قرآن ہمیں صرف ان چیزوں کے بارے میں نہیں بتاتا ہے جو پہلے ہی دریافت ہوچکی ہیں۔ بلکہ یہ ہمیں سائنسی مظاہر کے بارے میں بھی بتاتا ہے جو آج بھی زیر بحث ہیں لیکن واضح ثبوت کی عدم موجودگی کی بنا پر سائنسی ذہنوں کو سمجھ میں نہیں آسکے ہیں۔
ان سائنسی مظاہر کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن ان پر بحث بھی ایک قابل غور نکتہ ہے۔
ایسا ہی ایک عنوان کائنات کا اختتام ہے۔ کیا یہ کائنات ہمیشہ کے لئے ہے یا پھر یہ اپنے اندر ایک دن خود مدغم ہوجائے گی؟ قرآن پاک اس خفیہ معاملے پر روشنی ڈالتا ہے:
اُس دِن ہم کائنات کو اِس طرح لپیٹ دیں گے جیسے لکھے ہوئے کاغذ کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جس طرح ہم نے کائنات کو پہلی بار پیدا کیا تھا ہم (اِس کے ختم ہو جانے کے بعد) اُسی عملِ تخلیق کو دُہرائیں گے۔ یہ وعدہ پورا کرنا ہم نے اپنے اُوپر لازم کر لیا ہے۔ ہم (یہ اِعادہ) ضرور کرنے والے ہیں.
(الأنبياء، 21 : 104)
قرآن کی یہ وضاحت کائنات کے بلیک ہول میں گرنے کی تصویر کشی کرتی ہے۔ زاویائی معیار حرکت یعنی کِسی گھومتے ہوۓ جِسم کا معیار حرکت جسے انگریزی میں angular momentum کہا جاتا ہے، کی وجہ سے کائنات بالکل اسی طرح لپیٹ دی جائے گی جیسے تحریر شدہ صفحے کو اندر کی جانب تہہ با تہہ موڑا جاتا ہے۔ اور آیت کے مطابق کائنات کے اس اختتام کے بعد دوبارہ ایک نئی کائنات ابھرے گی۔