
مسز احمد بہت پریشان تھیں۔ رات کے کسی پہر پانی پینے یا پھر فجر کے وقت نماز کے لیے اٹھتے ہوئے وہ دیکھتیں خرم موبائل میں مگن رہتا ۔انہیں دیکھتا تو مسکرا دیتا یا پھر کہہ دیتا کہ اسے بھی پانی پلادیں۔ آن لائن پڑھائی کے بعد دوسرے سمسٹر کے امتحان ہوئے تھے تب سے چھٹیاں تھیں۔
ایک مہینہ تو انہوں نے کچھ نہیں کہا کہ ذرا پر سکون ہوجائے بہت مشکل پیپر ہوئے تھے مگر اب یہ دوسرا مہینہ تھا چھٹیوں کا اور خرم کی وہی روٹین تھی۔رات کو جاگتا تھا کبھی موبائل اور کبھی لیپ ٹاپ تو کبھی فٹبال میچ دیکھ رہا ہوتا تھا۔ جس طرح اس کے شب وروز گذر رہے تھے وہ اس کے لیے پریشان تھیں۔
چند دن پہلے خرم نے انہیں بتایا تھا کہ اس کے دوست نیٹ پر کچھ learning videosبنا کر اپلوڈ کررہے ہیں اور کچھ آن لائن کورسسز کررہے ہیں۔مگر وہ کیا کررہا تھا؟
وہ جانتی تھیں وہ اسے کچھ کہیں گی تو وہ یہی کہے گا اسے باہر جا کر دوستوں کے ساتھ فٹبال یا کرکٹ کھیلنا پسند نہیں ۔گھر پر بس کھانے کی ٹیبل پر کچھ بات کرلیتا نہیں تو بس موبائل اور اس کی دنیا ہی اس کا محور تھے۔ ذہن کچھ سوچنے یا کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا۔
زندگی کس سمت جارہی ہے؟ کوئی راہ متعین نہیں ۔کسی منزل کا نشان نہیں۔ کوئی مقصد حیات نہیں۔ صرف اپنے لیے جینے کو زندگی نہیں کہتے۔کیونکہ آپ تنہا نہیں رہتے ہیں۔ایک معاشرے کا فرد ہیں جہاں رہتے ہوئے آپ پر کچھ زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ایک گھر سے وابستہ رہتے ہوئے بھی آپ کو کچھ فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں۔ آپ کے والدین کی آپ سے کچھ امیدیں ہیں۔اس معاشرے کے آپ سے کچھ تقاضے ہیں جن کا پورا کرنا آپ پر لازم ہے۔
آج کے نوجوان کس سمت جارہے ہیں؟ کسی بھی معاشرے کی بہتر تصویر دیکھنے کے لیے وہاں کے نوجوانوں کا طرز فکر، ان کی معاشرت ،ان کا طرز زندگی دیکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ کسی بھی معاشرے کے مستقبل کی ایک جھلک دکھاتے ہیں۔ان کی تعلیم، ان کی شخصیت،ان کا کردار کسی بھی معاشرے کو بگاڑنے یا نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہم جب اپنی نوجوان نسل پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو قطع نظر اس بات کے کہ ان کا کچھ فیصد حصہ بے شک مثبت سرگرمیاں اپنائے ہوئے ہیں۔جیسے کہ تعلیم میں،سوشل میڈیا پر اور کہیں کہیں سماجی خدمات میں وہ پیش پیش ہیں مگر اب زیادہ تر گھروں کی ایک ہی کہانی ہے۔
آج کا نوجوان دن کے بیشتر حصہ کا مصرف ایسی سرگرمیوں میں گذارتے ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ۔کچھ حاصل نہیں۔ جیسے کہ موبائل پر گیمز کھیلنا،ٹک ٹاک پہ وڈیوز بنانا،گھنٹوں سوشل میڈیا پر بے مقصد وڈیوز دیکھنا اور پھر ان پر بے کار بحث ومباحثہ کرنا،یہ محض وقت کا ضیاع ہیں اور کچھ نہیں۔ جیسا کہ ہر چیز کے بے مقصد یا بامقصد ہونے کا تعلق اس کے استعمال سے ہے اسی طرح موبائل اور سوشل میڈیا یا لیپ ٹاپ کا آپ کیسے استعمال کررہے ہیں، اس کا تعلق آپ کی سوچ اور رویے سے ہے۔
اگر آپ اس سے کچھ سیکھنے یا جدید دور کے تقاضوں سے کنکٹ رہنے کے لیے استعمال کررہے ہیں تو یہ وقت آپ کو نکھار دے گا۔اور اگر آپ محض مشغلہ یا وقت گذاری کے لیے استعمال کررہے ہیں تو یہ نہ صرف آپ کے گھر والوں کے لیے فایدہ مند ہے اور نہ ہی اس معاشرے کے لیے کہ جس کے لیے آپ کی کچھ زمہ داریاں ہیں۔
وقت کو اس کے بہترین مصرف میں گذارنا ہی آپ کی کامیابی ہے۔اپ اگر کسی فیلڈ میں ہنرمند ہیں تو اپنے سے کم عمر نوجوانوں کو یہ ہنر سکھا سکتے ہیں۔اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں اپنا یہ وقت ان بچوں کے لیے وقف کرسکتے ہیں جن کے لیے تعلیم حاصل کرنے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔سوشل میڈیا پر بے مصرف زندگی گذارنا یا موبائل سے بہترین فایدہ نہ اٹھانا یہ آج کے نوجوان کا مقدر نہیں ہوسکتا۔اپنی سوچ سے اور اپنے جیسے ہم خیال نوجوانوں سے زندگی کے روشن پہلوؤں کی طرف آج کی نسل کو لانا،یہ بھی تو ایک نئی راہ ہوسکتی ہے۔
سوچیے ضرور اور اپنی سمت متعین کیجیے نہیں تو بھٹکنے کے ساتھ آپ نہ صرف ناکام انسان کہلائیں گے بلکہ زندگی بنا مقصد بے معنی گذر جائے گی۔
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔