خواتین

فیشن سے فحاشی تک

آرٹس کونسل آف پاکستان کے اطراف میں ایک سے بڑھ کر ایک گاڑی لائن میں لگتی جا رہی تھی۔ ہر گاڑی میں سے کوئی نہ کوئی اہم شخصیت اترتی اور نہایت ہی نفیس سی چال چلتی ہوئی مرکزی دروازے سے آرٹس کونسل میں داخل ہوجاتی۔ اترنے والوں میں ایسی لڑکیاں اور لڑکے بھی تھے، جن کی عمریں پندرہ سے پچیس سال کے درمیان تھیں۔ بہت عمدہ ملبوسات، منفرد ہیئر اسٹائل، چم چماتے بلیک چشموں کے عقب میں نشیلے نین، لال اور گلابی رنگوں کی لپ اسٹک سے مزین ہونٹ اور اترنے کے ساتھ ہی ان ہونٹوں پر جنبش پھر کھلکھلاہٹ نے ماحول کو سحرانگیز بنا رکھا تھا۔ ہر گاڑی کے کھلتے دروازے کے ساتھ ٹھنڈی ہوا میں خوشبوؤں کی ملاوٹ سے بھرپور جھونکے وہاں موجود افراد کو مسحور کیے دیتے تھے۔ گاڑیوں سے اترنے والوں کو دیکھنے کے لیے گاڑیوں پر گزرنے والے بھی کچھ پل کے لیے رفتار ہلکی کرتے پھر نہایت ”احتیاط“ سے دو طرفہ نظریں دوڑاتے ہوئے نکل جاتے تھے۔
آرٹس کونسل کے مرکزی دروازے پر ایک بڑی سی گاڑی کے رکنے کی آواز سنائی دی۔ انتظامیہ کی جانب سے موجود ایک لڑکا اس کی جانب بڑھا مگر اس سے قبل ہی گارڈ نے برق رفتاری سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ دو لڑکیاں اور ایک لڑکا باہر نکلے۔ چال ڈھال اور وضع قطع سے انتہائی درجے کے امیر خاندان سے لگ رہے تھے۔ ”کیا ہی عجب حال ہے، بڑی بڑی گاڑیوں پر چھوٹی چھوٹی عمر کی بچیوں کے اتنے کم کپڑے“۔ وہاں کھڑے ایک شخص نے خودکلامی میں تبصرہ کیا اور پھر انہیں دیکھنے لگا۔
”کم کپڑے والے“ لفظ پر چونکتے ہوئے میں ان کی طرف دیکھنے لگا۔ ان کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے جب نگاہیں مڑیں تو کم کپڑوں والی بات سمجھ میں آگئی۔ کچھ پل کو چور نظروں سے انہیں دیکھا اور پھر شرم سے نظریں جھکا لیں۔ ہوں گے سمندر پار کے یا پڑوسی ملک کے۔ یہ سوچ کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کی اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ایک ہی قدم اٹھایا تھا کہ متعلقہ گاڑی کا ڈرائیور عین میرے سامنے آگیا۔ شکل وصورت سے سادہ سا آدمی لگتا تھا۔ سامنے پا کر میں نے اس سے پوچھ ہی ڈالا۔ ”آپ کے صاحب لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ پاکستان ہی کے ہیں؟“
اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور پوچھا، کیوں…. خیریت؟یہ کہانی کسی ایک دن کی نہیں۔ مجھے روزانہ ہی اس طرح کے لوگ آرٹس کونسل کے گیٹ میں داخل ہوتے اور پھر رات گئے وہاں سے نکلتے نظر آتے ہیں۔ اس پر افسوس کیا کرنا…. اب تو یہ فیشن بن گیا ہے۔ اسی مقام پر ایسے لڑکے بھی دیکھے کہ وہ جو کپڑے پہن کر وارد ہوتے ہیں، اُنہیں کوئی شریف آدمی اپنے گھر اور اپنی بہنوں کے سامنے پہننے سے بھی شرماتا رہے۔ مگر کچھ کہو تو جواب ملے گا، فیشن ہے۔ شاپنگ مال اور اہم مقامات پر لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی حالت میں گھومتے پھریں کہ اگر کوئی شرماتے ہوئے کہہ بھی دے کہ دیکھیں، یہ ٹھیک نہیں لگتا تو فوری جواب ملے گا، ”دیٹ از فیشن برو“۔
فحاشی اور فیشن میں کیا فرق ہے؟ یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یقیناً فحاشی اور فیشن میں بہت فرق ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ فیشن کا تعلق کسی مہذب یا بہت زیادہ اسلامی سوچ رکھنے والے طبقے سے نہیں ہے۔ یہ تاثر بالکل بے جا اور غلط ہے۔ فیشن کوئی بھی، کہیں بھی، کرنے کا حق رکھتا ہے۔ فیشن کا مطلب ہے، خود کو خوب سے خوب تر بنا کر رکھنا۔ فیشن میں نت نئے اور خوب صورت ملبوسات، سولہ سنگھار، ڈیزائنز یا کسی بھی دوسری چیز پر باقاعدگی سے توجہ دینا شامل ہے۔ خوب صورت بننا کسی کے لیے بھی ممانعت نہیں رکھتا۔ وہ چاہے پردے میں ہو یا پردے کے باہر۔ مگر فیشن کرنے والوں کے لیے جو لوازمات ہیں انہیں اگر ملحوظ ِخاطر رکھا جائے تو یقیناً فیشن کرنے کا لطف دوبالا ہوجائے۔
درج بالا واقعات و حالات میں دو باتیں ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ کیا ہمیں دوسروں کی زندگی میں مداخلت (انٹرفیئر) کرنے کی ضرورت ہے؟ یہ دیکھتے رہیں کہ کون کیا کررہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ دوسری بات یہ کہ آیا وطن ِعزیز میں فحاشی اور عریانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہے یا اس پر کوئی کنٹرول بھی ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ دوسروں کی زندگی میں خوامخواہ اُلجھنے اور انہیں پریشان کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ بعض اوقات یہ سوال اس وقت بھی سامنے آتا ہے کہ جب ہم کسی برائی اور بدی پر اس نیت سے تنقید کرتے ہیں کہ اس کی اصلاح ہو سکے تو پاس والے الجھ پڑتے ہیں کہ ہر کسی کی اپنی زندگی ہے، وہ جیسے چاہے جیے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ ہر کسی کی اپنی زندگی ہے۔ مگر یہاں بات صرف اور صرف ان مقامات کی ہو رہی ہے جنہیں ”پبلک پلیس“ یا عوامی مقامات کہا جاتا ہے۔ ایسی تفریح گاہیں، روڈ، شاپنگ سینٹرز وغیرہ کہ جہاں ایسی کسی بھی حرکت سے دوسرے بری طرح پریشان ہوں۔ دوسروں کی زندگی میں درحقیقت وہ لوگ ہی مداخلت کر رہے ہوتے ہیں جو ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔
عوامی مقامات پر ایسی حرکات و سکنات کس حد تک جائز ہیں؟ اس کے لیے عالمی منشور کو مدّنظر رکھا جائے توکچھ پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10دسمبر 1948 کو ”انسانی حقوق کا عالمی منشور“ منظور کر کے اس کا اعلان عام کیا۔ منشور کی دفعہ 29 میں کہا گیا ہے کہ ”ہر شخص پر معاشرے کے حقوق ہیں کیوں کہ معاشرے میں رہ کر ہی اس کی شخصیت کی آزادانہ اور پوری نشوونما ممکن ہے۔ اپنی آزادیوں اور حقوق سے فائدہ اٹھانے میں ہر شخص صرف ایسی حدود کا پابند ہوگا جو دوسروں کی آزادیوں اور حقوق کو تسلیم کرانے اور ان کا احترام کرانے کی غرض سے یا جمہوری نظام میں اخلاق، امن عامّہ اور عام فلاح وبہبود کے مناسب لوازمات پورا کرنے کے لیے قانون کی طرف سے عائد کیے گئے ہیں“۔
اس کا واضح مطلب ہے کہ دنیا کا ہر شہری معاشرے کے حقوق اور معاشرتی اقدار کا پابند ہے۔ ہر ملک، شہر اور علاقے کا معاشرہ اور ثقافت اس کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پاکستانی معاشرے میں یورپ کے معاشرے کے حقوق پر عمل کیا جانے لگے۔
کسی بھی معاشرے میں پائی جانے والی سوچ کو بدلنے کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے نیت کا مخلص ہونا۔ اسی لیے فحاشی اور عریانی کو نیت کے فتور سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لاکھ پردوں میں ڈھکی عفت وعصمت کی پاسبان کے دل میں ہی فتور ہوگا تو اس کے یہ لاکھ پردے بھی کسی کام کے نہیں ہوں گے۔ اسی طرح اسلامی چہرے سے مزین، سر پر بڑا سا عمامہ لگائے شخص کے دل میں کھوٹ ہوگا تو وہ بھی اسی طرح فحش ہوگا اور اس کی سوچ لتھڑی ہوئی ہی ہوگی جیسے کم کپڑے والوں کی ہوتی ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہوگا کہ کوئی پس پردہ ہوگا اور کوئی سرعام۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی سوچ بدلی جائے۔ ہمیشہ مثبت اور آلودگی سے پاک سوچ ہی انسان کی عفت وعصمت کا تحفظ کر سکتی ہے۔ سوچ کے ساتھ ساتھ فحاشی کے اسباب کا سدّ ِباب بھی بہت ضروری ہے۔ اسباب ہی وہ بنیادی جڑ ہیں جو معاشرے کی برائی کا سبب بنتے ہیں جسے ختم کر کے ہر برائی سے بچا جاسکتا ہے۔
”نئے زمانے“ اور ”زمانہ بدلو“ کے سلوگن سے معاشرے کو پستیوں میں ڈالنے کی مہم پر بہت ہی سنجیدگی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، جس کے لیے سب سے زیادہ میڈیا کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ نت نئے انداز میں اس سلوگن کو عام کیا جا رہا ہے اور جہاں تک ممکن ہوا شوبز کی مختلف شخصیات کو بھی اس پر عملی کردار ادا کرنے کے لیے کانٹریکٹ دے دیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بٹھایا جا رہا ہے کہ وہ جس زمانے میں جی رہے ہیں شاید وہ پتھر کا دَور ہے۔ اب اس زمانے سے باہر آنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے نیا زمانہ موجود ہے، جس میں لڑکے اور لڑکیاں اپنے والدین کی روک ٹوک سے آزاد ہوکر مخلوط محفلیں سجائیں۔ اچھا یا برا کھائیں یا پیئں اور اپنی مرضی کے اوٹ پٹانگ فیشن کر کے باہر نکلیں اور ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔
یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ کیا ہم واقعی جدید نہیں ہوئے یا فیشن کو نہیں جان پائے۔ کیا ایسا ہی ہے کہ جو فیشن ہمیں بیرون ِ ملک سے دیا جا رہا ہے، وہی فیشن ہے جسے ہمارے شوبز کے لوگوں سے لے کر تاجر تک، سب ہی اپنی اپنی منڈی میں لا کر خوب چرچا کرتے ہیں۔ عوام الناس کو عریاں اور عجیب وغریب صورت حال میں ریمپ پر کیٹ واک کر کے بتایا جاتا ہے کہ دیکھو! یہ ہے اصل زمانہ۔ گھر سے نکلو تو ہر قسم کی پابندیوں سے عاری، خواتین کے آدھے ادھورے جسموں پر موجود کچھ کپڑوں کے نمائشی سائن بورڈ دکھائی دیتے ہیں جو ہر آنے جانے والے کے سامنے بیرونی جدت پسندی اور فیشن کی تشہیر کرتے نظر آتے ہیں۔
کسی نے یہ نہیں سوچا کہ فیشن اور جدت کی بھی کوئی تو حد ہوگی۔ جدت اور فیشن کا مطلب عریانی کو فروغ دینا ہرگز نہیں۔ کم کپڑے زیب تن کر کے دوسروں کی ہوس کا نشانہ بننے کے لیے خود کو پیش کرنا بھی نہیں ہے۔ سب چیزیں اپنے اوقات اور اپنے مدار میں بہت اچھی لگتی ہیں۔ اس سے قبل کہ کوئی آپ پر شب خون مارے، خود کو محفوظ کرلیں۔ اپنے جسم کو نمائش کے لیے پیش کرنے کے بجائے اسے پردے میں ڈھکیں۔ اس لیے نہیں کہ آپ کی سوچ منفی ہے بلکہ اس لیے کہ آپ کی وجہ سے کسی اور کی سوچ منفی ہو سکتی ہے جو آپ کو تکلیف بھی پہنچا سکتی ہے۔
آپ فیشن کریں، ایک سے بڑھ کر ایک فیشن کریں اور کروائیں۔ مگر آپ اسے اپنی حد تک رکھیں۔ بیوی اپنے خاوند کے لیے کرے۔ بیٹیاں، اپنی بہنوں اور خاندان کی دیگر خواتین کے لیے کریں۔ خود کو غیر مردوں کی پہنچ سے دُور رکھیں۔ پھر کون منع کرتا ہے اور کون اعتراض کرتا ہے؟ ہاں اگر آپ خود کو خوب بناسنوار کر بھرپور فیشن کر کے نکلیں گی تو یاد رکھیں، آپ کو تکلیف بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔اغوا، تیزاب گردی اور قتل کے کتنے ہی واقعات صرف اور صرف اس لیے پیش آتے ہیں کہ لڑکی گھر سے خود کو ڈھک کر نہیں نکلی۔ راستے میں کسی اوباش، بدمعاش کی نظر پڑگئی اور وہ پہلی ہی نظر میں فدا ہو بیٹھا، انکار پر اس کے سامنے تین راستے تھے۔ وہ چہرہ، جسے وہ پسند کرتا ہے، کسی اور کا کیوں ہو؟ لہٰذا، اسے ہی برباد کردیا جائے۔ یا پھر وہ، جو اس کا نہیں ہوسکتا، کسی اور کا کیوں ہو؟ چناں چہ اسے ختم کردیا جائے۔ یا وہ پسند ہی کیا جسے وہ حاصل نہ کرسکے؟ تو اسے اٹھا لیا جائے۔ کبھی کسی نے سوچا کہ آخر یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کرنے والوں کے جذبات کیا ہوتے ہی؟، یہی…. کہ وہ اپنے انجام کو تو محسوس کر ہی چکے ہوتے ہیں مگر کسی اور کی زندگی بھی ہمیشہ کے لیے تاریک کر جاتے ہیں اور جس کی زندگی تاریک ہوتی ہے، اس کے پس پردہ اس کی اپنی ہی غلطی ہوتی ہے۔
بات ہو رہی تھی فیشن کی، اصل فیشن تو یہ ہے کہ گرمیوں کے لحاظ سے گرمیوں کے اور سردیوں کے لحاظ سے سردیوں کے کپڑے پہنے جائیں۔ زیب وزینت عوامی جگہوں پر نہیں، صرف اور صرف آپ کے گھر اور خاندان ہی میں مناسب ہیں۔ ہر قسم کا فیشن کریں لیکن اس کے متعلقہ مقام اور جگہ کے اعتبار سے۔ اگر حالات وواقعات میں تضاد آیا تو پھر فیشن فحاشی بھی بن سکتا ہے۔ اسی لیے فحاشی سے بچ کر خود کو بچائیں۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close