
از قلم: ریما حنا، لاہور
برف زاروں کی بستی میں
چلے تھے قدرت کے نظاروں
سے رعنائیاں کشید کرنے
کچھ لمحے بھاگتی دوڑتی
زندگی کے رقص سے چرانے
فکرِ معاش کو کچھ دن بھلانے
ننھے پھولوں کو زرا گدگدانے
کیا خبر تھی کہ برف کی آڑ میں
موت تاک لگائے بیٹھی ہوگی
کھلتے چہروں سے ہنسی چھین
لینے کو بے تاب کھڑی ہوگی
کیا خبر تھی وہ گھڑیاں ملن
کی گھڑیاں آخری ہوں گی
سنو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کبھی جو ان رستوں سے
گزر تمھارا ہو تو ڈھونڈنا
وہیں کہیں دبا ہواسا لاڈ
ملے گا، بابا کے ہاتھ میں
ننھی گڑیا کا ہاتھ ملے گا
دل میں دبی سی آس کا
اک درد کا درماں ملے گا
کچھ وعدے بھی وہیں
برف کی دبیز تہہ میں
دبے ہوٸے سے ملیں گے
کچھ قسمیں کچھ سپنے
آنے والے دنوں کے
سب وہیں چھوٹ گیا ہے
سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
برف زاروں کی بستی میں
کبھی نا جانا
کہ ان وادیوں میں
موت رقص کرتی ملے گی
وہاں مدد کو پکارتی
بین کرتی آہیں اور سسکیاں
تمھارے استقبال کو آٸیں گی
کیا تم بھلا پائو گے جو گزری ہے
یہاں برف زاروں کی بستی میں
برف زاروں کی بستی میں
بے رحم نظاروں کی بستی میں
برف زاروں کی بستی میں