بلاگ

کشمیر جنت نظیر

انعم ثناء

اگر آپ کو تلاطم خیز دنیا سے دُور، پُرسکون گوشے کی تلاش ہے تو کشمیر کا انتخاب بہترین ہے۔ اس کے دو حصے ہیں، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر۔ پہلا پاکستان میں اور دوسرا بھارت کی حدود میں واقع ہے جسے وادیئ جموں وکشمیر کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر پاکستان کا ایک خوب صورت حصہ ہے جسے وادیئ جنت نظیر بھی کہا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا موسم سارا سال قریباً سرد رہتا ہے اس لیے یہاں سارا سال سیّاح نظر آتے ہیں۔ یہاں بہت سے قدیم قلعے بھی موجود ہیں۔ یہ اپنی خوب صورتی کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ ایک صحت افزا جگہ ہے۔ یوں تو یہ پاکستان کا حصہ ہے مگر اس کی اپنی الگ حکومت اور قانون ہے۔ اس کا دارالحکومت مظفرآباد ہے۔
وادیئ نیلم، آزاد کشمیر کی خوب صورت ترین وادی ہے، جس کے متوازی وادیئ کاغان ہے اور ان کے درمیان برف پوش چوٹیاں ہیں، جو انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں۔ وادیئ نیلم کے بالکل درمیان میں دریائے نیلم بہتا ہے۔ وادیئ نیلم میں گھنے جنگلات ہیں۔ وادی نیلم بھی آزاد کشمیر کی ایک خوب صورت وادی ہے۔ یہاں ایک مشہور سیاحتی مقام ”پلندری“ ہے۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک گاؤں ”بیرل“ہے۔ یہاں سِکھ دَور کا مشہور قلعہ ”ڈوگرا“ بھی موجود ہے۔ بیرل سے تھوڑے فاصلے پر ”بلن نر“ نام کی ایک خوب صورت جگہ ہے۔آزاد کشمیر کی سرکاری زبان اردو ہے مگر یہاں پہاڑی، گوجری، پشتو اور ہری پوری زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ مقامی زبان ”کوشر“ ہے۔ آزاد کشمیر میں پہاڑی سلسلوں کی بلندی دوہزار سے چھے ہزار میٹر ہے۔ ایڈونچر پسند لوگوں کے یہ پسندیدہ مقامات ہیں۔ آزاد کشمیر جنگلی حیات کا مسکن بھی ہے۔ یہاں چیتے، کالا ہرن، چکور، ہمالیہ کے ریچھوں کے علاوہ اور بھی جانور پائے جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں موسم سرما کی پہلی برف باری پر ”بکرے کا گوشت بھوننے“ کا تہوار منایا جاتا ہے۔ شام کے وقت یہاں کے لوگ مزے دار کشمیری پکوان پکاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ”گلابی چائے“ بھی تیار کی جاتی ہے جسے ”کشمیری چائے“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ایک خاص نمک کے علاوہ زعفران، دارچینی اور لونگ بھی ڈالی جاتی ہیں۔ کشمیری کھانے بہت لذیذ ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں قیام بہت ہی محفوظ ہے۔ پاکستانی سیّاحوں پر تو کوئی پابندی نہیں ہے، وہ جہاں چاہیں، جا سکتے ہیں مگر غیر ملکی سیّاحوں کو ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔ ان جگہوں میں دھیرکوٹ، راؤلا کوٹ، چھوٹا گالا، چھکر، دوآخان، مظفرآباد اور منگیا شامل ہیں۔ تاہم، آزاد کشمیر کے کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں کوئی نہیں جا سکتا اور وہ ہے پندرہ کلومیٹر چوڑا ”بغفران“۔ (کنٹرول لائن پر واقع یہ وہی علاقہ ہے جو جموں کشمیر اور آزاد کشمیر کو الگ کرتا ہے،) مظفرآباد، دریائے جہلم اور دریائے نیلم کے کنارے واقع ہے۔ مظفرآباد میں دریائے نیلم کے پاس دو قلعے، ”لال قلعہ“ اور ”کالا قلعہ“ ہیں۔ پیرچناسی کا علاقہ مظفرآباد کے مشرق میں واقع ہے۔ یہ قدرتی مناظر کے اعتبار سے بہت ہی خوب صورت مقام ہے۔ یہاں شاہ حسین بخاریؒ کا مزار بھی ہے، جو مظفرآباد سے 19کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شہدگلی بھی مظفرآباد کا ایک خوب صورت سیّاحتی مقام ہے، جو سطح ِ سمندر سے 1640 کلومیٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں ایک ریسٹ ہاؤس بھی ہے جو خصوصی طور پر سیّاحوں کے قیام کے لیے بنایا گیا ہے۔
پاتیکا، وادیئ نیلم کی طرف جانے والا مرکزی راستہ ہے۔ یہاں ایک چڑیا گھر اور مچھلی کے فارم بھی ہیں۔ یہاں بھی محکمہئ سیّاحت نے سیّاحوں کے لیے ایک ریسٹ ہاؤس بنایا ہے، جو سیّاحوں میں بہت مقبول ہے۔ یہاں ایک اور مشہور جگہ ”کنڈل شاہی“ ہے۔ یہاں ایک سلور رنگ کی جھیل ہے، جو دریائے نیلم میں گرتی ہے۔ اس مقام پر ٹراؤٹ مچھلی بہت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ایک اور مشہور جھیل ”بَن جوسہ“ ہے جو راؤلا کوٹ میں واقع ہے۔ کوہ نوردی کے بے پناہ مواقع کے ساتھ بلندی سے جھیل کو دیکھنا حَسین ترین، پُرکیف منظر ہے۔ یہاں کی روح پرور آب وہوا، طلسماتی جھیل کے سبز اور مہندی رنگ پانی صنّاعی کے ایسے نمونے ہیں جنہیں دیکھ کر کائنات کے تمام رنگ بے معنی لگتے ہیں۔ جھیل کے پانی میں مشرقی سمت میں موجود PWD کے سرخ چھت والے ریسٹ ہاؤسز کا عکس واضح نظر آتا ہے۔ یہ جھیل اگرچہ چھوٹی ہے مگر یہاں صفائی ستھرائی کا اعلی نظام ہے۔ جھیل کے کناروں اور درمیان میں چند لمبے درخت جھیل کا حُسن بڑھاتے ہیں۔ یہ جھیل چاروں طرف سے پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے، جو طلوع ِآفتاب کے وقت ایک الگ ہی نظارہ پیش کرتی ہے۔ بارش کے بعد اس کا پانی چمکیلا ہوکر طلسماتی دنیا کا ایک نیا روپ دکھاتا ہے۔
٭……٭……٭

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close