
جامعہ کراچی کا شمار ملک کی عظیم درس گاہوں میں ہوتا ہے۔ ایک برطانوی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی دنیا کی صف اول کی 700 جامعات میں سے ایک ہے۔
ایشیا کی 300 بڑی اور معیاری جامعات کی درجہ بندی میں جامعہ کراچی 246 ویں نمبر پر ہے۔ اس عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد قیام پاکستان کے چار سال بعد جون 1951ء میں رکھی گئی۔ ابتدا میں صرف چار شعبوں میں درس و تدریس کا آغاز کیا گیا اور آج یہ ملک کی سب سے بڑی جامعات میں سے ایک ہے۔ 1279 ایکڑ زمین پر محیط موجودہ کیمپس کا قیام 1959ء میں عمل میں آیا تھا اور اس عظیم درسگاہ کی اب کیا صورتحال ہے؟
شہر بھر میں بارشوں کے باعث جامعہ کراچی کی کلاس رومز اور دفاتر میں پانی جمع ہوجانے سے امتحانات ملتوی ہوجاتے ہیں طلبہ زمین پر چلنے کے بجائے پلڑ پر چڑھ چڑھ کر اپنی کلاسوں میں جارہے ہوتے ہیں۔ طلبہ و طالبات سخت پریشانی کا شکار ہیں اور انتظامیہ جانے کہاں کیا انتظامات دیکھ رہی ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران جامعہ کراچی میں عمارتوں کی خستہ حالی اور ٹیچرز کو کرنٹ لگنے کے متعدد واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔
ایک اور بدتر مسئلہ پوائنٹس کا ہے۔ اسٹوڈنٹس کس اذیت سے سفر کرتے ہیں انتظامیہ اس سے بھی لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔ تعلیم جسے انسان اپنے مقصد حیات، مقصد تخلیق، سچائی کی پہچان، حقائق کا ادراک اور معاشرے میں مہذب زندگی گزارنے کا سلیقہ سمجھتا ہے، اس کے حصول کے لیے اہم کردار مادر علمی کا بھی ہے۔ جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس صورتحال میں جب کہ انتظامیہ بےحس اور خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اسٹوڈنٹس کی ذہنی نشونما کیسے کی جائے؟ ان کی تخلیقی و تکنیکی صلاحیتوں کو کیسے پروان چڑھایا جائے؟؟ ان کی عملی و فنی مہارت کا مشاہدہ کیسے کیا جائے؟؟ کیا کوئی جامعہ کراچی کی اس لاوارث صورتحال پر آواز بلند کرنے والا ہے بھی یا نہیں۔۔۔!