
کیوں لکھنا ہے؟
کسی بھی کام کو کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہوتا ہے کہ ہم وہ کام کیوں کرنے جارہے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے آپ اپنے آپ سے مخاطب ہوں اور سوچیں کہ آپ کو کیوں لکھنا ہے۔ کوئی بھی چیز لکھنے کے لیے پہلے اس کا مقصد طے ہونا چاہیے۔ مقصد واضح ہوگا تو یقیناً آپ کو لکھنے میں آسانی بھی ہوگی اور فائدہ بھی دکھائی دے گا۔ مثال کے طور پر میں لکھنا چاہتا ہوں کیوں کہ مجھے لگتا ہے ہمارے معاشرے کو اصلاح کی ضرورت ہے اگر ہم نہیں لکھیں گے تو پھر کون لکھے گا، کون بتائے گا غلطی کہاں ہے، کیا ہے اور اس کو درست کیسے کرنا ہے۔
کیا لکھنا ہے؟
جب ہم نے یہ بات طے کرلی کہ ہمیں کیوں لکھنا ہے تو پھر آپ بیٹھ کر سوچیں کہ آپ کو لکھنا کیا ہے۔ دنیا میں لکھنے کے لیے یوں تو بہت سی چیزیں ہیں مگر ہمیں کیا لکھنا ہے یہ ہمیں خود معلوم ہونا چاہیے۔ یہاں پر ہم ان تمام چیزوں کا احاطے کریں گے جو لکھی جاتی ہیں اور جن کا تعلق ادب سے ہے۔ ممکن ہے اس میں کچھ باتیں شامل کرنے سے رہ گئی ہوں مگر جتنا ممکن تھا وہ ہم نے شامل کیا ہے۔
عموماً لکھنے میں جو صنف شامل ہوتی ہیں وہ یہ ہیں:
مراسلہ، اداریہ، کالم، مضمون، فیچر، بلاگ، سفر نامہ، مختصر کہانی، افسانہ، ناول، نظم اور غزل۔
اب ہم کوشش کریں گے ان تمام کو الگ الگ بیان کریں اور پھر ان کو کیسے لکھتے ہیں یہ بتائیں گے۔ اگلے سبق میں ہم رموز و اقاف پر بات کریں گے۔