افسانے

رشتوں کی مٹھاس

عاجزہ بنت عارف

کوئی مانے نہ مانے، میرا دل یہ بات نہیں مانتا کہ کوئی اس طرح خاندان سے کٹ کر، اکیلے زندگی گزارے۔ بھلا یہ بھی کوئ زندگی ہے، تنہا کھاؤ پیو اور بس۔ آج تینوں دوستوں نے ایک دعوت میں یہ تذکرہ شروع کر دیا۔ لائبہ کم گو لیکن اس کے جذبات سے کبھی سب متفق ہوتے تو کبھی نہ بھی ہوتے۔ اور آج بھی یوں ہی ہوا۔ دونوں دوستیں اس کی باتوں سے اتفاق نہیں کر رہی تھیں۔ نور کہتی، یار! چھوڑو، یہ کیا رشتے داروں کی باتیں لے کر بیٹھ جاتی ہو۔ لائف انجوائے کرو۔ حنا کا ذہن ایسی باتوں سے منتشر ہو جاتا۔
تذکرہ شروع ایک چھوٹی سی بات سے ہوا، اور یہ خاندانی رشتوں کو لے کر بیٹھ گئی تھیں۔ مجھے تو وہ وقت دل کو بہت بھاتا ہے جب میں، امی ابو، بہن بھائی، سب کو اکٹھے بیٹھے دیکھتی ہوں۔ لائبہ اپنی سوچ کا اظہار کر رہی تھی لیکن نور اس کی باتوں سے جیسے چڑ رہی ہو۔ لائبہ! جانے بھی دو، کیا باتیں کرنی کسی سے۔ بس سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ مل کے بیٹھے۔ نور اپنی سوچ بتا رہی تھی۔
لیکن نور! مجھے تمہاری یہ بات سوچنے پر مجبور کر رہی ہے کہ جو تم رات، دیر تک موبائل پہ لگی رہتی ہو، لیپ ٹاپ پہ بیٹھی رہتی ہو، اس کے لیے وقت کیسے نکل آتا ہے؟ اب تو حنا کو بھی لائبہ کی باتوں میں کچھ دلچسپی محسوس ہوئی اور وہ غور سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔ کیوں حنا! ایسی بات ہے کہ نہیں، ہم نے آج اپنوں کی محبت کو کھو دیا ہے۔ اسی لیے تو ہمیں جینے کا مزہ نہیں آتا۔ وہ بھی کتنا پیارا دَور تھا جب بڑے، چھوٹوں کو نصیحت کیا کرتے تھے اور کسی ایک کو کوئی تکلیف ہو تو سب فکرمند ہو جایا کرتے تھے۔ سب کی بے چینی قابلِ رشک ہوتی تھی۔ دیکھو ناں! آج ہم نے بڑوں کی صحبت میں، بزرگوں کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے میں دلچسپی چھوڑ دی ہے۔ ہر کوئی اپنی ہی دُھن میں لگا ہے۔ بزرگوں کی دعائیں لینی، ان کی نایاب باتیں سننی چھوڑ دی ہیں۔ تو دیکھو! ہم قدم بہ قدم نقصان اٹھاتے ہیں۔ لائبہ کی بات آخر درست ہی تو تھی۔
ہاں لائبہ! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ حنا نے لائبہ کی بات کی تصدیق کی اور اپنی کہانی سنانی شروع کر دی۔ لائبہ! آپ کی باتوں سے مجھے وہ زمانہ یاد آنے لگا جب ایک دفعہ میری امی جان کو اچانک بخار ہو گیا اور ابو اتنے پریشان ہوئے کہ ہم سب بھی فکرمند ہو گئے کہ اب نجانے کیا ہو جائے۔ حالاں کہ پھر اللہ کا کرم ہوا اور امی جان بالکل ٹھیک ہوگئیں لیکن اس بیماری کے آنے سے میرے دل نے گواہی دی، واقعی یہ رشتے بہت اچھے ہیں۔ کوئی دکھ سکھ میں ساتھ دینے والا، درد کو سمجھنے والا بھی ہے۔
لائبہ! آپ کو معلوم ہے، میرے بڑے بھائی بیرون ملک ہوتے ہیں۔ وہ اکثر باتیں کرتے ہیں ناں…. تو یقین مانو مجھے کبھی کبھی تو شدید حیرت کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے کئی دن لگ جاتے ہیں کہ وہاں کے لوگ انسان ہیں بھی یا نہیں؟
کیوں حنا! ایسے کیوں کہہ رہی ہیں آپ؟لائبہ! اگر آپ سننا ہی چاہتی ہیں تو پھر سنیں۔ ایک دفعہ میری فون پر بھیا سے بات ہو رہی تھی، وہ بتانے لگے کہ آج میرا گزر ”اولڈ ہاؤس“ میں ہوا۔ میں سمجھی، شاید کوئی پرانا گھر ہوگا جسے بھیا نے دیکھ لیا ہوگا کیوں کہ وہاں تو بڑی بڑی عمارتیں اور عالی شان مکانات ہیں۔ تو میں نے پوچھا کہ بھیا کیا کیا تھا اس پرانے گھر میں؟ تو بھیا ہنسنے لگے اور مجھ سے کہا، میری پیاری بہنا! آپ کو ابھی تک اس کا علم نہیں؟ چلیں…. میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اصل میں یہاں جن لوگوں کے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں اس گھر میں چھوڑ جاتے ہیں۔
اچھا! سچی بھیا؟ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے، اتنے پیارے امی ابو، جنہوں نے اتنے پیار سے پال پوس کر بڑا کیا، اچھا انسان بنایا، تعلیم دلوائی۔ وہ کیسے ان کی سب قربانیوں اور محبتوں کو بھول کر انہیں اس گھر میں چھوڑ آتے ہیں۔ بس حنا! آپ نہیں جانتیں، یہاں تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ آج جب میں کام سے واپس گھر کی طرف جا رہا تھا۔ جلدی میں تھا کہ گھر جا کر کھانا بھی بنانا ہے۔ میں نے راستے سے کھانے کا سامان لیا تو ایک بہت ضعیف اماں کو دیکھ کر اپنی امی جان کی یاد آگئی۔ ان کی حالت دیکھ کر مجھے ترس آگیا اور میں ان کے پاس چلا گیا۔ جب قریب گیا تو وہ بھی جیسے میرے انتظار میں تھیں۔ میرے قریب ہوتے ہی وہ میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر چومنے اور رونے لگیں۔ میں انہیں تسلی دینے لگا کہ نجانے کیا حادثہ ہوگیا ان کے ساتھ۔ تو کہنے لگیں، بیٹا! میں آج موت مانگ رہی ہوں لیکن پتا نہیں کب آئے گی۔
میں نے پوچھا، کیوں اماں! کیا ہوا؟ تو کہنے لگیں، ”وہ والا سامنے گھر دیکھ رہے ہو؟“ میں نے کہا، جی اماں! تو کہنے لگیں کہ میرا بیٹا! مجھے وہاں چھوڑ آ۔ اتنا کہہ کر وہ پھر سے رونے لگیں اور میں عمارت کا نام پڑھ کر سمجھ گیا۔ میں نے انہیں تسلی دی تو وہ کچھ سنبھل کر بولیں، میں کئی دنوں سے بیمار ہوں۔ آج بیٹے سے علاج کے لیے کچھ پیسے مانگے تو اس نے پہلے مجھے مارا پھر وہاں چھوڑ گیا کہ میں تیری کھانسی اور خرچوں سے تنگ آ گیا ہوں۔
وہ ابھی اور کچھ کہتی لیکن گارڈ آ کر انہیں اُس گھر میں لے گئے۔ اس واقعہ نے مجھے بے چین کیے رکھا کہ آج زمانے کو کیا ہوگیا ہے؟بس لائبہ! اس دن سے میرے دل میں اپنوں کا پیار ومحبت رچ بس گیا اور دل میں یہ بات بار بار آتی ہے کہ کیا وہ انسان نہیں کہ کسی کے درد، کسی کے احساس کو محسوس کریں۔ آخر وہ کیسے لوگ ہیں جنہیں والدین کی فکر ہی نہیں۔ حنا بات کرتے ہوئے گلوگیر ہوگئی۔ہاں حنا! یہی بات تو میں سوچتی ہوں۔ آج احساس، دکھ درد کا جذبہ ختم کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ یہ دکھ درد تو انسان کو ایک دوسرے کے قریب کرتے ہیں۔ ان دکھوں میں سکھ دینے ہی سے تو رشتوں میں پیار ومحبت بڑھا کرتا تھا۔ مجھے اکثر حضرت اویس قرنیؓ کا واقعہ یاد آتا ہے۔ حضرت اویس قرنیؓ نے والدین کی کیسی خدمت کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ اویسؓ سے اپنے لیے دعا کروائیے گا۔ اتنا بڑا مقام انہیں والدین کی خدمت سے ملا تھا اور آج ہم کس رخ پہ جا رہے ہیں؟ والدین بھوکے ہوں اور ہمیں اپنی ہی خوشیوں کی فکر رہتی ہے۔
ہاں حنا! آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ لائبہ نے کہا۔ ان دونوں نے نور کو دیکھا، جو سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔ وہ بولی، آج مجھے احساس ہوا کہ اصل محبت، اصل پیار یہی ہے۔ اگر اپنوں میں محبت نہ ہو تو زندگی کا مزہ نہیں۔ یہ محبت، یہ احساس ہی رشتوں کو جوڑے رکھتا ہے۔ میں نے آپ دونوں کی باتوں میں بہت سکون پایا۔ آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں۔ مجھے اپنوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ میں اپنی والدہ سے اکثر بدتمیزی سے پیش آتی ہوں لیکن آج کے بعد میں کبھی ان کا دل نہیں دکھاؤں گی۔ نور کی بات پر وہ دونوں مسکرا دیں۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close