پڑھا لکھا پنجاب – ساحر مرزا

ماسٹر صاحب نے لسّی پیتے ہوئے حیرت زدہ نگاہوں سے اس بھرے ہوئے صفحے کی جانب دیکھا، جس پر انہی کے قلم سے لکھے اعداد وشمار تھے، جب کہ دوسری طرف ان کے اداراتی شناختی کارڈ کی ایک کاپی تھی، جس پر لکھا ایک جملہ انہیں مزید ایک ہی خیال میں اُلجھا رہا تھا۔ وہ صبح بلکہ پچھلے چار ہفتوں سے روزانہ اپنا رجسٹر اور بستہ پکڑے نکلتے اور رجسٹر کے صفحات پر ایک ہی طرح کے سوالات کے صرف ایک ہی طرح کے جوابات لکھتے لکھتے تھک گئے تھے، جسمانی طور پر نہیں بلکہ ذہنی واعصابی طور پر۔
جو کچھ سوچا تھا، سنا تھا، پڑھا تھا، سب حقیقت کے منافی تھا۔ اب ان کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ جو دِکھ رہا ہے، وہ سچ ہے یا جو الفاظ سنے تھے، پڑھے تھے اور سمجھے تھے، وہ سچے ہیں۔
ابھی وہ انہی سوچوں میں غلطاں تھے کہ پاس کھڑے فوجی جوان نے کہا، ”ماسٹرجی! دوپہر کے کھانے سے پہلے یہ اگلا گھر بھی رجسٹر پر اُتار لیں، گرمی زیادہ ہے، جلدی کیجیے“۔ ماسٹرجی اپنے خیالوں کی باگ کو دوبارہ سمیٹ کر اپنا بستہ اُٹھائے چل پڑے۔ اگلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، رجسٹر کھولا، پھر سے وہی ہزار بار دہرائے سوالات کو دہراتے ہوئے، صفحے پر بنے مختلف خانے پُر کرتے ہوئے اس گھر کے سربراہ سے پوچھ رہے تھے۔
”کتنی بیٹیاں ہیں؟“
جواب آیا، ”پانچ بیٹیاں“۔
”اور بیٹے؟“
”جی ماسٹر صاحب! اللہ کا بڑا کرم ہے، سات بیٹے ہیں“۔
”اچھا…. بیٹے کتنا کتنا پڑھے ہیں؟“ ماسٹر صاحب روانی سے پوچھتے ہوئے کسی معجزے کو سوچ رہے تھے۔ جواب میں وہ شخص کہنے لگا، ”ماسٹر جی! ہمارے بچوں کو کہاں نصیب یہ کتابیں، کاپیاں اور اسکول کی پڑھائی، بس برا بھلا نام لکھ لیتے ہیں“۔
ماسٹر جی نے تاسف سے اگلا سوال پوچھا، ”اور بیٹیاں؟“ کہنے لگا، ”بس جی! گاؤں کی بی بی خیراں سے قرآن پاک پڑھ چکی ہیں، باقی کے خرچ کہاں سے لاتے ہم غریب لوگ؟“
ماسٹر جی نے رجسٹر بند کیا اور تاسف سے اپنے ادارتی شناختی کارڈ کی پشت پر لکھا جملہ دہرایا۔ ”ہمارا پنجاب، پڑھا لکھا پنجاب“۔
٭……٭……٭