بلاگصفحہ اول

مراسلہ کیا ہے اور کیسے لکھیں؟

رائٹرز کلب پاکستان تحریر کورس

رائٹرز کلب پاکستان کے تحریری کورس کا سلسلہ جاری ہے اور یہ اسی سلسلے کا تیسرا لیکچر ہے۔ پہلے لیکچر میں ہم نے بتایا تھا کہ عموماً لکھنے میں جو صنف شامل ہوتی ہیں ان میں مراسلہ، اداریہ، کالم، مضمون، فیچر، بلاگ، سفر نامہ، مختصر کہانی، افسانہ، ناول، نظم اور غزل سرفہرست ہیں۔ اس لیکچر میں ہم سب سے پہلی صنف پر بات کریں گے۔

مراسلہ نگاری

مراسلہ تحریر کی ایک ایسی قسم ہے جسے تب لکھا جاتا ہے جب کسی ادارے یا متعلقہ حکام کو کوئی مخصوص پیغام پہنچانا ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کے بہت سے فائدے ملتے ہیں۔

اسے خط یا لیٹر کے طور پر بھی لیا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی میں صحافت کے طالب علموں کو سب سے پہلے مراسلے لکھنے کا اسائمنٹ ہی دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات مراسلوں میں نام کے ساتھ جامعہ کراچی، اردو یونیورسٹی، جناح یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی یا اسلامیہ یونیورسٹی وغیرہ درج ہوتا ہے۔مراسلے کے ذریعے کسی علاقے، شہر، ملک یا کسی مخصوص طبقے کے مسائل کو بااختیار ادارے یا فرد تک پہنچایا جاتا ہے۔ اخبارات میں مراسلے کے لیے ایک جگہ مختص ہوتی ہے اور اسے ہمیشہ وہیں شائع کیا جاتا ہے۔ مراسلے کے لئے مشکل الفاظ اور ربط و ضوابط کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔

اسے سادہ اور عام فہم الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔

مراسلے طویل نہیں بلکہ بہت مختصر ہوتے ہیں۔ مراسلہ لکھنے کا جو صحیح طریقہ ہے وہ کچھ یوں ہوتا ہے۔

مکرمی!

میں آپ کے مئوقر جریدے کے توسط سے یہ بات اعلیٰ حکام تک یا پھر حکام بالا یا پھر متعلقہ ادرے یا پھر متعلقہ پارٹی تک پہنچانا چاہتا/چاہتی ہوں کہ ۔۔۔

سب سے پہلے آپ مسئلے کا ذکر کریں گے پھر آپ اس میں اس کا حل ہے تو بتائیں گے۔ اگر معاملہ حل طلب نہیں ہے تو پھر اس میں جو مطالبہ رکھنا چاہتے ہیں وہ رکھیں اور بات ختم کردیں۔

اختتام میں لکھیں

مراسلہ: اپنا نام

(جامعہ/ محلہ/ علاؤہ/ شہر/ ملک)

مراسلے کا فائدہ و اہمیت

مراسلے عموماً اس لیے لکھے جاتے ہیں کہ کسی بھی طرح سےاپنے مسائل حل کروائے جاسکیں۔

مراسلے جب بھی چھپتے ہیں وہ متعلقہ ادارے کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے کہ سول اسپتال کے خلاف لکھا جائے گا، تو وہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے پاس کٹنگ کر کے پہنچا دیا جاتا ہے۔ کسی جامعہ پر لکھا تو وہ تعلیم کے شعبے میں پہنچا دیا جاتا ہے۔ ادارے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کی ریپوٹیشن یعنی ساکھ خراب یا متاثر نہ ہو۔ کیوں کہ اس کی وجہ سے ان کے آئندہ کے کئی کام، چیک، پرومشنز اور حکومت سے مطالبات رک جاتے ہیں۔ تو وہ فوری طور پر اس غلطی کو درست کرتے ہیں۔

مراسلے کے ذریعے ہمارے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ اور اگر نہیں بھی ہوتے تو ہماری نشاندہی سے کم از کم اداروں کے علم میں ضرور آجاتے ہیں۔ مراسلے کی بنیاد پر عدالتوں میں کئی کیسز بھی سنے جاتے ہیں یا ان کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔

یوں مراسلہ نگاری کے ذریعے ہم کسی مسئلے کے سدباب کے لیے، کسی کام میں ترقی کے لیے اور معاشرے میں کسی اجتماعی برائی کی روک تھام کے لیے بھرپور کوشش کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close