صفحہ اولکہانیاں

شریک حیات

نعمتوں میں سب کچھ ہی شمار ہوتا ہے، پھر وہ چاہے رزق ہو، رتبہ یا عزت

محمود یار تو میری بات نہیں سمجھ رہا ……؟ تجھے کیوں لگتا ہے کہ میں غلط ہوں ……؟ وہ پارسا کیسے لگتی ہے؟ بتا ……!تو مجھے بچپن سے جانتا ہے …… خود بتا میں ظلم کررہا ہوں ……؟

معروف سخت غصے میں اپنا لہجہ دھیما رکھنے کی کوشش میں تقریباً چیخ رہا تھا۔
محمود صاحب ……؟ سب خیریت ہے نا۔۔۔

معروف کی چلاہٹ سن کر محمود صاحب کی بیگم نے پردے کی اوٹ سے پوچھا۔

جی …… جی …… سب خیریت ہے …… پریشان نہ ہوں۔ محمود صاحب نے بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔یار کتنی دفعہ کہا ہے…… بیٹھک میں آرام سے بات کیا کر …… مطلب تو تو ہتھے سے ہی اُکھڑ جاتا ہے۔

معروف کو سمجھاتے ہوئے محمود صاحب نے پانی کا گلاس بھرنے لگے۔یہ لے پانی پی اور تھوڑا ٹھنڈے دماغ سے سوچ۔محمود صاحب نے معروف کو پانی دیتے ہوئے اس کا غصہ دھیما کرنا چاہا۔

یار چھوڑ …… چھٹی کا دن بھی ایسے ہی پریشانی میں برباد ہوتا ہے۔ چوری …… اوپر سے سینہ زوری۔مطلب بدتمیزی، جھگڑا، گھر کی توڑ پھوڑ وہ کرے اور پھر میں غصہ بھی نہ کروں۔معروف پانی پیتے پیتے بھی بڑبڑاتا رہا۔

اچھا یار …… ذرا آرام سے ……!تو غصہ مت کر …… آرام سے بتا کیا ہوا ہے؟محمود نے پھر سے معروف کے غصے کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔
وہی یار …… صبح ہی صبح امی سے بحث…… میں نے چپ کرانے کی کوشش کی تو مجھ سے بھی بدتمیزی۔ سارے فساد کی جڑ اس کی ماں اور وہ اس کی چھنال بہنیں ہیں۔ ہر بات پر امی سے بحث کرتی ہے، معروف کو پھر سے غصہ چڑھنے لگا۔

ایک منٹ بھائی…… محمود نے اُسے ٹوکا۔
مطلب تیرے کہنے کا یہ ہے کہ تیری بیوی کسی اور کے اشاروں پر چلتی ہے، اور ”تجھ“ سے لڑتی ہے۔
یار تُو رہن دے۔ تجھے نہیں سمجھ آنی، مجھ پر بیت رہی ہے میں ہی جانتا ہوں، معروف بڑبڑایا۔

مطلب بیوی تیری…… رہتی تیرے ساتھ ہے لیکن اس کے دماغ میں باتیں کوئی اور ڈالتا ہے۔ معروف چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر تک خاموشی رہی۔
کتنے سال ہوگئے شادی کو؟، 7سال۔۔۔ معروف نے محمود کے سوال پر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

7 سال سے تم لوگ ایک ساتھ ہو پھر بھی تم کہہ رہے ہو کہ وہ کسی اور کی بات کو اہمیت دیتی ہے۔ واہ! محمود میاں۔۔
یار …… معروف! میں تجھے تو سمجھدار سمجھتا تھا…… مطلب تجھے پتا بھی ہے، نہیں نا۔۔۔
وہ تیری بیوی ہے تمہیں اندازہ بھی ہے۔ محمود گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
میاں بیوی کے رشتہ کیا ہوتا ہے …… پتا ”ہے“ تجھے؟ یا 7 سال سے جھک مار رہا تھا۔

یار اور کیا ہوتا ہے رشتہ……؟ گھر، گاڑی، کپڑے اور مطلب…… کھانا اچھا کھاتی ہے۔ پیسے جب جتنے جس وقت چاہئے ہوں، کیا نہیں کرتا۔۔۔ معروف نے ٹوک کر سارے ”احسانات“ گِنوا ڈالے۔

افسوس ہے یار معروف۔ تُو تو ابھی تک شادی کے قابل نہیں ہے۔ محمود نے قدرے تأسف سے معروف کو دیکھتے ہوئے کہا۔ تُو  نے تو یہ وہ ساری باتیں گِنوائی ہیں، جو تُو ”احسان“ جتا رہا ہے، اس میں تیرا کیا انوکھا کمال ہے ……؟یہ سہولیات تو اسے اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی میسر تھیں۔

تو بتا …… تو نے شادی کرکے اُسے کیا نیا دِیا ہے ……؟محمود یار تُو نہیں سمجھ رہا ……؟
معروف نے پھر سے بات پر بات چڑھاتے ہوئے کہا۔

معروف میاں …… دراصل یہ ہوا اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔بات اب آپ کے سمجھنے کی ہے، جس سے آپ کنی کترا رہے ہو۔
یار …… تو اور بتا میں کیا کروں ……؟اور کیا دے سکتا ہوں میں ……؟ جو کچھ ہے اُسی کا تو ہے۔ معروف نے زِچ ہوتے ہوئے کہا۔
تو نا بس اسے عزت دے تھوڑی سی…… محمود نے سادہ لفظوں میں سمجھاتے ہوئے کہا۔

وہ تیری بیوی ہے ……کیا ……؟”بیوی“تیرے منہ سے دو جملے عزت و محبت والے اس کا حق ہیں، اس کی عزت تجھ سے لازم و ملزوم ہے۔ حتی کہ میں نے بھی تیرے منہ سے جب اس کا ذکر سنا ہے …… چڑیل، عذاب، بلا، حتیٰ کہ آج تو تُو  نے اسے گالی بھی دے ڈالی۔کبھی عزت سے، پیار سے اسکا ذکر سننے کو نہیں ملا اور تجھے یہ شکایت ہے کہ وہ تجھ سے بدتمیزی کرتی ہے۔
یاد رکھنا……!تم اگر کسی کی غیر موجودگی میں اُس کی عزت کا جنازہ نکالو گے تو وہ تمہارے سامنے تمہاری عزت کی دھجیاں اُڑائے گا۔ یہ کھانا، روٹی، کپڑا، مکان، روپیہ پیسہ تو اسے ماں باپ کے گھر بھی میسر تھا۔شادی کے بعد وہ تیری ذمہ داری، تیری زندگی کی ہم سفر، بلکہ تیری زندگی میں وہ شریک، شراکت داری ہے۔شریک حیات کہتے ہیں نا ہم…… وہ تیری شریک حیات ہے۔ تیری زندگی کی نعمتوں کے ساتھ وہ تجھ سے عزت وتکریم کی بھی حقدار ہے، بلکہ والدین کے بعد وہ سب سے زیادہ حقدار ہے۔ کبھی یہ ٹھنڈے دماغ سے سوچنا ……؟محمود نے معروف کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا۔

معروف چپ رہا۔ کمرے میں خاموشی چھاگئی۔
اور ہاں …… یاد آیا……! محمود کی آواز پر معروف نے چونک کر اُسے دیکھا۔ کیا یاد آیا؟ تو نے کہا نا…… کہ تیری بیوی اپنی ماں اور بہنوں کے اشاروں پر چلتی ہے……!اب کے معروف نے نظریں چرائیں۔
تو حضور بیگم آپ کی …… رہے آپ کے ساتھ …… بات کسی اور کی مانے۔۔۔!!!!

محمود کا لہجہ طنزیہ ہوا۔

معروف صاحب!کبھی تھوڑا حق، کبھی سوال کرنے کا مان، کبھی حق جتانے کا بھرم، کبھی دل رُبائی کا لمحہ، کبھی اپنے رشتے کے سہارے کا، عزت اور محبت کا احساس دیا ہے آپ نے انہیں ……؟یار کیسے کہہ لیتے ہو، وہ کسی اور کے اشاروں پر چلتی ہے……؟محمو دنے بہت طنزیہ اور دُکھی لہجے سے پوچھا۔
معروف سر جھکائے بُت سا بنا بیٹھا رہا۔ چند لمحے جیسے بیٹھک میں سب کچھ ساکت وجامد رہا۔ معروف کے موبائل کی گھنٹی نے سکوت توڑا۔ معروف ہڑبڑا کر موبائل پکڑا۔ محمود معروف کو ہی دیکھ رہا تھا۔
السلام علیکم!
جی …… جی…… میں محمود بھائی کی طرف تھا۔بس 5منٹ میں اُٹھ گیا…… بس آپ رُکئے…… جی کھانا ساتھ کھائیں گے۔ فی امان اللہ
کال بند ہوئی …… معروف نے موبائل کان سے ہٹایا۔

یار میں ذرا چائے دیکھ کر آیا۔ محمود صاحب اُٹھ کر گھر کے اندرونی دروازے کی جانب بڑھے۔

ارے نہیں …… نہیں …… معروف نے اُٹھ کر تقریباً جھپٹتے ہوئے محمود صاحب کا بازو پکڑا۔ نہیں بس …… میں جارہا ہوں …… وہ فون آیا …… دوپہر کا کھانا …… وہ …… اکھٹے۔۔

معروف کو بات مکمل کرنے میں جیسے مشکل ہونے لگی۔

اوئے کس کا فون…… کیا ہوگیا ہے۔معروف یار …… بوکھلا کیوں گیا ہے……؟محمود صاحب ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔او یار……!تمہاری بھابھی کا فون تھا…… انتظار کررہی ہیں۔معروف نے شرمندہ سے لہجے میں کہا……

اور محمود صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے معروف کو گلے لگالیا۔

اک ستم گر کی یاد سے۔۔۔
٭……٭……٭

ساحر مرزا

قلم کار کا تعلق کراچی سے ہے، جامعہ کراچی سے گریجویشن کی ڈگری کے حامل ہیں، رائٹرز کلب کے پلیٹ فورم سے افسانے، انشائیے، مقالے اور تبصرے لکھا کرتے ہیں

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close