بلاگصفحہ اول

سلجھی گتھیاں

انھیں ایک گنبد نما گول عمارت میں رکھا گیا تھا جس میں آمد و رفت کا کوئی راستہ نہیں رکھا گیا تھا۔ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ یہاں کیسے لائے گئے تھے. بس انھیں اس بات کا پتہ تھا کہ کچھ عرصے کے بعد انھیں یہاں سے چلے جانا ہے ۔ کب جانا ہے؟ اس بات کا انحصار ان کے طرز عمل پر تھا۔ یہ سب باتیں انھیں کیسے پتہ تھیں وہ اس سے بھی بے خبر تھے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ انھیں ایک مخصوص وقت پر نیند آجاتی تھی۔ اور نیند کی حالت میں وہ عام انسانوں کی طرح تمام کام کیا کرتے تھے ۔کھانا کھاتے تھے۔ کام کرتے تھے۔

گھومتے پھرتے تھے۔ رشتے نبھاتے تھے۔ اور دیگر بشری تقاضے پورے کرتے تھے۔ ان تمام امور کو انجام دینے کے لیے کن ضوابط پر عمل کرنا تھا اس کا علم ہر فرد کو ایک سرگوشی کی صورت میں موصول ہوتا یہ سر گوشی صرف وہ سن سکتا تھا جو ضوابط پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو۔ اگر کوئی ضوابط پر عمل نہ کرنا چا ہے تو اس کی آزادی تھی۔ لیکن بیداری کے بعد اس کے وجود سے نیلے رنگ کی روشنی نکلتی تھی اور دیگر افراد کو علم ہو جاتا تھا کہ یہ فرد اپنے اختیار کو استعمال کر چکا ہے۔

وہ اس کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیتے یہ روشنی ساتھ والوں کے بھی جسم میں سرایت کر جاتی اور ضوابط پر عمل کرنے کے باوجود انھیں بھی سماجی مقاطعہ کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کل 7 افراد تھے۔ جن میں سب سے پہلے جس نے ضوابط کو نظر انداز کیا۔ اس نے اس وسیع گنبد میں خود کو اَن چاہا سمجھ کر خوب وا ویلا کیا۔ منت سماجت کی ساتھ رہنے کی کوشش کی لیکن سب اس کی روشنی کی نحوست سے بچنے کی کوشش میں اس سے دور دور رہتے تھے۔

وہ تنہائی کے عذاب سے تڑپتا رہا اس وقت کو کوستا رہا جب اس نے اختیار استعمال کیا تھا۔ اس کی آہ و زاریاں گنبد میں چکراتی رہتیں۔ اس کی تنہائی اور یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہ رہی۔ کچھ عرصے کے بعد دوسرے شخص کے پاس سے وہی روشنی نکلنے لگی ۔ پہلا شخص چیخ مار کر اس سے لپٹ گیا۔ اس کی تنہائی دور ہو گئی۔ اب گنبد کے مکینوں کے تین طبقے بن چکے تھے۔ ایک طبقہ شرمندگی کا طوق لٹکائے ہوئے ، دوسرا طبقہ آنکھوں میں ان کے لیے حقارت لیے ہوئے جب کہ تیسرا طبقہ صرف ایک شخص پر مشتمل تھا نہ اس کی آنکھوں میں حقارت تھی نہ ہی ہمدردی۔ اگلے ہی دن گنبد کے تین طبقے دو میں بدل گئے ۔چھ کے چھ نفوس نیلی روشنی والے بن گئے۔

صرف ایک شخص نے ضوابط کی پابندی نہیں کی تھی دوسرے نے اس کی دیدہ دلیری دیکھ کر اس کی راہ اختیار کی اور باقی چار لوگوں نے ان کو حقارت سے دیکھا ۔ وہ اکثریت میں تھے اور بے سکون تھے۔ وہ اس واحد سفید روشنی کے حامل مکین کو رشک و احترام کی نظر سے دیکھنے لگے ۔ اس کے اندر سے پھوٹتی نورانی شعاعیں ان کو احساس شرمندگی سے دوچار کرنے لگیں۔ کچھ ہی عرصے کے بعد وہ اپنے نیلے رنگ سے نفرت کرنے لگے ۔ اس شخص کا گریز ان کے لیے روح فرسا تھا ۔ وہ اس کی منت سماجت کرنے لگے کہ وہ انھیں اپنے پاس آنے دے اور اس تمام عرصے میں جس کا وہ تعین نہیں کر سکتے تھے کہ کتنا طویل تھا۔ وہ اس ساتھی کی محبت میں مبتلا ہو چکے تھے ۔ آخر انھوں نے ایک دن اس دوری کو ختم کرنے کے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ کر لیا۔

وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگے۔ وہ شخص خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹتا گیا یہ اس کی طرف بڑھتے گئے۔ اس شخص کی آنکھوں کا خوف آہستہ آہستہ غصے میں بدلنے لگا اور پھر اس میں نفرت کے سائے تیرنے لگے۔ جیسے جیسے دوری ختم ہوتی جا رہی تھی اس کی آنکھوں میں نفرت کی جگہ حقارت لیتی جا رہی تھی۔ نیلی روشنی والے اپنی نحوست سے اس کا مرتبہ، سکھ اور چین چھیننے لگے تھے۔ ان کے اِس عمل نے اس کے اندر غم و غصے کی آتش کو بھڑکا دیا ۔اس نے انھیں خبردار کیا کہ وہ اپنی سفید روشنی ان کو ہر گز نہیں دے گا۔ اسی وقت گنبد میں ایک دروازہ نمودار ہوا اور چھ کے چھ مکین نورانی پرندوں کی صورت میں پرواز کر کے باہر کی آزاد فضاؤں میں اڑ گئے۔ اب گنبد میں ایک ہی واحد مکین تھا۔

اکیلا نیلی روشنی والا، اس بات سے بے خبر کہ اس کے لیے گنبد کا دروازہ کب کھلے گا۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ اس نے اس گنبد سے آزاد ہونے کی ہر شرط پوری کی تھی اپنی نورانی شعاعیں سنبھال کر رکھیں تھیں۔ لیکن یہ سب کوششیں اکارت گئیں۔ نیند کی حالت میں کئی مرتبہ اس نے بھی ضوابط کو بالائے طاق رکھنے کی خواہش دل میں پائی تھی لیکن گنبد سے آزاد ہونے کا تقاضا تھا کہ اپنی سفید روشنی کی حفاظت کی جاتی جو اس نے کی۔ پھر کہاں چوک ہو گئی؟ اس نے اپنے بال نوچ لیے۔ سینہ پیٹ ڈالا۔ہر سمت آواز لگائی کہ اس کو اس کی غلطی بتائی جائے لیکن کہیں سے کوئی جواب نہ آیا گنبد کی تنہائی اس کے لیے زہرِ قاتل بنتی جا رہی تھی۔ اس کا غصہ اب پچھتاوے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس نے رونا بلکنا چھوڑا اور اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے لگا۔ گنبد کی گول دیواریں آئینہ بن گئیں اس نے اس میں اپنا کریہہ چہرہ دیکھا اپنے ساتھیوں کو دھتکارتا ہوا ان کی عقیدت کو نفرت سے ٹھکراتا ہوا اسی وقت اس پر آگہی کا در کھلا۔

وہ شرمندگی کے احساس سے مغلوب ہوا اور خاموش آواز میں رونے لگا یہ میں نے کیا کر دیا ۔کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا اگر مجھے ان کا ساتھ مل جائے تو میں اپنی سفید روشنی ان کو دے دوں گا لیکن میری سفید روشنی تو نیل میں بدل گئی ہے۔ ندامت اور بہتری کی خواہش اس کے وجود میں سرایت کر گئی اسی وقت گنبد چٹخا اور اس نے دیکھا کہ وہ وسیع فضا میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ آزادانہ پرواز کر رہا ہے۔


نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ رائٹرز کلب کی ویب سائٹ writersclub.com.pk پر اردو بلاگ، کہانی، افسانہ، ناول، فیچر یا پھر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

One Comment

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close