بلاگصفحہ اول

تحریر میں رموز و اوقاف کی ضرورت و اہمیت

رائٹرز کلب پاکستان کے تحت تحریر کورس

رموز و اوقاف
اردو میں بھی دوسری زبانوں کی طرح کچھ علامتیں مقرر ہیں، ان علامتوں کو ”رموز اوقاف“ کہتے ہیں۔ یہ علامتیں ایک جملے کو دوسرے جملے سے الگ کرتی ہیں، کسی جملے کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے الگ کرتی ہیں یا طویل جملے کو مختصر کرنے کے لیے کام آتی ہیں۔تحریر میں ظاہری حسن پیدا کرنے اور اس کی تفہیم میں آسانی کے لیے ان علامات کا استعمال زمانہء قدیم سے چلا آ رہا ہے البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شکلیں تبدیل ہوگئی ہیں۔ ان سے جہاں پڑھنے والے کو معانی و مفاہیم سمجھنے میں اور انہیں ذہن نشین کرنے میں آسانی ہوتی ہے وہیں لکھنے والے کے سلیقے، ذوق اور عصرِ حاضر کے ادبی تقاضوں سے واقفیت کا بھی پتا چلتا ہے۔
اس سلسلے میں چند اہم باتیں پیش خدمت ہیں۔
جس عنوان پر تحریر لکھیں اس پر مکمل طور پر دسترس ہو، تحریر اپنے عنوان کے حوالے سے مکمل ہونی چاہیے۔
تحریر کا عنوان واضح اور سب سے اوپر صفحے کے درمیان میں لکھیں۔
اپنا نام اور شہر کا نام لازمی لکھیں اور یہ عنوان کے نیچے والی سطر میں لکھیں۔ تحریر کے آخر میں ہرگز نام نہ لکھیں کہ بعض اوقات ایڈیٹنگ میں حذف ہوجاتا ہے اور تحریر بغیر نام کے شائع ہوجاتی ہے۔
تحریر لکھتے ہوئے ان نکات کو مدِنظر رکھیں:
کوما (وقف خفیف)، فل اسٹاپ (ختمہ) اور انورٹڈ کوماز (واوین) اردو والے استعمال کریں، زیادہ تر افراد انگلش والے استعمال کرتے ہیں۔
لفظوں کے بیچ میں اسپیس دینے سے گریز کریں اور الفاظ کے درمیان بھی غیر ضروری اسپیس نہ دیں۔ اس سے نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایک لفظ کے حروف ٹوٹ کر دو سطروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح فل اسٹاپ اور کوما کے پہلے اسپیس نہ دیں بلکہ بعد میں دیں۔
2 پیراگرافوں کے درمیان اسپیس نہ دیں۔
”اور“ کے ساتھ وقف خفیف (کوما) کا استعمال نہ کریں اور وقف خفیف (کوما) استعمال کریں تو ”اور“ نہ لکھیں۔
جب کہ، چنانچہ، مگر، لیکن کے ساتھ کوما یا فل اسٹاپ استعمال نہ کریں۔
ختمہ (فل اسٹاپ) سے پہلے اسپیس نہ دیں۔ ختمے (فل اسٹاپ) کے بعد صرف ایک اسپیس دیں۔ واوین (انورٹڈ کوما) اور لفظ کے درمیان میں اسپیس نہ دیں۔
گنتی کے تمام ہندسے انگلش والے لکھیں، مثلا وہ تین افراد تھے، وہ 3 افراد تھے ۔۔۔ تو دوسرا والا ٹھیک ہے۔ یاد رکھیں اردو والی گنتی بھی نہیں لکھی جائے گی جیسے وہ ۳ افراد تھے۔
ایک جملے کی طوالت اتنی ہونی چاہیے کہ پڑھتے وقت قاری کی سانس نہ ٹوٹے، مختصر لیکن مکمل جملے تحریر کریں۔
ہر جملے کی الگ الگ سطر نہ بنائیں، چاہے وہ آپ مکالمہ ہی کیوں نہ لکھ رہے ہوں۔ مکالمے میں بھی پیراگراف بنتے ہیں وہ بنائیں۔ اس سے پیج بڑھ جاتا ہے۔ تحریر کو پیراگراف کی صورت میں لکھیں۔ آپ کی تحریر میں 4 سے 5 پیراگراف ہونے چاہئیں۔
مکالمے میں انورٹڈ کوماز کا استعمال کریں، جس نے وہ کہا ہے اس سے پہلے کوما لگائیں پھر اس کا نام لکھیں یا انداز بیان لکھیں۔ جیسے ”تم اسکول کیوں نہیں گئے“، ابو نے اسد کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔
جب کوئی حدیث یا قرآنی آیت کا ترجمہ لکھیں تو اسے واوین (انورٹڈ کوماز) میں لکھیں اور وقف خفیف (کوما) کے بعد اس کا حوالہ قوسین () میں لکھیں اور پھر فل اسٹاپ لگا دیں۔
جو لوگ تحریر ان پیج میں کمپوز کر کے بھیجتے ہیں وہ فونٹ کاسائز 15ہی رکھیں۔ غیر ضروری اسپیس نہ دیں اور کسی قسم کی ڈیزائننگ یا ایموجیز، ہیش ٹیگز یا انڈرسکور وغیرہ کا استعمال نہ کریں۔
ان کو، اس کو، اس کے، کیوں کہ، کے لیے، اس لیے وغیرہ ملا کر نہ لکھیں۔ اس لیے، کے لیے، دیے، کیے میں ہمزہ(ء) نہیں آئے گا، اس بات کا خیال رکھیں۔
ان پیج استعمال کرنے والے لوگ چھوٹی ”ی“ کی جگہ ”ے“ کا استعمال نہ کریں وہ یونی کوڈ فارمیٹ میں تبدیل ہوتے ہی اپنی اصلی حالت میں واپس آجاتی ہے۔اظہارِ تمنا، تعجب، اظہارِ افسوس، تنبیہ یا کسی کو مخاطب کرنے کے بعد علامت تاثر (!) استعمال کیجیے۔آخری بات کہ آپ کی تحریر 900 سے 1200 الفاظ پر مشتمل ہو اس سے زیادہ نہیں ہو۔
امید ہے کہ یہ تمام باتیں آپ سب کے لیے معاون ثابت ہوں گی۔ ممبران خیال رکھیں کہ اب کے بعد بھیجنے والی تحریر ان تمام رموز و اوقاف کو مدنظر رکھتے ہوئے وصول کی جائے گی۔ اگر ان تمام باتوں میں سے کسی بھی بات کا خیال نہ رکھا گیا تو تحریر ہرگز فارورڈ نہیں کی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close