
رائٹر : نوید احمد
ڈھلتی شام ہمیشہ سے مجھے اپنی طرف کھینچتی رہی ہے۔ نہ جانے کیوں، لیکن مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوا کہ شام صرف سورج کے غروب ہونے کا نام نہیں، بلکہ ان خوابوں کے ڈھل جانے کا بھی نام ہے جو انسان نے کسی اپنے کے ساتھ دیکھے ہوتے ہیں۔ اس شام بھی سورج آہستہ آہستہ افق کی آغوش میں اتر رہا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں مدھم پڑتی جا رہی تھیں، جیسے کوئی اپنے آخری الفاظ کہہ کر خاموش ہو رہا ہو۔ نسیم کے ہلکے ٹھنڈے جھونکے میرے چہرے سے ٹکرا رہے تھے اور یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہوا خود عشق میں مبتلا ہو کر خاموشی سے رقص کر رہی ہو۔ میں ایک بنچ پر بیٹھا ہاتھ میں گرم چائے کا کپ لیے اس شام کو اپنے اندر اتار رہا تھا۔ چائے کی بھاپ میرے ہاتھوں کو گرم کر رہی تھی، لیکن دل کے اندر ایک ایسی سردی تھی جسے شاید کوئی موسم ختم نہیں کر سکتا تھا۔
اسی خاموشی میں مجھے کہیں قریب سے کسی کے دبے دبے سسکنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے سر اٹھایا تو چند قدم کے فاصلے پر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ عمر زیادہ نہیں ہوگی، مگر اس کے چہرے پر برسوں کی تھکن صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ مسلسل اپنے آنسو پونچھنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر کچھ آنسو ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں سے نہیں، انسان کی روح سے بہتے ہیں۔ میں خاموشی سے اٹھا، چائے والے سے ایک اور کپ لیا اور اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، جیسے سوچ رہا ہو کہ ایک اجنبی اس کے درد تک کیسے پہنچ گیا۔
میں نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا، “صاحب… اتنا حسین موسم، اتنی خاموش شام، یہ ٹھنڈی ہوائیں… لوگ تو ایسے لمحوں میں زندگی کو محسوس کرتے ہیں، مگر آپ اپنی قسمت پر کیوں رو رہے ہیں؟” اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی خاموشی اس کے آنسوؤں سے زیادہ بلند آواز میں بول رہی تھی۔ میں نے دوبارہ کہا، “دل ٹوٹا ہے نا؟” اس نے چونک کر میری طرف دیکھا، پھر نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے بولا، “آپ کو کیسے معلوم؟”
میں نے دور غروب ہوتے سورج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “جب جوانی کی عمر میں انسان اس حسین موسم سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اپنی قسمت پر رو رہا ہو، تو سمجھ جاؤ کہ اس کا دل صرف ٹوٹا نہیں، بکھر چکا ہے۔” میری یہ بات سنتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو پہلے سے زیادہ تیزی سے بہنے لگے۔ اس نے چائے کا کپ ہاتھ میں لیا، ایک گھونٹ پیا اور بہت آہستہ سے بولا، “صاحب… لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن شاید انہوں نے کبھی سچی محبت نہیں کی۔ کچھ زخم بھرنے کے لیے نہیں ہوتے، وہ انسان کی روح میں ہمیشہ کے لیے گھر بنا لیتے ہیں۔”
وہ کچھ لمحے خاموش رہا، جیسے اپنے لفظوں کو جمع کر رہا ہو، پھر بولا، “میں نے اسے کبھی اپنی محبت نہیں سمجھا تھا، میں نے اسے اپنی زندگی سمجھا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر وہ میرے ساتھ ہے تو دنیا کی ہر مشکل آسان ہے۔ لیکن ایک دن وہ چلی گئی… ایسے چلی گئی جیسے میں کبھی اس کی زندگی میں تھا ہی نہیں۔ آج بھی مجھے سمجھ نہیں آتی کہ انسان بدل جاتا ہے یا صرف اس کے وعدے بدل جاتے ہیں۔”
اس نے ایک لمبی سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔ “جانتے ہیں صاحب، سب کہتے ہیں بھول جاؤ، آگے بڑھ جاؤ، نئی زندگی شروع کرو۔ مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ دل کے اس کمرے کا کیا کروں جہاں آج بھی صرف اس کی یاد رہتی ہے۔ میں نے خود کو مصروف رکھنے کی بہت کوشش کی، نئے لوگوں سے ملا، نئے راستے اختیار کیے، لیکن عجیب بات ہے… انسان چہرہ تو بھول سکتا ہے، احساس نہیں بھول سکتا۔ وہ آج بھی میری ہر دعا میں ہے، حالانکہ اب میری زندگی میں نہیں ہے۔”
اس کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔ وہ بولا، “آپ جانتے ہیں میری سب سے بڑی غلطی کیا تھی؟ میں نے اسے اپنے رب سے مانگا ضرور، مگر اس کے چلے جانے کے بعد اپنے رب سے شکوہ بھی کیا۔ پھر ایک رات سجدے میں روتے روتے احساس ہوا کہ قصور اللہ کے فیصلے کا نہیں تھا، قصور میری توقعات کا تھا۔ میں نے ایک انسان کو ہمیشہ کے لیے اپنا سمجھ لیا تھا، حالانکہ ہمیشہ تو صرف اللہ کی ذات ہے۔”
اس نے کپ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا، جیسے اس کی گرمی سے اپنے دل کی سردی کم کرنا چاہتا ہو۔ پھر آہستہ سے بولا، “صاحب… سب سے زیادہ تکلیف اس دن نہیں ہوئی جب وہ مجھے چھوڑ کر گئی تھی۔ سب سے زیادہ درد اس دن ہوا جب مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے بغیر بھی خوش ہے، اور میں آج بھی اس کی ایک یاد کے سہارے زندہ ہوں۔ محبت شاید یہی ہوتی ہے… ایک شخص آگے بڑھ جاتا ہے اور دوسرا وقت کے ایک لمحے میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتا ہے۔”
میں خاموشی سے اسے سنتا رہا۔ اس کے ہر لفظ میں برسوں کا درد تھا۔ وہ کہنے لگا، “اب تو حالت یہ ہے کہ کسی کی ہنسی بھی ڈرا دیتی ہے۔ کسی کا ساتھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ ڈر لگتا ہے کہ کہیں پھر کسی سے محبت نہ ہو جائے، کیونکہ میں دوبارہ ٹوٹنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ کچھ دل ایک ہی بار ٹوٹتے ہیں، اور پھر پوری زندگی ان کی آواز آتی رہتی ہے۔”
رات اب پوری طرح اتر چکی تھی۔ ہوا مزید ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ اس نے چائے کا آخری گھونٹ پیا، خالی کپ بنچ پر رکھا اور اٹھ کر چلنے لگا۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ رکا، میری طرف مڑا اور نم آنکھوں سے بولا، “صاحب… اگر کبھی محبت کرنا تو ایسے شخص سے کرنا جو تمہارا دل توڑنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے یہ ضرور سوچے کہ اس دل میں کبھی اس کا اپنا گھر تھا۔ کیونکہ گھر اجاڑنے والے بہت مل جاتے ہیں، مگر گھر بسانے والے نصیب والوں کو ملتے ہیں۔”
میں دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ وہ اندھیرے میں کہیں گم ہو گیا، مگر اس کے الفاظ آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں۔ اس رات مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ دنیا میں سب سے زیادہ شور ان لوگوں کے دلوں میں ہوتا ہے جو خاموش رہتے ہیں۔ کچھ محبتیں ختم نہیں ہوتیں، وہ صرف انسان کو اندر سے ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہیں۔ آج بھی جب شام ڈھلتی ہے، ٹھنڈی ہوا چلتی ہے اور ہاتھ میں چائے کا کپ ہوتا ہے، تو مجھے اس نوجوان کی وہ بات یاد آتی ہے: “کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یاد کبھی نہیں جاتی… وہ ہر شام، ہر ٹھنڈی ہوا اور ہر خاموش رات میں واپس آ جاتی ہے۔”