
اپڈیٹ: اگست 16, 2021, 05:45
الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے کہا کہ آج افغان عوام اور مجاہدین کے لیے عظیم دن ہے۔ اللہ کا شکریہ ہے کہ وہ اب جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے جارہے ہیں۔ آج سے افغانستان میں کوئی جنگ نہیں ہوگی ہم تمام افغان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ محمد نعیم نے کہا کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ کوئی ہماری زمین پر کسی کو نشانہ بنائے اور ہم دوسروں کو کوئی نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ طالبان الگ تھلگ نہیں رہنا چاہتے، وہ دنیا کے ساتھ پرامن تعلقات کے خواہاں ہیں۔
اپڈیٹ: اگست 16, 2021, 02:45
کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوج کی فائرنگ
کابل ایئر پورٹ پر امریکی فوجیوں کی فائرنگ سے پانچ افغانی جاں بحق ہو گئے، اطلاعات کے مطابق کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ کے بعد ایئر پورٹ کو بند کر دیا گیا ہے امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ لوگوں کا ہجوم بے قابو ہو رہا تھا اور وہ رن وے پر بھاگ رہے تھے ملٹری پروازوں میں افغان عوام کو چڑھنے سے روکنے کیلئے فائرنگ کرنی پڑی۔
اپڈیٹ: اگست 15, 2021, 21:45
طالبان نے صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا
افغان صدر اشرف غنی نے اپنے عہدے سے استعفی دے کر نائب صدر امراللہ صالح سمیت ٹیم کے دیگر اراکین کے ہمراہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ طالبان نے افغان دارالحکومت کابل میں صدارتی محل میں داخل ہو کر کنٹرول حاصل کر لیا۔افغان صدر تاجکستان پہنچ گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے نے دعوی کیا ہے کہ طالبان نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے ۔ افغان طالبان نے لوٹ مارکے خطرے کے پیش نظراپنے جنگجوﺅں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کا حکم دے دیا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا ہے کہ صبح جنگجوﺅں کو کابل کے باہر روک دیا تھا لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ کابل میں سرکاری دفاتر خالی ہوگئے ہیں اور پولیس اہلکار بھی بھاگ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کابل میں سکیورٹی اہلکاروں کے ہٹ جانے کے بعد چوروں اور ڈاکوﺅں سے امن و امان کا خطرہ ہے لہذا جنگجوﺅں کو حکم دیا کہ وہ کابل کے ان علاقوں میں داخل ہوں جہاں سے انتظامیہ ہٹ چکی ہے اور لوٹ مارکا خطرہ ہے۔ترجمان کے مطابق طالبان کے کابل کے کچھ علاقوں میں داخلے سے افغان شہری خوف زدہ نہ ہوں۔ترجمان نے جنگجوں کو حکم دیا کہ طالبان نہ کسی کے گھر میں داخل ہوں اور نہ ہی کسی کو تنگ کریں۔
اپڈیٹ: اگست 15, 2021, 06:45
افغان صدر اشرف غنی تاجکستان فرار، میڈیا کی تصدیق
افغان حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا اور صدر اشرف غنی، نائب صدرا مراللہ صالح سمیت اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے تاجک میڈیا کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ اشرف غنی نائب صدر امراللہ صالح کے ہمراہ کابل سے تاجکستان چلے گئے ہیں۔ دونوں افراد دوشنبے میں ہیں اور کسی تیسرے ملک روانہ ہونے کا امکان ہے۔ افغان میڈیا نے بھی تصدیق کردی۔ افغان میڈیا کے مطابق ملک چھوڑنے سے قبل اشرف غنی نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور نیٹو سے رابطے بھی کئے۔