خواتینصفحہ اول

پَر درد بہت تھا!

”افوہ امی آپ کو تو صفائی کا Craze ہے، میں جب سے یونیورسٹی سے واپس آئی ہوں ماسی بنی ہوئی ہوں، باجی کے سسرال والے ہی تو آرہے ہیں کوئی آسمان کی سواری نہیں اْتر رہی، یار اب بس کر دیں۔“

”کیا مصیبت ہے امی عبایہ تو پہنا ہوا ہے نا، اب ذرا سا گلا یا گردن نظر آرہی ہے تو کون سی قیامت آگئی ہے، ہر وقت پیچھے پڑی رہتی ہیں عید کے دن تو مجھے چھوڑ دیں۔“

”اب بھائی جان کی شادی پر آئی بروز بنوا لی اور تھوڑی ڈارک لپ اسٹک لگا لی تو ایسا کیا ہوگیا؟ ہاں؟ بس بال ہی تو کھولے ہیں، اتنا تو جائز ہے، میں نے کونسا پورا میک اپ کروا لیا ہے۔ آپ تو بس ہر وقت ٹوکتی رہا کریں۔ہونہہ۔“

”اگر فرینڈز کے ساتھ باہر جاؤں گی تو لازماً دیر ہوگی، کونسا میں روز روز جاتی ہوں کبھی کبھار پروگرام بن جاتا ہے لیکن آپ نے تو اتنا فساد مچا دیا ہے کہ جیسے میں پتا نہیں کونسا بڑا گناہ کر آئی ہوں۔“

”میری شادی پر بیسٹ فوٹو گرافر آئے گا، بس کہہ دیا نا! مجھے نہیں پتا کتنا بھی خرچہ ہو، اور امی یہ کیا آپ ہر بات میں محرم نا محرم کا فتویٰ لے آتی ہیں، کوئی بات ہے بھلا ایک ہی بار بندے کی شادی ہو اور وہ پوری طرح انجوائے بھی نہ کرے“

”افوہ امی پلیز آپ بس کسی بھی طرح یہ کیلا کھائیں، بس آپ کو تو ہر بات کی ضد ہے کہ نہیں کھانا، میں تو تھوڑے دنوں کے لیے آپ کے گھر رہنے آئی تھی کہ چلولائبہ کا ذرا دل لگا رہے گا اور وہ مصروف ہو جائے گی گھر میں تو اکیلے مشکل ہوتی ہے تو میں بھی اپنے کچھ کام نمٹا لوں گی۔ دوستوں سے مل لوں گی، پارلر جانا تھا، مارکیٹ کا بھی چکر لگانا تھا اور پتا نہیں کیا کیا کرنا تھا اور آپ ہیں کہ بیمار ہوکر بیٹھ گئیں ہیں۔“

صبح سے اسے پتا نہیں کیا کیا یاد آرہا تھا۔وہ سب جو امی سے کہا اور اْن کے ساتھ کیا تھا۔ شاید سب کچھ ہی غلط کہا اور کیا تھا۔ بات بس اتنی سی تھی کہ لائبہ اب بڑی ہو رہی تھی اور آئے دن کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوجاتی جس پر وہ تیزی سے پلٹ کر جواب دے جاتی۔

بات بس اتنی سی تھی پر درد بہت تھا۔ اس نے کب اپنی ماں کا کرب محسوس کیا تھا۔کب ان بوڑھی آنکھوں میں جھانکا تھا کہ اِس کی بدتمیزی پر وہ کیا محسوس کرتی ہوں گی۔کیا ان کا دل نہیں کٹ جاتا ہوگا۔بیٹی کے منہ سے وہ سب سن کر۔ اپنی اولاد ہونے کے بعد بھی کبھی اپنی ماں کو نہیں سمجھا تھا۔ زندگی میں سب کچھ بہت سہل تھا۔بہترین تعلیم کا زعم تھا، نعمتوں کی فراوانی تھی، ہر وقت کی مصروفیت تھی، اولاد کی اچھی تربیت پر مکمل زور تھا پر اپنی تربیت سے صرفِ نظر تھا مگر اب امی کے چلے جانے کے بعد سب کچھ بے حد کٹھن تھا۔ سب سے بڑی نعمت چِھن گئی تھی۔آج اولاد کی نافرمانی پر دن میں کئی بار آنکھیں اشکبار ہو جاتی۔ الفاظ منہ میں ہی رہ جاتے زبان سے کہنے کی قوت سلب ہو جاتی۔بس خالی خالی آنکھوں سے بیٹی کی سمت دیکھتی رہتی جیسے کوئی آئینہ دکھا رہا ہو۔

”ہاں! بات بس اتنی سی ہی تو تھی کہ اولاد کے آرام و آسائش کے لیے تو بہت محنت کی پرَ اپنی ماں کے آرام و سکون کا کبھی نہ سوچا، ان کے ساتھ کی ہوئی کوتاہیوں پر توبہ کا خیال نہ آیا۔تربیت تو کی پر توبہ نہ کی۔“

دیکھا نا! بات بس اتنی سی تھی پرَ درد بہت تھا۔۔۔

٭……٭……٭

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close