
وہ کم عمر وجود بائیک پر تھا، کم عمر کی لاپرواہی ہر ہر انداز سے عیاں تھی. بال ہوا میں بکھر رہے تھے، منہ کو تیز تیز چلا کر شاید چیونگم پر بے فکری اتاری جارہی تھی گلے میں پڑا دوپٹہ اور پنڈلیوں تک چڑھی جینز آنے جانے والی تمام نظروں کا محور بنا ہوا تھا اور دوسری جانب اس وجود کی لاپرواہی تو تھی ہی لیکن بائیک چلانے والا دوسرا وجودجو کہ شاید والد محترم کے عہدے پر فائز تھا اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ پیچھے بیٹھی خوبصورت اولاد اسوقت صرف اس کی غفلت اور بیٹی کی لاپرواہی کی وجہ سے کتنی ہی اچھی بری نظروں کا مرکز بنی ہوئی ہے…. عالم تو یہ تھا کہ اس لڑکی کی لاپرواہی یا بے نیازی یا جان بوجھ کے کیے گئے عمل ڈریسنگ پیروں میں سینڈلز کے ساتھ بندھی ڈوریاں جو کہ پنڈلیاں تک آرہی تھی. جب میری یعنی صنف نازک سے ہوتے ہوئے بھی توجہ کھینچ رہی تھی تو بے چاری جنس مخالف کیا کرے…..
خیر جی اس تمام پس منظر سے قطع نظر جو دلچسپی کی بات ہے چونکہ وہ بائیک آگے آگے رواں دواں تھی اور ہم پیچھے کہ اچانک ایک بائیک جس پر دو مرد تھے تیزی سے اس بائیک کے آگے گئے اور اشارے سے رکنے کا کہا…. چونکہ شہر کراچی کی باسی ہوں محسوس ہوا شاید بائیک رکوا کر لوٹا جائے گا…
لیکن یہ کیا جیسے ہی بائیک رکی دوسری بائیک چلانے والے نے تیزی سے بائیک روکی اور لڑکی سے ناجانے کیا کہا دور سے صرف دیکھ سکتی تھی کہ وہ لڑکی جھکی اور جینزکے پائنچے نیچے کیے. دوپٹہ جو گلے میں پڑا تھا وہ سر پر رکھا گیا پھر اس آدمی نے اس لڑکی کے والد محترم سے کچھ کہا…. بس یہاں سے ہمارا روٹ چینج ہوگیا….
آگے کیا ہوا کیا نہیں یہ تو علم نہیں لیکن اس واقعہ نے کچھ نقاط ضرور ذہن میں ابھارے…
اگر آپ اپنی چیز کے خود محافظ نہیں بنیں گے تو بازار میں رکھی ہوئی چیز نہ بھی کہلائے اہمیت کی حامل نہیں ہوگی.
اگر آپ اپنی لاپرواہی یا غفلت اس حد تک بیان کردیں گے کہ دوسروں کو آکر بولنا پڑے احساس دلانا پڑے تو بہتر ہے آپ وہ ذمہ داری نا لیں.
تیسری اور آخری بات اسلامی جمہوریہ پاکستان لبرل ملک نہیں اگر یہاں ایسے قوانین سختی سے رائج کیے جائیں جس سے بے حیائی کو روکا جاسکے تو یقینن اس پر عمل ہوسکتا ہے… آج ایک جوتےتک کو بیچنے کے لیے عورت کی نمائش ہوتی ہے… لیکن اگر اس واقعہ کو دیکھا جائے ایک مرد آتا ہے اور آپ کو بتا کر جاتا ہے کہ آپ کی بیٹی کو اپنے پاؤں ڈھانپنے چاہیے دوپٹہ پھیلانا چاہیے اور آپ یہ بات شاید سڑک پر تماشہ بننے کے ڈر سے مان بھی رہے ہیں…. تو پاکستان کا تماشہ پوری دنیا میں لگنے سے بچانے کے لیے اپنے اپنے طور پر اپنی اپنی سطح پر اقدامات کیے جائیں..مفاد چھوڑ کر عمل کیا جائے، پارکوں، ہوٹلز ،ریسٹونٹس کے مالکان جب شناختی کارڈ کے لیے اپنی پیمنٹ کے لیے اصول و ضوابط جاری کرسکتے ہیں تو ایک اصول اللہ اور اسکی رضا کے لیے بھی بنا سکتے ہیں. کہ کوئی بھی غیر اخلاقی لباس سے آراستہ نا ہوکر آئے ورنہ انٹری نہیں ہوگی… ایک بات اور غیر اخلاقی سے مراد ایسے لباس و انداز کے کوئی بھی مسلم لڑکی، عورت آپ کے انداز دیکھ کر اپنے محارمین کے سامنے شرمندہ نا ہو……
چاند نہیں بنیں جس کو دیکھ کر جب دل چاہ کسی نے قصیدہ، کسی نے غزل، کسی نے شعر… اور کسی نے ماشاء اللہ، سبحان اللہ کہہ دیا… سورج بنیں اتنی تابناک کہ جس کی روشنی سے ارد گرد منور ہوجائے اور آنکھ اٹھے تو ادب سے، شرم سے، حیا سے، رعب سے جھک جائے…… ہاں ایک مسلمان عورت کو میرے خیال سے ایسا ہی ہونا چاہیے…