شرم و حیا اور جدت پسندی (ام موسیٰ)
شرم و حیا کا عنصر انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ جس کا تعلق انسان کی چال چلن اس کے کردار اس کی سوچ اس کی طرزِ زندگی اور سب سے بڑھ کر اس کے لباس سے وابستہ ہے۔ انبیا کرام کے دور میں شرم و حیا نے جس شائستگی اور سادگی نے اپنا ایک منفرد مقام بنایا وہ قابل ذکر ہے۔ ازواج مطہرات سے لے کر عورت ہر دور میں دنیاوی شعبہ جات میں چاہے وہ تعلیم ہو گھریلو تقریبات چاہے کوئی مہم درکار ہو یا کسی ادارے کا حصہ ہو اس کے وقار کی علامت حیا کی چادر نے اس کی عزت پر چار چاند لگائے ہیں۔
آغوشِ حیائے اسلام نے بنت اسلام کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ چاہے اس کے مقابلے میں غیر اسلامی عناصر کی تخریب کاریوں نے خود ان کو نقصان پہنچایا۔ امت مسلمہ میں ہر دور کی اپنی مشکلات رہی ہیں کیونکہ جدیدیت کے منفی اثرات نے ان تقاضوں کو کبھی پورا نہیں کیا جو ایک جدت کے ساتھ انسان کی روحانی تعمیر کرسکیں۔۔۔
انسان جدید ہونا چاہتا ہے مگر اس جدت پسندی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ بھول گیا کہ شرم اور حیا نے انسان کو اس کی اصل شناخت دی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر بھیجا۔ دین کی تمیز و تہذیب کا شعور دیا۔
ہمارے پاس آج سب سے بڑی مثال یورپین ممالک ہیں جہاں شرم اور حیا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں۔ یہی ممالک بظاہر ترقی یافتہ ہیں، جہاں عورت کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، وہ آج اتنی مجبور ہے کہ وہاں کے بنائے بے حیاءکے رسم و رواج کو اپنا کر ایک مجبور زندگی گزار رہی ہے۔ اس کو ہر شعبہ میں اذیت کا سامنا ہے۔ یہ بدقسمتی ہر اس جگہ ہے جہاں عورت نے شرم و حیا کو پہچاننے سے انکار کیا جبکہ جس دور سے بھی ہم گزرے، وہاں عورت کے وقار میں شرم و حیا نے اپنا مقام ترتیب دے کر عورت کے رتبے کو روشناس کرایا۔
جدید ترین ٹیکنالوجی کے منفی اثرات نے وہ عمارت تخلیق کی ہے جو کھوکھلی اور کھردری ہے، جس میں پنپنے کی کوئی بات نہیں اگرچہ ہماری ضرورت انحصار کرتی ہے ان جدیدیت کے خداو ¿ں کو مگر اس کی ذہنی غلامی قبول کرلینا کسی بھی صورت ایک مسلمان کے لیے اس کی اخلاقی تعمیر کو زائل کرسکتی ہے چنانچہ اس بات کو مدنظر رکھنے کے لیے کہ ہم دور جدید میں رہ کر حیا کی طرز پر اپنی شعبہ زندگی کو کیسے ترتیب دیں ،ہماری عین ذمے داری ہے۔
سورہ احزاب کے مطابق چادر کے پلو کو گرادینے کا حکم عین اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عورت کو جدید خطوط پر اس کا حجاب ہی کھڑا کرسکتا ہے۔ اس چادر کے عوض عزت کی تخلیق ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہم نے کئی اداروں میں دیکھا جب جب عورت برہنہ ہوئی اس کا مقام اس کی جگہ سے سرک کر قحط زنی یا کسی بے وقعتی کا شکار ہے اس کی زنجیریں اور زیادہ سخت ہیں اور وہ غیر محفوظ ہے۔
نسوانیت کے اس حسین امتزاج نے جدیدیت میں جدت پیدا یوں کی کہ جب عورت مکمل ستر کے ساتھ مرد کے شانہ بشانہ ہر شعبہ زندگی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی گئی تو دور جدید کے تقاضوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہوئی۔ اس کی سج دھج اس کی زینت نے کسی جدید معاشرے کو تخلیق نہیں کیا بلکہ کسی نہ کسی تذبذب کا شکار بے حیاءکے پنجوں سے ترقی کی ہوا سوگوار ہوگئی۔
اس کی نمایاں شاخ لبرلزم ہے جس نے معاشرے کے عزت دار افراد کو بھی اس مقام تک پہنچایا ہے کہ آج ہر گھر میں اس کے خاطر خواہ نقصانات ملحد بننے سے لے کر سیکولرزم کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعد اس کے نقصانات نے وہ قوم تخلیق کی ہے جو کبھی بھی دنیا میں اپنا مقام نہیں بناسکتی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہیں جبکہ ان کے درمیان کوءایسی سند نہیں جو ان کو ایک خاندان کا نام دے سکے۔ اگر اس کو جدیدیت کہا جائے تو یہ جدت پسندی معاشرے کو مٹا دینے کے لیے ہے۔
ہمارا مذہب اس کے بالکل برعکس ہے۔ جہاں نظریں نیچی کرکے حیا کے حسین مزاج سے ہر گلشن کو آراستہ کیا گیا ہے۔ اس تابندہ ضابطہ حیات نے حقوقِ نسواں کی بہترین ترجمانی کرکے عورت کو جدید طرزِ تعمیر کا موقع دے کر بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔