افسانےصفحہ اول

قُلی

طارق بلوچ صحرائی

موسموں کے لباس بدلتے رہتے ہیں۔ مگر ریل گاڑی کے لئے ہجر و وصال کے استعارے نہ بدل سکے اس کے اندر کا قُلی جانتا تھا زندگی کے پلیٹ فارم پر کندھے اتارنے سے بوجھ اتارنا ہی بہتر ہوتا ھے مگر نہ جانے کیوں اس کے ذہن کے گنبد میں پچھتاوے کے پنچھیوں کا عجیب شور تھا اس کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں ایک ٹھہرا ہوا آنسو لزر رہا تھا اسے لگا جیسے اس کے اندر کی خشک جھیل کی سہمی نمی مچھیروں کے گیتوں کو یاد کر رہی ھے۔ انسان بھی عجیب ھے چیزوں کو کہیں پر رکھنا ھے مگر ڈھونڈتا کہیں اور سے ھے۔ آدمی زندگی میں دوبار مرتا ھے۔ پہلی دفعہ جب وہ وصیت لکھنے بیٹھتا ھے تو اسے پہلی بار احساس ہوتا ھے کہ سب میں بانٹ کر خود اس کے لئے تو کچھ بھی نہیں بچا جہاں مال و دولت کا حصول ہی دانشمندی قرار پائے تو ایسی دانش کے پیالے کو زہر ہی سے بھرنا بنتا ھے ۔ آنکھوں میں گر اشکوں کی صفِ ماتم بچھ جائے تو سمجھ لیں کوئی ادھورہ خواب مر گیا ھے اور نیند شور مچا رہی ھے ۔ محبت مر جائے تو موت شعور سے نکل کر لاشعور میں شامل ہو جایا کرتی ھے ۔ اور پھر زیست کفنائی ہوئی گلیوں میں دوڑتی پھرتی ھے ۔ بچے کو دو چیزیں کبھی نہیں بھولتیں ماں کی گود کا لمس اور بھوکے پیٹ گائی گئی ماں کی لوری۔ زندگی کا بوجھ لادتے لادتے کندھے دُکھنے لگتے ہیں۔ زندگی کی تھکن صرف مسکراتی دعا دیتی محبت ہی اتار سکتی ھے مگر مائیں کب عمر بھر ساتھ رہی ہیں۔ زمین کے سب سے بڑے تخلیق کار کو کائنات کے سب سے بڑے تخلیق کار خالقِ کائنات سے جلد ملنے کی چاہت ہوتی ھے اولاد کی نگہداشت کرتے کرتے اور دعائوں کو معتبر کرتے کرتے وہ اتنا تھک جاتی ہیں کہ ان کی تھکن صرف جنت کی بادِ صبا ہی اُتار سکتی ھے۔

نہ جانے کیوں اسے قُلی بڑے اچھے لگتے تھے وہ جب بھی فارغ ہوتا ریلوے اسٹیشن پر جا کر بیٹھ جاتا۔ قُلی کاندھوں پر اور سروں پر سامان کا بوجھ اُٹھائے بھاگ رہے ہوتے تھے۔ شاید وہ جانتے تھے زندگی کا بوجھ مسافروں کے سامان کے وزن سے کہیں زیادہ ہوتا ھے اور بچے بھوکے پیٹ نہیں سوسکتے۔ سرخ پگڑی والی وردی میں وزن کا کرب اُٹھاتے اٹھاتے جب تھک جاتے تھے اور اپنی وردی سیاہ تھیلے میں ڈال کر اور اپنا بوسیدہ لباس پہن کر گھروں کو روانہ ہو جاتے تھے۔ جب اس نے بارہ جماعتیں پاس کیں تو اس کے والد نے اپنے افسروں سے کہہ کر اسے بھی ریلوے میں کلرک لگوا دیا تھا سب لوگ اسے باؤ غفار کہتے تھے وہ لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کلرک تھا سارے قلی اس کے آگے پیچھے پھرتے تھے پھر نہ جانے اس کو کیا ہوا اس نے نوکری چھوڑ کر چھوٹا سا کاروبار کرلیا ماں نے بہت سمجھایا پُتر تو نوکری نہ چھوڑ دولت تو منڈھیر کا کوا ھے ۔ مگر وہ نہ مانا۔ کاروبار چل نکلا اور وہ دنوں میں شہر کے بڑے امراء میں شمار ہونے لگا مگر ریلوے کے سارے ملازم اور قلی اسے آج بھی باؤ غفار کے نام سے ہی یاد کرتے تھے۔

آج وہ پھر ریلوے اسٹیشن پر آن بیٹھا تھا خاموش پلیٹ فارم اس کا رومان تھے۔ خامشی کے دکھ بھی بڑے کرب ناک ہوتے ہیں جن سوالوں کے جواب نہیں ملتے خاموشی انہیں اپنے اندر جذب کرلیتی ہے خود کو زخمی کرلیتی ہے مگر سسکتی نہیں اس کے پاس بڑے جواب ہوتے ہیں مگر اس کو سننے کے لئے دل والی قوتِ سماعت چاہیے ہوتی ھے ۔ اسے یاد آیا اس کے باپ نے اسے ایک دن بڑی عجیب بات کی تھی جب وہ ہر بات پر اپنی رائے ضرور دیتا تھا۔ پُتر جاہلوں میں ’’عالم‘‘ چُپ رہتا ہے۔ علماء میں ’’عارف‘‘ چُپ رہتا ہے عارفین میں ’’عاشق‘‘ چُپ رہتا ہے اور عاشقوں میں ’’جنوں‘‘ چپ رہتا ھے۔ وہ گھنٹوں پلیٹ فارم پر بیٹھا مسافروں کو دیکھتا رہتا تھا قُلی مسافروں کا سامان اُٹھائے نہ جانے کس جلد ی میں ہوتے تھے۔ زندگی قلیوں کو سانس لینے نہیں دیتی اور نہ قلی جیون کو سانس لینے دیتے ہیں۔ گاڑیاں آتی جاتی رہتی ہیں یہاں ہر شخص جلدی میں ہوتا ھے ہر آدمی وقت سے پہلے منزل تک پہنچنا چاہتا ھے ۔ قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے لوگوں سے جو یہ سمجھتے تھے دنیا ان کے بغیر نہیں چل سکتی اور ایسے لوگوں سے جو زندگی کو سستانے ہی نہیں دیتے تھے تھکن اُتارنے کو لمحہ بھر بھی سانس نہیں لینے دیتے تھے اسے اپنا بچپن یاد آیا جب وہ پہلی بار اپنے ماموں سے ملنے لاہور ریلوے سٹیشن آیا تھا رینالہ خورد سے لاہور کا سفر جیسے یہ ریل نہ ہو کوہ قاف کی پریاں اسے اپنے پروں پر لے کر اُڑ رہی ہوں اس نے دیکھا قُلی سروں پر ٹرنک اور ہاتھوں میں سامان اُٹھائے پلیٹ فارم پر دوڑ رہے تھے۔ اس کے ننھے دماغ نے سوچا ہمارے گھر میں سامان کے چار ٹرنک ہیں جس میں ابا کے پیسے ہمارے کپڑے اور اماں کا زیور ہوتا تھا یہ قلی اتنے ساماں کا کیا کرتے ہوں گے۔ اتنے کپڑے اور زیور کون پہنتا ہوگا لوگ اپنا سامان ان قلیوں کو کیوں دے دیتے ہیں۔ مگر ہمارا ٹرنک تو قلی نے باہر رکشے تک لے جا کر ہمیں واپس کر دیا تھا اماں نے اس کو کچھ پیسے بھی دیے تھے اس کے والدین نے سادہ اور غربت میں زندگی بسر کی تھی ابا کی قلیل سے تنخواہ میں بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا مگر اس کا کاروبار بہت چلا تھا اس لئے وہ شہر کے امیر لوگوں میں شمار ہوتا تھا اس نے بڑی آرام دہ زندگی بسر کی تھی۔ بڑا گھر، گاڑیاں، نوکر چاکر سب کچھ ہی تو اس کے پاس تھا مگر کچھ دنوں سے اس کے دل میں یہ ایک وہم سا آنے لگ گیا تھا کہ آرام دہ زندگی اور خوشی والی زندگی میں فرق ہوتا ھے مگر اب اس سوچ کا کیا فائدہ وقت کے پلوں کے نیچے سے عمر کا کافی پانی گزر چکا تھا۔ دیوانوں پر پتھر مارنے والے بچے اب جوان ہو چکے تھے۔ وہ دیکھ رہا تھا پلیٹ فارم کی بوسیدہ دیواروں سے تنہائی جھانک رہی تھی تعصب کے تعفن سے بھرے دل و دماغ لئے سجدوں کے محراب اپنے ماتھوں پر کندہ کئے لوگ ریل میں جانے والوں کو ہاتھ ہلا کر الوداع کر رہے تھے۔ مذاہب، فرقوں، ذات پات، رنگ و نسل عہدوں اور سٹیٹس میں بٹے لوگ اس بات کا ثبوت تھے کہ یہاں اس سے پہلی نسل میں محبت کا وصال ہوگیا تھا۔ کچھ باضمیر اہل دانش خاموش بیٹھے تھے شاید وہ جبر کی برسات سے سہمے ہوئے نہیں تھے بس اپنے کچے مکانوں سے ڈرتے تھے۔ اسے یاد آیا جب اس نے اماں سے کہا تھا ابا ریلوے میں کیوں بھرتی ہوئے انہوں نے کاروبار کیوں نہیں کیا وگرنہ آج بھی ہمارے پاس شفیع پٹواری جیسا بڑا گھر ہوتا اور میاں شجاع کی طرح بڑے گاڑی ہوتی ماں ہم نے اس خالی خولی عزت کا کیا کرنا ھے جب زندگی میں کوئی آسائش ہی نہیں ھے۔ اماں نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا گوبر کے اُپلے کی آگ کو پھوکنی مارتے ہوئے کہنے لگی تو نے اتنی دولت کا کیا کرنا ھے سب کچھ ادھر ہی دھرا رہ جانا ھے۔ سکندر بھی خالی ہاتھ اس دنیا سے گیا تھا اور پھر دھوئیں میں کھانستے ہوئے بولی پُتر ہمارے دیہاتوں میں ایک کیڑا پایا جاتا ھے جس کا نام گونگٹ ہے اسے گوبر کا کیڑا بھی کہتے ہیں اسے گائے بھینس کے گوبر کی بُو بڑی پسند ہوتی ھے۔ پھر بڑبڑاتے ہوئے بولیں یہ مال و زر بھی گوبر ھی تو ھے ناں ہاں تو میں کہہ رہی تھی صبح اٹھ کر وہ گوبر کی تلاش میں نکل پڑتا ھے اور سارا دِن جہاں سے بھی گوبر ملے اس کا گولا بناتا رہتا ھے۔ شام تک اچھا خاصہ گولا بن جاتا ہے پھر اس گولے کو دھکا دیتے ہوئے اپنی بِل تک لے جاتا ھے لیکن بِل پر پہنچ کر اسے احساس ہوتا ھے کہ گولا تو بڑا بنا ھے اور بِل کا سوراخ چھوٹا ھے بہت سی کوششوں کے باوجود بھی گولا بِل میں نہیں جاسکتا اور پھر اس گوبر کے گولے کو وہیں چھوڑ کر بِل کے اندر چلا جاتا ہے۔ پتر انسان بھی ساری حیاتی دھن کے گوبر کا گولا بناتا رہتا ھے اور پھر اسے وہیں چھوڑ کر قبر کے سوراخ میں چلا جاتا ھے۔ اس لمحے اسے لگا جیسے اس کا لباس وجود کے بُت پر اٹکا ہوا ھے اور اس کا ننگا پن بازار کی سڑکوں پر دوڑ رہا ھے۔

کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اماں نے اس کی ضد کے آگے ہار مان لی تھی اور اسے نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ مائیں بھی عجیب ہوتی ہیں اولاد کو روکنے کی ضد کرتی ہیں مگر جب وہ چلنے لگتے ہیں تو خود راستہ بن جاتی ہیں۔ ایک دن وہ ماں سے کہنے لگا ماں دعا کرو آج کل کاروبار کی حالت اچھی نہیں شاید میرے ستارے گردش میں ہیں اماں مُسکراتے ہوئے کہنے لگی پُتر بڑے دن اچھے دنوں کا صدقہ ہوتے ہیں باقی یہ ستارے تو راستے کا تعین کرنےاور آسمان کے حُسن کے لئے ہوتے ہیں قسمت کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ تو غموں کی اندھیری رات میں مسکرانے کا درس دیتے ہیں۔

کرونا وباء کے دِنوں میں وہ بڑا پریشان تھا گھر بیٹھے بیٹھے اسے دو مہینے ہو چکے تھے عید آنے میں ایک ہفتہ باقی تھا وہ سوچنے لگا وباء کے دنوں کی عید کیسے ہوگی۔ جب اس نے اپنا غم جا کر اماں کو سنایا تو تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔

پُتر غفار خود ساختہ قرنطینہ میں رہ کر میں نے خود کو دریافت کیا ھے مجھے احساس ہوا کہ بیکراں تنہائی کے صحرا میں لاواث بڑھاپا اپنے اندر ایڑھیاں کیسے رگڑتا ھے۔ اپنوں کو ترستا غربت کا بچپن کیسے دُکھ اُٹھاتا ھے مجھے گیان ہوا قرنطینہ کی وحشت ناک تنہائی ایک ایسی روشنائی ھے اگر چاہو تو اندر کی ساری نفرتیں ساری کدورتیں مٹا کر اس انوکھی روشنائی سے خود کو دوبارہ لکھ ڈالو اور پھر محبت کو گواہ بنا کر انسانی دکھوں کو تم گوتم بدھ کی آنکھ سے دیکھو دِل اور دماغ کے امراض سے شفایاب ہو کر اس سے بہتروقت کسی انسان کی زندگی میں آ ہی نہیں سکتا محبت تریاق ھے ہر وباء کا اگر ہم یہ نکتہ جان جائیں تو پھر عید ہی عید ھے۔

مارچ اور بہار کا آغا ز ہو چکا تھا باؤغفار پلیٹ فارم پر لگے گھنے برگد کے نیچے آن بیٹھا تھا وہ سوچنے لگ گیا اس برگد کے سائے میں نہ جانے کتنی ملاقاتیں پڑی ہونگی۔ میٹھے لہجوں میں کتنی باتیں بکھری ہوں گی ہجر و وصال کے عہد و پیمان کے کتنے باب رقم ہوں گے۔ اس نے دیکھا ریل سے اترنے والے کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا اسے اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد آگیا جب ماں نے کہا ہر کوئی اپنے اپنے مدار میں گھوم رہا ھے صرف عشق ہی ھے جو گلیوں کا مسافر ھے بندگی سیکھنی ھے تو ان پرندوں سے سیکھ لو۔ ھوا یہ تھا کہ وہ دوپہر کو پرندوں کے شور سے جاگا تو اس نے دیکھا اس کے گھر کی دیوار کے ساتھ اُگے بکائن کے درخت جس پر ایک سوراخ میں طوطوں نے گھونسلہ بنا رکھا تھا گائوں کے چند شرارتی بچے درخت پر چڑھ کر بل سے طوطے نکال رہے تھے اس نے اُٹھ کر بچوں کو ڈانٹ کر بھگا دیا۔ اگلے دِن جب وہ گھر پہنچا تو وہی بچے بکائن کے سوراخ سے طوطے نکال چکے تھے اور ان کو لے کر جا رہے تھے اس نے ان کو ڈانٹا اور طوطے لے کر گھر میں بڑے ایک بڑے پنجرے میں رکھ لئے۔ وہ روزانہ ان کو کبھی کوئی پھل کبھی روٹی اور کبھی بازار سے خرید کر باجرہ وغیرہ ڈالتا تھا۔ اسی طرح چھ ماہ گزر گئے اماں اسے روز ڈانٹتی تھی تو ان کو آزاد کیوں نہیں کرتا تو کیوں بادشاہ بننا چاہتا ھے ہر بادشاہ سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا تو نے ان کو قید میں ڈال رکھا ھے اب یہ تیری رعیت بن گئی ھے روز قیامت اس کا جواب دینا ہوگا اللہ نے ان کو پر اُڑنے کے لئے دیے ہیں۔ اُڑنا ان کا حق اور ٹیلنٹ ھے کسی کے ٹیلنٹ اور حق کو دبانا ناحق ھے۔ آخر ایک دن بائو غفار نے پنجرے کا در کھول دیا طوطے اُڑ گئے مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ وہ شام کو واپس لوٹ آئے اور پنجرے میں چلے گئے وہ بڑا حیران ہوا اسی طرح ایک مہینہ گزر گیا طوطے پنجرے سے نکلنے کو تیار نہ تھے۔ اگر کہیں جاتے تھے تو واپس اسی پنجرے میں آجاتے تھے اس نے اماں سے ایک دن بڑی حیرانی سے پوچھا اماں یہ میرے پاس سے جاتے کیوں نہیں پنجرے میں واپس کیوں آ جاتے ہیں میں نے تو ان کو آزاد کر دیا ھے۔ اماں مسکرائی اور بولی غفار پُتر انہی پرندوں سے بندگی سیکھ لے اس نے حیرانی سے ماں کی طرف دیکھا ماں بولی پُتر ہم سب اللہ کی مخلوق ہیں بندے نہیں بندگی کے لئے تو کوالیفائی کرنا پڑتا ھے رازق کی اطاعت کرنا پڑتی ھے اسی کا ہو کے رہنا پڑتا ھے۔ یہ طوطے تیرے احسان مند ہیں تو نے انہیں ایک عرصہ تک کھلایا پلایا یہ تیرا در نہیں چھوڑیں گے ہاں یہ صرف ایک طریقے سے جاسکتے ہیں تو ان کو جاکر کہے جو میں نے تمہیں کھلایا پلایا وہ میں نے آپ کو بخشا اور معاف کیا۔

بائو غفار پنجرے کے پاس گیا اس نے پرندوں سے کہا تم جاسکتے ہو میری طرف سے تم آزاد ہو میں نے کھلایا پلایا معاف کیا اور بخشا، طوطے پنجرے سے نکل کر اس کے پاؤں پر بیٹھ گئے پھر کافی دیر اس کے گرد طواف کی شکل میں پھرتے رہے اور پھر اُڑ گئے اور دوبارہ نہیں آئے۔ وہ سوچنے لگ گیا ماں صحیح کہتی ہے میں نے تو عمر بھر اپنے رب کا کھایا ھے اسی نے مجھے تخلیق کیا ھے مجھے بے تحاشا رزق دیا ھے خوشحالی دی اپنے حفظ و امان میں رکھا مگر میں اس کی بندگی نہ کرسکا میں کبھی بھی اس کی غلامی کے پنجرے میں نہیں بیٹھ سکا۔

اس نے لال بخش کو دیکھ کر جلدی سے اپنے آنسو پونچھے جو اس کی طرف ہی آ رہا تھا لال بخش بڑا پرانا قُلی تھا ویسے تو سب قلی ہی باؤ غفار کی عزت کرتے تھے مگر لال بخش سے تو اس کی برسوں سے شناسائی تھی اس کے والد سے بھی اس کا پرانا تعلق تھا۔ لال بخش نے باؤ غفار کو اشارہ کیا اور اندر کمرے میں چلا گیا واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں وردی والا کالا تھیلا تھا جس کے اندر اس کی قلیوں والی وردی تھی اس نے اپنا لباس بدل لیا تھا اب وہ گھر واپس جا رہا تھا۔

کیا سوچ رھے ھو باؤ غفار!

لال بخش نے مسکراتے ہوئے پوچھا

لال بخش آج میری پہلی موت ہو گئی ھے مگر مجھے زندگی کی سمجھ نہیں آئی، کہتے ہیں انسان دو دفعہ مرتا ھے پہلی دفعہ جب وہ وصیت لکھتا ھے اور دوسری دفعہ جب وہ قبر میں چلا جاتا ھے۔ لال بخش حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا ہاں لال بخش آج میں نے وصیت لکھ دی ھے بچوں اور بیوہ کو دینے کے بعد میرے لئے تو کچھ بھی نہیں بچا میرے حصے میں تو ایک پانی بھی نہیں آئی سب کو اس وصیت میں کچھ نہ کچھ ملا ھے سوائے میرے ۔ لال بخش زور سے ہنسا اور بولا باؤغفار اتنی دیر سے ریلوے سٹیشن آ رھے ھو پھر بھی زندگی کو نہیں سمجھ سکے۔

باؤ غفار نے لال بخش قُلی کی طرف حیرانی سے دیکھا

لال بخش نے اس کا کندھا تھپتھپایا اور بولا

باؤ غفار میرا پوتا کہتا ھے۔ امیر آدمی گدھے ہوتے ہیں جو اپنی پیٹھ پر زر وسیم کا بوجھ لادے لادے پھرتے ہیں باؤ غفار اس دنیا میں انسان قُلی پیدا ہوتا ھے۔ہم دنیا سے کچھ لے کر بھاگنا چاہتے ہیں لیکن دُنیا کے اس پلیٹ فارم سے کچھ لے کر نہیں جاسکتے بس یہاں سے اُٹھا کر وہاں رکھ سکتے ہیں باؤ غفار ہم سب قُلی ہیں سامان اُٹھائے پھرتے ہیں۔ خیال کا سامان احساس کا سامان، عیال، مال و زر اور اپنا وجود اُٹھائے پھرتے ہیں قُلی کا سامان کسی اور کا ساماں ہوتا ھے ، قُلی کے نصیب میں صرف وزن ھے اور صرف وزن اور یہ بوجھ صرف کرب ھے ۔ ہم سارا دن لاکھوں کا سامان سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں مگر ان میں سے کچھ بھی ہمارا نہیں ہوتا شام کو یہ جوگیا رنگ کی وردی اُتار کر سیاہ تھیلے میں ڈال کر واپس اپنے گھر چلے جاتے ہیں اور پھر ایک دن اپنے جسم کی وردی اتار کر موت کے سیاہ تھیلے میں ڈال کر اپنے ابدی گھر کو روانہ ہو جاتے ہیں۔

یہی زندگانی ھے۔ یہی زندگی کی حقیقت ھے ۔

اس دن خزاں کا پہلا دِن تھا خشک اور زرد پتوں کو ھوا ٹھوکریں مار رہی تھی۔ آسمان پر گہرے طوفان کے آثار تھے آسمان قُلی کے سُرخ پگڑی کی طرح دمک رہا تھا اس دِن پلیٹ فارم پر عجیب سی خاموشی تھی۔ نہ جانے کیوں سٹیشن سے روانہ ہونے والی ریل کی کوک میں آج ہجر کے درد کی سی کسک تھی۔ پلیٹ فارم پر لال بخش قلیوں کو بتا رہا تھا اپنا باؤ غفار جو اکثر یہاں پلیٹ فارم پر برگد کے نیچے آکر بیٹھا رہتا تھا بے چارہ کل دوسری دفعہ مرگیا ھے۔ اسی لمحے گاڑی آکر رُکی اور سارے قُلی سامان اُٹھائے ریل کی طرف بھاگنے لگے۔۔۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close