
امی ! آپ نے میرا یونیفارم نہیں دھویا ؟ یہ دھبے تو ایسے ہی لگے ہوۓ ہیں۔فیصل نے اپنی والدہ کشور کو یونیفارم دکھاتے ہوۓ کہا ۔
بیٹا میں نے دھویا تھا ! اتنی رگڑائی کی لیکن دھبے ہلکا ہوگیا لیکن مکمل ختم نہیں ہوا ۔تم احتیاط سے کام کیا کروں ہر روز تمھارے یونیفارم میں دوات لگی ہوتی ہے ۔کشور نے پریشانی سے کہا ۔
امی ! کلاس کے دوستوں شرارتا قلم کے چھنٹے میری طرف اچھال دیے ان کو اتنا منع کیا ہے کہ یہ مذاق نہیں کیا کروں ۔لیکن وہ باز نہیں آتے ۔ فیصل نے نروٹھے انداز سے کہا ۔بیٹا تم نے آتے ہی مجھے یونیفارم دینا تھا تاکہ میں اسے بھگو دیتی ۔ شام کو تم نے بتایا ! تو اسی وقت دھو کے ڈالا ۔دھبہ دیر تک لگا رہنے سے پکا ہو گیا ہے ۔کشور نے پریشان لہجے میں کہا ۔
امی أپ ابو سے بولیں کہ “مجھے نیا یو نیفارم دلا دیں” ۔اس یونیفارم کو ایک سال ہو گیا ہے ویسے بھی اس پر دھبہ لگ گیا ہے! اب میں یہ نہیں پہناؤ گا۔فیصل نے حتمی لہجے سے کہا!
بیٹا! آج پہن لوں کل میں تمھارے ابو سے کہہ کر دلا دوں گی ۔یہ میرا تم سے وعدہ ہے ۔کشور نے التجائیہ لہجے سے کہا ۔اچھا آج میں پہن لیتا ہوں ۔أج اسکول میں میرا ٹیسٹ ہے ‘اسلیے جانا بھی ضروری ہے۔”کل تو ہر گز یہ پہن کر نہیں جاؤں گا!”فیصل نے بے دلی سے یونیفارم پہنا اور اسکول کے لیے نکل گیا ۔
فیصل نہایت ذہین ساتویں کلاس کا طالب علم تھا ۔اسکا شوق فوج میں جانے کا تھا ۔کشور اور نادر بھی اسکے اس شوق کو سراہتے ۔اور اسکی ہر خواہش پوری کرتے تھے ۔ان کو اپنے بیٹے سے بہت امیدیں وابستہ تھیں۔فیصل بہت نفاست پسند تھا۔کوئی بھی دھبہ چاہے” وہ کپڑوں میں ہو یا کسی بھی جگہ ہو “اسے ناگوار گزرتا اور خود ہی اسے صاف کرنے لگ جاتا تھا ۔” أج بھی یہ دھبہ اسے ناگوار گذر رہا تھا جو یونیفارم میں لگ چکا تھا ۔لیکن دل ہی دل میں مصمم ارادہ کیا ” کہ اب وہ نیا یونیفارم ضرور لے گا”اسی سوچ میں مگن تھا!. کہ “اچانک ہر طرف سے گولیوں کی آوازیں آنے لگی”بھاگو! بھاگو! باہر کی جانب ۔۔سب بچے چیخ رہے تھے ۔جیسے قیامت آگئی ہو ۔اسکول میں دہشتگرد گھس گے ہیں “ایک بچے نے اسے ہلاتے ہوۓ کہا ! چھپ جاؤ “فیصل بھاگو ! فیصل گبھراہٹ سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کہاں چھپے ۔کیا یہ جنگ کا میدان ہے ؟ جہاں وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے جگہ ڈھونڈے ۔طرح طرح کے خیالات اسے حصار میں لیے ہوۓ تھے ۔اتنے میں ایک” گولی نجانے کہاں “سے آکر اسکے سینے میں لگی ۔ اسے محسوس ہوا جیسے جلتا ہوا انگارہ سینے میں گھس گیا ہے ۔خون کا فوارہ پورے یونیفارم کو لال کرتا جارہا تھا ۔وہ فیصل جو ایک دھبے کی وجہ سے یونیفارم پہننے کے لیے تیار نہیں تھا وہ یونیفارم کو سرخ ہوتے دیکھ کر بے دم ہوتا جا رہاتھا ۔کیونکہ اس دھبے کی صفائی نا ممکن تھی۔