مسکرائے بنا نہ رہ پائی۔ ”اوہ..! یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔“
”کوئی بات نہیں..! طالب بھائی کی شادی ہو گی تو ہم بہت انجوائے کریں گے۔ آپ بھی ضرور آنا۔“
اسد نے اپنے سامنے کھڑے ان دونوں سے لا تعلق بنے طالب کو دیکھا تھا۔ عروش کی نظر پتنگ پر تھی۔
”میری تو ابھی پانچ سال تک شادی نہیں ہونے والی۔۔ لمبا انتظار کرنا پڑے گا۔“ اس نے سادگی سے اسد کی امید پر پانی پھیر ڈالا تھا۔ وہ پتنگ اڑانے میں مگن تھی۔
اس نے اسد کو حوصلہ دینے کو کہا۔ ”شادی پر کوئی انجوائے نہیں ہوتا بھئی۔۔ دلہا دلہن کی بیزار صورت، رشتے داروں کی فضول باتوں اور رسموں سے لے کر کھانے کی اقسام تک سب وقت ضائع کرنے کے بہانے ہیں۔۔ فضول کی تقریبات اور بےکار کے چونچلے۔۔“ اس نے اکتائے ہوئے اسے سمجھایا۔
”مگر بچوں کو تو بڑا مزہ کرنے کو ملتا ہے نا! خوب کھیلو، کوئی روکنے والا نہیں، روٹین کے سارے اصول توڑ کر مزے کرنے کو ملتے ہیں.. پیسے لوٹنے میں بھی بہت مزہ آتا ہے اور سروالا بننے کے بہانے دلہن کے ساتھ بیٹھنے کا موقع بھی تو ملتا ہے۔“
یہ سن کر وہ ہنستی چلی گئی۔ یہانتکہ طالب کے چہرے سے بھی مسکان پھیل گئی۔
عروش کی ہنسی نے اسد کو شرمندہ کر ڈالا کیونکہ اس کی ہنسی تھم نہ پا رہی تھی۔ پھر طالب نے بھی اسے تیکھی نظروں سے دیکھ کر احساس دلایا کہ وہ کچھ زیادہ بول گیا ہے۔
وہ دونوں نجانے ایک دوسرے کو دیکھ کر کیا اشارے کرنے لگے اور دونوں ہنسنے لگے۔
عروش نے ہنسی پر قابو پا لیا اور ایک ہاتھ سے اس کا گال تھپتھپا کر دوستانہ انداز میں کہا۔ ”بیٹا چھوٹی عمر میں چھوٹے خواب دیکھتے ہیں۔“
اس نے تعجب سے دریافت کیا۔ ”کیا میں نے کچھ زیادہ بول دیا؟“ اس نے محبت سے کہا۔
”نہیں۔ بیٹا بس خواب عمر کے حساب سے بڑے دیکھ لیے ہیں۔“ وہ شرمندگی سے مسکراتا رہ گیا تھا۔
اچانک سے خاموشی چھا گئی اور وہ پتنگ اڑانے میں مگن ہو گئی۔ وہ دونوں آپس میں نجانے کن اشاروں میں مصروف تھے عروش نے غور سے سننے کی کوشش کی تو اسے سنائی دینے لگا۔
طالب اسد کو ہلکی آواز میں ڈانٹ رہا تھا۔ ”بیٹا اپنی نظروں کو قابو میں رکھو وہ تمھاری ماں کی طرح ہے۔“ اس کو اچانک سے خیال آیا اس کی ساڑھی سے اس کی کمر نظر آرہی ہے۔ وہ دل ہی دل میں شرم سے پانی پانی ہونے لگی۔ ”میری تو غلطی سے نظر پڑ گئی تھی۔۔ مگر آپ جو چوری چوری دیکھ رہے تھے وہ کیا؟“
طالب نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے تھے۔ ”میری بھی غلطی سے نظر پڑ گئی تھی مگر میں بار بار تو نہیں دیکھ رہا تمھاری طرح۔۔“
اسد صاف مکرتے ہوئے بولا۔ ”نہیں تو۔۔ میں تو نہیں دیکھ رہا۔“
عروش کا چہرہ اب شرم سے لال ہو رہا تھا۔ اس نے بہانے سے ڈور اسد کو تھمائی اور پلو مزید پھیلا کر کمر کو چھپایا۔ طالب نے شرمندگی سے یہاں وہاں دیکھنا شروع کر ڈالا تھا۔
سورج غروب ہو رہا تھا۔ مغرب میں چند منٹ ہی بچے تھے وہ کبھی سورج کو ڈوبتا دیکھ رہی تھی اور کبھی پتنگ کو آسمان میں اڑتے دیکھ رہی تھی۔ طالب چور نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
”جلدی میں میں نے کپڑے نہیں بدلے۔۔ میں بس تھوڑی دیر کے لیے ہی آئی تھی۔ اب میں چلوں گی۔“ چند منٹ بعد اس نے کہا تھا۔
اس کے جاتے ہی طالب نے اس کو تھپڑ لگایا۔ ”تمھاری وجہ سے وہ جلدی چلی گئی۔“ وہ الٹا آنکھیں دیکھانے لگا۔
”میری وجہ سے نہیں، آپ کے بولنے کی وجہ سے۔۔“
طالب نے وسوسوں میں گھرے ہوئے افسوس سے سوچا تھا۔ پتہ نہیں اب دوبارہ کبھی وہ آئے گی بھی یا نہیں۔ اداس دل نے کہا ”جانے والے کبھی نہیں آتے طالب گردیزی۔۔“
دماغ نے سمجھایا ”عورت سے دل نہ لگا۔۔ خود کو بچا لے۔“ دل چلایا ”میں اسے کبھی نہیں جانے دوں گا.. قبر سے بھی نکال کر لانا پڑا تو میں نکال کر لاؤں گا۔“ وہ شور مچاتے ہوئے دل کے ساتھ وہاں سے چل دیا تھا۔
———-
جاری ہے
Back to top button

New Report

Close