ٹک ٹک ٹک۔۔ گھڑی کی سوئیوں کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، اس کے علاوہ اور کوئی دوسری آواز وہاں موجود نہیں تھی۔ وہ کافی دیر سے قلم پکڑے کچھ سوچے چلی جا رہی تھی۔ اس کی نظر ایک طرف دیوار پر ٹکی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی وہ اپنے سلکی بالوں میں قلم سرکانے لگتی۔ آخر اس نے خود سے دل میں سوال کیا۔
مجھے محبت کیوں ہوئی؟؟
وہ خود سے لڑتی ہوئی بے بسی سے انگلیاں بالوں میں پھنسائے سر جھکائے رہ گئی۔
چند لمحے یونہی گزر گئے، پھر اس نے قلم اٹھا کر غصے سے توڑ ڈالا اور زور سے اسے اپنے سامنے پڑے صفات پر دے مارا۔
اس پر اس کی بس نہیں ہوئی اس نے صفات پھاڑنے شروع کر دیے اور انہیں ہوا میں پھیلا دیا۔ وہ مشتعل انداز میں وہاں سے اٹھی اور کرسی پر ٹھڈا مار کر اسے پیچھے کرتی ہوئی وہاں سے آگے کو بڑھ گئی۔ اب وہ بھڑکی ہوئی بستر کے قریب آئی اور اوندھے منہ بستر پر آن پڑی۔
اس کی آنکھوں سے شفاف قطرے پھسل کر گالوں پر بہتے چلے گئے۔ دھیرے دھیرے اس کے ذہن کے پردے پر ماضی کسی فلم کی طرح چلنے لگا۔
اس نے پہلی دفعہ جب محمد کو دیکھا تھا تو اسے ایک عجیب سا روحانی سکون ملا تھا۔ اس وقت وہ اپنے ہوش میں نہ رہی تھی۔ وہ بول رہا تھا تو اس کے دل نے اپنے کان کھول کر اسے دیوانوں کی طرح سننا شروع کر دیا تھا۔
اسے لگا تھا اس کے سامنے کوئی انسان نہیں بلکہ خود محبت اپنی مجسم صورت میں چلی آئی ہے۔ وہ سر پھری لڑکی جو جلدی کسی کی بات نہیں سنتی تھی، اسے خاموشی سے سن رہی تھی۔
نجانے وہ کیا بول رہا تھا وہ بالکل شانت ہو گئی۔ اس کی آواز اور لہجے میں موجود محبت اپنائیت اور مٹھاس اس کے کانوں کے ذریعے اس کے دل پر اتر آئی تھی۔ اس کا حسین چہرہ اسے بھول نہ پا رہا تھا۔
وہ کافی دیر اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔ تھوڑی تلاش کے بعد وہ اسے فیس بک پر مل گیا۔ اب وہ ساری رات اس کی تصویروں کو ہی گھورتی چلی گئی۔
اس کام سے اسے عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ اس سے پہلے اسے صرف نیند میں سکون ملتا تھا۔ اب یہ کیفیت اسے بہت پر جوش کر رہی تھی۔ ہوش میں جاگتی آنکھوں سے اپنے سکون کو دیکھنا اور محسوس کرنا اسے اندر ہی اندر پاگل کر رہا تھا۔
اب اس کے دل میں ایک حسرت پیدا ہوئی کہ کسی طرح اسے اس شخص سے دوبارہ ملنا ہے۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا تھا کچھ دنوں بعد وہ خود اس سے ملنے کا بہانہ بنا چکا تھا۔
اسے اچانک سے احساس ہوا دوسری جانب سے بھی ملنے کا اشتیاق تھا۔ پھر ان کی دوستی ہوئی تو کبھی کبھی باتیں ہونے لگیں۔ وقت کے ساتھ یہ کبھی کبھی کی بات روز میں شامل ہو گئی اور وہ دونوں ایک دوسرے سے اپنی ہر بات شیئر کرنے لگے۔
وہ اپنے دل میں پنپتے جذبات کو لے کر کچھ پریشان تھی مگر محمد پر انہیں ظاہر نہیں ہونے دیتی تھی۔ اسے محمد سے بات کرنے سے ہی سکون مل رہا تھا تو اسے ابھی اپنے اوپر قابو تھا۔ وہ اس سے اپنے دل کا حال بیان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ محمد کی عمر 19 سال تھی اور وہ 25 سال کی تھی ان کے درمیان عمر کا فرق اسے اندر ہی اندر پریشان کر رہا تھا۔ وہ کم عمر ہونے کے باوجود ایک میچور لڑکا تھا جبکہ اس کے اپنے اندر ہمیشہ سے ایک نادان اور شریر بچی تھی جسے کم عمری کی شادی نے حد سے زیادہ غمگین اور چڑچڑا بنا ڈالا تھا۔
محمد اسے سمجھاتا رہتا تھا۔ دونوں ایک دوسرے سے اپنے غم اور محرومیاں بانٹ لیا کرتے تھے۔ وہ اس کے اندر ٹوٹے ہوئے معصوم بچے سے دیوانہ وار پیار کرتی تھی۔ وہ ایک بروکن فیملی سے تھا اور ایک زمیندار کا بیٹا تھا۔ اس کے باپ نے دو شادیاں کر رکھی تھیں۔ وہ پڑھائی کے سلسلے میں شہر میں سوتیلی ماں کے ساتھ رہنے پر مجبور تھا۔ اسے گھر سے وہ محبت نہ ملی تھی جس کا وہ حقدار تھا، جس نے اس کی شخصیت کو مکمل نہ ہونے دیا۔ وہ اپنا زیادہ وقت دوستوں کے ساتھ گزارتا تھا اور اب ایمی اس کی سب سے قریبی دوست بن چکی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ دونوں محبت کا اقرار کرنے کے علاوہ اپنے دل کا ہر پنا ایک دوسرے کے آگے کھول کر رکھ رہے تھے۔ وہ دونوں اپنے ماضی کے دلدل کی گندگی سے باہر نکلے تھے اور اب اس سے دور رہنا چاہتے تھے۔
جب ایمی کو محسوس ہوا اس کے دل میں محبت جنونیت اختیار کرتی جا رہی ہے تو اس نے خود کو وہیں روکنے کی کوشش کی۔ اسے مزید آگے نہیں بڑھنا تھا وہ اپنے شوہر کی عدم توجہی کی وجہ سے محمد کی جانب بڑھی تھی اور دوستی سے بڑھتے بڑھتے کب محبت کی انتہاؤں پر پہنچ گئی، اسے سمجھ ہی نہ آئی۔
اظفر زیادہ تر دوسرے شہروں میں رہتا تھا اس کے پاس ایمی کو پیسہ اور دوسری سہولیات دینے کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ اس کی طرف سے راحت نہ مل پانے کے سبب وہ اپنا دل کہیں اور لگانے پر مجبور تھی۔ وہ بھی ایک بروکن فیملی سے تھی اور محبت کی کمی نے اس کی ذات میں ادھورا پن پیدا کر ڈالا تھا۔ وہ ایسے گھرانے سے تھی جہاں عورتوں کو اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔ وہ اپنی کم عمری کی شادی کو کبھی دل سے قبول نہ کر پائی تھی اور اپنے شوہر کی طرح صنفِ مخالف سے دوستیاں کر کے جینے کے سہارے تلاش کرتی تھی۔ محمد سے ملنے کے بعد اسے مزید ان سہاروں کی ضرورت نہ رہی تھی اور اس کی روح کو جو سکون ملا تھا وہ اسے اپنے اندر اتار کر خود کو مکمل محسوس کرنے لگی تھی۔
پھر اچانک سے اسے لگنے لگا وہ اس کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اور اب وہ اس کے بغیر رہ نہ پائے گی۔ وہ یہ جان کر بے چین رہنے لگی۔ وہ جانتی تھی ان دونوں کی محبت کا کوئی مستقبل نہیں ہے مگر وہ دوستی میں آگے سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسے ڈر لگنے لگا کسی لمحے محمد پر اس کی دیوانگی واضح ہو جائے گی اور سب برباد ہو جائے گا۔
اس کے اندر حسرت، بے بسی، بے چینی اور پچھتاوے کے ملے جلے جذبات اکٹھے ہو کر اسے شدید اذیت پہنچانے لگے۔
ایک رات محمد نے اسے اپنی ایک تصویر بھیجی۔ وہ کسی شدید حادثے کا شکار ہو گیا اور اس کا خوبصورت چہرہ خوفناک صورت میں تبدیل ہو چکا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر بہت روئی۔ اسے یوں اس حال میں دیکھنا اس کے لیے ہولناک تھا۔ وہ اسے چھوڑنے کا سوچ چکی تھی اب یہ دیکھ کر وہ اندر ہی اندر تڑپ گئی۔ بھلا کوئی اپنے محبوب کو برے وقت میں تنہا چھوڑ کر کیسے جا سکتا ہے۔ اس نے محمد کو فون کر کے حوصلہ دیا مگر وہ خود کو روک نہ پائی اور ساری رات روتی رہی۔ اس کے دل نے کہا چاہے وہ ساری عمر کے لیے دنیا کا بدصورت ترین انسان بن جائے مگر اس کے لیے وہ ہمیشہ دنیا کا سب سے خوبصورت اور قیمتی انسان رہے گا۔ وہ روز رات کو جاگ کر تہجد پڑھتی اور رو رو کر اس کے لیے دعائیں مانگتی۔ کچھ ہی ماہ میں وہ بہت بہتر ہو گیا۔ اسے بہتر ہوتا دیکھ کر اس کے دل کو کچھ راحت ملی مگر وہ اندر ہی اندر اسے چھوڑنے کا سوچ کر تڑپنے لگی۔ اس کی ایک 7 سالہ بڑی بیٹی تھی جو اسے اپنی شادی کے بیتے سال یاد دلاتی تھی۔ اسے ہر صورت اسی پنجرے میں قید رہنا تھا۔
ایک دن وہ اپنے دل و دماغ اور ضمیر سے لڑتے لڑتے تھک گئی اور اس نے محمد کیساتھ ہر جانب سے رابطہ منقطع کر ڈالا۔
اس نے اپنے گالوں پر سے آنسو صاف کیے اور چہرے کا رخ دوسری جانب کر لیا۔ اس کے دل میں شدید درد اٹھا۔ اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے درد پر قابو پانے کی کوشش کی۔
محمد نے آج اسے ان کی محبت پر کہانی لکھنے کا کہہ کر بڑی مشکل میں ڈال دیا تھا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ لوگوں کی محبت کی کہانیاں لکھتے لکھتے ایک دن اسے اس امتحان سے خود بھی گزرنا ہوگا۔
رائٹر ہونا بھی ایک بڑا عذاب ہوتا ہے۔ کئی بار تو خود رائٹر بھی دوسروں کی کہانی میں خود کو محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں ہوتا، ہر کہانی کے ساتھ وہ ایک الگ ہی عذاب سے گزر رہی ہوتی تھی۔
آج بھی محمد سے اس نے ایسے ہی ذکر کیا تو اس نے ان کی محبت پر افسانہ لکھنے کی عجیب ہی فرمائش کر ڈالی۔ پہلے تو وہ یہ سن کر سکتے میں آ گئی۔
اسے خود کو یہ بات سمجھانے میں بھی کافی وقت لگا کہ کیا وہ ایک بار پھر اس کہانی کے ذریعے اپنی زندگی کے تمام عذاب دوہرائے گی۔ پھر سے خود کو ماضی میں گھسیٹ کر بار بار خود کو اذیت پہنچائے گی۔
ابھی پہلا دور اسے اذیت سے باہر نہ آنے دے پایا تھا کہ وہ دوسرے دور میں داخل ہو گئی۔
اس کا باپ چل بسا اور اسے زندگی نے سمجھا دیا کہ کچھ رشتے خود پر جبر کر کے نہیں چلائے جا سکتے اور پیسہ ہمیں جسمانی آرام دے سکتا ہے ذہنی اور روحانی سکون نہیں پہنچا سکتا۔ اس کے باپ نے غم کی حالت میں وقت سے پہلے اپنی جان گنوا دی تھی۔ اس نے اپنے خاندان کے خلاف جا کر پہلے شوہر سے علیحدگی اختیار کر لی اور بڑی بیٹی کو اس کے باپ کے پاس چھوڑ کر اپنے چار سالہ چھوٹے بیٹے کو ساتھ لیے تنہا رہنے لگی۔
اس کا اپنا گھر تھا اور وہ نوکری کر کے اپنے اور اپنے بیٹے کے اخراجات پورے کر رہی تھی۔ غم اور تنہائی کے احساس نے اسے ہمیشہ سے تھکا رکھا تھا۔ اب والدہ کے بار بار شادی پر زور دینے نے اسے مزید بے سکون کر ڈالا۔
اس سب سے تنگ آ کر وہ پھر سے سکون تلاش کرنے لگی۔ کئی سال بعد اسے محمد کی یاد آئی۔ اسے یاد کرتے ہی اسے لگنے لگا اگر اسے وہ نہ ملا تو وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر مر جائے گی۔
کئی دن خود سے لڑنے کے بعد اس نے محمد کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب وہ دن رات اسے تلاش کرنے لگی۔ ایک دوپہر وہ اسے یاد کرتے کرتے سو گئی اور اسے خواب میں پرانے دن نظر آئے، جب وہ محمد کی فیس بک آئی ڈی سے روز اس کی تصویریں دیکھ کر سویا کرتی تھی۔
اس کی آنکھ کھلی اور اس نے خود کو پسینے میں شرابور پایا۔ اس نے جلدی سے اپنا موبائل اٹھایا اور اس کی آئی ڈی کے وہ مخصوص حروف لگائے جو اسے پانچ سالوں میں بھول چکے تھے اور اب خواب کے ذریعے اسے یاد آئے تھے۔ فوراً سے اس کے سامنے اس کی آئی ڈی آ گئی۔ اسے دیکھتے ہی اس کی جان میں جان لوٹ آئی تھی۔ وہ اسے میسج کرنے لگی۔ اسے یہ دیکھ کر دکھ پہنچا کے وہ کافی وقت سے فیس بک پر نہیں آیا تھا۔ یعنی اسے ایمی کے میسج نہیں ملنے والے تھے۔ اس نے پاگلوں کی طرح انسٹا پر اسے تلاش کرنا شروع کر دیا۔ بڑی مشکل سے اسے ایک آدھی نظر آتی صورت والی آئی ڈی دیکھ کر محمد کے ہونے کا شک پڑا۔ اس نے غور کیا تو یہ وہی تھا۔ وہ خود کو لوگوں سے بہت چھپا رہا تھا آخر ایسا کیوں! بہرحال اس نے پیغام بھیج کر پھر سے کوشش کی۔ وہ دیوانوں کی طرح اس کے جواب کی منتظر تھی۔ دو گھنٹے بعد اس کے جواب آنے لگے اور وہ خوشی سے موبائل کو دیکھنے لگی۔
یہ کیا! وہ اسے پہچان نہیں پا رہا تھا اور بات کرنے پر آمادہ نہ تھا. آخر اس نے کچھ ایسی باتیں اسے یاد دلائیں کہ اچانک سے محمد کو سب کچھ یاد آگیا اور پھر اس کا لہجہ بدل گیا۔ وہ اسی عزت اور محبت سے اسے بلانے لگا جو اس کا انداز تھا۔ ان دونوں میں نمبروں کا تبادلہ ہوا اور وہ فون پر بات کرنے لگے۔ محمد نے گلے شکوے کیے اور اس نے بہانے بنائے۔ جلد ہی ان میں پھر سے پہلے والی دوستی ہو گئی۔
اب کی بار وہ محمد سے اپنی بہت ساری باتیں چھپانے لگی تھی۔ اس نے اسے اپنی علیحدگی اور نوکری کے متعلق ابھی نہ بتایا تھا کہ محمد اسے سمجھانے لگا کہ اسے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اس شادی کو چلانا ہے۔ وہ اسے خوش رکھنے کی پوری کوشش کرے گا۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا اس کے بچے وہ سب سہیں جو اس نے سہا اور وہ ادھوری شخصیت کے ساتھ معاشرے میں ناکام زندگی گزاریں۔
اسے محمد کی باتوں سے اس کی دلی کیفیت کا اندازہ ہو گیا۔ وہ اسے خوش رکھنے کو یہی ظاہر کرواتی رہی کہ اس کی شادی چل رہی ہے۔ اس کا دل چاہتا تھا ساری دنیا کی خوشیاں خرید کر اسے سونپ دے اور اس کی روح پر لگے تمام پیوند سی کر اسے ایک مکمل شخصیت بنا ڈالے۔ وہ اس کے اترے ہوئے چہرے پر خوشی کی بھرپور جھلک دیکھنا چاہتی تھی جو اسے کسی ملاقات میں بھی دیکھنے کو نہ مل پاتی۔ وہ خود بھی اندر ہی اندر ٹوٹنے لگی۔ دن بدن اس کے لیے پلتی وہ پرانی محبت اپنے نئے ورڑن کے ساتھ جو باہر آئی تھی وہ محمد کو اس سے آشنا کروانے کو تیار نہ تھی۔
ایک دن محمد نے اسے اپنی دل شکستہ باتوں سے یوں جذبات کی رو میں بہا ڈالا کہ وہ اسے خوش دیکھنے کے لیے اپنی محبت کا دھیما سا اظہار کر بیٹھی۔ بعد میں وہ خود کو کوستی رہ گئی کہ یہ اس سے کیا ہو گیا۔
اب محمد روز اس سے بہانے سے ایسے سوال کرنے لگا کہ جان سکے وہ اس کے لیے کس حد تک مخلص اور سنجیدہ ہے۔ وہ سرسری سا کوئی جواب دے کر بات بدل دیتی اور ہر روز محمد اسے کہتا وہ اس کے لیے دعا کرے اس کا ایک کام ہو جائے، وہ بہت فکر مند ہے۔ اس کی اس بات پر وہ تڑپ جاتی ہے اور اس کے لیے دعا کرنے لگتی۔ وہ روز پوچھتی آخر کیا کام ہے؟ اور وہ کہتا جب ہو جائے گا تو بتاؤں گا۔
ایمی نے یہ یاد آتے ہی زور کا مکا اپنے سامنے مارا تھا۔ ایک شور سا ہوا اور وہ اس شور سے اپنے اندر کے اٹھتے شور کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے یاد آیا تب بھی اس کے دل کو دھڑکا سا لگا تھا جیسے کچھ گڑبڑ ہے مگر وہ پھر بھی اس کے لیے دعائیں کرتی رہی۔
ایک دن ان دونوں نے ملنے کا ارادہ کیا۔ ایمی کو وہ دن پھر سے یاد آنے لگا۔ محمد اسے بتانے والا تھا کہ وہ ملنے کہاں آ رہا ہے اور تب اس کی دوستیں اسے ملنے آگئیں۔
وہ دل میں گھبرا رہی تھی کہ اگر وہ ملیں گے تو محمد سے اپنے محبت کی شدت چھپانا اس کے لیےمشکل ہو جائے گی۔ وہ دل میں دعا کرنے لگی کسی طرح ایسا نہ ہو۔
اس کی دوستیں چلی گئیں تو وہ محمد کے فون کا انتظار کرنے لگی۔ مگر اب رات بہت ہو چکی تھی محمد بھی اسے ٹالتا رہا کہ ابھی بتاتا ہوں اور یوں کرتے کرتے رات کے 12 بج گئے۔ وہ اداس دل کے ساتھ سونے لیٹ گئی۔
اگلے دن اس نے اپنے دل کو عجیب سے انداز میں دھڑکتے پایا۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کی کوئی قیمتی چیز اس سے دور جا رہی ہو۔ سارا دن اس کا دل روتا رہا۔ وہ آفس کے کاموں میں اپنا دھیان بٹاتی رہی اور اپنی بے قراری پر قابو پانے کی کوشش کرتی رہی۔
آخر شام ہوئی اور دل کا تڑپنا عروج پر پہنچ گیا۔ اس کو سمجھ نہ آ سکی آج ایسا کیوں تھا۔ بالاخر اس نے مغرب کی نماز پڑھی اور تھکی تھکی سی ٹی وی لاؤنج میں آ بیٹھی۔ اسی لمحے محمد کی کال آنے لگی۔ محمد نے اسے بتایا وہ ایئرپورٹ پر ہے اور لندن جا رہا ہے۔ یہ سن کر اسے سمجھ آئی کہ دل کو کیا صدمہ کھائے جا رہا تھا۔ یہ خبر اس کے دل کا سکون چھین چکی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے محمد کو تلاش کیا تھا اور اب اتنے سالوں بعد جو اسے محمد کا ساتھ ملنے والا تھا تو اچانک سے وہ بھی اس سے دور چلا گیا۔ یہ صدمہ اس کے لیے بہت بڑا تھا۔ یہ جاننے کے بعد اس سے مزید کوئی بات نہ کی جا رہی تھی۔ چند منٹ بمشکل اس سے بات ہو پائی۔ محمد نے فون بند کیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس رات اس کا خود پر بس نہیں تھا وہ ساری رات روتی رہی۔ اور جب جب اسے یہ یاد آتا وہ یونہی رونے لگتی۔
ایمی کی آنکھیں پھر سے بہنے لگیں۔ وہ اس دن کو یاد کر کے خود کو روک نا پائی اور مسلسل اس کی آنکھیں برستی رہیں۔
اب اسے لگنے لگا اس نے اس دن صحیح فیصلہ کیا تھا کہ اسے محمد کو اپنے دل سے نکال دینا چاہیے۔ ایسے انسان کو دل میں جگہ نہیں دینی چاہیے جو دوسرے کے احساسات کو سمجھ نہ سکے، محبت کے بدلے محبت نہ دے سکے اور وقت پڑنے پر تنہا چھوڑ جائے۔ اس کے جانے کے بعد وہ کسی بھی رات سکون سے سو نہ پائی تھی۔
وہ اپنے بال پیچھے کرتے ہوئے اٹھی اور دھیرے سے قدم بڑھاتی ہوئی ان بکھرے ہوئے صفات کے قریب چلی آئی۔ اس نے اپنی آنکھوں کے نیچے جمے آنسو صاف کیے۔ محمد کی فرمائش پر کچھ بھی لکھنا اس کے لیے کتنا اہم تھا یہ وہی جانتی تھی یا اس کا دل، اس کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس نے کسی ننھی بچی کی طرح محبت سے پھٹے ہوئے کاغذ اکٹھے کیے اور عقیدت سے انہیں دل سے لگا کر دھیرے سے چلتی ہوئی میز کے قریب چلی آئی۔ وہ بےچینی سے ٹکڑے سامنے رکھ کر جوڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ بمشکل صفحہ یکجا تو ہو گیا مگر اس میں بالشت بھر کا خلا رہ گیا۔ وہ چھوٹا سا حصہ جو نجانے کہاں اڑ کر کھو گیا تھا اب ملنا مشکل لگ رہا تھا۔ اب اس نے یونہی ملا کر پڑھنا چاہا تو محبت کے آگے لفظ غائب ہو کر ناک رہ گیا۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے لبوں سے لفظ ادا کر ہی ڈالا۔ ”محبتناک“
اور اس کے دماغ میں بہت سارے لفظ گونجنے لگے۔ خطرناک، خوفناک، ہیبتناک، المناک، غمناک، ہولناک، عبرتناک۔۔ وہ سمجھ نہ پائی محبت کے ساتھ کون سی ناک آ لگی تھی۔ وہ معصومیت سے ذہن پر زور ڈالنے لگی۔ اس کا دل اس پر خوب ہنسا۔ اب یہ سب لفظ ہی محبت میں سما کر افسوسناک بن چکے تھے۔ آخر اسے اندازاہ ہوا کہ محبت کی ناک بہت اونچی ہے۔ اس نے یہ صفحہ مروڑ کر پھینک ڈالا اور نئے صفحے پر عنوان لکھ ڈالا۔
”محبتناک“
اب وہ بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے قلم چلانے لگی۔ چند لمحوں میں وہ ایک شاعری لکھ کر کہانی کی ابتداء کر چکی تھی۔
کسی بے وفا کے لیے وفا نہیں ہوتی
ہم سے تو ایسے محبت نہیں ہوتی
گر محبوب ذرا سا سر پھرا نہ ہو
ہم سے ایسی رفاقت نہیں ہوتی
عشق میں انتہا نہ ہو سر پر سودا نہ ہو
ہم سے تو ایسی چاہت نہیں ہوتی
خوف و خدشات و جذبات کی لڑائی
ہم سے کیوں عقل کی بات نہیں ہوتی
بندہ اطاعت سے عشق با اطاعت
ہم سے بنا اطاعت عبادت نہیں ہوتی
وہ جو نظر آئیں پھر نظر سے ہٹ جائیں
ہم سے اب دوری برداشت نہیں ہوتی
دیوانگی، سپردگی، بندگی، جنوں
بنا شدت ہم سے محبت نہیں ہوتی
*–*–*–*–*
”ایمی عید مبارک..!“ اریقہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے اسے روکھے سے انداز میں کہا تھا. اس نے ایمی کے چہرے پر سارے جہان کی تھکاوٹ دیکھی تو بغل گیر ہوتے ہی اداسی سے صوفے پر ڈھے گئی۔ ایمی اسے عام سے لباس میں دیکھ کر کچھ حیران ہوئی۔
”عید اس دفعہ بہت اداس رہی۔“ اریقہ نے افسوس سے کہا تو ایمی خیالات میں کھو گئی۔
”ہاں بہت زیادہ۔۔ میں نے اس دفعہ عید کا سوٹ بھی نہیں پہنا۔۔“ ایمی اس کی بات سن کر کہیں کھو گئی۔
”بس سارا دن بستر میں گزرا مگر نیند بھی پوری نہیں ہوئی۔“ ایمی کے چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ”تمہیں کیا ہوا؟ “
”آدم کے ساتھ لڑائی ہو گئی۔۔ اور کیا ہونا تھا۔“ وہ کچھ حیران رہ گئی۔۔ ”وہ کیوں؟“ اریقہ نے اسے اپنے شوہر سے ہونے والی لڑائی کی وجہ بتائی تو وہ خاموشی سے سر جھکا کر رہ گئی۔
”تمھیں کیا ہوا ہے؟ تم بہت اداس لگ رہی ہو؟“ اب اس نے ایمی سے دریافت کیا۔
”میری محمد سے ناراضگی کی وجہ سے عید خراب ہو گئی۔۔“ اریقہ افسوس سے سر جھکا کر رہ گئی۔
”ہممم۔۔ مردوں کا اپنے جذبات پر کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ لڑ کر بھی پرواہ نہیں کرتے اور اپنا وقت دوستوں کے ساتھ گزار کر دھیان بٹا لیتے ہیں۔ ہم عورتیں ہی اپنے جذبات کو سنبھال نہیں پاتیں۔“
ایمی اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی تھی۔ ملازمہ نے انہیں چائے کے ساتھ لوازمات پیش کیے اور وہ یونہی باتوں سے دل کو ہلکا کرتی رہیں۔ کچھ دیر بعد اریقہ اٹھ کر اس کے ساتھ اس کے کمرے میں چلی آئی۔
”آج کیا پہنو گی؟“ ایمی اسے لیے اپنی وارڈروب کی جانب چلی آئی۔ ایمی نے اسے ایک سیاہ جوڑا دکھایا۔ ”یہ مجھے کل پہننا تھا مگر نہیں پہن سکی۔۔ اگر محمد سے ناراضگی نہ بنتی تو ضرور پہن لیتی۔“
اریقہ نے منایا۔ ”آج پہن لو۔“ وہ اب دوسرا جوڑا دکھانے لگی۔ ”یہ سفید چکن کاری لباس میرا پسندیدہ ہے۔۔ یہ آج کے دن کے لیے تھا۔۔ مگر سچ میں میں نے سوچا تھا کہ اسے پہن کر محمد کے ساتھ مسجد وزیر خاں جاؤں گی۔۔ اور بھی میں نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا مگر وہ یہاں نہیں ہے تو میں یہ بھی نہیں پہنوں گی۔“ اریقہ نے اسے امید سے دیکھا۔
”تم ہمیشہ سے ایک جنونی عاشقہ رہی ہو۔ بدقسمتی سے پہلے اظفر کی بے رخی اور اب محمد کی بے مروتی۔۔ مگر تم مجھے اس دفعہ بہت اذیت میں لگ رہی ہو۔۔ جانے کیوں تمیں دیکھ کر لگتا ہے تمھیں محمد نہ ملا تو اب کے تم زیادہ دن جی نہ پاؤ گی۔“ ایمی بے دلی سے اسے رکھ کر وارڈروب بند کیے باہر نکلی۔ اس نے خیالات میں خود کو اسی سفید جوڑے میں محمد کے ساتھ مسجد وزیر خان میں پایا۔
اریقہ اسے سمجھاتی ہوئی جانے کو اٹھی تو ایمی اسے دروازے تک چھوڑنے چلی آئی۔
”اداس نہیں ہو۔۔ یہ سب چلتا رہتا ہے۔۔ تم اسے منا لو۔“ وہ سر ہلا دی۔
”اگر انا نے اجازت دی تو منا لوں گی۔۔ مگر اصولاً تو اسے خود بات کرنی چاہیے۔“
اریقہ کے جانے کے بعد وہ سگریٹ سلگائے اپنی کھڑکی میں چلی آئی۔ سفید لانگ فراک میں وہ کھلے بالوں کے ساتھ نیند کی سی کیفیت میں سگریٹ کا دھواں بکھیرتے ہوئے باہر کے سبزہ زار کو تکتے ہوئے ماضی میں کھو گئی۔ اسے محمد کا جانا اور اپنا بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنا یاد آنے لگا۔ وہ بے آواز آنسو بہانے لگی۔ سگریٹ کے دھوئیں میں اسے بہت کچھ یاد آنے لگا۔
وہ افسانے کو آگے بڑھانے کو ذہن میں الفاظ ترتیب دینے لگی۔
اگر محبتناک جذبات کو لفظوں میں بیان کرنا پڑے تو وہ یہ کہہ سکتی ہے کہ محبوب کا وجود صحرا میں ٹھنڈے، میٹھے پانی کی طرح ہے اور محبت اس پیاس کا نام ہے جسے گرمی اور تھکن سے چور پیاسے شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ اگر یہ پیاس شدت اختیار کر جائے تو پیاسا صحرا میں تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ وہ اب اپنی اس پیاس کو بجھانے کا کوئی نعم البدل ڈھونڈنے لگی تھی۔
سگریٹ کو لبوں سے لگا کر وہ خود کو بھلا رہی تھی کہ صحرا میں تنہا رہ جانے والی وہ اکیلی بد قسمت عورت ہے بلکہ اب اس کا اپنا وجود ہی صحرا بن چکا تھا اور اسے سمندر کی تلاش تھی۔ چند گلاس پانی سے اس کا گزارا ممکن نہ تھا۔
محمد اس کی ضرورت تھا مگر جب وہ چپکے سے اسے چھوڑ کر پردیس نکل گیا تو وہ دن رات روتے رہنے کے بعد یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئی کہ اب اسے محمد کو اپنے دل سے نکالنا ہی پڑے گا۔ وہ ڈپریشن کی گولیاں لینے پر مجبور ہو چکی تھی۔
اسے کسی کا ساتھ چاہیے تھا۔ اب وہ مزید تنہا نہیں رہ سکتی تھی۔ محمد نے اسے آج پھر اس کے ماضی میں پہنچا دیا تھا۔ اسے اظفر کے ساتھ گزرا شادی کا پہلا سال یاد آگیا۔ وہ ہمیشہ سے کام کے سلسلے میں دوسروں شہروں میں رہتا تھا۔ ایک دن وہ اس سے منتیں کرتی رہی کہ صرف ایک دن کے لیے وہ اس کے پاس رک جائے۔ مگر وہ اس کی طرف دیکھنے سے بھی کترا رہا تھا۔ ایمی سسکتے ہوئے سوچنے لگی اگر ایک بار وہ میری طرف دیکھتا تو شاید چند گھنٹے ہی رک جاتا مگر وہ تو دس منٹ بھی وہاں نہ رکا تھا اور اسے چھوڑ کر اپنا بیگ اٹھائے جلدی سے دروازے سے نکل گیا تھا۔
اسے اپنے دل میں اٹھتی امیدیں بےکار لگنے لگیں کہ اگر محمد کو معلوم ہوتا وہ اس کے بغیر کیسے رہے گی تو وہ رک جاتا۔ اس کی قسمت میں ہمیشہ سے تنہائی ہی آئی تھی۔ آج بھی تو وہ تنہا تھی۔
پاکستان ہوتے ہوئے محمد اس سے ہر روز کئی کئی گھنٹے بلکہ ساری رات باتیں کرتا تھا مگر جب سے وہ باہر گیا تھا اب ان کی کئی کئی دنوں بات نہ ہو پاتی۔
جب محمد کا اپنا دل کرتا تو وہ فون کر لیتا مگر جب ایمی فون کرتی تو عموماً وہ مصروف ہوتا اور ان میں بات نہ ہو پاتی۔ یہ چیزیں اس کو اندر ہی اندر تکلیف پہنچانے لگی تھیں۔ وہ محمد کو دل سے نکالنے کا فیصلہ کرنے لگی۔ اس نے اپنی دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا شروع کر دیا۔ وہ روز باہر نکل جاتی اور اپنے لیے ایک اچھا ساتھی تلاش کرنے کی جستجو کرنے لگی۔ اسے کسی ایسے انسان کی تلاش تھی جس کے آتے ہی اسے محمد بھول جائے۔ وہ اب اہنی شادی کو لے کر سوچنے لگی تھی۔
دھیرے دھیرے وقت نے اس کے گھاؤ پر مرہم رکھا اور اسے وقتی طور پر اپنی درد ناک سی محبت بھولنے لگی۔ اب وہ نئے دوست بنانے لگی۔ جب اس نے اپنا دل اپنی دوستوں کےساتھ لگا لیا تو پھر اچانک سے ایک دن محمد کی ویڈیو کال آئی اور وہ اس سے ناراضگی دکھانے لگا کہ وہ اس سے بہت سی باتیں چھپاتی ہے اور اپنی دوستوں کے ساتھ گھومنے نکل جاتی ہے۔ اسے ایمی کا ان کے ساتھ گھومنا بالکل پسند نہیں تھا۔
اب وہ محمد کو بگڑا ہوا ناراض سا دیکھ کر اندر ہی اندر خود سے ناراض ہو گئی۔ اسے محمد کو پریشان نہیں کرنا تھا یہ اس سے کیا ہو گیا۔ وہ کیسے اس کو بدلا ہوا سمجھ کر کے کہیں اور دل لگا سکتی تھی۔ اس نے خود کے قدم وہیں روک لیے۔
اب محمد روز اس سے ویڈیو کال پر بات کرنے لگا اور اس پہ نظر رکھنے لگا کہ وہ گھر پر ہے یا گھر سے باہر ہے۔ محمد کو اندر ہی اندر بہت سی باتیں تکلیف پہنچا رہی تھیں مگر وہ اسے واضح لفظوں میں کچھ کہنا نہیں چاہ رہا تھا۔
ایمی اسے بہت سی باتیں چھپا رہی تھی۔ وہ اسے آئینہ دکھانے سے گریز کرتی رہی۔ ورنہ وہ جس قدر تکلیف میں تھی اس کا احساس محمد کو بلکل نہیں تھا۔
اس کے دل میں اچانک سے محبت کے ہولناک جذبات ابھرنے لگے اور وہ محبت کی شدت سے تڑپنے لگی۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اچانک سے اس کی محبت اتنی جذباتی اور شدید کیوں ہونے لگی تھی۔ وہ اس محبت میں خود کو بہت بے بس اور تنہا پا رہی تھی۔ اسے بدلے میں محمد کی طرف سے کچھ ملتا ہوا محسوس نہ ہوا تو اس کے اندر خالی پن بھرنے لگا۔
جب یہ جذبات اس پر اس حاوی ہونے لگتے تو اس کا دل چاہتا وہ خود کو گولی سے اڑا دے مگر وہ خود پر جبر کر کے روکتی رہی۔ محبت کی تڑپ نے اسے دل کے عارضے میں مبتلا کر دیا۔ بیٹھے بٹھائے اسے دل کی تکلیف اٹھتی اور وہ تڑپنے لگتی۔ ڈاکٹر نے اسے ہدایات دیں کہ وہ خود کو پریشانی اور غم سے دور رکھے نہیں تو بہت جلد اسے ہارٹ اٹیک آنے والا ہے۔ مگر نہ محمد کے دل میں آئے شک میں کمی آ رہی تھی اور نہ ہی اسے کہیں سکون نصیب تھا۔
آخر اس نے اس کی روز کی باتوں سےتنگ آ کر اس کے دل کی حقیقت جاننے کا فیصلہ کر لیا۔ محمد نے کہا وہ اس دنیا میں ملنے کے لیے نہیں بنے اور انہیں ایسی کوئی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ سن کر اسے بہت اذیت پہنچی تھی۔ مگر اس کے اندر کی مثبت سوچ اسے پر امید کرنے لگی کہ انسانوں کا کیا ہے یہ تو کچھ بھی کہہ دیتے ہے اصل فیصلہ تو اللہ کرتا ہے اور وہ کہتا ہے تمھیں وہی ملے گا جس کی تم کوشش کرو گے۔ اور اسی آواز نے اسے خود کو ختم کرنے سے روک لیا۔ بس پھر یہی آواز اسے یقین دلانے لگی کہ وہ اسے ضرور ملے گا۔ اس نے فیصلہ کیا وہ محمد کا انتظار کرے گی۔ جب وہ زندگی کی باگ ڈور سے تھک کر نڈھال حالت میں اس تک آئے گا تب وہ اسے اپنا لے گی۔ جب زندگی کی ساری رونقوں سے اس کا دل بھر جائے گا اور وہ محفلوں میں تنہا رہ جائے گا تو وہ اسے اپنا لے گی۔ اسے اس طرح تنہا نہیں کرے گی جیسے وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ اس کی بےانتہا محبت کا فیصلہ تھا۔ وہ جنوں سے ہوش میں آئی تھی۔
قریب ہی اس نے میوزک چلا رکھا تھا۔
جے اک تیرا پیار مینو ملیا، میں دنیا توں ہور کی لینا۔۔
کریں نہ دور قدماں توں اساں تینوں ہور کی کہناں۔۔
اس نے سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں گرائی اور بالوں کو بے چینی سے پیچھے کیا۔ اس کے چہرے سے معلوم پڑتا تھا وہ کئی راتوں سے بہت بے قرار تھی۔
اسے آج پھر شدت سے محمد کی کمی محسوس ہونے لگی۔ وہ دونوں جب سے ایک دوسرے سے ناراض تھے، اسے اٹھتے بیٹھتے دل کے درد نے تڑپا رکھا تھا۔ وہ بستر پر لیٹتی تو یہ غم اور بڑھ جاتا اور جب وہ بمشکل سب بھلا کر سو ہی جاتی تو اٹھتے ہی اس کے دل میں تکلیف سی اٹھتی اور اسے لگتا وہ درد سے پھٹ جائے گا۔ اس کی زندگی میں سب برباد ہو چکا تھا اور اس کا دل اس پر ماتم کر رہا تھا۔ اسے خیال آیا اسے پھر سے محمد کو بھلانے کے لیے اپنی دوستوں کے ساتھ دل لگانا پڑے گا۔ اسے اپنی دوستوں کی یاد آئی.. وہ ہر موقع پر ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ محمد کی وجہ سے اس نے اپنی دو دوستوں کو چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ مل کر بعض اوقات ایسی سرگرمیاں کرنے لگتی تھیں جو محمد کو ناپسند تھیں۔ محمد نجانے کس سے رابطے میں تھا وہ خود سے اس کے بارے میں کچھ بھی سوچنے لگا تھا۔ اچانک سے ان میں سب بدل کر دوریاں آنے لگی تھیں۔ اسے یہ بات اندر ہی اندر کھا رہی تھی۔ اس نے سگریٹ بجائی اور کھڑکی بند کر کے اندر چلی آئی۔ اس نے ایک پسندیدہ سیریز لگائی اور دیکھنے لگی۔ اسے دیکھ کر اسے اپنی اور محمد کی زندگی کا عکس نظر آنے لگتا تھا۔ اچانک سے کسی منظر کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی اور اسے وہیں روک کر لیٹ گئی۔۔ آنکھیں موندے وہ اسے سوچتی چلی گئی۔
محمد اسے ہاتھ پکڑے کسی پارٹی میں لے کر داخل ہوا۔ تیز میوزک نے ان کا استقبال کیا تھا۔ وہ اس سے ہاتھ چھڑاتی رقص کرنے لگی۔ محمد بھی اس کی دیکھا دیکھی مل کر رقص کرنے لگا۔ دونوں نے بہت مستی کی اور جب وہ تھکنے لگے تو محمد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے وہاں سے باہر نکل آیا۔ دونوں کار میں بیٹھے اور لانگ ڈرائیو پر نکل گئے۔ باتیں کرتے کرتے وہ سڑکوں پر گھومتے رہے۔ کبھی وہ آئس کریم کھانے لگتے اور کبھی کسی سنسان سڑک پر پڑے بینچ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگتے۔ آخر وہ لیٹ نائٹ گھر پہنچے اور اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ بیٹھی اور پھر سے سیریز دیکھنے لگی۔ وہ یہ بھلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس کی عید برباد ہو چکی تھی۔محمد نے اسے ایک بھی فون نہیں کیا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ خود فون کرتی تو بھی وہ کون سا اٹھا لیتا تھا۔ وہ اس سے ناراض تھی کہ وہ اسے پہلے کی طرح وقت نہیں دے رہا تھا۔ کبھی کبھی اسے بہت غصہ آتا۔ محمد کی وجہ سے اس نے خود کو بہت تنہا کر لیا تھا۔ اپنی دوستیاں کم کر دیں اور اس کے حساس ہونے کی وجہ سے اپنے گھر کے سارے نوکر نکال دیے۔ اب باہر کے سارے کام بھی اسے خود کرنے پڑتے تھے۔ صبح اٹھ کر وہ ناشتہ کرتے ہی کام پر نکل جاتی اور تین بجے واپس آ کر کھانا زہر مار کر کے سو جاتی۔ ایک گھنٹہ قیلولہ کرنے کے بعد وہ اٹھتی اور ملازمہ کو ساتھ لیے کھانا بنانے لگتی۔ اس دوران وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بھی وقت گزارتی اور کھانا کھانے کے بعد کوئی گھر کا سامان لانا ہوتا تو لے آتی اور پھر کچھ لکھنے بیٹھ جاتی۔ ابھی بھی وہ شخص اس پر شک کر رہا تھا اور یہ بات اس کے لیے تکلیف دہ تھی۔
وہ افسانے لکھتی تھی اور اس کی زندگی بہت مصروف تھی اس کے باوجود وہ محبت کے غم اٹھا رہی تھی۔
وہ سیریز دیکھ کر اٹھی اور پھر سے افسانہ لکھنے بیٹھ گئی۔
آج کل اس کی زندگی میں محمد کو سوچنے اور اسے بھلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں تھا۔ یہ افسانہ لکھنا اس کے لیے اذیت ناک تھا مگر یہ ایک محبوب کی فرمائش تھی۔۔ ایک محبوب کا مان تھا۔۔ اور وہ محبوب کا مان نہیں توڑ سکتی تھی۔
*–*–*–*–*
اپنی انا کو روند کر محبوب کے قدموں میں بیٹھ جانا اس محبت کا سب سے درد ناک حصہ تھا۔۔ خاص کر محبت کی بھیک مانگنا وہ بھی ایک ایسے انسان سے جسے محبت کا مان رکھنا نہ آتا ہو، اس کے لیے ناممکن تھا۔ اس نے ایسا کرنے سے خود کو روک لیا تھا۔ اس نے محمد کو شاعری بھیج کر محبت کا احساس دلانا چاہا مگر وہ خاموش تھا۔ آخر کسی ایک شعر نے اسے دل گرفتگی کے عالم میں بولنے پر مجبور کر ڈالا اور دونوں میں صلاح ہوگئی۔ اچانک سے ان میں سب ٹھیک ہوگیا۔ وہ پہلے کی طرح دوبارہ دوست بن گئے اور محبت خاموش ہو گئی۔ ایک دن محمد سے اس نے پوچھ ڈالا کہ وہ کب لوٹ رہا ہے تو اس نے کہا شاید جلد ہی۔۔
وہ اس کے غیر واضح سے جواب کو مسکرا کر ٹال گئی۔ایک دن صبح جب وہ سو رہی تھی تو اسے محمد کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ وہ کل کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کرے گا۔ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر آرہا ہے۔ وہ ان کے لیے دو دن بعد لاہور پہنچے گا اس بہانے وہ دونوں کراچی میں دو دن اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ ایمی نے اپنے آفس سے چند دن کی چھٹی لی اور کراچی کی فلائٹ بک کروالی۔
اگلے دن اس کا جہاز کراچی لینڈ کیا تو اس کے ایک گھنٹے بعد لندن سے آنے والا جہاز لینڈ کر گیا۔
محمد کو سامان لیے آتا دیکھ کر ایمی پرجوش انداز میں اس کی جانب بڑھنے لگی۔ وہ دونوں دور سے ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر پاگلوں کی طرح خوش ہونے لگے۔ دونوں کی دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ وہ ایک دوسرے کی جانب بڑھنے لگے۔ اچانک سے دونوں کے چلنے کی رفتار کم ہوئی اور دل کی دھڑکن مزید تیز ہو گئی۔ پھر اچانک سے ایمی اپنا سامان وہیں چھوڑے رفتار سے محمد کی طرف بڑھی اور زور سے گلے لگ گئی۔ محمد خوشی سے نہال ہوتا ہوا اسے سنبھالنے لگا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں اپنے اپنے بیگ سنبھالے ائیرپورٹ سے باہر نکلے اور کیپ لیے ایک شاہانہ ہوٹل میں پہنچے۔ انھوں نے اپنا سامان وہاں چھوڑا اور ساتھ میں ناشتہ کرنے نکل گئے۔
چند گھنٹے آرام کے بعد وہ سیر وتفریح پر نکل گئے۔ انہوں نے ایک عالیشان ریستوران میں رات کا کھانا کھایا اور رات دیر سے اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچے۔
دو دن کیسے گزر گئے انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ اگلے دن وہ اپنے اپنے گھر پہنچے تو ان کا کہیں اور دل ہی نہ لگ پایا۔ وہ بہانے سے روز ملتے اور روز واپس جاتے ہوئے اداس لوٹتے۔
ایمی نے ایک دن محمد سے پوچھا کیا ہمارا یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے ہو سکتا ہے؟ محمد نے اداسی سے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بتایا اس کے گھر والے اس کی شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں اور وہ ان کے درمیان عمر کے فرق کی وجہ سے اس کے لیے بات نہیں کر سکتا کیونکہ وہ ان کے رشتے کے لیے کبھی نہیں مانیں گے۔
ایمی نے یہ سن کر بات بدل دی اور بہانہ کر کے جلدی گھر کے لیے نکل آئی۔ سارے راستے وہ بس روتی رہی۔ عمر کا فرق اس کے دماغ میں کہیں اٹک گیا تھا۔ اسے یاد آیا محمد سے محبت کی انتہاؤں پر پہنچنے سے پہلے وہ اسی فرق کی وجہ سے خود کو اس کی جانب بڑھنے سے روکتی رہی تھی۔ پھر اسے خیال آیا تھا کہ وہ جس نبیٌ کے امتی ہیں انھوں نے پہلی شادی اپنے سے 15 سال بڑی عمر کی عورت سے کر کے دیکھائی تھی۔ اگر عمر کا فرق اتنا اہم مسئلہ ہوتا تو ہمارے دین میں اس کی مثالیں نہ پائی جاتیں۔ بلکہ ہمارے معاشرے کے مرد اپنے سے کئی سال چھوٹی عمر کی عورتوں سے شادی کرتے بھی نہ پائے جاتے۔ دراصل ہم آج بھی اس معاشرے میں جی رہے ہیں جہاں ہر سہولت اور آسانی حاصل کرنے پر مرد کا حق سمجھا جاتا ہے۔ محمد بھی ایک عام دنیادار گھرانے سے تھا جہاں شادی سودےبازی اور معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں پر کی جاتی ہے۔ یہ بات اس کے دماغ کو تو سمجھ آتی تھی مگر اس کے دل کو تو ہر صورت میں محمد چاہیے تھا۔ وہی اس کا سکون تھا اور اس کے پاگل پن کا علاج۔
وہ نماز پڑھ کر اللہ کے حضور بیٹھی روتی رہی۔ روتے روتے اس کی آنکھیں سوج گئیں۔ آج اس کے دل کی دھڑکن ہمیشہ سے الگ انداز میں دھڑک رہی تھی۔ وہ بے حد غمگین بھی تھی اور پرسکون بھی۔ شاید یہ اللہ کی قربت کا سکون تھا۔ اس نے رو رو کر اللہ سے التجاء کی کہ اسے اس دل سے نجات دے دیں جو صرف محمد کی محبت میں تڑپتا ہے، یا اس دل سے محمد کو نکال کر پرسکون کر دیں۔ دعا مانگتے مانگتے اچانک سے اسے سکون آ گیا۔ اسے محسوس ہوا اس کی کوئی دعا پوری ہو چکی ہے۔ اللہ کی محبت نے اسے سنبھال لیا۔ وہ کئی راتوں سے سو نہیں پائی تھی۔ ناصرف محمد کی شادی کی خبر اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی بلکہ اس کی چاہ سے دستبردار ہو جانا اس محبت کی توہین تھی۔ اب اسے جو سمجھ آ چکی تھی کہ اللہ کی محبت سے بڑھ کر اور کوئی محبت نہیں ہو سکتی تو اس نے ایک عرصے بعد خود کو اس محبتناک کے سفر سے آزاد محسوس کیا۔ یہ احساس حد درجہ خوشگوار تھا بلکل ویسے جیسے محمد کی محبت میں مبتلا ہونا اس کے لیے خوبصورت اور خوشگوار احساس تھا۔
آج اسے احساس ہوا ایک محبت وہ جو اس نے محمد سے کی تھی اور ایک محبت وہ جو اللہ نے اس سے کی اور سب سے خوبصورت احساس یہی تھا۔
اس نے سکون کی کیفیت میں اپنی آنکھیں بند ہوتی محسوس کیں تو وہ بستر پر چلی آئی۔ محمد کی محبت سے اللہ کی محبت کا سفر اس کے لیے بہت یادگار تھا۔ اس نے آنکھیں موندیں تو وہ نیند کی آغوش میں چلی گئی۔
وہی نیند جو محمد کی محبت سے پہلے اس کو سکون دیا کرتی تھی، آج اس کے گھاؤ پر مرہم رکھنے آئی تھی۔
رات کے بعد آنے والی صبح اس کی روح کو ایک نئے سفر میں لے کر داخل ہوئی اور اس کے جسم میں اس کا دل بے جان حالت میں رہ گیا۔ اس نے اپنے دل سے محمد کی محبت سے نجات مانگی تھی وہ اسے مل چکی تھی اور اس کی روح اپنے اصل کو لوٹ چکی تھی۔