بلاگصفحہ اول

اک جگہ ایسی بھی ہے۔۔۔

اسکولوں میں سردی کی چھٹیاں ہوئیں، پھر ختم ہو گئیں۔ اتفاق سے اگلے مہینے ہی الیکشن کی وجہ سے دوبارہ چھٹیاں ہو گئیں لیکن وہ بھی ختم ہوئیں، ظاہر ہے کوئی بھی چیز مستقل نہیں۔ چھٹیاں تو ختم ہوئیں، لیکن سردیاں نہیں اور ساتھ کبھی شدید دھند، کبھی ٹھنڈی ہوائیں، موسلا دھار بارشیں، آندھی، گرج چمک، برف باری، ژالہ باری کے طوفان بھی لے آئیں۔

مگر انہی سب حالات میں ہم اپنے پیارے پیارے بچوں کو رات نرم گرم بستروں پر سلاتے ہیں۔ صبح کمروں کو ہیٹر سے گرما کر انہیں جگاتے ہیں۔ پھر گرم پانی سے منہ ہاتھ دھلا کر، ان کے لیے گرم دودھ اور ناشتے کا انتظام کرتے ہیں۔ صاف ستھرے استری شدہ یونیفارم زیب تن کروا کر ان کے بالوں میں سیدھی مانگ نکال کر سمیٹ کر بال باندھتے یا بناتے ہیں۔ یعنی انہیں خوب آراستہ کرتے ہیں۔ پھر ان کے ٹفن باکس میں مزیدار ناشتہ رکھ کر، انہیں اچھی طرح ڈھانپ کر اسکولوں کالجوں کی طرف روانہ کر دیتے ہیں۔ ہمارے ایک ایک کام سے ہمارا اخلاص اور محبت جھلکتی ہے اور یونہی مہینے گزرتے جا رہے ہیں۔

اسی طرح ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں نہ سردیاں ختم ہو رہی ہیں اور نہ ہی جنگ۔ وہاں اگر بچوں کو اسکول نہیں جانا تو وجہ یہ نہیں کہ وہاں چھٹیاں ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ وہاں کوئی اسکول بچا ہی نہیں یا اگر کوئی اسکول ہے بھی تو اسکول جانے والا کوئی بچہ ہی نہیں۔

وہاں مائیں بچوں کو گرم پانی سے نہلا کر سلانے کے بجائے اسپرٹ سے دھلا کر دفنا دیتی ہیں۔ غسل دینے کو پانی اور لپیٹنے کو کفن تک میسر نہیں۔ پینے کے لیے صاف پانی اور کھلانے کو تازہ کھانے نہیں، کبھی جو مل جائے تو کوئی پاپڑ جیسے سخت ٹکڑے ہیں۔

یہاں بے تحاشا نعمتیں اور آسانیاں موجود ہونے کے باجود ہزاروں شکایتیں ہیں اور وہاں رونے کی صدائیں یا کوئی آہ فغاں نہیں بلکہ ہر طرف خاموش موت رقصاں ہے کہ اب تو آخری پناہ گاہ بھی محفوظ نہیں۔

اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے، ارد گرد لوگوں تک آگاہی پہنچا کر، سوشل میڈیا پر معلومات پھیلا کر، روزانہ دلی دعائیں مانگ کر ہم تو اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے، ان شاءاللہ۔ لیکن روز دعائیں اس سمت بھیج کر میں سوچتی ہوں کہ وہ کون ہوگا جو اپنے حصے کا ایسا کیا کام کرے گا کہ یہ تباہی رک جائے گی۔ کب ہوگی یہ جنگ ختم، کیا ہوگا اس کا انجام، کیا ہونے والا ہے آئندہ؟ مگر مجھے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔

کوئی جواب نہ ہونے کے باوجود ان دکھ درد کی گھڑیوں میں، اس تکلیف کے لامتناہی سلسلے میں، میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اس جگہ نہیں لیکن جانتی ہوں ایک ایسی جگہ ہے جہاں دنیا میں ہونے والے بدترین ظلم و سفاکیت کی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔

یہی تاریخ روزِ محشر وقت کے فرعونوں کے خلاف گواہی دے گی۔ جب ایک ایک پتھر اور ایک ایک پتّا بول پڑے گا۔ ہر کاٹا گیا عضو چِلّائے گا، ہر دھڑ سے جدا کی گئی گردن پکارے گی، چیتھڑوں کی طرح اُدھیڑے گئے جسموں سے آوازیں آئیں گی۔ جس دن ہر چیز شہادت دے گی تب یقیناً بہترین منصف کی دی گئی سزا اور عذاب سے کوئی مجرم نہ بچ پائے گا۔

لیکن آج اِس وقت اُس جگہ کو ہمارے ساتھ اور وہاں کے لوگوں کو ہماری دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔ اپنے فلسطینی بہن، بھائیوں، بچوں، بزرگوں، غازیوں اور شہیدوں کو بھول نہ جائیے۔
دعاگو رہیے۔

Back to top button

New Report

Close