
نصیب”عربی” زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں ‘حصہ’ مرادی معنی یہ ہوتا ہے
“کسی بھی انسان کا رب کی طرف سے تقدیر میں لکھا ہوا وہ حصہ جو وقت گزر جانے کے بعد اس کے حق میں آئے”
بظاہر یہ چھوٹا سا لفظ ہے۔ لیکن اپنے اندر بہت ہی بلیغ معنی اور مفہوم رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ لفظ نہ صرف کھانے پینے کی چیزوں کے لئے بولا جاتا ہے۔بلک اس کے اندر خوشی غم. دکھ سکھ. ہنسنا رونا. اور اچھے برے رشتوں کا زندگی میں آنا سب شامل ہے۔
ویسے تو سب سے بڑا خوش نصیب وہ ہوگا جس کو کل قیامت والے دن جنت نصیب کی جائے گی اور جہنم سے بچ جائے گا ۔لیکن دنیا کے حساب سے اگر ہم قرآنی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس بات کی وضاحت ملتی ہے۔کہ انسان جلد باز اور بے صبراہے تبھی اچھے برے وقت اور حالات کی وجہ خود کو سمجھنے کی بجائے۔تقدیر کو سمجھتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اصل وجہ وہ خود ہوتا ہے ۔جب اسے حقیقت کی سمجھ نہیں آتی تو وہ سیدھا تقدیر کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔
حالاںکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اس حقیقت کا پتہ بھی چل جاتا ہے ۔ کہ ماضی کے ماہ و سال میں اس پر جو برا وقت اور حالات آئے تھے اس وقت بھلے اس کو برے لگے تھے لیکن اس کی زندگی کے لیے بہتر تھے ۔
انسان اپنی ساری زندگی انہیں محرومیوں اور کشمکش میں گزار دیتا ہے۔ کہ مجھے یہاں یہ ملنا تھا جو کہ نہیں ملا۔ یا پھر یہاں جو ملا ہے وہ میرے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے اس چیز کی کبھی بھی خبر نہیں ہوتی کہ اس کے اندر موجود خامیوں اور غلطیوں کے عوض رب تعالیٰ نے جس قدر اسے نعمتوں سے نوازا ہے ۔کیا وہ ان نعمتوں کا مستحق تھا بھی یا نہیں ۔یہ تمام حقیقتیں جب انسان کو اس لیے سمجھ نہیں آتیں کیونکہ انسان زندگی کے اصل معنی اور مفہوم سے ناواقف ہے ۔
آخر کیا وجہ ہے کہ انسان کو صرف محرومیاں ہی نظر آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان آرام طلب اور سکون پسند پیدا کیا گیا ہے ۔جو کہ دنیا میں محنت اور مشقت کے بغیر میسر نہیں آتا۔ لیکن انسان یہ چاہتا ہے کہ اسےکہیں سے یہ ساری چیزیں میسر بنا محنت اور مشقت کے میسر آ جائیں۔ جو کہ کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ ان حالات اور معاملات میں اسلامی تعلیمات ہمیں صبر اور شکر کی تلقین کرتی ہیں۔ کہ تاکہ انسان رب کے لئے رب کی رضااور آزمائش کے آگے سر خم تسلیم کرکے خود کو مطمئن کر سکے۔ اسی وجہ سے استاد واصف علی واصف نے بیان فرمایا تھا
“خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب سے خوش ہے “
لوگ یہ کہتے ہیں کہ نصیب تقدیر ہے جو کہ جیسے لکھا گیا تھا ویسا ہی ہوگا۔حالانکہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ رب تعالی نے انسان کو با اختیار بنایا ہے۔ اس لیے کہ وہ یہ نہ کہہ سکے کہ میں مجبور تھا تبھی نیکیاں نہیں کر سکا۔اس حقیقت کو مفکر اسلام علامہ اقبال نے یوں بیان فرمایا
عبث ہے فتنہ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے
مطلب یہ کہ تقدیر کا شکوہ کرنا بے کار اور فضول ہے۔ کیونکہ انسان کا تو حق بنتا ہے کہ جیسے رب نے اس کو با اختیار بنایا ہے۔ یہ محنت کے بل بوتے اپنی زندگی اور حالات کا دھارا بدل کر رکھ دے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرتا تو اس میں قصور تقدیر کا تو نہیں ۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ چیزوں کی اہمیت بدلتی رہتی ہے۔ کہیں پیسے کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے تو کبھی آپ کا کسی کے ساتھ رہنا زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ خاص طور پر جب والدین بوڑھے ہوتے ہیں۔ کہیں انسان کا نوکری کرنا اور پیسہ کمانا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ تو کہیں کسی کو وقت دینا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح کبھی انسان کا پڑھنا لکھنا اہم ہوتا ہے ۔تو کبھی حالات کے مطابق پڑھائی کو چھوڑ کے کھیت کھلیان یا تجارت بزنس سنبھالنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اس پر میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں کہ اگر گھر کاسربراہ فوت ہونے یا شدید بیمار ہونے کی صورت میں بیٹھ جائے تو گھر کا بڑا بیٹا اگر پڑھ رہا ہو تو اسے مجبوراً پڑھائی چھوڑنی پڑے گی۔اور کاروبار کون سنبھالنا ہوگا۔ یا پھر گیتوں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی۔ کیونکہ پوری فیملی کا انحصار اسی بات پہ ہوگا پڑھائی چھوڑی جائے۔اب پڑھنا اتنا اہم نہیں جتنا کاروبار یا بزنس سنبھالنا۔ لیکن چونکہ انسان وقت کے ساتھ ٹھیک سے فیصلہ نہیں لے پاتا تبھی غیر اہم چیز کو اہم چیزوں پر ترجیح دے دیتا ہے۔ جو کہ آگے چل کے اسے احساس ہوتاہے ہے۔ کہ یہ فیصلہ غلط تھا ۔لیکن اب کچھ ہوبھی نہیں سکتا ۔ اب یہاں انسان بجائے اپنی غلطی ماننے کے خود کو بدنصیب کہنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے موقع پر ہونا تو یہ چاہیے ۔کہ انسان استخارہ کرے اور رب سے مشورہ کرے۔کہ میرے لئے آنے والے دو آپشنز میں سے کونسا آپشن زیادہ بہتر ہے۔ وہ ایسا بھی نہیں کرتا۔ اورجواب میں قصوروار بھی خود کو نہیں سمجھتا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ وقت اور زندگی ہر انسان کو ایک سے زیادہ مواقع فراہم کرتی ہے لیکن ہم الزام تقدیر پر ٹھہراتے ہیں۔ جبکہ ہر کام کے پیچھے رب کی حکمت ہوتی ہے ۔
اچھے وقت اور انسانوں کی آمد کا سلسلہ انسان کی زندگی میں ہمیشہ رہتا ہے۔ جس کا انسان کو پتا نہیں چلتا۔ کہ اس کے لیے کیا برا ہے اور کیا بہتر ہے۔ لیکن جیسے ہی وقت گزرتا ہے۔ یا لوگ انسان کی تقدیر سے دور جاتے ہیں۔ تب جا کر اس کو احساس ہوتا ہے۔کہ اس کو کرنا کیا چاہیے تھا۔ اور اس نے کیا کیاتھا۔
لیکن اب فائدہ کوئی نہیں
انسان کی زندگی میں اچھے لوگوں کا آنا۔پھر آکے واپس پلٹ جانا یا دور ہو جانا۔ انسان کی قسمت ہو یا نہ ہو؟ ان کا بچھڑنا انسان کی بدقسمتی ضرور ہوتا ہے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تین قسم کے لوگ سب سے زیادہ خوش قسمت اور خوش نصیب ہوتے ہیں
1-رب کے ہر فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کرنے والا
2ـ وقت اور حالات کے مطابق صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا۔
3ـ جس کو زندگی میں اچھا مخلص ہمسفر مل جائے۔
دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں اپنے ہر فیصلے کے ساتھ راضی بازار رکھے اور ہمارے اچھے برے حالات کے باوجود اطمینان اور تسلی کے ساتھ مطمئن اور خوش کردے۔
آمین
تحریر: عرفان اقبال