شاعریصفحہ اول

قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

محسن نقوی

قصّے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

آ دیکھ ترے نام سے موسوم ہیں سارے

بس اس لئے ہر کام ادھورا ہی پڑا ہے

خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے

اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے

حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے

شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک

ورنہ تو ترے عیب بھی معلوم ہیں سارے

سب جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسنؔ

کیا میرے سوا اس شہر میں معصوم ہیں سارے

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close