
جب بندہ مشکلات میں گھرا ہو، اسے ہر طرف اندھیرے کے سوا کچھ دکھائی نہ دے اور سارے رشتے سارے رستے اس کو مایوس کر دیں۔۔۔۔ اس وقت بھی ایک ذات ہے جو ساتھ نہیں چھوڑتی ، کسی نہ کسی ذریعے سے انسان کو سکون عطا کرتی ہے ، بلاشبہ وہ ذات عظیم رب کی ذات ہے۔۔۔۔
کچھ ماہ قبل جب ٹھنڈ ختم ہو رہی تھی اور گرمیاں اپنی آمد کی نوید سنانے والی تھیں، اس وقت بہار اپنے جوبن پر تھی اور محبتیں ہر طرف بکھر رہی تھیں ، اس وقت میں غمگین تھی ، غم موسم دیکھ کر نہیں آتے ، نہ وقت دیکھتے ہیں نہ عمر۔۔۔۔ حالات کے بےرحم تھپیڑے سہنے کے بعد چھلنی روح اور بے جان سے وجود کے ڈھیر کو اٹھائے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے حالت بدلنے کا فیصلہ کیا۔۔۔ اس مقصد کے لیے صاحبان علم کی صحبت کی جستجو ہوئی ، چنانچہ ایک شام چند اساتذہ اور طلباء کی چھوٹی سی محفل میں بلا مقصد جا پہنچی ، بلامقصد یوں کہ جس مقصد کے لیے وہاں اکھٹا ہوا جاتا تھا اور وہ سب جمع تھے میرا مقصد ان سب سے الگ تھا ، یا یوں کہا جائے کہ اس وقت بنا سوچے سمجھے وہاں پہنچ گئی تھی بعض اوقات ہم اپنے آپ سے اور گھٹن زدہ ایک جیسے حالات سے اس قدر عاجز آ چکے ہوتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر کے لیے گھر سے باہر نکل جانے پر بہتر محسوس کرتے ہیں۔۔۔۔
میرا اس محفل میں جانا بھی شاید اسی خیال کے تحت ہوا۔وہ سب مل بیٹھ کے انگریزی کی گرامر پہ بحث کرتے تھے۔
وہاں ان سب کو پڑھتا دیکھتی رہی ، بعض موضوعات پر بحث کرتا سنتی رہی ، اگلے چند دن لگاتار میں وہاں جاتی رہی ، کبھی کبھار میں بھی کسی موضوع میں دل چسپی لے کر کچھ بول پڑتی ، اکثر خاموشی اختیار کرتی کہ ایک تو نیا نیا بیماری سے اٹھا بندہ خاموش ہوتا ہے دوسری وجہ یہ کہ مزاجاً خاموش ہوں ، خورشید رضوی کے شعر کے ایک مصرعے کے مطابق:”میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں”
وہاں اس محفل میں چند روز گزارنے پر ایک بات میرے سامنے بار بار مختلف طریقوں سے دہرائی گئی تھی اور وہ بات تھی “ولسوف یعطیک ربک فترضی” انہی دنوں موبائل فون پر فیس بک سکرولنگ کے دوران بھی ایک مرتبہ یہی آیت سامنے آئی ” ولسوف یعطیک ربک فترضی”
موبائل میں محفوظ ڈیجیٹل قرآن مجید کی نوٹیفیکیشن بھی ان دنوں یہی ملی کہ “ولسوف یعطیک ربک فترضی”کہیں سے ایک روز تلاوت کی آواز آ رہی تھی ، کانوں میں آواز پڑی اور میں چونک اٹھی “ولسوف یعطیک ربک فترضی”بڑے دنوں بعد ان دنوں قرآن کریم کی تلاوت کے لیے قرآن کھولا تو پہلی نظر پہ سانس رک گئی کہ “ولسوف یعطیک ربک فترضی”۔۔۔۔
یہ وہ بات تھی جو میرا رب بار بار مجھ سے کہہ رہا تھا، “ولسوف یعطیک ربک فترضی”(اور عن قریب تمہیں تمہارا رب اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے) یہ غیبی اشارہ ، یہ رب کی آواز مجھے سکون پہنچاتی ہے۔ یہی آواز ہمیشہ غمگین لمحے میں میرے کان میں سرگوشی کرتی ہے اور میں پر سکون ہو جاتی ہوں۔
آپ بھی پریشان ہونا چھوڑئیے اور اپنی زندگی میں ایسے غیبی اشاروں اور رب کی آواز کو محسوس کریں، پہچانیں اور پر سکون ہو جائیں۔
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔
بہت خوب! اللہ کرے زور قلم اور زیادہ