
تحریر: فاطمہ خان
پاکستان اسی روز قائم ہوگیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ پاکستان اسلام کے نام پہ قائم ہونے والا وہ ملک جس کی خاطر مسلمانوں نے اپنی عصمتیں لٹا دیں، جائیدادیں اور جاگیریں چھوڑیں، گھر بار لٹایا تو یہ ملک پایا۔
پاکستان کا حصول اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان دنیائے اسلام کا مرکز تھا۔ علامہ اقبال نے بارہا پاکستان کو اسلام سے وابستہ کیا۔ ایک ایسی مملکت کا حصول یقینی بنایا جس میں اسلام کا پرچم سر بلند رہتا۔ پاکستان کو حکمِ ربی کہا گیا کیونکہ اگر نصرتِ ربی نہ ہوتی تو پاکستان کا قیام ممکن نہ تھا۔ پاکستان ملتِ اسلامیہ کا مرکز بنا۔ اس سے امتِ مسلمہ کو تقویت حاصل ہوئی۔ علامہ اقبال نے ہند کے مسلمانوں کو اسلام کے پرچم تلے جمع کیا، انہیں احساس دلایا کہ وہ اللہ تعالی کے دین کے محافظ ہیں۔ وہ دنیا میں اسلام کا پرچم بلندکرنے والے ہیں۔ اس لیے مسلمانانِ ہند کو اب دنیا کےسامنے نکلنا ہوگا۔
؎ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تاب خاکِ کاشغر
مسلمان کلمہ طیبہ کی اس شہادت سے وابستہ ہیں جو دینِ محمدیﷺ کی بنیاد ہے۔ لا الہ الااللہ ”اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں، وہ اکیلا ہے“
موجودہ دور میں مسلمان تفرقے میں پڑے ہیں۔ وہ امتِ مسلمہ کے حقوق و فرائض سے بے بہرہ ہوچکے ہیں۔ کفار کے ظلم و ستم ہر دور میں یکساں رہے مگر مگرافسوس کہ ہم نے اپنی میراث کو کھو دیا۔ ہم نے اس تابناک تاریخ کو فراموش کردیا کہ جس نے ہمیں تمام مذاہب پر فوقیت دی۔ پہلے کشمیر میں مظالم کی جنگ میں جل رہا تھا کہ اب فلسطین؟ آہ! کفار کے مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔ وہ ہمیں کھوکھلا کرنا چاہتے تھے سو وہ کامیاب رہے۔ مسلمانوں کا پہلا قبلہ بیت المقدس مسلمانانِ عالم سے چھین لیا گیا۔ پہلی جنگِ آذادی سے شروع ہونے والی کہانی آج مکمل ہونے کو ہے۔ فلسطین مکمل طور پہ تباہ ہونے کو ہے۔ امتِ مسلمہ خاموش تماشاٸی کی تصویر بنے اپنے اپنے مفادکی خاطر گم سم بیٹھے ہیں۔ ادھر یہودی اپنے اہداف پانے کو ہیں۔ آج وہ بیت المقدس چاہتے ہیں۔وہ ہیکلِ سلیمانی چھوڑ نہیں سکتےجبکہ ہم بے دینی کے دلدل مں دھنسے اپنا ایمان کھو رہے ہیں۔ انبیإ کرام کی سر زمین ہمارا بیت المقدس یہود کی سازشوں کا شکار ہے مگر ہم تو بھول بیٹھےہیں کہ
؎دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
ہم کیوں بھول گٸے کہ ہم ایک جسدِ واحد ہیں۔ ہم ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قرآن کے ماننے والے ہیں۔ہماری ماٸیں اپنے بچوں کو بے گوروکفن لیے ہماری منتظر ہیں کہ ہم انہیں سہارا دیں گے۔ فلسطین سے امتِ مسلمہ کی روحانی اور ایمانی وابستگی تقاضا کرتی ہے کہ مسلمانو جاگو! اب نہیں تو کبھی نہیں۔ پاکستان کے قیام میں بھی تو جاگے تھے تم۔ تب کیوں جانیں قربان کیں؟ کیا صرف اپنے لیے؟ اپنے مفاد کے لیے؟ اتنے برس کشمیر کی نظریں ہم پر تھیں مگر ہم اپنی دھن میں مست رہے، اب فلسطین پکار رہا ہے۔ اٹھو مسلمانو! یاد کرو کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے کربل میں سر کٹائے، ہم وہ ہیں جنہوں نے شیرخوارکربل میں پیاسے چھوڑے، ہم وہی ہیں جس نے حکمِ ربی کی خاطر فرزند قربان کر ڈالے، تو بھلا آج کیوں لب سیٕے بیٹھےہیں؟ کیوں اسلام کی خاطر لڑتے نہیں؟ جان توجانی ہے اسے اسلام کی خاطرقربان کیوں نہیں کرتے؟
؎جان دی دی ہوئی اس کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
مسلمانو! ہم کیوں بھول گٸےجو اسلاف سے میراث پائی تھی؟ کیوں بھول گٸے کہ ہم ہی تھے، جس نے آتش کو گلزار کیا، ہم نے دریاوں کو چیر کر پار کیا، ہم کیوں بھول گٸے کہ ہم وہی ہیں کہ کفار کے مقابلے میں اس قدر جانفشاں تھےکہ دریاوں کو چیر دیتے تھے۔ مگر آہ! آہ کی فلسطین کی پاک سرزمین پہ ہمارے لہو کو بہایا گیا، ہمارے دلوں کو چیرا گیا، ہمیں بیت المقدس سے نکالا گیا، الہی! آسمان کیوں نہ شق ہوا جب امتِ مسلمہ کو بیت المقدس سے بے دخل کیا گیا۔ ہماری مساجد کو گرایا گیا۔ ہم بےراہ ہوچکے ہیں ہم وطنو! کیونکہ ہماری زندگیوں پہ اسراٸیلی حاکمیت اثر کرنے لگی ہے۔کفار غلبہ پا چکا ہے۔ ہم خاموش تماشاٸی ہیں۔ جو مداری کے کرتب دکھانے پہ نہ خوش ہے نہ اداس۔ ہیں تو بےحس، بے غرض اور بے ایمان۔
اٹھو ہم وطنو! کہ وقت کا تقاضا ہے، آج نہیں تو کل ہماری باری ہے۔ ہم ایک اللہ کے ماننے والے ہیں۔ ہم مذہب کے نام پہ اپنے بھاٸیوں کا گلہ تو کاٹ سکتے ہیں مگر کافر کی بندوق کو خاموش نہیں کروا سکتے۔ امتِ مسلمہ کا ہر وہ جوان جو اپنے حق کے لیے لڑتا ہے اس پہ لازم ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کے ہر اس بھائی کے لیے لڑے جس سےاس کا دین کا رشتہ ہے۔ اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیے اس سے پہلےکہ وقت تمام ہو۔
؎اللہ ایک، رسول ایک، قرآن بھی ایک
کیا عجب بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک