صفحہ اول

مایوسی

تحریر: قیوم فاطمہ منہاس
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے

مایوسی عدم اطمینان کا دوسرا نام ہے۔ یہ وہ جذبہ ہے جو توقعات کی ناکامی کی وجہ سے ابھر کر سامنے آتا ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا لیکن وہ بڑا جلد باز ثابت ہوا؛ کسی خواہش کی تکمیل ہو یا کسی مقصد کا حصول، کسی چیز کی طلب ہو یا کسی خواب کی تعبیر، وہ ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ اِدھر یہ خواہش اس کے سینے میں سر اٹھائے اور اُدھر وہ حقیقت کا روپ دھارے اس کے روبرو ہو اور اگر اس کی یہ خواہش مصلحتِ خدا کے تحت تاخیر کا شکار ہو جائے یا پھر اس دنیاوی زندگی میں پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکے تو پھر وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں غوطہ زن ہو جاتا ہے اور وہ ہر چیز سے بیزار بوجھل چہرے کے ساتھ اپنی ناتمام آرزوں اور خواہشوں پر اشک بہاتا ہے۔ انسان کی اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مقدس میں بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے:
ترجمہ: ”اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو روگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے۔“ (القرآن)

مایوسی اس مرض لاعلاج کی مانند ہے؛ جو انسان کے رگ و پے میں سما کر اسے زہر ہلاہل کی طرح تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ یہ ایک جذباتی کیفیت ہے؛ جو انسانی قلب کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیتی ہے اور اگر اس فطری احساس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ پوری زندگی کو ناصرف بے کیف و بے رنگ بنا دیتی ہے بلکہ انسان مایوسی کی دلدل میں پھنس کر اپنے مقصدِ حیات کو بھی فراموش کر دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا مالک ہے، جس نے اس کائنات کو ناصرف تخلیق کیا بلکہ اس میں موجود ایک ایک چیز اور ایک ایک نفس کو سامانِ زیست مہیا کیا؛ اس کےلیے ہماری خواہشات کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا اور ہمارے خوابوں کو تعبیر فراہم ناممکن ہے کیا؟ ہرگز نہیں! بلکہ وہ تو ہمارے نفع و نقصان کو ہم سے کئی گنا زیادہ جانتا ہے لیکن ہم انسان بھول جاتے ہیں اس کی حکمتوں کو اور اسی کی رحمت سے مایوس ہو کر گناہ کے مرتکب ہو بیٹھتے ہیں۔

حدیث نبویﷺ ہے: حضور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا گیا :’’کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔“

افسوس! ہماری اکثریت اسی گناہ میں مبتلا ہے اور ہمیں گمان تک نہیں۔ ہم ناصرف اپنی دنیاوی زندگی کو اندھیروں کی نذر کر رہے ہیں بلکہ اپنی عاقبت بھی خراب کر رہے ہیں۔ ہم بھول گئے حضرت یعقوب علیہ السلام کو جنہوں نے اپنے جوان بیٹھے کو کھویا، اس کی جدائی میں رو رو کر آنکھوں کی بینائی گنوا بیٹھے لیکن خدا کی رحمت سے پھر بھی مایوس نہ ہوئے۔ قرآن پاک نے ان کی وہ نصیحت جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جناب یوسف علیہ السلام کی تلاش میں بھیجتے وقت کی تھی کتنی خوبصورتی سے بیان کی ہے۔

ترجمہ: “میرے بچو! جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔“ (القرآن)

مایوسی دراصل ناشکری ہے اور ناشکری کا ارتکاب کرنے والا شخص خدا کی رحمت سے مایوس اور اس کی قدرت سے ناآشنا ہوتا ہے اور یہ خصوصیات تو منکرینِ خدا میں پائی جاتی ہیں۔ بحیثیت مسلمان ہم جانتے ہیں کہ ہمارا رب وہ ہے جس کی نظر سے سمندر کی تہوں میں چھپے موتی اور غاروں میں چھپے کیڑے مکوڑے بھی پوشیدہ نہیں؛ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ رب جو اپنی مخلوق کو ہر لحظہ دیکھ رہا ہے اور ان کی ایک ایک حرکت سے واقف ہے وہ ہماری خواہشات اور توقعات سے ناواقف ہو؟

پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے ڈیپریشن کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 34 سے 40 فیصد لوگ ذہنی مسائل کا شکار ہیں جن میں سے زیادہ تر افراد ڈیپریشن کا شکار ہیں؛ ان‌ڈیپریشن کے شکار افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے سے آئے روز اخبارات اور ٹی وی پر ایسے بہت سے واقعات گزرتے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی شخص ذاتی مسائل، گھریلو مسائل اور دیگر مسائل کی بنا پر خود کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ دنیا میں تو زندگی اجیرن تھی ہی آخرت بھی تباہ کر لی۔

ایسے کھٹن لمحات میں ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل پیرا ہوں؛ اسے حاضر و ناضر مانیں اور اپنے مسائل اور اپنی غم اس کو سنائیں اور پرسکون ہو جائیں تاکہ اس دنیا میں بھی راحت پا سکیں اور آخرت میں بھی کامیابی ہمارا مقدر ہو۔

Back to top button

New Report

Close