
ایک دن میں یونیورسٹی جا رہا تھا اچانک خیال آیا کہ جوتے پالش کروا لوں سڑک کنارے ایک موچی پر نظر پڑی لیکن وہاں ایک بچہ بیٹھا تھا جو جوتے پالش کر رہا تھا اس کے پاس پہنچا وہاں ایک پڑھا لکھا انسان پہلے سے موجود تھا وہ بچہ اس انسان کے جوتے پالش کرہا تھا ۔
ان دونوں کے درمیان گفتگو جاری تھی میں بھی اس میں شریک ہو گیا لیکن صرف سننے کی حد تک وہ انسان کسی یونیورسٹی کا پروفیسر لگا رہا تھا جس انداز میں وہ بچے سے گفتگو کر رہا تھا اور اس کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ۔اس کے سوال میں بھی سن رہا تھا اور جواب میں زیادہ دلچسبی اس لیے تھی کہ اس میں رازوں کی باتیں ہو رہی تھیں ان میں ایک راز کی بات کامیابی پر ہوئی تو جس کو میں پوئینٹ آؤٹ کیا اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کیا جس کا نتیجہ ابھی بھی راز میں رہ گیا ہے ۔
پروفیسر صاحب کا جوتا پالش کرتے ہوئےبچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھنے لگا ماسٹر صاحب! کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں ‘
پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ، دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے ، بچے کا اگلا سوال تھا
وہ “کیسے؟‘‘
پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘اوراسکےکھوکھے کی دیوار پر دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا ، اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (Skill) لکھا۔
بچہ اور میں پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتے رہے ‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا: ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘۔
پہلا زینہ محنت ہے۔
آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے۔
آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہئے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئے‘ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔
پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔
اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے۔
ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے، وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرنا۔آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو ،تم ایماندار ہو جاؤ گے،کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے۔
آپ پہلا 30 فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں،آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے۔
تیسرا مرحلہ ہنر ہوتا ہے ۔
اب دیکھو میری طرف پروفیسر نے مسکرا کر کہا اور میں بھی ان کی طرف دیکھنے لگا اب بتاؤ 100 فیصد میں سے 80 فیصد آپ نے پا لیا اور پیچھے رہ گیا 20 فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے ،آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی اسکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا ،آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے۔
پروفیسر نے بچے کو بتایا لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔آپ کو محنت ہی سے اسٹارٹ لینا ہو گا‘ ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا’ آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا‘‘۔
پروفیسر نے بچے کو بتایا “میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی’ اور میں نے دنیا کے بے شمار بےہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘ ۔
تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘ تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے‘‘۔
یہ محض گفتگو بچے اور پروفیسر کے درمیان ہو ئی جب یونیورسٹی پہنچا تو کلاس میں ہماری پروفیسر بھی اس عنوان پر بات کرتے ہوئے ہمیں کامیابی کے راز بتانے لگیں ان کی اس بات کو میں نےبڑے غور سے سنا کہ اگر آپ کو کامیاب ہونا ہے تو اپنے آپ کو سزا دینا شروع کردیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ کیسے ؟ تو انہوں نے مزید سمجھاتے ہوئے کہا کہ کچھ لمحے آپ اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور ساتھ ہی اردگرد کی چیزوں دیکھیں پھر ان پر خاصی توجہ دیں اور لمہ فکریہ بن جائیں ۔
ان تینوں زینوں کو اپنی زندگی میں شمار کر کے ہم نے دیکھا کہ ہنر مند بغیر محنت کچھ نہیں کرسکتا اور محنت کرنے ولا بغیر پروفشنل ازم اور ایمانداری کے کچھ نھی کر سکتا ہے یعنی زندگی میں اگر سو فیصد کامیاب ہونا ہے ان تین مرحلوں کو اپنے ساتھ باندھ لیں آپ زندگی میں کامیابی کے راز کو پالو گے ۔