
تحریر: جبین اعوان، چکوال
کتنا خوبصورت ہوتا ہے نا وہ تعلق جس میں دو لوگوں کی ترجیحات ایک سی ہوتی ہیں۔ کوئی حاکم، کوئی محکوم نہیں ہوتا۔ کوئی بڑا ،چھوٹا نہیں ہوتا ،کوئی اچھا برا نہیں ہوتا۔کوئی غلط صحیح نہیں ہوتا ۔کسی کا رتبہ بلند و پست نہیں ہوتا۔ایک روٹھتا ہے تو اس آس پر کے منا لیا جائے گا ،اور دوسرا اس کی آس پوری کرتا ہے اور منا لیتا ہے ۔یہ سوچے بغیر کے میری غلطی ہے یا نہیں ۔ایک کو غلطی فہمی ہوتی تو دوسرا سو دلیلوں سے صفائی دے کر اپنا نقطہ واضح کروا لیتا یہ نہیں سوچتا کے میں کیوں وضاحت کروں سامنے والے کی مرضی جو بھی سمجھے۔ایک کسی کام سے منع کرتا تو دوسرا اس سے باز رہنے کی کوشش کرتا ہے۔اس بات کی پروا کیے بغیر کے اس کام کی اسے کتنی عادت ہے۔
ایک کو آنے میں دیر ہو جائے تو دوسرا شخص انتظار کرتا ہے یہ نہیں سوچتا کے میں اس کے لیے اہم نہیں،بلکہ یہ گمان کرتا ہے کے مصروف ہوگا ۔ایک دوسرے کی چھوٹی چھوٹی خواہش پوری کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔ایک دوسرے پر محنت کر کے معاشی ،مذہبی اور اخلاقی لحاظ سے قابل بناتے ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے ساتھ ہونے کی تمنا بڑھتی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے پر مسلط نہیں ہوتے ۔ایک دوسرے کو ذاتیات کےلئے وقت دیتے ہیں۔ایک دوسرے کیلئے کچھ بھی کر لیں انہیں چھوٹا ہی لگتا ہے،اور وہ اپنے اس کام کو جتاتے نہیں کہ یہ میں نے تمہارے لیے اتنی مشقت سے کیا۔ایک کی پسند دوسرے کی دلچسپی بن جاتی۔
ہر چھوٹی سے چھوٹی بات اہم ہوتی ۔ایک کے منہ سے ادا ہونے والا ہر لفظ دوسرے کو یاد کرنا نہیں پڑھتا بلکہ یاد رہتا ہے۔ایک اگر غصّے میں کچھ غلط بول دے تو دوسرا اس کی سو اچھائیوں کو دیکھتا ہے نہ کے ایک غلط بات کو بنیاد بنا کر سب اچھائیوں کو بھول جاتا ہو۔خوبصورت تعلق کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کا خیال رکھا جاتا ہے وہ ایک دوسرے کی عزت نفس ہے۔یہ لوگ جانتے ہوتے کہ انسان کسی کو کچھ نہیں دے لے سکتا سوائے عزت اور اچھے وقت کے۔یہ لوگ ایک دوسرے کو عزت دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے وقت کو اچھا بنانے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو قابل اور قیمتی بنانے کی کوششیں میں لگے رہتے ہیں۔
یہ لوگ بہتر کی تلاش میں نہیں ہوتے بلکہ جو ہے اس کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خوبصورت تعلق میں لوگ ایک دوسرے پر مثبت تنقید بھی کر لیتے ہیں تاکہ سامنے والا اپنی اصلاح کر سکے۔ تعلقات کو خوبصورت بنایا جا سکتا۔ احساس سے پیار سے لیکن اس کیلئے ترجیحات کا ایک ہونا ضروری ہے۔۔ ہمیں اپنی زندگی میں آنے والے لوگوں کا مان بڑھانا چاہیے نا کہ تم میں یہ نہیں وہ نہیں جتاکر احساس کمتری میں مبتلا کر نا چاہیے۔