شرم و حیاء اور جدّت پسندی (ہادیہ جنید گابا)
شرم و حیاء، اس کی اہمیت کا اندازہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ،” ہر دین کی ایک پہچان ہوتی ہے،ہمارے دین کی جدا گانہ پہچان شرم و حیائ ہے” یعنی ہر وہ مسلمان جو دین دار ہو مگر اس کے کردار میں اس حیاءکا فقدان ہو جو اس کو گناہوں سے روک نہ سکے،تو اس کا دین دار ہونا محض دین کا لبادہ ہے،کیونکہ اس نے شخصیت کو قابو میں رکھنے والا بریک سسٹم مضبوط رسّی سے باندھا ہوا نہیں ہے،رسول ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم میں حیاءنہ رہے تو جو جی چاہے کرو،گویا حیائ کی کمی شخصیت کا ایک ایسا گھاو ¿ ہے جسے کوئی وصف بھر ہی نہیں سکتا،بے حیائی،بے شرمی ایسا روگ ہے،جو اگر لگ جائے تو پھر شتر بے مہار انسانیت کا اللہ ہی حافظ ہے،پھر انسان صحیح غلط کے پیمانے کو کہیں دور پھینک کر،وقت کے بہاو ¿ کے ساتھ چلتا ہے،چڑھتے سورج کا یہ پجاری زمین کے اوپر رہ کر زمین کے نیچے گزارنے والی زندگی کی پرواہ کیے بغیر من چاہی زندگی گزارتا ہے،اور بالآخر شرمندگی،ذلّت اور رسوائی کا ایک ایسا دلدل اس کا مقدّر ٹہرتا ہے جس سے نکلنا ناممکن ہے۔
جہاں تک بات کی جائے جدّت پسندی کی، جدت پسند ہونے اورجدید ہونے ہونے میں واضح فرق ہے۔ اسلام سب سے جدید دین ہے، اس پر عمل پیرا اقوام ہر دور میں جدید رہی ہیں اور تا قیامت رہیں گی۔ اس کی جدیدیت کا ایک پیمانہ ہے اور جو اس پیمانہ کو ٹھکرا کر کوئی نیا طریقہ جو اس سے ہٹ کر ہو لے کر آتا ہے وہ جدت پسند ہو کر بھی دقیانوسیت کا شکار ہے۔ دقیانوس،وہ بادشاہ جس کی وجہ سے اصحاب کہف کے چند نو جوانوں نے غار میں پناہ لی اور اپنی قدرت سے ان کو معجزاتی نیند سلا کر اس کمال حکمت سے دنیا اور آخرت میں کامیاب کیا جس کی نظیر تا قیامت ملنا مشکل ہے۔ توحید کے آگے شرک اور جدیدیت کے آگے دقیانوسیت رکھی رہ گئی اور وقت کے مجاہد امر ہو گئے، جو یہ ثابت کرتا ہے اللہ کے طریقوں سے زیادہ جدید طریقے کسی اور دین کا حصہ نہیں بلکہ اسی دین کی ایک شاخ ہے۔
اب آتے ہیں اس جدیدیت کی طرف جو دین ہمیں سکھاتا ہے اور وہ جدیدیت جو معاشرے میں رائج ہے،وقت کا المیہ ہے کہ موجودہ معاشرے میں جو چیز عین دین ہے،وہ محدود علم کی وجہ ہے فرسودہ یا بے حیائی شمار ہوتی ہے،ہاں دین میں مخلوط محافل منع ہیں،ناچ گانوں کی محافل شرم و حیاءکا جنازہ نکالتی ہیں ہیں،مگر خواتین کا حیائ کے دائرے میں رہ کر علم کے زیور سے آراستہ ہونا جدیدیت ہے جسے دین پسند کرتا ہے،قرآن کا مطالعہ تحقیق کی طرف دعوت دیتا ہے، اگر مسلمانوں کی بچیاں ڈاکٹر نہیں بنیں گی تو مسلمان عورتیں اپنے مسائل کس کو بتائیں گی؟ لہٰذا عورتوں کی تعلیم جدیدیت ہے اور دین اس پہ ابھارتا ہے مگر جدت پسند مغرب سے مرعوب تعلیمی ادارے جو بے حیائی کی اجازت کھلے عام تعلیمی اداروں میں دے رکھتے ہیں،وہ حیاءہی کو نہیں، جدت پسندی کو بھی بدترین بربریت کا شکار کرتے ہیں یہی لوگ دقیانوس ہیں جو تعلیمی اداروں کو فحاشی کا اڈّا بنا کر،نا صرف اس کا تقدس پامال کرتے ہیں،بلکہ شاگردوں کو بھی پڑھائی کی طرف راغب نہیں ہونے دیتے،جدّت پسندی کا یہ پیمانہ کہ جو دل کہے وہ کرو،انسان کا وقار خود اس کی نگاہ میں مجروح کردیتا ہے،جبکہ دوسری طرف ڈھکے سر،جھکتی نگاہیں،چال میں وضع داری،شخصیت میں حیاداری انسان کے عزائم کو بلندی عطا کرکے اس کی شخصیت کو اپنی اور معاشرے کی نگاہ میں معتبر بناتی ہیں،اس کو اجنبی بھی محافظ سمجھتے ہیں ،ان کی حیاءکی وجہ سے رب ان کا اقبال بہت بلند کرتا ہے۔
دوسری طرف معاشرے میں رائج حیاءکا مفہوم اتنا محدود نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے، حیاءایک مکمل وصف ہے جو انسان کی شخصیت کے ہر پہلو کا احاطہ کیے ہوئے ہے،جس میں گفتگو،سوچ و فکر اور حرام حلال کے قیود بھی شامل ہیں۔
حدیث شریف میں ہے، ”مومن طعنہ دینے والا،لعنت کرنے والا،نازیبا گفتگو کرنے وال اور فحش گوئی کرنے والا نہیں ہوتا ”(صحیح ابن حبان ۱۹۲)
بےہودہ گوئی، اخلاق سے گری ہوئی گفتگو،یا کسی کی زندگی کے نجی معاملات کو زیر بحث لانا، حیاءدار انسان کا وتیرہ نہیں ہوتا بلکہ گری ہوئی ذہنیت کا عکاس ہوتا ہے۔ صد افسوس کہ دور حاضر میں میڈیا پر دکھائے جانے والے ڈرامے، بے حیائی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ٹیکنالوجی کی جدیدیت کی وجہ سے ان سے اصلاح معاشرہ کا کام لینے کے بجائے ان کے ذریعے معاشرے کے افراد کو حیاءسے عاری جنسی مریض بنایا جا رہا ہے، آئے روز ہونے والے دردندگی کے واقعات اس ہی کا نتیجہ ہیں۔
ویلینٹائن ڈے یا دیگر مواقوں پر ہونے والی واہیات حرکات ہمارے اسلامی معاشرے کا غلط تاثر دنیا کو دینے کے لیے کافی ہیں۔مزید جدت پسندی کے علم بردار عورتوں کے حقوق کے عالمی دن پر بات کرنے والی خواتین حیاءکو جدّت پسندی کادشمن گردانتی ہیں۔ان کے نزدیک گھر گرہستی کرنے والی پردےدار خواتین، مردوں کو قوام سمجھنے والی اسلام کی شہزایاں دقیانوسیت کا شکار ہیں حالانکہ تھوڑا سا علم اگر وسیع کریں تو ان کو پتا چلے، اسلامی تاریخ میں عورتوں نے حیاءکے دائرے میں رہتے ہوئے جنگیں بھی لڑی ہیں،زخمی فوجیوں کی مرہم پٹّی بھی کی ہے، تاریخ کا رخ موڑ دینے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنا لوہا منوانے والی اولادوں کی تربیت بھی کی ہے۔الغرض شرم و حیاءاور اسلامی احکامات کی پابندی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں معاون ہے۔
قرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصّے میں جب حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کا تذکرہ ہے تو خصوصیت کے ساتھ ان کی حیاءکا بھی ذکر ہے،شرم و حیاءانسان کے کردار کو نکھارتی ہے اور شخصیت میں حسن اورخوبصورتی پیدا کرتی ہے۔ حال ہی میں ایک مکمل باپردہ لڑکی نے آکسفوڑڈ یونیورسٹی میں ڈگری حاصل کی ہے۔ شرم و حیاءکا یہ مطلب نہیں کہ عورت مرد بات ہی نہ کریں بلکہ حیاءکے دائرے میں رہ کر مردوعورت بات کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ حیاءمعاملات میں بھی اثر انداز ہوتی ہے،ایک استاد تدریس کے وقت اور ایک ڈاکٹر علاج کے وقت،اللہ کو حاضر ناظر جان کر ہر معاملہ میں حسن کا رکردگی دکھائے گا۔
حیاءاور جدت پسندی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ عین مطابقت رکھتے ہیں،اسلام وقت کا سب سے ماڈرن مذہب ہے اور تاقیامت رہے گا،قرآن میں موجود حقائق تحقیق کے دروازے کھولتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ باحیاءافراد خود کو کسی احساس کمتری کا شکار نہ کریں اور اپنے اسلام اور مسلمان ہونے پر فخر کریں، حیاءکا مفہوم اور جدّت پسندی کا مفہوم،دونوں کا مفہوم بہت وسعت کا حامل ہے،اگر یہ واضح ہوجائے تو ایک باعمل مسلمان دور جدید کی صفِ اوّل میں شمار ہوگا، اس قوم کے جوانوں میں حیاءاور وقار عطا فرمائے، آمین