خبریںصفحہ اول

علی گڑھ کا نام ہری گڑھ رکھنے کی سازش

بھارت میں ہندو انتہا پسندی نے بھارتی مسلمانوں کا جینا دو بھر کردیا ہے، یہ سلسلہ اب تاریخی عمارتوں اور مسلم شخصیات پر رکھی درسگاہوں تک جا پہنچا ہے۔ مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی حامل بھارتی سرکار نےحال میں علی گڑھ یونیورسٹی کا نام بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کا نام بدل کر ہری گڑھ رکھا جائے گا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک صدی سے ایک سرکردہ تعلیمی ادارہ اور مسلمانوں کی ثقافت، تہذیب اور شناخت کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔

علی گڑھ یونیورسٹی کی تاریخی حیثیت
انگلستان سے واپسی کے بعد سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے ”انجمن ترقی مسلمانانِ ہند” کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ جس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے کام شروع کیا۔ ساتھ ہی ایک فنڈ کمیٹی بھی قائم کی گئی جس نے ملک کے طول و عرض سے چندہ جمع کیا اور حکومت سے امداد کی درخواست بھی کی۔ 1875ء میں انجمن ترقی مسلمانان ہند نے علی گڑھ میں ”ایم اے او (محمڈن اینگلواورینٹل) ہائی اسکول” قائم کیا۔ اس ادارے میں جدید اور مشرقی علوم کی تدریس کا بندوبست کیا گیا۔ 1877ء میں اس اسکول کو کالج کا درجہ دے دیا گیا جس کا افتتاح لارڈ لٹن نے کیا۔ 1920ء میں اسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا نام دیا گیا۔

سر سید احمد خان کون تھے؟
سر سید احمد خان کا نام سید احمد بن متقی خان تھا، انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریاتی تھے۔ آپ کو برصغیر میں مسلم قوم کے سرخیل مانا جاتا ہے اور دو قومی نظریہ کا خالق تصور کیا جاتا ہے جو کے آگے چل کر تحریک پاکستان کی بنیاد بنی۔

1838ء میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت اختیار کی اور 1867ء  میں چھوٹے مقدمات کے لیے جج مقرر ہوئے۔ 1876ء میں آپ نے ملازمت سے استعفا دے دیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران جب بغاوت ختم ہوئی تو آپ نے اسباب بغاوت ہند پر ایک رسالہ بھی لکھا جس میں ہندوستان کی رعایا کو اور خاص کر مسلمانوں کو بغاوت کے الزام سے بری کیا۔

1859ء میں سر سید نے مراد آباد میں گلشن اسکول، 1863ء میں غازی پور میں وکٹوریہ اسکول اور 1864ء میں سائنسی سوسائٹی برائے مسلمانان قائم کی۔ 1875ء میں محمدن اینگلو اورینٹل کالج جو جنوبی ایشیا میں پہلی مسلم یونیورسٹی بنا۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close