بلاگصفحہ اول

نوجوان اور قطاریں قصور وار کون ؟

کبھی کسی نے یہ سوچہ ہے کہ ہر ادارے کے سامنے نوجوانوں کی لمبی قطاریں کیوں  لگی ہوتی ہیں ؟   اس کی زمہ داری کس پر ہے ؟  ہمارے ادارے اپنے کام میں اتنی قابلیت نہیں رکھتے کہ اچھے  طریقے سے اپنا کام کر سکیں  یا ہمارے نوجوانوں میں اتنی قابلیت نہیں  کہ  جن کی وجہ سے اتنی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں –

 اس کی اہم وجہ کیا ہے؟ تو اس بات کو آگے لیکر چلتے ہیں بات کرتے ہیں ایک پوسٹ آفس کی میں گیا بجلی کا بل بھرنے کیلیے تو پوسٹ آفس کے سامنے چھوٹی سی قطار لگی تھی میں نے یہی سوچہ دس منٹ کاکام ہے لیکن دس منٹ کا کام دوگھنٹے سے بھی زیادہ ہوگیا اور قطار مزید لمبی ہوتی چلی گئی اب لوگوں نے پوسٹ آفس عملے کو گالیاں دینے لگے  گرمی کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا گیا بات دھکے   اور لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی کچھ دیر  گزرنے پر لوگ   غصے سے لال پیلے ہوگئے  –

دھوپ پڑنے    پر قطار ٹوٹ گئی اور جو لوگ پیچھے کھڑے تھے فائدہ   حاصل کیا اور قطار میں آگے اکر کھڑے ہوگئے   اس وجہ سے آپس میں لوگ لڑ پڑے  پوسٹ آفس کے عملے کو  گالیاں دینے لگے مجھے ان لوگوں پربہت غصہ آ رہا تھا کہ کیسے پڑھے لکھے لوگ ہیں؟   میں بھی بہت پیچھے  چلا گیا قطار میں  اب  عملے کی طرف سے بھی سست روی کا مظاہرہ کچھ کم ہوااور کام تیزی سے کرنے لگے –

 میرے آگے ایک لڑکا تھا جو یونیورسیٹی  کا طالب علم تھا کافی اخلاق والا محسوس ہو رہا تھا  اس کی بل جمع کرانے کی باری آئی تو اس نے سب کو حیران کر دیا بھائی نے پہلے  چار بل تھما دیے جب وہ جمع ہو گئے تو جناب نے چھ بل اور ہاتھ میں تھما دیے اب جو بل جمع کر رہا تھا وہ کافی عمر کا مطلب چالیس سال کا ہوگا اس نے بل جمع کرنے سے صاف انکار کر دیا ان دونوں میں بحث ہونے لگی تو ایک دوسرے  کو گالم گلوچ کرنے لگے  کافی وقت مزید ضائع ہونے کے بعد جناب نے بل تھامے ا ن کو جمع کر لیا اب حیرانی کی بات ہے جب آپ نے جمع کرنے تھے تو پھر بحث کیوں کی ؟ اور بحث کی تو گارڈ کو بلا کر اس کو قطار سے کیوں نہیں نکالا باقی لوگوں  کو کیوں پریشان کیا ؟  یہ سوال ابھی رہتے تھے تو جناب نے میرا بل لیا اور جمع کرنے کے بعد مجھے بولا پیسے کھلے کرا کر لا ؤ   میں قطار سے نکلا سامنے دوکان پر گیا تو کسی نے مجھے سو کا نوٹ کھلا نہیں دیا حلانکہ جناب کے  پاس بہت سے کھلے پیسے پڑے تھے میں بھی سمجھ گیا کہ جناب کو غصہ ہے اور اس لیے شریف لوگوں کو بلا وجہ تنگ کر رہا ہے  –

 میں واپس آیا اور جناب نے کچھ پوچھے بغیر مجھے بقایا دے دیا اب کہاں سے اتنا جلدی کھلے پیسے آگئے تھے  ؟ یا کوئی جن تھا جو کھلے لیکر جناب کو دے گیا  بس شریف لوگوں کو تنگ کرنا اور لمبی لمبی قطاریں لگوا نا تاکہ لوگ یہ کہیں یہ عملہ سارا دن کام میں مصرو ف رہتا ہے اگر بات کی جائے کہ قطاروں میں قصور وار کون ہے ؟ تو  حقیقت میں قصور وار اداروں کے عملے ہوتے ہیں جان بوجھ کر کام اتنا سست روی سے کرتے ہیں  کہ لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جائیں اور حکومت کو دکھا سکیں کہ کتنا کام کرتے ہیں سارا دن کام میں گزر جاتا ہے لیکن کام صرف دس لوگوں کا ہوتا ہے  –

اب میں حکومت کو اس بات پر غور کرنے کا مشورہ دونگا کہ ہر گورنمنٹ اداریں میں کمپیوٹر سسٹم کانظام لا یا جائے اور اس کے ساتھ ایک ویب سائیٹ بنائی جائے جو لوگوں میں عام ہو اور آسانی سے لوگ اپنے گھروں میں رہ کر بغیر قطار کے کام باآسانی سے کر سکیں   اور یہاں پر اپنے  پڑھے لکھے لوگوں سے گزارش ہے کہ صرف اپنا بل لے کر آئیں اور بغیر نظم و ضبط خراب کیے اپنا کام کرائیں اور دوسروں کا بھی خیال کریں جتنا جلدی آپ لوگوں کو ہوتی ہے اتنا ہی جلدی ہر انسان کو ہوتی ہے تو اس بات  کا خیال رکھیں جو پہلے آتا ہے اس کا کام بھی پہلے ہو یہ ہم لوگ ہی سارا نظام خراب کرتے ہیں اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں اچھے شہری بنیں .

رائٹر  نوید احمد  جتوئی

Back to top button

New Report

Close