شرم و حیاءمقابلہ جات

شرم و حیاء اور جدت پسندی (فرحی نعیم)

دور جدید نے جس طرح دوسری معاشرتی و دینی اقدار کو تہہ و بالا کیا، سماج سے ان کی اہمیت و حیثیت کو کم سے کم کرتے کرتے تقریباً مٹا ڈالا۔ اس پر جتنا بھی نوحہ کیا جائے کم ہے۔

دور پر فتن میں آج تک جتنے بھی فتنے آئے، ان میں بے حیائی و فحاشی کے سیلاب نے جو تباہی پھیلائی ہے، اس پر الامان و الحفیظ ہی پڑھا جاسکتا ہے۔ مغربی معاشرہ کو تو اس سیلاب نے دہائیوں قبل ڈبو ہی دیا تھا، جس کے نتائج نے خود مغربی حکومتوں کو ہلاڈالا۔ وہ جس آزادی کی علمبرداری کی ترویج کرنے چلے تھے۔ اس آزادی و خودمختاری نے ان کی ہی معاشرتی جڑوں کو نہ صرف کھوکھلا کیا بل کہ جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا، آج ان کی آبادی کا ستر فیصد ایسے بچوں پر مشتمل ہے جو اپنے باپ سے نا آشنا ہیں۔

تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو عورت دنیا کے ہر خطہ میں مظلوم رہی، اسے گناہ و معصیت کا سرچشمہ قرار دیا جاتا۔ اسے معاشی وسماجی حقوق حاصل نہ تھے۔ اس کے ظلم و ستم کی داد رسی نہ ہوتی۔بدلتے زمانے کے نشیب و فراز نے اگرچہ عورت کو حکومت وقبائل پر بالا دستی بھی دی، لیکن باوجود اس کے عورت کے حالات میں زیادہ فرق نہ آیا۔ عورت کے حقوق پر یہ دست درازی جاری تھی کہ اسلام کی آمد نے عورت کو عزت و احترام دیا،اس کے حقوق کا تحفظ سکھایا۔

موجودہ دور میں مغربی اقوام نے عورت کو لبھانے اور اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اور پر فریب نعرہ، اس کی آزادی اور مساوات کا لگایا،اور یہ دلیل پیش کی کہ مرد و عورت ہر لحاظ سے برابر ہیں، ان میں کوئی امتیاز نہیں، وہ ہر منصب کی اہل ہے،لہذا عورت کو خود مختاری ملنی چاہیے اور مرد کی بالادستی ختم ہونی چاہیے۔ اس تصور نے عورت کے رستے کی ہر دیوار گرادی، اور وہ گھر سے نکل کر ہر بیرونی امور میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی۔اس کے بغیر ہر شعبہ ادھورا سمجھا جانے لگا،عورت نے اسے ترقی کی منزل سجھا اور وہ اس رستہ پر سر پٹ دوڑنے لگی۔  مغرب کی اس بے قید آزادی نے ایسے گھنائونے نتائج دکھائے جس کا سامنا آج ساری دنیا کو کرنا پر رہا ہے۔

زندگی کے ہر شعبے میں جب دونوں اصناف نے آزادانہ اور بے باکانہ حصہ لیا  تو اس سے بے راہ روی عام ہوئی جس نے ایسی تہذیب کو جنم دیا جس میں شرم و حیا کے تمام راستے مسدود ہوتے گئے۔اگر وہ آزادی حاصل کرنے سے پہلے مصیبتوں کی ماری تھی تو ازادی حاصل کرنے کے بعد بھی اس کے مصائب کم نہ ہوئے، آرٹ اور کلچر، رقص و موسیقی،ادب و شاعری کے نام پر ایسے جذبات کی ترویج ہونی شروع ہوئی جس نے انسانی تمدن کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ چراغ خانہ سے نکل کر اسے شمع انجمن بنا دیا گیا۔ اسے محفلوں کی رونق قرار دیا گیا۔ قابل احترام اور پاکیزہ رشتے تک غیر محفوظ ہو گئے۔

دور جدید نے عورت کے اندر بے حیائی و عریانی کا ایسا رجحان پیدا کیا جس نے یہ تصور بٹھایا کہ اس کے حسن وجمال کو بے پردہ ہونا چاہیے اس کا لباس، اس کے خیالات، اس کی صلاحیتیں بے نقاب ہونی چاہئیں۔ اس کے گرد کوئی بند نہ باندھا جائے۔ آج کے حالات اور تقاضے کسی بندش کے محتاج نہیں عورت جب تک گھر میں محبوس ہے۔ وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ جدیدیت میں حیاو حجاب کی کہیں گنجائش نہیں،کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورت کی آزادی کے خلاف اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس طرح ایک عورت محض ایک سہل کھلونا بن کر سامنے آئی، جو صرف تسکین کا باعث ٹھہری، جب کہ حقیقتاً جدیدیت، اس کی شرم و حیا اور اس کی نسوانیت کی توہین کا باعث بنی۔

جدید تہذیب کی دلدادہ عورت جب اپنے دن کا بڑا حصہ، پر مشقت ملازمت، نائٹ کلب اور فلم و تفریح کے لیے وقف کرنے کو آزادی  سے تعبیر کرے،اور گھر کی چاردیواری اسے غلامی، حیا کے تقاضے اسے قید و بند کی صعوبتیں محسوس ہوں تو، ضروی ہے کہ عورت اپنی آزادی اور جدد پسندی کی تعریف متعین کرے۔

اسی جدید تہذیب کا شاخسانہ ہے کہ مغرب تو چھوڑیے، مشرقی اور اسلامی ممالک میں بھی عورت نے شرم و حیا کو، جسے اس کا زیور قرار دیا جاتا رہا، اتار پھینکا،اور بغیر جھجکے اپنی ذات کو نمائش کا ذریعہ بنا ڈالا۔ دور جدید کی تعلیم نے عورت کو آج جتنا ارزاں کیا، تاریخ میں اس کی مثال نہیں، اس کو ایسی جنس بنا دیا،جس کے دام کھڑے کرنے میں اپنے وغیر سب پیش پیش ہیں۔اسلام جس نے عورت کو نازک آبگینوں سے تشبیہ دی،قیمتی متاع قرار دیا، اس کو آج جدید تہذیب نے مٹی میں رول دیا۔

نکاح کے مقدس بندھن سے اجتناب، بغیر  شادی کے بچوں کی پیدائش،ہم جنس پرستی اور اسی جیسے دوسرے اقدام نے آج تہذیبوں کو مسمار کردیا اور یہی زہریلی ہوا ہمارے معاشرہ کو بھی برباد کر رہی ہے۔ ہمیں اس جدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایسے ہتھیاروں سے لیس ہو نا ہے جس سے ہماری نسل نو بہتر اور مضبوط ہو۔ہمیں اپنی عظیم اسلامی اقدار و روایات کو رواج دے کر ازسرنو زندہ کرنا ہے۔ جدید تہذیب کے فتنے سے بچ کر اپنی اولاد، اپنے گھر اور معاشرے کو اسلامی تہذیب کا مظہر بنانا ہے۔ اسلامی احکام کی پاسداری ہی وہ مضبوط اور پائیدار ہتھیار ہیں، جو ابد تک ہمیں اپنے حصار میں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

قرآن نے ہمیں جگہ جگہ رہنمائی دی، جدد کی رو میں بہنے سے روکنے اور تھامنے کے لیے ہمیں اپنی ہدایات سے منور کیا۔ پردے، جلباب، غص بصر،زینت، محرم، نامحرم کے احکامات،و دیگر کو تفصیل سے بیان کیا۔ اسلام کے نزدیک جہالت کی تعریف اس سے بالکل مختلف ہے جو جدید تہذیب آج کی عورت کو سکھاتے ہیں۔ یہ رنگ برنگے ایام بنانا، جس میں مسلمانوں کا پیسہ باطل قوتوں کے پاس جاررہا ہے۔ ہم جانے انجانے میں نہ صرف اپنی شرم و وقار کا سودا کر رہے ہیں بل کہ جدیدیت کے نام پر ان کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔ باطل اس سلسلے میں کتنا منظم ہے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں، اور ہم ایک مضبوط معاشرت رکھتے ہوئے بھی کتنے کمزور ہیں، اسے بھی بتانے کی ضرورت نہیں، افسوس کا مقام ہے جدید تہذیب کے آگے ہماری اقدار تار عنکبوت ثابت ہورہی ہیں جنھیں ایک جھٹکے سے اکھاڑ دیا گیا۔ اور بہت آسانی سے ان کا متبادل ہماری تہذیب پر نافذ کردیا گیا۔ جس کو ہم نے بھی قند سمجھ کر آنکھوں، سینے و ہونٹوں سے لگا لیا۔ حالانکہ وہی  زہر ہلاہل ثابت ہوا۔

لہذا اس صورتحال کو سمجھتے ہوئے، اس منظر نامے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اپنے قدموں کو درست سمت دینی ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کی روشنی میں معاشرتی خدوخال کا جائزہ لے کر اسے بچانے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ورنہ جدیدیت کی یہ آندھی بچا کھچا بھی اڑا لے جانے گی۔ اجتماعی اور شعوری بیداری ہی انفرادی و اجتماعی شرم وحیا  کے فروغ پر عمل درآمد کرواسکتی ہے۔

Back to top button

New Report

Close