
کراچی کا سمندری ساحل ہمیشہ سے بحری جہازوں کے پھنسنے کے حوالے سے اسکینڈلز کا شکار رہا ہے
1998میں بھی ایک بحری جہاز کلفٹن کی ریت میں دھنس گیا تھا اور بالآخر اسے توڑ کر نکالنے کا فیصلہ ہوا اور یہ جہاز کباڑ میں پنجاب کے جس کباڑی نےخریدا وہ معاہدہ میں طے شدہ نکات پر عمل نہیں کر پایا تھا اور اسے دی گئی مہلت بھی ختم ہو چکی تھی بقول اس کباڑی کے وہ سمندری جوار بھاٹا کا درست تعین نہ کر سکنے کی وجہ سے دی گئی مہلت میں جہاز اسکریپ کر کے لیجانے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا اس پر ایف آئی اے نے اس کے خلاف کاروائی کی اور اسے گرفتار کر کے لاک اپ میں بند کر دیا۔
یہاں تک تو معاملہ درست تھا مگر ایف آئی اے کے کچھ افسران کے دل میں یہاں پر بے ایمانی آ گئی انھوں نے کراچی کے کچھ کباڑیوں سے مل کر جہاز خود ہی اپنی نگرانی میں توڑ کر بیچنا شروع کر دیا پنجاب کے جس کباڑی کو پکڑا تھا اس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کرنے کی بجائے اسے لاک اپ کیا ہوا تھا اور اس کا خریدا جہاز خود ہی توڑ کر بیچا جا رہا تھا اور یہ سب دن دیہاڑے ہو رہا تھا مجھے یہ خبر ملی تو اس پر کام کیا جب اس کی گہرائی میں گئے تو ہوشربا انکشافات ہوئے روزانہ 50 سے زائد ٹرک اسکریپ لے کر پنجاب روانہ ہوتے تھے اب مسئلہ یہ تھا کہ حیران کر دینے والی اس بدعنوانی کا کوئی تحریری ثبوت نہ تھا مقدمہ درج نہیں ہوا تھا کسی شکایت کا کہیں اندراج نہ تھا ایف آئی اے کے ایک دو چھوٹے گریڈ کے کارندے کلفٹن کے ساحل پر ایک کنٹینر میں بیٹھےسارا دن اور رات چوری نما ڈکیتی کی نگرانی کرتے تھے یہ کنٹینر سیمنٹ کے بلاکوں کے 3 فٹ ستونوں پر بنا کر ان پر رکھا گیا تھا ایک پٹھان ٹھیکیدار کی نگرانی میں جہاز پر لدے کروڑوں کے سامان کو سینکڑوں دیہاڑی دار مزدور خشکی پر منتقل کرتے تھے اور جہاز کے کئی منزلہ عرشے کی توڑ پھوڑ بھی ساتھ جاری تھی سو ہم نے اسٹوری میں رنگ بھرنے اور کچھ نہ کچھ ثبوت کے حصول کی خاطر جہاز پر جاری کاروائی کی تصاویر لینے کا فیصلہ کیا اور امت کے اس وقت دستیاب فوٹو گرافر عرفان بھائی کو لے کر ساحل پرپہنچ گئے اور جونہی جہاز پر جاری کارروائی کی تصاویر بنائیں تو کنٹینر میں بیٹھے کارندوں نے ہمیں دیکھ لیا للکارتے ہوئے گالیاں بکنا شروع کر دیں اسی اثنا میں جہاز کے عرشے سے بھی کچھ مسٹنڈے ہماری طرف بڑھنے لگے اس صورتحال کے لئے میں پہلے ہی تیار تھا سو میں نے عرفان فوٹوگرافر سے کہا کہ وہ فوراََ نکل لے خوش قسمتی ہماری یہ تھی کہ ہم جہاز اور کنٹینر کے درمیان تھے اس لئے فاصلہ کافی تھا پھر ریتیلے ساحل پر تیزی سے چلنا بھی محال ہوتا ہے اس لئے دونوں طرف سے ہمیں گھیرنے والوں کے پہنچنے سے پہلے میں نے چلّا کر عرفان بھائی کو آواز دی جو اس خطرناک ماحول میں بھی ساحل پر پانی میں ماڈلنگ کرتی بھینسوں کی فلمبندی کر رہے تھے میری چیخ پر انھوں نے کیمرہ سمیٹا اپنی ففٹی ہنڈا اسٹارٹ کی اور نکل لئے کنٹینر والوں میں سے کچھ عرفان کی طرف بھی لپکے مگر موٹر سائیکل والےکو پکڑنا مشکل ہی ہوتا ہے ان کے فرار پر وہ اور مشتعل ہو کر ہماری طرف بڑھے اور ہمیں گھیر کر گالیاں بکنا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں میں اس موقع پر اکیلا نہ تھا میرے ساتھ سہیل خان بھی تھے جو اپنے ڈیل ڈول لمبے قد گھنی اورپھیلی ہوئی مونچھوں، کاٹن کی سفید شلوار قمیص سے پولیس یا ایجنسی کے افسر لگتے تھے حالانکہ وہ صحافت سے ہی وابستہ تھے سہیل شام کے انگریزی اخبار لیڈر اور ملت گجراتی کے شعبہ مارکیٹنگ سے وابستہ تھے صحافت کا شوق تھا اور میری شاگردی کا دعوی کرتے تھے مجھے بھی اکثر ان کی رعب دار شخصیت کا فائدہ پہنچتا تھا ان کے حلقہ احباب کی وجہ سے ان کے پاس خبریں بھی بہت ہوتی تھیں اور ان کے پاس اسکوٹر بھی تھا وہ رہتے بھی رتن تلاؤ میں تھے اس لئے صبح مجھے گھر سے لیتے اور ان کے اسکوٹر پر سارا دن خبریں اور ان کے لئے ایک آدھ اشتہار حاصل کرتے شام کو وہ مجھے دفتر چھوڑ کر اپنے آفس چلے جاتے اس دن بھی وہ میرے ساتھ تھے وہ ایف آئی اے کے کارندوں سے الجھ رہے تھے اور انہیں بار بار باور کروا رہے تھے کہ ہم روزنامہ امت کے رپورٹر ہیں مگر وہ چھوٹی کلاس کے کارندے ان کے اس دعوے کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے تھے جبکہ میں سہیل صاحب کو منع کر رہا تھا کہ تحمل سے کام لیں ان کو جو کرنا ہے کرنے دیں میرے مصالحانہ سلوک پرکارندے بھی کچھ نرم پڑ گئے اور ہمیں ہانکتے ہوئے کنٹینر میں لے آئے کنٹینر میں لوہےکی ایک چارپائی اور دو اسٹول پڑےتھے انھوں نے مجھے ایک اسٹول پر بٹھایا مگر سہیل کی توہین کرنے کے لئے ان کو کنٹینر کے فرش پر زبردستی بٹھا دیا اس پر نرم احتجاج کرتے ہوئے میں بھی کرسی چھوڑ کر فرش پر بیٹھ گیا انھوں نے کوئی خاص تردد نہیں کیا ان میں جو سینیر لگ رہا تھا اس نےوائرلیس اٹھا کر اپنے افسران سے رابطہ کیا مگر بات آگے بڑھانے کے دوران ہی وہ کنٹینر سے باہر نکل گیا چند منٹ بعد لوٹا اور پہلی بار ہمارے پریس کارڈ چیک کئے اس دوران وائرلیس اس کےہاتھ میں ہی تھا اور وہ پھر باہر چلا گیا دوبارہ اندر آیا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اصرار کر کے اس نے ہم دونوں کو اسٹول پر بٹھایا اور تھرماس جو چارپائی کے سرہانے پڑا تھا اس سے دو کپ چائے نکال کر پیش کی اب اس کا رویہ حیرت انگیز طور پر بدل چکا تھا اور وہ ایسے پیش آرہا تھا جیسے ہم برسوں کے بےتکلف دوست ہیں میں نے سہیل کو جو بہت غصہ میں تھا آنکھوں کے اشارہ سے سمجھایا کہ وہ خاموش رہے چائے ختم کرتے ہی انھوں نے پہلی بار لفظ “سر” استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری طرف سے آزاد ہیں مگر ہمارے افسران آپ سے ملنا اور جو کچھ غلط فہمی میں ہوا پر معذرت کرنا چاہتے ہیں میں نے بھی ان کی تائید کی کیونکہ میں اس جرم کی نانی تک پہنچنا چاہتا تھا ہمیں بڑے احترام سے دو گاڑیوں میں بھر کر پاکستان بیرکس ایم پی اے ہاسٹل سے متصل ایف آئی اے کے دفتر لایا گیا جہاں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت افسران نے ہمارا استقبال کیا اور ہمیں ایک بڑے کمرے میں جو شاید ڈپٹی ڈائریکٹر کا کمرہ تھا لے جایا گیا وہاں ہماری تواضع مشروب سے کی گئی اور خلوص کا مظاہرہ ایسا کہ ہمیں خود پر شرم آنے لگی اس دوران میں نے اپنے سامنے بیٹھے افسر سے جہاز کے متعلق چند سوالات کئے تو وہ پریشان ہو کر بولا سر جو کچھ ہوا غلط فہمی میں ہوا پھر وہ اپنے کارندوں کی طرف اشارہ کر کے بولا آپ کے جانے کے بعدمیں ان حرام زادوں سے جو سلوک کروں گا اس کی اطلاع آپ کو بھی مل جائے گی آپ سے درخواست ہے کہ جو کچھ ہوا اسے بھول جائیں اور خبر نہ لگائیں میں نے اثبات میں سر ہلا دیا وہ خوش ہوکر اٹھے اور مجھے گلے سےلگا کر ایسے بھینچا کہ اپنے وجود کا حصہ بنانا چاہتے ہوں اور پھر ایک صاحب کے ساتھ ہمیں یہ کہہ کر رخصت کر دیا کہ یہ آپ کو جہاں جانا ہے چھوڑ دینگے اور پھر میرا ہاتھ دبا کر بولے آپ کا خیال بھی رکھیں گے ہم نے بتایا کہ ہماری اسکوٹر کلفٹن پر کھڑی ہے انھوں نے وہیں چھوڑا راستے میں پچاس ہزار دینے کی پیشکش کی جو ہم نے بڑی خوش دلی سے قبول کر لی اور انھوں نے اگلے دن بعد دوپہر اسی دفتر سے پیسے لینےکو کہا اور بولے جب تک جہاز پر کام جاری رہے گا ہر ماہ آپ کو 50 ہزار ملتے رہیں گے ہم دوستانہ انداز میں رخصت ہوئے اور اسکوٹر لےکر دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ عرفان صاحب تو ابھی آئے ہی نہیں جبکہ ہم ایف آئی اے افسران کے بدلے رویہ کو دفتر کی طرف سے ڈنڈا گھمانے کا کمال سمجھ رہے تھےاس زمانے میں لینڈ لائین فون کے علاوہ صوتی رابطوں کا موثر ذریعہ ڈی سی پیجر تھا جس پر مختصر پیغام بھیجا جاتا اور مذکورہ شخص پھر پی ٹی سی ایل یا بنفس نفیس رابطہ کر لیتا تھا عرفان کو پیجر کر کے بلوایا اور ان سے استفسار کیا تو وہ بڑی سادگی سے بولے میں سمجھا میرے بعد آپ بھی نکل لئے ہونگے اس لئے کسی کو بتایا ہی نہیں اور پھر مجھے تصاویر بھی تو دھلوانی تھیں یوں ہم ان کی سادگی پر سرپیٹ کر رہ گئے واقعہ کی خبر بنا ہی رہا تھا کہ رفیق صاحب کی دفتر آمد کا بگل بجا بگل سےمراد انکے گارڈ باقی کی دھماکہ دار انٹری ہوتی تھی جسے ہم نے بگل بجنے کا نام دیا ہوا تھا باقی بھی الگ ہی مزاج کا بندہ تھا رفیق صاحب کا انتہائی وفادار اور جانثار وہ ہر وقت کلاشنکوف تھامے اور اس کی گولیوں کے دو بیلٹ ایک گلے میں دوسرا کمر سے لپیٹے کھلے شلوار قمیص اور سر پر سیکورٹی والی ٹوپی سجائے وہ گارڈ کم میدان جنگ کے اگلے مورچہ کا سپاہی زیادہ لگتا تھا سرخ رنگت اور افغانی طرز کی اردو بولتا مزاجاً ہر وقت مرنے مارنے پر تلا رہتا وہ رفیق صاحب کےساتھ سائے کی طرح چپکا رہتا اور ان کا انتہائی قابل اعتماد سپاہی تھا دفتر کے اکثر لوگ اس سے کتراتے تھے کہ وہ بات بے بات بھڑک اٹھتا تھا مگر مجھ سے اس کا پہلےدن سے خلوص کا رشتہ قائم تھا اسے دفتر کے کسی ساتھی نےدن میں پیش آئے واقعہ کے متعلق بتایا تو وہ رفیق صاحب کے علم میں لے آیا اور یوں ابھی میں خبر بنا ہی رہا تھا کہ باقی نے رفیق صاحب کا پیغام دیا میں رفیق صاحب کے کمرہ میں داخل ہوا تو وہ اپنی کرسی سے کھڑے ہو گئے مجھے گلے سے لگایا میں نے محسوس کر لیا کہ غصہ سے ان کا جسم کانپ رہا ہے جھٹ سے بولے آپ ٹھیک تو ہیں کوئی تشدد وغیرہ تو نہیں کیا ان لوگوں نے پھر انھوں نے پورا واقعہ سنا اور حسب عادت بولے آپ خبر فائل کریں ان کو میں دیکھتا ہوں پھر جونہی میں اپنی ٹیبل پر آ کر خبر بنانے لگا تو طاہر نور جو نیوز ایڈیٹر تھے اور میرے سامنے بڑی نیوز ڈیسک پر بیٹھتے تھے مسکرا کر بولے کیا تیر مار لائے آج آپ رفیق صاحب کہ رہے ہیں لیڈ آغا کی ہو گی الغرض وہ مشکل ترین حالات میں بھی خبر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اخبار کا معیار ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن ہوتا تھا اگلی صبح کے امت نے جو کھلبلی مچائی وہ اپنی جگہ مگریہ سن کر دل کو اطمنان ہوا کہ ساحل سمندر پر بدتہذیبی کرنے والے ایف آئی اے کے اہلکار نہ صرف معطل ہو گئے ہیں بلکہ اسلام آباد سے تحقیقاتی ٹیم کراچی پہنچ رہی ہے اور پھر چند روز بعد اس گھپلے میں ملوث چھوٹے بڑے افسران قانون کے شکنجے میں تھے کوئی معطل ہوا کچھ کےدور دراز تبادلے ہوئے اور کچھ پکڑے بھی گئے اس ساری تمہید کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اس پوری کاروائی کا سہرا رفیق افغان صاحب کو جاتا ہے جو ہمارے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کا مسلسل پیچھا کرتے رہے اور وقتاً فوقتاً ہمیں بتاتے بھی رہے ورنہ اتنےکامیاب ادارہ کے معروف چیف ایڈیٹر کو کیا پڑی کہ اپنےملازمین کی بےعزتی کا بدلہ لیتا پھرےیہاں تومثل مشہور ہے”رات گئی،بات گئی“
٭٭٭٭٭٭٭٭ جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭