
از قلم: عروج اصغر، لاہور
سفید چادر سے اپنے بے لباس بدن کو ڈھانپے ہوئی حسین عورت کی پینٹنگ دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں کے کنارے لال ہو رہے تھے۔
اجلی صبح جیسے سفید لباس میں ملبوس وہ وہیں دیوار سے لگی بظاہر اس پینٹنگ کو تکتی جا رہی تھی مگر اس کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔
وہ پہلی بار اسے گلوریا جینز میں ملی تھی۔ نجانے اس میں کیا خاص تھا کہ وہ چپ چاپ اس کی باتیں سنتی رہی۔ اس کی مثال اس جام کی سی تھی جس میں ہر رنگ اور ہر ذائقہ موجود تھا۔
کبھی اسے لگا وہ گرم مشروب ہے جسے پینا محال ہے اور کبھی اتنا سرد کے چھوتے ہی چھوڑ جانے کا ارادہ ہو جائے۔۔ پھر اگلے ہی لمحے وہ اتنا دل فریب لگنے لگتا کہ اسے چکھے بغیر چھوڑ جانے میں اپنی بدقسمتی پر گمان ہونے لگتا۔ اس کے باوجود پہلی نظر میں ہی اس کے دل نے اُسے رد کر ڈالا تھا۔
اس کی عمر ستائیس سال تھی اور وہ پیشے سے ایک بزنس مین تھا۔ دیکھنے میں وہ اپنی عمر سے کم نظر آتا تھا شاید اس میں اس کے دبلے پتلے جسم کا کمال تھا۔ معلوم پڑتا تھا کبھی کسی جم سے اس کا گزر بسر نہ ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ الگ سی تھیں۔۔ گول اور گہری جن میں وہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی جسامت اس کی نفسیاتی کمزوریوں کی بھی گواہی دے رہی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ بتا سکتی تھی کہ وہ بدلہ لینے اور دوسروں کا دل دکھانے سے کبھی گھبرایا نہیں ہو گا۔ وہ بے سبب غصہ کرنے والی بے چین طبیعت کا مالک تھا۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود وہ ایک خاص مقناطیسی شخصیت کا مالک بھی تھا۔
اسے جی آر کی کوئی بھی بات متاثر نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ مایوس دلی سے وہاں بیٹھی نظریں جھکائے بظاہر اسے سن تو رہی تھی مگر اس کے دل و دماغ میں اپنے محبوب کی صورت اور اس کا غم چھایا تھا۔
اس کا وقت بہت قیمتی تھا پھر بھی وہ اس کی باتیں سنتی رہی اور دل میں حسرت کرتی رہی کہ کب یہ ملاقات ختم ہو اور وہ یہاں سے نکل جائے۔ وہ اپنی بہن کے بہت زیادہ اصرار پر کافی امید لیے اس سے ملنے آئی تھی اور اب مایوسی سے اٹھ کر جانے والی تھی۔ وہ اس کے معیار کا نہیں تھا اور اسے اب مزید کچھ کہنے کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اپنی محبت کی ادھوری داستان سنا چکی تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بھی بلا جھجک اپنی برباد محبت کی داستان سناتا رہا تھا۔
وہ اسے سمجھاتی رہی کہ اسے اپنی محبوبہ کو معاف کر دینا چاہیے۔
دراصل وہ اسے باقاعدہ منع کر کے رد ہونے کا احساس نہیں دلانا چاہتی تھی۔ وہ اسے مسلسل یقین دلا رہا تھا کہ وہ کبھی بھی اپنی سابقہ محبوبہ کے ساتھ صلح نہیں کرے گا۔ دراصل وہ اسے دھوکہ دے گئی تھی اور اسے بھلانے کے لیے ہی وہ ماہرہ سے دوستی کرنا چاہتا تھا۔۔
وہ اس کے جواب کا منتظر تھا مگر ماہرہ ابھی تک خاموش تھی۔
اصل وجہ تو اس کے یہاں آنے کی بھی یہی تھی کہ وہ کسی ایسے انسان کی تلاش میں تھی جو اسے اس کی لاحاصل محبت کی جدائی کے صدمے سے آزاد کروا دے۔ من ہی من میں وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کی کوشش کر رہی تھی اور وہ دونوں اس جگہ سے باہر نکل رہے تھے کہ سیڑھیوں سے اترتے ہوئے اس کا پاؤں ڈگمگایا۔ اس نے نادانستہ طور پر گرنے سے بچتے ہوئے جی آر کا بازو پکڑ لیا۔
اس صورتحال سے گھبرا کر جی آر نے پہلے خشک نگاہوں سے اسے اور پھر اپنے اطراف میں یوں دیکھا گویا اسے صرف یہ فکر ہو کہ کوئی کیا سوچے گا۔
اسی لمحے اس نے فیصلہ کر لیا کہ اسے اب جی آر کے بارے میں کبھی سوچنا ہی نہیں۔
وہ پہلا لمحہ تھا جب اس نے اپنے دل میں اس کے لیے باقاعدہ نفرت محسوس کی تھی۔ وہ اسے گھر ڈراپ کرنے جا رہا تھا تو اس کے دل میں آیا کہ یہ شخص عورتوں کو عزت نہیں دیتا اور اس کے جیسی انا پرست عورت اس کے ساتھ چل نہیں پائے گی۔ وہ جیسا نہیں تھا خود کو ویسا دکھانے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا۔
اس کا گھر آنے کو تھا تو راستے میں جی آر نے کہا کہ وہ اس سے دوستی کرنا چاہتا ہے اور اس کے جواب کا منتظر رہے گا۔
اس بار بھی اس کے دل نے جی آر کے لیے مثبت جواب نہیں دیا تھا۔ وہ بس اس انتظار میں تھی کہ کس لمحے اس کا گھر آئے، وہ اس کی کار سے اتر جائے اور کبھی مڑ کر نہ دیکھے۔ وہ اس شخص کے لیے برا نہیں سوچ رہی تھی بس وہ اس سے دور بھاگ رہی تھی۔۔
پھر نجانے کیوں یہ کشمکش اس کے حصے میں آگئی کہ وہ جس بہن کے توسط سے اس سے ملی تھی اس کے بار بار اصرار پر اس سے دوبارہ بات کرنے پر رضامند ہو گئی۔
کبھی اسے لگا وہ اپنے ذہن سے وکیل کو نکالنے کے لیے اس سے بات کرنے پر مجبور ہے۔۔ یا شاید اسے کوئی مجبوری نہیں تھی۔۔ بس وہ کچھ عجیب تھا اور بد قسمتی سے عجیب چیزیں اس کا دھیان اپنی جانب مبذول کروا لیتی تھیں۔ وہ صرف اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
دراصل وہ اس کا اگلا شکار تھا۔ وہ ایک لکھاری تھی اور اسے کچھ لکھنے کے لیے چاہیے تھا۔ وہ اس میں سے کچھ کھوجتی رہی کہ شاید اسے کچھ ایسا مل جائے جسے لکھ کر وہ کمال کر دے۔ جلد ہی اسے احساس ہوا وہ جو دال پکانے کی کوشش کر رہی تھی اس میں پتھر کیا چننے ہونگے، یہاں تو پوری کہ پوری دال ہی پتھر کی تھی۔ اس نے سوچا جو کسی کو ہضم نہ ہو پائے ایسا کھانا پکانا ہی نا انصافی ہے۔
غلام رسول عرف جی آر اور عشرت عرف عاشی کی کہانی نجانے کیوں اس کے دل کو نہ لگی تھی۔ اس نے ٹوٹے ہوئے پل سے اترے ہوئے ان دو مسافروں کی یہ داستان لکھنے سے پرہیز کیا اور اپنے شکار کو کھلا چھوڑ دیا۔ مگر شکار شاید اس پر راضی نہ تھا۔
جس شام اس نے یہ فیصلہ لیا تھا جی آر نے اسی شام سوات جانے کی پیشکش کر ڈالی۔ اس نے صاف بہانہ کر کے جان چھڑا لی اور اگلی دفعہ ایسی کوئی مشکل پیش نہ آئے اس کے لیے اس نے جی آر کو پیغامات کا جواب دینا بند کر دیا۔ پھر اس کی بہن صنم نے فون کر کے اس سے درخواست کی کہ وہ جی آر کے ساتھ سوات چلی جائے تو اس نے سہولت سے منع کر دیا۔ اس کے بعد اس کی جی آر سے کوئی بات نہ ہوئی۔
اس بات کو کئی ماہ گزر گئے اور عبدالوکیل عرف وکیل سے اس کی کئی دفعہ صلح ہو کر لڑائی ہو گئی۔ بالآخر وہ کسی بات سے ناراض ہو کر اس کی زندگی سے چلا گیا اور اس کی زندگی کا سب سے بڑا غم بن کر زندگی میں شامل ہو گیا۔
ماہرہ نے اس پینٹنگ سے نظریں ہٹالیں اور مزید کچھ یاد کرنے سے گریز کرتے ہوئے دائیں جانب پڑی میز کے قریب چلی آئی۔ اس نے صوفے پر براجمان ہوتے ہوئے بے دھیانی میں میز پر پڑی جام اٹھائی۔ ہونٹوں کے قریب آتے ہی اس کی نظر گلاس میں پڑی تو وہ خالی تھا۔ اس نے اداسی سے خالی جام کو دیکھا اور اسے میز پر رکھ دیا۔
اس نے اپنی مخصوص رائٹنگ پیڈ اٹھا کر کھولی اور قلم انگلیوں میں لیے سر گرم ہو گئی۔ اس دفعہ اس کی اگلی شکار وہ خود تھی۔
———-
مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جب میں نے زندگی میں پہلی بار کچھ سوچا اور مانگا تو صرف یہ کہ میں انسان کی بجائے جانور ہوتی۔ مجھے انسان نہیں بننا تھا۔
جانے میں نے ایسا کیوں سوچا تھا!
شاید حساب کے ڈر سے، یا پھر یہ خوفِ الٰہی تھا کہ سزا و جزا کا سوچ کر دل کانپ جاتا تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا رہا مجھے پتہ چلتا رہا میں نے ایسا کیوں چاہا تھا۔۔
میں حدود و قیود سے آزاد جینا چاہتی تھی۔
مجھے قانون اور اصول ہمیشہ سے ناگوار گزرتے تھے مگر میں ایک ایسے گھر میں آنکھ کھول چکی تھی جہاں ان سب باتوں کا بہت خیال کیا جاتا۔ مجبورًا مجھے خود پر خول چڑھا کر جینا پڑا۔
میرے لیے یہ زیادہ شرم کی بات نہیں ہے کہ میں نے ہر وہ اصول توڑا جو نسل انسانی کی بہتری کے لیے بنایا گیا۔۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ خبر کسی کو بھی نہ ہوئی۔
میں نے کسی سے سنا تھا جانور انسانوں سے اس نسبت بہتر ہیں کہ وہ معصوم ہوتے ہیں ان کی نظر میں امیر غریب اور رنگ و نسل کا فرق نہیں ہوتا۔۔ انہیں بس تھوڑا پیار چاہیے ہوتا ہے اور بدلے میں وہ ڈھیر سارا پیار دیتے ہیں۔ شاید اسی لیے میں بھی رتبہ اور نسل کا فرق بھول گئی اور جب سے میں نے ہوش سنبھالا میرے لیے میرا پہلا محبوب میرا بھائی بن گیا۔
وہ مجھ سے محبت کرتا تھا تو بدلے میں میں اس سے بڑھ کر اس سے محبت کرنے لگی۔ ہم مل کر کھیلتے اور ہر شرارت مل کر کرتے۔ اس نے جب سے بولنا شروع کیا تھا، مجھے ماہرہ کی بجائے مِیرا کہہ کر ہی پکارا تھا۔ پھر میرے لیے یہ نام ہی عزیز ہو گیا۔ اس کی دیکھا دیکھی گھر میں بھی سب مجھے میرا کہہ کر بلاتے تھے۔ چونکہ وہ ہم چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس لیے سب کا لاڈلا تھا۔ اس کو نہ ڈانٹ پڑتی تھی اور نہ ہی زیادہ غصے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
جب بھی مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو جاتی تو وہ فورًا مجھے بچانے وہاں چلا آتا اور میری ہر غلطی اپنے سر لے لیتا۔ اکثر میری حصے کی سزائیں بھی اسے بھگتنا پڑتیں جنھیں وہ مسکراتے ہوئے سہتا مگر کبھی اس کی زبان سے یہ نہ نکل پایا کہ اصل خطاکار کون تھا۔
وہ میرے لیے میرا پہلا ہیرو تھا، اس نے مجھے پیار کا مطلب سمجھایا۔ میں دل ہی دل میں اس سے محبت کرتی رہی۔ اس کا نام محبت نہیں تھا مگر اس کا نام میرے لیے محبت سے بڑھ کر تھا۔
جب مجھے مذہب وعقائد کی سمجھ بوجھ ملنی شروع ہوئی تو علم ہوا کہ میری محبت غلط انسان سے ہے۔ پھر میرے اندر بغاوت کی ایک نئی ادا نے جنم لیا اور میں نے اپنی ہم جنس سے کشش محسوس کرنا شروع کر دی۔ میری تمام حدود و قیود سے آزاد فطرت مجھے ہمیشہ نئے سے نئے شوق پیدا کرتی رہی اور یونہی مجھے عائزہ سے محبت ہونے لگی۔ وہ خود سے میری زندگی میں شامل ہوئی اور پھر وہ میری زندگی کا ضروری حصہ بن گئی۔
اس کے باوجود میری نظر ہمیشہ میرے پیارے بھائی اسد پر رہتی اور میرا دل اس کی محبت میں گرماتا رہتا۔ اس وقت بھی مجھے شدت سے احساس ہوا کہ مجھے انسانوں کی بستی سے کہیں دور چلے جانا چاہیے۔۔ میں اس دنیا میں کہیں بھی فٹ نہیں ہو پا رہی تھی اور نہ میری صنف مجھے کوشہ نشینی کی اجازت دے پارہی تھی۔
بہرحال میری محبت بے زبان اور معصوم سی تھی یہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہی تھی سوائے میرے۔۔
پھر اگلا جھٹکا مجھے اس وقت لگا جب مجھے احساس ہوا کہ مجھے سچ میں اپنی دوست سے محبت ہو چکی ہے۔
چھپتے چھپاتے یہ محبت بھی پروان چڑھتی رہی اور وقت بھی گزرتا گیا۔ عائزہ بے وفا تھی وہ میری زندگی سے چلی گئی اور میری شادی کا وقت بھی قریب آگیا۔ اس کے جاتے ہی مجھے پتہ چلا کہ میرا دل تو پھر سے اسد کو لے کر غمگین رہنے لگا ہے۔
وہ مجھ سے ایک سال چھوٹا، خوبصورت اور شرمیلا لڑکا تھا۔ وقت کے ساتھ وہ بدلتا رہا تھا مگر میرے لیے تو وہ صدا سے محبت ہی تھا۔۔
ہر شرارت اور ہر موقع پر ہم اکٹھے ہی تو ہوا کرتے تھے پھر میری شادی کے موقع پر اس کو چپ لگ جانا ایک فطری سی بات تھی۔ جب میری شادی ہوئی تو میرے پاس اپنے شوہر سے نفرت کرنے کی بہت ساری وجوہات تھیں۔ میرے اندر اسد کی محبت روتی رہی اور انتقام میں اس نے بہت سارے روپ لے لیے۔ البتہ اسد سے میں نے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ لیا۔
پھر پہلی بار جب مجھے عبدالوکیل ملا تو مجھے وہی احساس ملا جو اسد کی سنگت میں ملتا تھا۔
وہ محبت جس کا میں نے گلا گھونٹا تھا وہ وکیل کے روپ میں زندہ ہو گئی۔ وقت گزرتے ہوئے مجھ پر یہ واضح ہوا کہ نہ صرف عادتًا بلکہ فطرتًا بھی وہ بالکل اسد جیسا تھا اور کیا ہی قسمت تھی کہ 7 مئی کو ہی دونوں کی سالگرہ ہوا کرتی تھی۔
شروع سے ہی مجھے اس سے ایسی جنونی محبت نہ تھی۔ وہ اچانک سے میری زندگی میں شامل ہوا تھا اور پھر اس کا احساس یوں میرے آس پاس رہنے لگا جیسے وہ میری زندگی میں ہی شامل ہو۔ وہ اسد کے بعد اسد کی طرح یوں میرا ہمدرد بن گیا جیسے اسی کا دوسرا روپ ہو۔
شاید وہ میرا خیال رکھنے ہی میری زندگی میں آیا تھا۔
اس کے آنے سے پہلے میں بہت اداس اور غمگین زندگی گزار رہی تھی اور اپنی شادی شدہ زندگی سے بہت پریشان تھی۔ میرا شوہر کام کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کے دوروں پر رہتا۔ اس کے ہر دور میں کسی عورت سے چکر چلتے اور چرچا پکڑتے رہے۔ میں ان سب حالات سے مایوس ہو کر تنہا اور اداس جینے لگی تھی۔ اس مایوسی کے دور نے مجھے کسی برے چکر میں الجھا ڈالا تھا۔ وکیل میرے لیے مسیحا بن کر آیا تھا اور اس نے مجھے اس برے دور سے باہر نکالا۔
میرے جیون سے زندگی کے تمام رنگ مٹ چکے تھے۔ میں مسکرانا بھول چکی تھی اور خودکشی کی کوشش میں سرگرم رہنے لگی تھی جب اس نے مجھے سنبھالا۔ اس کے پاس مجھے بہلانے اور خوش کرنے کا ہر طریقہ موجود تھا۔ یوں تو وہ مجھ سے عمر میں چھوٹا تھا مگر مجھے یوں محسوس کرواتا جیسے کہ وہ مجھ سے بڑا ہو اور مجھے سنبھال رہا ہو۔ میں بالکل برباد حالت میں اسے ملی تھی پھر اس کے احساس اور ساتھ نے مجھے بدل کر رکھ دیا جس کا مجھے اس کے جانے کے بعد احساس ہوا۔
ہماری پہلی ملاقات ایک آرٹ گیلری میں ہوئی۔ میں اکیلی آرٹ کے فن سے لطف اندوز ہو رہی تھی جب وہ میرے لیے چائے کا کپ لے کر آیا اور اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ اس کا دوست بھی یہاں آنے والا تھا لیکن وہ اب تک نہیں آیا تو پھر یہ چائے میں پی سکتی ہوں، میں اس پر کچھ حیران ہوئی مگر اس کے چہرے پر پہلے سے مایوسی اور اداسی دیکھ کر میں نے اسے مزید اداس کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس سے چائے لے لی۔ اس وقت میرے دل میں اس کے لیے کچھ نہیں تھا میں بس یونہی اس کی باتیں سنتی رہی تھی۔ مگر نجانے پہلی ملاقات پر ہی کیوں مجھے یہ احساس ملا تھا کہ اسے میرے لیے ہی دنیا پر بھیجا گیا ہے۔ میں نے اپنے اس احساس کو ہنس کر ٹال دیا تھا۔
باتوں کے دوران ہمیں پتہ چلا کہ فنون مصوری اور ادب کے ساتھ ہمارا جڑاؤ ایک سا تھا۔ پھر اسی شوق نے ہمیں جوڑ دیا۔
پہلی ملاقات پر ہم میں نمبروں کا تبادلہ نہیں ہو پایا تھا بلکہ جب میرے تعارف پر اسے پتہ چلا کہ میں ایک لکھاری ہوں تو اس نے میرا نام جان کر سوشل میڈیا پر میری پہچان تلاش کی اور اگلے ہی لمحے مجھے میرا پیج دکھا کر یقین دہانی کرنے لگا کہ یہ میرا ہی ہے۔ پھر فیس بک سے ہمارا تعلق بنا اور وہیں سے پروان چڑھا۔
اس کے بعد ہم اکٹھے ہر ادبی محفل پر جانے لگے۔ مجھے نہیں پتہ چلا وہ کب میری زندگی میں یوں شامل ہو گیا جیسے وہ میری فیملی کا ہی حصہ ہو۔ وہ مجھے یوں سنبھالنے لگا جیسے ایک بچے کو اس کی ماں سنبھالتی ہے۔ وہ میری ہر بات، ہر ضرورت، ہر خوشی، ہر غم، ہر پریشانی، بے چینی، ہر مسئلہ، ہر غم، ہر خوف، ہر اذیت اور ہر تکلیف کو سمجھنے لگا تھا اور یہ سب میرے لیے حیران کن تھا۔
میں اپنے غم میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ مجھے پرواہ ہی نہیں تھی، وہ میرے لیے کیا سوچتا ہے۔ میں تو ان دنوں اپنے غم کی کیفیت سے خود بھی انجان تھی۔ وہ میرے لیے موسم سرما جیسا تھا جس سے مجھے ہمیشہ سے پیار تھا۔ اس کی موجودگی کا احساس میرے لیے سکون پیدا کر دیتا۔ اس کے پاس دینے کو پیار ہی پیار تھا۔ اکثر ہم کسی مشاعرے یا کسی ایگزیبیشن پر اکٹھے جاتے تو چور نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر دل ہی دل میں مسکراتے رہتے۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کیا واحیات سوچتے رہتے مگر زبان سے کبھی کوئی لفظ ادا نہ کرتے۔
البتہ میں اس دن چونکی جب ہماری کسی بات کے دوران وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔
”ہم سے تو بہتر جانور ہیں۔۔ انسانوں کو اچھا بننے کے لیے اصولوں پر چلنا پڑتا ہے مگر جانور اچھے نہیں بن سکتے۔۔ کیونکہ ان کو اچھے بننے کی فکر نہیں ہوتی۔۔جو صحیح لگے وہ وہی کرنے لگتے ہیں۔۔ وہ بس جیسے ہوتے ہیں وہ ویسے ہی خود کو دکھاتے ہیں۔۔ مگر انسان کو سوچنا پڑتا ہے۔۔ اچھا بن کر دکھانا پڑتا ہے۔۔ اپنی عزت کی پرواہ کرنی پڑتی ہے۔۔ لوگ کیا کہیں گے کے عذاب سے گزرنا پڑتا ہے۔۔ ہم سے اچھے جانور ہیں نا!“ میں اسے بے یقینی سے دیکھتی ہوئی اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی تھی۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ وہ مکمل طور پر میرا عکس ہے۔ اس کی سوچ اور اس کی فطرت ہوبہو میرے جیسی تھی اور شاید اسی لیے ہم ایک ساتھ تھے۔
اس کے ساتھ رہ کر مجھے پتہ چلا کہ اس دنیا میں ایک ایسی دنیا بھی ہے جہاں پہ اپنے ہی اصول اور اپنے ہی قانون ہیں اور اصولوں اور کتابوں کی باتوں سے ہٹ کر بھی ہم اپنی فطری زندگی جی سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے منہ پر نقاب پہن کر منافقت کی زندگی نہیں جینی پڑتی، ہم اپنی بھی مرضی کر سکتے ہیں۔۔
اور اس زندگی میں مجھے مزہ آنے لگا۔ میری فطرت سے جب میری عقل کا تصادم ہوتا تو میرا جنون اور بڑھنے لگتا۔ میں اپنے جنون کو چھپا کر اپنے جذبات پر قابو پاتی رہی اور میں نے اس پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ میں اس سے کتنا پیار کرتی ہوں۔ پیار کے جذبے میں تو ہم نے بہت کچھ کیا مگر کبھی منہ سے اقرار نہیں کیا۔
محبت کے اقرار کی ضرورت بھی تو صرف انسانوں کو ہی ہوتی ہے مگر ہم تو فطرتًا جانور تھے، بھلا ہمیں اقرار کی کیا ضرورت۔
ہم دونوں شروع میں کم عمر تھے اور شرارتی ہوا کرتے تھے تو ہمارے درمیان ایسے مذاق بھی چلتے رہا کرتے جو عام دوستوں میں کم ہی ہوتے ہیں۔
ایک دن میں نے مذاق میں چہرے پر تھوڑی فکرمندی سجا کر اسے کہا تھا۔
”تم اپنے ساتھ میرا اتنا دل نا لگاؤ۔۔ اگر مجھے تم سے پیار ہو گیا تو میرا کیا ہو گا؟
میں تو بہت نخرے والی ہوں، یہ مصیبت بلکل بھی افورڈ نہیں کر سکتی۔۔ میری انا کہاں جائے گی۔۔ اور میں ہر وقت کسی کی باتیں بھی نہیں مان سکتی۔۔ میرے تو اپنے نخرے ہی بہت ہیں، بعد میں میرا کیا بنے گا؟“
یہ سن کر وہ شرارت سے ہنسنے لگا اور محظوظ ہونے لگا۔
”یہ تو پھر کمال ہو جائے گا۔۔ ایسا ہو جائے تو کتنا اچھا ہو گا۔“ اس پر میں خوب ہنسی اور بے فکری سے کہنے لگی۔ ”ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔“
اس کے کچھ دنوں بعد میں پریشانی سے اسے بتانے لگی۔ ”پتہ نہیں تم نے مجھ پر کیا جادو کر دیا ہے میں ہر وقت تمہارے بارے میں سوچتی رہتی ہوں۔۔ مجھے لگ رہا ہے مجھے تم سے پاگلوں والا پیار ہوتا جا رہا ہے۔“
وہ یہ سن کر شرارت سے ہنسنے لگا اور اس بات کا مذاق بنانے لگا۔ ”اب آپ کا کیا ہوگا؟۔۔ آپ کے تو مزاج ہی کسی سے نہیں ملتے، اب کیا کریں گی۔۔؟“
یہ سن کر میں چڑنے لگی اور بات بدلنے لگی۔
پھر اگلے دن وہ مجھ سے ملنے گھر چلا آیا اور سیدھا کچن میں گھس گیا۔۔ میری ملازمہ آج چھٹی پر تھی اور میں آٹا گوندھ رہی تھی جب اس نے پیچھے سے میرے بالوں میں لگا کیچر اتار کر بال کھول دیے۔ اس پر میں چڑچڑے انداز میں چیخنے لگی۔
”پلیز نہ کرو.. پلیز ایسے نہ کرؤ۔۔ میرے بال باندھو۔ میں آٹا گوند رہی ہوں۔“
اس نے میری منتوں پر بھی بس نہ کی اور نئے نئے تماشے کرنے لگا۔ ہماری آوازوں کے تصادم نے ماحول میں رونق سی بکھیر دی۔
پھر اس نے گانے گا کر چھیڑنا شروع کر دیا۔
عشق سکولِ داخل ہوئی پہلی واری
خورے تو کی ٹونا کیتا میں دل ہاری
وے میں آپ مجاجاں والی
تیرے نال آکھ لڑ گئی۔۔
وہ میرے کندھے سے کندھا ٹکرا کر مجھے اچھے خاصے جھٹکے دے رہا تھا۔
”رب دی سو ڈاڈی، تیرے عشق دی ڈنگی آں ۔۔“
اس نے مذاق میں اتنا تنگ کیا کہ میں چلا چلا کر منتیں کرنے لگی اور اسے منع کرتی رہی۔
وہ گانا چلا کر ناچتے ہوئے مجھے چھیڑتا رہا۔
”تم پاگل ہو گئے ہو۔“ میں تنگ آ کر کہنے لگی۔
”مکھ تیرا چاند دا ٹوٹا سجناں
دل داں توں تھوڑا تھوڑا کھوٹا سجناں۔۔“
اس نے اپنی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا میں اسے دیکھ کے ہنسنے لگی۔
”جب تک جیواں کراں گی تیری تعبداری۔۔
خورے تو کی ٹونا کیتا میں دل ہاری۔۔“
”تمہیں کیا ہو گیا ہے! کیا تماشے کیے جا رہے ہو!“
”آپ خود ہی تو کہہ رہی تھیں کہ میں نے آپ پہ جادو کر دیا ہے۔۔ اب دیکھیں آپ کا جادو میرے بھی سر چڑھ کے ناچ رہا ہے۔“
میں شرمندگی سے مسکرانے لگی تھی۔ پھر وہ بار بار یہی گاتے ہوئے مجھے چھیڑتا رہا۔ بدلے میں میں بھی ہنستی چلی جا رہی تھی۔
”تم میں آج کوئی خاص قسم کا شیطان آ گیا ہے۔۔“
وہ بے فکری سے مسکرا رہا تھا۔ ”ہاں جی، آپ والا خاص شیطان آج مجھ میں آگیا ہے۔“
وہ اکثر ایسے ہی بلاوجہ کسی نہ کسی بات پر مجھے گاتے ہوئے تنگ کرتا اور شرارتیں کیے چلا جاتا تھا۔ ہماری شرارتیں اور بچپنا ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے ایسے مذاق میری بے سبب سی اداسی کو دور کر دیتے تھے۔ وہ ہمیشہ موقعے کی مناسبت سے دل لگانے اور ہنسانے کا سامان پیدا کر دیا کرتا تھا۔
پھر ایک دن میرے شوہر راہ راست پر آگئے اور انہوں نے مجھ سے معافی مانگ لی۔ ہم میں سلوک بننے لگا تو میرے اندر کے انسان نے پھر بغاوت کی اور مجھے بےوفائی کرنے پر مجبور کر دیا۔
میں نے خاموشی سے وکیل کو تنہا چھوڑ دیا۔
اس کے بعد اس پر کیا گزری میں نہیں جانتی۔ نہ اس نے شور کیا نا تماشہ، بس خاموشی سے وہ میری زندگی سے غائب ہو گیا مگر میرے دل میں اس کے لیے وہ محبت اور مقام کبھی کم نہیں ہوا۔
وہ اسد کا دوسرا روپ تھا پھر جس طرح سے شادی کے وقت مجھے اسد کو اپنی زندگی سے نکالنا پڑا اسی طرح ایک بار پھر اپنے شوہر کی وجہ سے مجھے اس انتہائی محبت کرنے والے دوسرے اسد کو بھی چھوڑنا پڑا۔
ماہرہ نے اداسی سے رائٹنگ پیڈ بند کی اور خود سے دور کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ماتھے کو تھام کر کہنی کے ذریعے میز پر سہارا لیا۔
بے خیالی میں اس کا دوسرا ہاتھ پھر سے جام کی جانب بڑھا تھا۔ اس نے جام ہونٹوں سے لگائی مگر جام تو اب بھی خالی تھا۔ اس نے ناراضگی سے اس شیشے کے نازک گلاس کو دیکھا اور نفرت سے دیوار میں مار کر توڑ دیا۔ اسے سب کچھ برا لگ رہا تھا۔ اس کے لیے ہر منظر پیاسا تھا۔ وہ بے چینی سے اپنے اردگرد دیکھ رہی تھی۔
———-
اکثر میں سوچا کرتی تھی کہ اچھا وقت تھم کیوں نہیں جاتا! ہمارے من پسند لوگ ہم سے دور کیوں چلے جاتے ہیں اور ہمیں ناپسندیدہ لوگوں کے ساتھ ہی کیوں جینا پڑتا ہے؟ ہمیشہ کسی سے کوئی رشتہ ہونا ہی کیوں اس کا ہماری زندگی میں مقام طے کرتا ہے؟ کسی سے دور رہ کر اسے یاد کرتے رہنا اور تڑپتے رہنا کیوں اداس لوگوں کو راس آ جاتا ہے؟
عبد الوکیل کی یادوں نے کبھی مجھے تنہا نہیں رہنے دیا تھا۔ میں نے صبر کر کے اس کے بغیر رہنا سیکھ تو لیا تھا مگر مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایک دن میرا یہ صبر ٹوٹ جائے گا۔
اس سے جدا ہوئے کچھ سال گزر تھے جب میرے شوہر مجھے تنہا چھوڑ کر لمبے عرصے کے لیے دوسرے ملک کو روانہ ہو رہے تھے۔ میں انھیں روکتی رہی مگر وہ اپنی دھن میں مست تھے انہیں میری کوئی بات سنائی نہیں دے رہی تھی۔ پھر اچانک میرے دل نے ایک فیصلہ کیا اور مجھے چپ لگ گئی۔ میں خاموشی سے ان کو جاتے دیکھتی رہی۔ میں جانتی تھی کہ اب وہ دو سال سے پہلے نہیں آ پائیں گے۔ میں اس جدائی کی اذیت سے بچنے کو انہیں دل سے نکالنے پر مجبور ہو چکی تھی۔
ان کو دل سے الوداع کہنے کے بعد میرے دل میں پھر سے وکیل کی محبت لوٹ آئی۔ میں نے بے چینی سے پاگلوں کی طرح اس کی تلاش شروع کر دی۔ پھر ایک دن وہ مجھے مل گیا۔
پہلے وہ ایک خوبصورت نوجوان کی صورت میں ایک معصوم جانور تھا جو کبھی کھل کر باہر نہیں آیا تھا مگر اب اس کے اندر کا جانور بڑا ہو چکا تھا۔ وہ اس زندگی میں میری ہی طرح اداس اور پریشان تھا اور ویسا ہی تنہا۔ اسے اتنے سالوں بعد دیکھ کر مجھے لگا وہ نا تو اسد کا دوسرا روپ تھا اور نا ہی وہ پرانا عبدالوکیل۔۔ وہ تو میرا عکس تھا۔۔ تنہا اور اداس۔۔
ہم دونوں ایک دوسرے کو پانچ سال بعد ملے تو یوں کہ جیسی ہماری آنکھیں دیکھ ہی نہ رہی ہوں اور ہم ایک دوسرے کا چہرہ چھو چھو کر ایک دوسرے کے ہونے کا یقین کر رہے تھے۔
نہ کوئی شکوہ کیا گیا نہ کوئی شکایت۔۔ ہم بس ایک دوسرے کے گلے لگ کر روتے رہے۔۔ اسے میری ہر بات یاد تھی اور مجھے اس کی۔۔ کئی گھنٹے رونے کے بعد ہم خوب ہنسے اور بچھڑنے کے بعد کے بیتے دنوں کی باتیں کر کے ایک دوسرے کو تسلی دی کہ ہمارے درمیان کوئی بھی خلاء باقی نہ رہا۔ تب مجھے احساس ہوا مجھے اس سے کتنی شدید محبت تھی۔
اس میں حیرانی والی کیا بات تھی، آخر ایک جانور کو جانور سے ہی محبت ہو سکتی تھی۔
میں اپنے دل میں اس کے لیے جنونی محبت پا کر خود پر ہی حیران تھی۔ شاید میں اس بات کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔ پھر میں روز اس بات کو جھٹلاتی اور بے فکر ہو کر سو جاتی۔
کبھی میں خود کو بہانے کر کے بہلاتی کہ اس سے محبت کی پہلی وجہ میرے پیارے بھائی اسد جیسا ہونا تھی۔۔ اور دوسری وجہ یہ کہ مجھے خود سے بہت پیار تھا اور وہ فطرتًا میری طرح ہی تھا۔ مجھے اس میں اپنا آپ نظر آتا تھا۔ مگر یہ مکمل سچ نہیں تھا دراصل اسے چاہنے کی بہت ساری اور وجوہات بھی تھیں۔
وہ میری زندگی میں پہلا انسان تھا جو مجھے اپنی بےضرر سی محبت کا احساس دلانے میں کامیاب ہوا تھا۔ اس سے پہلے مجھے ہمیشہ محبت نے خوفزدہ کیا تھا۔ میری زندگی میں وہ واحد انسان تھا جو میری ہر بات دل سے سنتا تھا اور میری ساری الٹی سیدھی غلطیوں کو ہنس کر ٹال دیتا تھا۔ وہ مجھے بات بات پر جج نہیں کرتا تھا۔ مجھے اس کے آگے اپنا درد بیان نہیں کرنا پڑتا تھا وہ بغیر کہے میرے غم سمجھ لیتا اور مجھے یوں سنبھال لیتا کہ اس کا وجود ہی میرے لیے مرہم بن جاتا۔
اس کے لب و لہجے سے صرف اور صرف محبت برستی تھی اور اس کا احساس مجھے جنت میں موجودگی کا احساس دلاتا۔ وہ مسکرا دیتا تو یوں لگتا جیسے میرے ہر طرف پھول کھل گئے ہوں اور میرا جی چاہتا ان پھولوں کو خود سے لگا کر بوسے لیتی رہوں۔
وہ بے سبب میرا خیال رکھتا اور اپنی بے لوث محبت اور توجہ مجھ پر لٹاتا میں اسے بدلے میں صرف اپنا ساتھ دیتی اور اس کی محبت کو خود میں سمیٹ لیتی۔
پہلی دفع بھی ہماری محبت اپنی انتہا پر پہنچی تھی مگر مزید انتہاؤں پر جانے سے پہلے ہی میرے اندر کے پلے ہوئے انسان نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں تھیں اور اپنے شوہر سے وفا کے لیے میں اس کی زندگی سے غائب ہو گئی تھی۔
اس کے بعد میں نے انسان بننے کی جتنی کوشش کی اس انسان نے مجھ سے مزید گناہ کروائے اور میں انسانوں کی بستی میں بھٹکتی رہی۔ کئی سال بھٹکنے کے بعد مجھے انسانوں کی خوفناک بستی میں حیوانوں کی قدر و قیمت کا احساس ہو چکا تھا اس لیے اب میں ارادہ کر چکی تھی کہ کچھ بھی ہو میں اسے چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔
وہ بھی میری طرح اس دنیا میں اتنا پریشان جی رہا تھا کہ ہمیں خوش رہنے کے لیے مصنوعی سہارے درکار تھے۔ جب اسے احساس ہوا میں دوبارہ اسے چھوڑ نہیں جاؤں گی تو اس نے خوشی سے محبت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔
ہم میں پہلے سے بھی بڑھ کر اچھی دوستی ہو گئی۔
ایک دن وہ مجھے سمجھانے لگا کہ مجھے اپنی بورنگ زندگی میں کچھ نیا کرنا چاہیے۔ میں پوچھنے لگتی ایسا کیا کروں! تو اس کے پاس سوائے ایک پراسرار مسکراہٹ کے کچھ نہ ہوتا۔ میں اس کے سوال کا جواب تلاش کرنے لگی۔
ان دنوں میں اس سے اپنی ہر بات بانٹ لیا کرتی۔ پھر میں نے محسوس کیا میں کسی کی تعریف کرتی تو اسے بہت برا لگتا۔ ایک دن وہ یونہی کسی بات سے مجھ پر بگڑنے لگا۔ اگلے ہی لمحے اسے میری ڈری سہمی صورت دیکھ کر جھٹکا پڑا اور وہ بلکل شانت ہو گیا۔ گویا اسے کچھ ہوش سی آئی اور وہ میرے چھوڑ جانے کے خیال سے ڈر گیا۔ وہ محبت سے مجھے سمجھانے لگا اور بات بدل کر اچھی اچھی باتیں کر کے مجھے بہلاتا رہا۔
میں پہلی بار اسے اس روپ میں دیکھ رہی تھی اور اس کے غصے سے گھبرا گئی تھی۔ میں کچھ بول نہ کر پا رہی تھی پھر بھی میں نے مسکرانے کی ناکام کوشش کی اور بہانے سے وہاں سے جلدی چلی آئی۔
اگلے دن اس نے خود سے بات کا آغاز کیا اور پھر ملنے گھر چلا آیا۔ جیسے بھی ہو سکا وہ مجھے محبت دے کر سب بھلانے کی کوشش کرتا رہا۔
اکثر جب وہ خاموش اور بلکل پرسکون بیٹھا کچھ سوچ رہا ہوتا تو میں اسے خاموشی سے تکتی رہتی۔ اس کا دیدار ہی میری نگاہوں کی غذا تھی۔ ایسا لگتا اس سے پہلے ان آنکھوں نے کبھی کچھ شوق سے نہ دیکھا تھا۔ میری نظریں بس اسی پر ٹکی رہتیں اور میرا من سکون پا رہا ہوتا، گویا یہ اسی کی صورت دیکھنے کو بنی تھیں۔
جب وہ مجھے یوں خود کو دیکھتے پاتا تو اس کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور وہ پراسرار انداز میں مسکراتا چلا جاتا۔
میں بھی بدلے میں محبت سے مسکرا دیتی اور وہ مجھے باتوں میں الجھا کر تنگ کرنے لگتا۔
پھر اکثر ایسا ہونے لگا کہ ہم میں سب ٹھیک چل رہا ہوتا کہ اچانک اسے کسی بات سے شک ہوتا اور وہ غصے سے مجھے سنانے لگتا۔ میں اپنی صفائی میں بولتی رہ جاتی۔ پھر وہ اور تلخ لہجے میں مجھ پر غصہ نکالنے لگتا۔ کبھی کبھی میں چپ کر کے اسے دیکھتی رہتی کہ وہ غصے میں مجھے برا کیوں نہیں لگتا۔۔ وہ میرے دل سے اتر کیوں نہیں جاتا۔۔ یوں لگتا جیسے وہ اپنی ہر ادا سے مجھے اپنا دیوانہ کر رہا تھا۔ کبھی ڈر سے اور کبھی محبت سے میں چپ چاپ اسے دیکھتی رہ جاتی۔
ایک دن وہ غصے میں کچھ زیادہ بول گیا تو میں اپنی گھبراہٹ اور بےبسی کی کیفیت پر قابو پا کر پھٹ پڑی۔
”تم بہت شک کرنے لگے ہو.. اس طرح تو تمھارے ساتھ کوئی نہیں رہ پائے گا۔“
اچانک سے وہ ٹھنڈا پڑ گیا جیسے اسے ہوش آ گئی ہو۔ وہ خود پر حیران ہونے لگا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
وہ صفائی پیش کرنے لگا کہ میں اس لیے ایسا کہہ رہا ہوں۔ مگر پھر میری کوشش ہوئی کہ میں جلدی سے وہاں سے نکل لوں۔
وہ میری فطرت سمجھ چکا تھا اس لیے اس نے بھی اس لمحے تک مجھے وہاں سے اٹھنے نہیں دیا جب تک میں اس کا سخت انداز بھول نہ جاؤں۔
اس دن میرے سنا دینے کے بعد وہ کچھ محتاط ہو چکا تھا پھر اسے غصہ بھی آتا تو وہ جلد ہی خود پر کنٹرول کرتا اور اللہ حافظ کہہ کر چل دیتا۔
کبھی مجھے وہم ہوتا کہ جیسے وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔ پھر اگلے ہی دن وہ خود فون کرتا اور یوں باتیں کرتا چلا جاتا جیسے کبھی ہمارے درمیان کوئی تلخ کلامی ہوئی ہی نہ ہو اور بہانے سے گھر بھی چلا آتا۔ جب کبھی میں کچن میں مصروف ہوتی اور کچھ بنا رہی ہوتی تو وہ سامنے کھڑا باتیں کرتا چلا جاتا اور کبھی کسی کام میں ہاتھ بٹانے لگتا۔
اس کی طبعیت میں گرمی اور غصہ اس قدر تھا کہ اکثر وہ پیچھے سے ہی نالاں حال آتا اور بظاہر مسکرا کر خود کو پرسکون دکھا رہا ہوتا مگر جوں ہی کوئی بات اسے بری لگ جاتی تو ایک لمحے میں اس کا موڈ بدلتا اور وہ اپنا غصہ کنٹرول نہ کر پاتا۔
ایک دن وہ یونہی غصہ کرنے لگا تو میں نے اسے گلے سے لگا لیا۔ وہ یکدم ٹھنڈا پڑنے لگا۔ ”اب یہ کیا کر رہی ہیں؟“ وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔
میں نے کوئی بھی جواب دیے بغیر اسے تب تک گلے لگائے رکھا جب تک وہ غصے کی وجہ بھول نہیں گیا۔
ایک دن اس نے فون کر کے بتایا میں آج تمھیں اپنے پاس ملنے بلاؤں گا۔ میں منتظر رہی کہ ابھی اس کا پیغام آئے گا اور میں بار بار وقت دیکھتی رہی۔
جوں جوں وقت گزرتا رہا میری بےچینی بڑھتی رہی اور مجھے شک ہونے لگا کہ وہ آج ملنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ رات دو بجے اس نے کہا۔ ”پھر کبھی سہی۔“
یہ سن کر میرا دل کچھ عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا تھا۔ اگلے دن کی شام اس کا فون آیا اور اس نے بتایا وہ ایئرپورٹ پر ہے اور لندن جا رہا ہے وہاں پہنچ کر بات کرے گا۔ میں نے شکوہ کیا کہ تم مجھے مل کر کیوں نہیں گئے تو وہ رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا۔ ”میں نے کوشش کی تھی پر میں جاتے ہوئے تم سے ملنے کی ہمت نہیں کر پایا۔۔ اگر ہم ملتے تو پھر شاید میں جا نہ پاتا۔ مگر میرا جانا بھی ضروری ہے۔“
میں نے زیادہ کچھ نہیں کہا اور اس نے بھی بہانے سے فون بند کر دیا۔
پھر میں کئی گھنٹے روتی رہی مگر محبوب کی جدائی کا غم اتنی جلدی دل سے نکلنا ممکن نہیں تھا۔
وہ کمانے کے لیے مجھ سے دور جا چکا تھا اور میں اپنی تنہائی سے نجات کے لیے اسی کے ساتھ کی ضد میں پڑ چکی تھی۔ جدائی کی شدید اذیت سہنے کے بعد کسی نہ کسی لمحے میں خود سے ہار جاتی اور مجھے احساس ہوتا کہ مجھے یہ ضد چھوڑ دینی چاہیے۔ یہ احساس ہوتے ہی میں سمندر میں تیرنے کو پاؤں مارنے لگتی اور خود کو اس اذیت کی انتہا سے باہر نکالنے کی کوشش کرنے لگتی۔
اکثر میں قصہِ یوسف سنا کرتی تھی تو زلیخا کی تڑپ کا احساس پا کر سوچا کرتی کہ زلیخا نے اتنی بے رخی اور جدائی سہہ کر بھی اس جانب سے اپنا دھیان کیوں نہیں ہٹا لیا اور پھر مجھے بھی اس صورتحال میں یہی حل نظر آتا۔ میں اس جدائی کی شدید اذیت سے بچنے کو اپنا دھیان بٹانے نکل پڑتی۔
اسی سلسلے میں میری جی آر سے پہلی ملاقات ہوئی اور میں اسے رد کرنے کے بعد دو بار پھر ایسی ہی کوششوں میں ناکام ہو کر اپنی دنیا میں پلٹ آئی۔ مجھے سمجھ آ گیا کہ جب عشق ہو جائے تو پھر محبوب کے سوا آنکھوں کو اور کچھ نہیں بھاتا۔ قسمت نے مجھ پر کیا ستم کیا تھا کہ پہلی بار جس سے محبت ہوئی وہ میرا بھائی تھا جسے اپنانا ناممکن تھا اور دوسری بار جو اس کے جیسا ملا تو اسے حاصل کرنا تو ناممکن تھا ہی اور پھر وہ اتنی دور چلا گیا کہ ہم چاہ کر بھی یہ دوریاں مٹا نہیں سکتے تھے۔
اس نے لکھتے لکھتے قلم روکا تھا۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ اس نے سر جھکا کر دل میں بھرے درد کو محسوس کیا تھا۔ کوئی نہیں جان سکتا تھا کہ یہ ناول اس نے قلم میں بھری سیاہی سے نہیں بلکہ اپنے کلیجے سے رستے خون سے لکھا تھا۔ اس میں لفظوں کی جگہ اس نے اپنے جذبات پرو ڈالے تھے۔ وہ دھیرے دھیرے سانس لیتے ہوئے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
———-
انسانوں کی بھیڑ میں سب سے الگ ہونا بھی تو ایک سزا ہی ہے اور میں مسلسل یہ سزا بھگت رہی تھی۔ جانوروں اور انسانوں میں ایک اور فرق بھی مجھے اب سمجھ آیا تھا کہ انسان کو زیادہ سے زیادہ کمانے کی فکر رہتی ہے اور بہتر سے بہترین کی کوشش بھی کرتے رہنا پڑتی ہے پر جانور ان سب فکروں سے آزاد ہوتے ہیں۔
شاید اسی لیے انسان میں لالچ ہوتا ہے اور اسے بےوفائی کرنی پڑتی ہے، مگر جانور کو کوئی لالچ نہیں ہوتا اس لیے وہ بےوفا نہیں ہوتا۔۔
پہلے اسد سے محبت ہو جانا اور شادی ہو کر اس سے دور چلے جانا، پھر عبدالوکیل کا میری زندگی میں دو بار آ کر چلے جانا، یہ سب میرے لیے بہت دردناک تھا۔
میں اس درد کو تنہا سہہ نہیں پا رہی تھی تو مجبوراً میں نے اسے بتا دیا کہ میں اس سے بےحد محبت کرتی ہوں اور اس کے بغیر رہ نہیں پا رہی۔ مجھے لگا تھا اسے بتا دینے سے میرے دل سے اس کا جنون ختم ہو جائے گا یا وہ مجھے تسلی دے گا کہ وہ جلد لوٹ آئے گا اور مجھے کچھ سکون مل جائے گا۔۔ مگر یہ سن کر الٹا وہ بھی اس جنون میں تڑپنے لگا۔
ہر گزرتے وقت کے ساتھ جدائی کا غم میرے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ میں اس صدمے کو بھلانے کو کہ وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا ہے اپنا دھیان کہیں اور لگانے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر اس کوشش میں مجھے جس اذیت سے گزرنا پڑ رہا تھا یہ میرے لیے لوہے کی کنگھی سے بنے بستر پر گھسیٹے جانے کے برابر تھا۔
اسے وہم ہوا کہ میں اسے اب چھوڑ دوں گی تو وہ میرا پیچھا کروانے لگا۔ ایک ان اسے پتہ چلا میں کسی اور سے دوستی کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
اس نے مجھے فون کر کے دوستانہ انداز میں جھاڑ پلائی۔ ”تم ہہت ڈرامے دیکھنے لگی ہو۔۔ ڈرامے دیکھنےکم کرؤ۔“
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیوں ایسا بول رہا ہے۔
پھر اس نے چند گھنٹوں بعد ویڈیو کال کی تو میں اس کی صورت اور آنکھیں دیکھ کر سکتے میں آگئی۔
اس کی صورت بخوبی اس کے دل کا حال بیان کر رہی تھی۔ وہ مجھے بات پر بات لگا رہا تھا اور خود پر کنٹرول بھی کر رہا تھا۔ اس کا انداز کچھ محتاط تھا گویا اسے ڈر تھا کہ میں کسی بات کا بہانہ کر کے اسے چھوڑ ہی نہ دوں۔ اسے مجھ سے امید تھی کہ میں اس سے بے وفائی نہ کرؤں اور اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لوں۔ اس کا انداز چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ ہماری محبت پھر سے دوستی میں تبدیل ہو۔
اسے دیکھ کر مجھے ہوش آئی کہ یہ میں کیا کرنے چلی تھی۔ مجھے اس سے بےوفائی کرنے کے احساس سے خود سے نفرت ہونے لگی۔ میں تنہائی میں بیٹھ کر پاگلوں کی طرح روتی رہی۔
میں نے اسے صفائی پیش کی کہ اس کی جدائی کی وجہ سے میں اپنا دل کہیں اور لگانے پر مجبور ہو گئی تھی۔
وہ مجھے باتوں سے اذیت پہنچا کر سکون لیتا رہا اور میں روتی رہی۔ کچھ دن لگے مگر اسے سمجھ آگئی کہ ہم دونوں ہی اپنی جگہ بہت اذیت میں ہیں۔
اس نے میری اذیت کو کم کرنے کو اپنی طرف سے جتنا ہو سکے خود کو میرے لیے دستیاب رکھنے کی عادت بنا لی۔ میں نے بھی اس کی خوشی کے لیے ہر وہ کام اور راستہ چھوڑ دیا جس سے اسے تکلیف ہوتی تھی۔
میں نے اپنی ان سہیلیوں سے ملنا کم کر دیا جن سے اسے مسئلہ تھا۔ پھر ہم میں سب ٹھیک ہو گیا۔
ایک دن بلاوجہ ہم میں لڑائی ہو گئی اور ہم میں بات چیت بند ہو گئی۔ اسے شک ہوا کہ میں اسے چھوڑ چکی ہوں تو وہ پھر سے مجھ پر نظر رکھوانے لگا۔
اسے پتہ چلا کہ میں اسے یاد کر کے روتی رہتی ہوں تو اس نے بہانے سے صلح کر لی۔ مگر اس کا خوف اتنا طاقتور تھا جو بار بار ہمارے بیچ آتا ہی رہا اور نا کبھی اس کا شک ختم ہوا کہ میں اسے چھوڑ جاؤں گی اور نہ اس نے کبھی میرا پیچھا کروانے سے خود کو باز رکھا۔
جب اس کا شک ختم نہ ہوا تو تنگ آکر اس نے خود ہی بہانہ کر کے قطع تعلق کر لیا۔
———-
سفید باتھ روب میں ملبوس وہ واش روم کے قدآدم آئینے کر سامنے کھڑی خود کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ اسے آئینے میں اپنی جگہ وکیل کا عکس نظر آرہا تھا۔
وہ اپنا ہاتھ آئینے پر رکھ کر خود کو گھور رہی تھی۔ پھر وہ بےحال سی آئینے سے ماتھا لگائے شدید غم کی کیفیت میں آنسو بہانے لگی۔
اس کے کھلے بالوں کو کوئی سہلاتا رہا وہ روتی چلی گئی۔
کافی دیر بعد اسے ہوش آئی تو اس نے آنسو پونچھ لیے اور پلٹ گئی۔
اس نے آج خود کو پرانے دنوں کی یاد میں مشغول پا کر خود کو بہلانے کی بہت کوشش کی تھی۔ عمومًا وہ نیند کی دوائی کے اثر میں رہا کرتی تھی مگر آج اس نے دوائی نہیں لی تھی اور وہ پریشان ہو رہی تھی۔
اس نے ایک سائیڈ پر سجی کاسمیٹک کی چیزوں میں سے شاورجیل کی بوتل اٹھائی اور آئینے پر دے ماری۔ آئینہ ٹوٹتا دیکھ کر اسے بہت سکون ملا تھا۔
وہ اطمینان بھری مسکراہٹ لیے واش روم سے باہر نکل آئی تھی۔ جونہی وہ اپنے بیڈ روم میں داخل ہوئی تو اسے وکیل اور میرا کہنیوں کے سہارے فرش پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے نظر آئے تھے۔ وہ ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے مخاطب تھے۔
اسے یاد آیا جب کبھی بجلی کی سپلائی بند ہوا کرتی تھی تو گرمی سے بےچین ہو کر وہ فرش پر یوں آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے۔
اس نے یادوں سے خود کو باہر نکالنے کی کوشش کی تھی۔
وکیل سے تعلق ختم ہونے کے بعد پہلے پہل تو اس نے خود کو سنبھال لیا تھا مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ غم ناسور بن کر اسے اندر ہی اندر کھاتا چلا گیا تھا۔
اس اذیت نے اسے اتنا بےحال کر ڈالا تھا کہ ڈاکٹر نے اسے نیند کی دوا استعمال کروانا شروع کر دی تھی۔ وہ تین ماہ سے گھر پر بند ہو کر رہ گئی تھی اور اب اس دور سے باہر آنے کے لیے دوائی لینا چھوڑ رہی تھی۔ جب بھی وہ دوائی لینا چھوڑتی تو اسے وکیل کی یادیں پاگل کر دیتی تھیں۔ آج بھی وہ اسی عذاب سے گزر رہی تھی۔
اس نے سر کو جھٹکا اور اپنی واڈروب سے کپڑے لے کر تبدیل کرنے چلی گئی۔ جب وہ کمرے میں لوٹی تو دوپہر کے بارہ بج رہے تھے۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنے ائیررنگ اٹھائے اور پہننے لگی۔ پہنتے ہوئے اچانک سے ایک اس کے ہاتھ سے نکل کر فرش پر گرا تو وہ اٹھانے کو جھکی۔ اب وہ اسے نہیں مل رہا تھا۔ وہ پریشانی سے فرش پر بیٹھ کر بیڈ کے نیچے تلاش کرنے لگی۔
اچانک اسے یاد آیا وہ اور اسد اکثر بچپن میں بیڈ کے نیچے چھپ کر باتیں کیا کرتے تھے۔ ایک بار اس نے یہ وکیل کو بتایا اور کہا کہ وہ اسے اپنے بھائی جیسا لگتا ہے تو وہ غصے اور ناراضگی سے کہنے لگا۔
”میں نہ تو تمھارا بھائی ہوں اور نہ کبھی بننا چاہوں گا۔۔ تم مجھے بس وہ سمجھو جو میں تم کو بن کر دکھانا چاہ رہا ہوں۔“
اس پر وہ ناسمجھی سے اسے دیکھ کر سمجھنے کی کوشش میں مسکراتی رہ گئی تھی۔ وکیل نے اسے سوچوں میں دیکھ کر دھیان بٹانے کی کوشش کی تھی کہ کہیں وہ اس بات کی گہرائی میں ہی نہ چلی جائے۔ آخر سوچنا ہی تو اس کا پیشہ تھا۔
اس نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور بیڈ کے نیچے لے گیا تھا۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
”ہمیں خوش رہنے کے لیے نئی یادیں بنانی پڑے گی ناں!“
وہ دونوں بیڈ کے نیچے چھپ کے باتیں کرتے ہوئے ہنستے رہے تھے اور وہ سوچتی رہی کہ بچپن اور جوانی میں اتنا سا فرق ہے کہ ہم بچپن میں ہر الٹا کام بھی خوشی سے کر کے مزہ لے رہے ہوتے ہیں اور جب سمجھ آجاتی ہے تو کچھ بھی کرتے ہوئے ہم سوچتے ہیں شرماتے ہیں اور کرنے سے پہلے ہی خود پر ہنستے بھی ہیں۔۔
پر وہ تو فطرتًا جانور تھے، انہیں ان سب باتوں سے کیا لینا دینا۔ وہ کسی بھی وقت کچھ بھی ایسا کرنے کو تیار رہتے تھے جو کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ انہوں نے ساتھ مل کر ہر وہ الٹا سیدھا کام کیا تھا جو نہ تو کوئی بچپن میں کر سکتا ہے اور نہ سمجھ بوجھ ہوتے ہوئے۔۔
وہ پھر سے اسے یاد کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔ وہ زارو قطار روتی چلی گئی تھی۔
اچانک اسے ہوش آئی اور وہ وہاں سے اٹھ گئی۔
اس نے سوچا کہ میں اس کی وہ باتیں ہی کیوں یاد کرتی ہوں جو مجھے رلاتی ہیں۔ پھر اچانک سے وہ اس کی وہ باتیں یاد کرنے لگی جو اس کو ہمیشہ برے وقت میں مسکرانے پر مجبور کر دیا کرتی تھیں۔
اکثر ان کی شرارتوں میں کسی ایک کو چوٹ بھی لگ جایا کرتی تھی۔
ایک دن وہ اسے تنگ کرنے کو گدگدی کر کے ہنسا رہا تھا اور وہ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اسی اثناء میں وہ صوفے سے گرنے لگا تو اس نے گرتے گرتے میرا کو پکڑ لیا۔ وہ اس پر یوں گری تھی کہ وکیل کی کمر زور سے فرش میں جا لگی۔ وہ اتنا برا ایک دوسرے میں اٹکے ہوئے تھے کہ میرا کا ہاتھ سمیت بازو اس کے نیچے دبا ہوا تھا اور وکیل سے اٹھا نہیں جا رہا تھا۔ بمشکل وہ وہاں سے اٹھے تو میرا درد سے کراہ رہی تھی۔ وہ بھی اٹھتے ہوئے اپنی کمر رگڑتے ہوئے ہنستا رہا تھا۔
”ہائے میری جوانی کو آپ کی نظر لگ گئی۔۔“ اسے معلوم تھا کہ میرا اس پر ہی غصہ کرئے گی تو اس نے اپنا درد چھپاتے ہوئے بات مذاق میں ٹال دی۔
اس نے ناراضگی سے وکیل کو آنکھیں دکھائی تھیں۔ ”میں کیوں تمھیں نظر لگاؤں گی؟
وہ فکرمندی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”کہیں زیادہ تو نہیں لگ گئی!“
وہ اسے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی اور اسے نئے سے نئے مذاق سوج رہے تھے۔ وکیل نے دیکھا تو اس کی کلائیوں میں پہنی کچھ چوڑیاں ٹوٹ کر اسے لگ گئی تھیں۔ اب وہ جو درد سے کراہتے ہوئے ڈرامے کر رہا تھا جلدی سے اٹھ کر اس کو ہاتھ سے پکڑ کر واش روم لے گیا اور اس کی کلائی دھو دھو کر چیک کرنے لگا کہ کوئی کانچ اندر نہ رہ گیا ہو۔ وہ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی کہ اب اس کی کمر کی درد کہاں گئی۔
وکیل کے چہرے پر اب سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے میرا کی کلائی پر دوائی لگا کر تسلی کی تھی۔ بعد میں وہ اسے پوچھتی رہ گئی کہ تمھاری کمر درد کا کیا ہوا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔
”مجھے کچھ نہیں ہوا۔۔ میں ٹھیک ہوں۔“
آج وہ اس کی اچھی یادوں میں بھی غم محسوس کر رہی تھی۔
اسے قصہِ یوسف میں بوڑھے باپ کا بیٹے کی جدائی میں رو رو کر آنکھیں کھو دینا کبھی سمجھ نہیں آتا تھا کیونکہ اس دنیا میں بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو کھو کر بھی جیتے ہیں اور وہ یوں رو رو کر آنکھیں نہیں کھو دیتے۔ مگر آج اسے اس محبت کی شدت سمجھ آئی تھی جو کسی بھی معشوق کو رلا رلا کر اندھا کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ وہ محسوس کر رہی تھی کہ جلدی ہی وہ بھی اپنی بینائی کھونے والی ہے۔
وہ ہر وقت اسے یاد کر کے اتنا روتی تھی کہ کبھی کبھی اسے لگتا اسے سزا ملی ہوئی ہے۔ یا تو وہ سوتی رہتی تھی یا پھر روتی رہتی تھی۔
اس نے وکیل کی یادوں سے باہر نکلنے کو کچھ الگ کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔
وہ آج نیند کی دوائی نہ لینے پر پچھتانے لگی۔ کبھی نا کبھی تو اسے ان گولیوں سے جان چھڑانی تھی۔ اتنی جوانی میں وہ دوائیوں پر لگ گئی تھی یہ اس کے لیے پریشانی کا باعث تھیں۔ وہ نشے میں کار ڈرائیور اور بہت سے دوسرے کام نہیں کر سکتی تھی۔ اب وہ دوائی کے بغیر اس صدمے سے باہر نکلنے کے منصوبے بنانے لگی۔
———-
بعض اوقات ہمارے دماغ میں آنے والے کچھ سوال جتنے سادہ ہوتے ہیں ان کے جواب اتنے ہی اذیتناک ہوتے ہیں اور ان کا جواب ہمارے دل کو دینا پڑتا ہے۔ نجانے یہ کیسی ناانصافی ہے کہ کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی ہے۔
اکثر جب وہ یوسف اور زلیخا کی محبت کی داستان سنتی تو سوچا کرتی کہ نجانے زلیخا پر کیا گزری ہو گی؟ پھر بدقسمتی سے اسے اس سوال کا جواب پانے کو خود زلیخا کی جگہ آنا پڑا۔ اس نے ایسا کبھی نہیں چاہا تھا مگر پھر بھی اسے خود کو اسی خوفناک مقام پر دیکھنا تھا۔
کسی زندہ انسان کا ایک ہی بار موت کی اذیت سہنا اور مر جانا آسان ہے مگر زندہ رہتے ہوئے روز موت جیسی زندگی گزارنا کتنا اذیت ناک ہے یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس کا محبوب اس سے بچھڑ جائے اور وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ تڑپ کر جی رہا ہو۔
وہ اکثر سوچتی کہ اسے ایسے انسان سے محبت ہی کیوں ہوئی جسے بار بار اس سے دور جانا تھا۔ اس نے اس حقیقت کو بدلنے کو اپنا محبوب بدلنے کا بھی کئی دفعہ سوچا مگر اس کا بیچارہ وفادار دل اس کا کبھی ساتھ نہیں دے پایا تھا جسے صرف تڑپنے کی ہی سزا ملی ہوئی تھی۔ اس نے سوچا دل کو تو عمر قید کی سزا ہے تو آخر باقی کا جسم کیوں ساتھ میں یہ سزا کاٹے۔ اس نے خود کو اس اذیت سے باہر نکالنے کو مختلف پروگرام بنانے شروع کر دیے۔ اسی سلسلے میں اس نے دو دن کے لیے مری جانے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ ان دنوں اس کی بہن صنم اپنے شوہر حادق اور ایک اور جوڑے کے ساتھ مل کر مری جانے والی تھی۔ میرا نے انہیں اپنے اکیلے جانے کا بتایا تو انہوں نے کہا وہ ان کے ساتھ ہی چلے مگر اس کا ارادہ اکیلے جانے کا تھا۔
جب وہ ٹور کے ساتھ نکلنے والی تھی تو اس سے ایک دن پہلے صنم اور اس کی دوست نیناں نے اسے فون کر کے منایا کہ وہ ٹور کی بجائے ان کے ساتھ چلے تو زیادہ مزہ کرے گی۔ نجانے کیوں وہ ان کے ساتھ جانے پر آمادہ ہو گئی۔ اس نے سوچا یوں بھی وہ اپنا موڈ بدلنے کو ہی تو وہاں جا رہی ہے تو اگر ساتھ میں اس کی دوست اور بہن ہوں گی تو زیادہ دل لگائے رکھیں گی۔ پھر اس سوچ نے اسے ان کے ساتھ جانے کے لیے پرجوش کر دیا۔
جب وہ سفر پر روانہ ہوئے تو اسے پتہ چلا کہ نیناں کے ساتھ جی آر بطور جوڑا جا رہا تھا۔ اسے یہ بات سن کر کافی تسلی ہوئی کہ اسے کوئی دل لگانے کو مل چکی تھی۔
نیناں ایک اچھی اور خوش مزاج لڑکی تھی اور اسے یقین تھا کہ وہ اسے بہت خوش رکھنے والی تھی۔ سفر شروع ہوا تو نیناں کی مستیاں انہیں خوش کرنے لگیں۔
جلدی ہی اسے احساس ہونے لگا کہ وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کی عادی نہیں ہے اور اگر وہ چاہتی تو اگلی سیٹ پر وہ ہو سکتی تھی مگر اپنی جلد بازی کی وجہ سے اس وقت وہ یہاں موجود تھی۔
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کا افسوس بڑھنے لگا۔ اگر وہ اتنی جلدی جی آر کو رد کرنے کا فیصلہ نہ کر لیتی تو شاید عبدالوکیل کو جلدی بھلا کر اس غم سے باہر آ چکی ہوتی۔ رات بھر سفر چلتا رہا اور وہ عبدالوکیل کی یادوں میں کھوئی رہی۔
اسے اپنی بند آنکھوں کے پیچھے وکیل کا چہرہ نظر آتا رہا۔ وہ اسے خود سے دور نظر آرہا تھا۔۔ وہ اسے اپنے قریب دیکھنا چاہتی تھی مگر وہ دور سے دور ہی جا رہا تھا۔ اس کا دل رو رہا تھا مگر اس کی آنکھیں سب کے سامنے رو نہیں سکتی تھیں۔ اس نے خود کو بہلایا اور پرانی اچھی یادوں کو یاد کرنے لگی۔
اسے اپنے گھر کے فرش پر کہنیوں کے بل رینگتے ہوئے دو دیوانے ہنستے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ان دنوں اس کی بیٹیاں بورڈنگ اسکول سے کچھ دن کی چھٹیوں پر گھر آئی تھیں۔ وکیل کو ان کے آنے کا علم نہیں تھا وہ اسے سرپرائز دینے کو اچانک گھر چلا آیا تھا۔ جب اس نے آیت اور صفورہ کو گھر پر دیکھا تو مسکرا کر ان سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے مسکراتے ہوئے وکیل کا تعارف دینے کی کوشش کی تو چھوٹی بیٹی صفورہ نے خود سے کہنا شروع کر دیا۔
”ماما یہ تو ہمارے ماموں جیسے لگ رہے ہیں۔“ یہ سن کر وکیل شرمندگی سے مسکرانے لگا تھا۔
اس نے اپنی بیٹیوں کو بتایا۔ ”نہیں۔ یہ آپ کے ماموں جیسے کم ہیں اور ڈیڈ جیسے زیادہ ہیں۔“
وکیل نے اس پر پہلے اسے آنکھیں دکھائی تھیں اور پھر مسکرا کر ننھی چار سالہ صفورہ سے کہا۔ ”اب سے میں آپ کا فرینڈ ہوں۔“
وہ خوشی سے وکیل کے پاس چلی آئی اور ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی۔ ”کیا آپ ہمارے ساتھ کھیلیں گے؟ ماما تو ہمارے ساتھ کھیلتی ہی نہیں ہیں۔۔“
وکیل نے شرارت سے اسے ڈانٹا تھا۔
”گندی ماما آپ کیوں نہیں کھیلتی ننھی پریوں کے ساتھ؟ ہم تو ضرور کھیلیں گے۔۔“
اس نے کچھ کھاتے ہوئے دور سے وکیل کو کانٹا دکھایا تو اس نے ڈر کر بات بدلی تھیں۔
”ویسے جب تک کھیل شروع نہیں ہو گا آپ کی ماما کیسے کھیلیں گی۔“ اس نے ذومعنی انداز میں اسے چھیڑا تھا۔
پھر وہ سچ میں ان کے ساتھ کھیلنے لگا اور وہ اس کی قسمت پر دل ہی دل میں ہنس رہی تھی کہ بیچارہ مجھے سرپرائز دینے آیا تھا خود کے ساتھ ہی سرپرائز ہو گیا۔۔
وہ ان کے ساتھ بچہ بن کے فرش پر کہنیوں کے بل رینگ رہا تھا جب میرا نے بھی کھیل میں شرکت اختیار کی اور وکیل کا ساتھ دینے کو رینگتے ہوئے اس کی جگہ پکڑنے کی باری دی۔
سب نے مل کر بہت مزہ کیا پھر وہ ان سب کو باہر گھمانے لے گیا۔ رات کے کھانے کے بعد وہ گھر لوٹے تھے اور جاتے ہوئے اس نے میرا کو اکیلے میں سمجھایا۔
”تم اپنی بیٹیوں کی دوست بن کر رہا کرو۔ انہیں باپ کا پیار نہیں مل پا رہا تو تم تو اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں ہونے دو۔“
اگلے دن اس کا فون چل رہا تھا جب وکیل صفورہ کی پاس سے آواز آتی سن کر اس سے بات کرنے لگا۔ صفورہ اسے بتانے لگی کہ اس کے اسکول میں ایک بچی نے اسے مارا تھا۔ ٹیچر نے اس کی بات سننے کی بجائے اسے ہی ڈانٹا تھا اور دوسری بچی کا ساتھ دیا تھا کیونکہ وہ ٹیچر کی فیملی سے تھی۔
یہ سن کر وکیل بھڑک گیا اور اس پر غصہ کرنے لگا۔
”تم نے اپنی بچی کی بات کیوں نہیں سنی اور اس کے لیے لڑنے کیوں نہیں گئی؟“
وہ شرمندگی سے اس کی باتیں سنتی رہی۔ پھر اس نے بتایا اس کا شوہر اسے اسکول میں لڑنے کے مقصد سے جانے سے منع کرتا ہے۔۔
وکیل نے یہ سن کر خاموشی اختیار کر لی۔ مگر اگلے دن وہ خود اس کے اسکول میں بات کرنے چلا گیا اور اسی شام اس کی ٹیچر نے فون کر کے میرا سے معذرت کی اور صفورہ کا خیال رکھنے کا یقین دلایا تھا۔ وہ وکیل کے خلوص کو جھٹلا نہیں سکتی تھی۔
آیت اور صفورہ کی موجودگی میں وہ اکثر اس وقت ہی آتا تھا جب وہ سو رہی ہوتیں یا گھر پر نہیں ہوتی تھیں۔
جب وہ سوئی ہوتیں تو وہ دونوں گھر کے کسی کونے میں چھپ کر باتیں کرتے اور اپنا اپنا بچپن یاد کر کے خوب ہنستے۔
وہ اکثر اس پر سوچتی کہ بچپن میں ماما پاپا کے ڈر سے وہ اور اسد بیڈ کے نیچے چھپ کر یا ایسی ہی کسی جگہ چھپ کر باتیں کیا کرتے تھے اور سارے دن کی شرارتوں پر بات کرتے اور نئے منصوبوں کی پلاننگ کیا کرتے تھے۔۔ اب بڑے ہو کر اسے اپنے بچوں سے چھپ کر یوں وکیل سے باتیں کرنی پڑ رہی تھیں۔
کبھی وہ ان پرانی یادوں کی اذیت سے گزرتی اور کبھی سامنے بیٹھی نیناں کو دیکھ کر اپنے غم سے باہر آتی۔ وہ جی آر کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ اس دنیا میں ایسے حوصلے والے بھی ہوتے ہیں جو اپنے شدید غم سے لڑتے ہیں اور مزید طاقتور بن کر ابھرتے ہیں۔ اسے حوصلہ ہوا کہ وہ بھی وکیل کو بھول جائے گی۔
جب کبھی وہ کسی جگہ رکتے اور چائے کے لیے کہیں بیٹھتے تو جی آر وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا۔ پھر وہ ہر منظر سے غائب رہنے لگا۔ کار چلاتے ہوئے بھی وہ وہاں یوں بیٹھا تھا گویا وہاں موجود ہی نہ ہو۔
نیناں اسے جس لمحے بھی مخاطب کرتی وہ نہ اسے دیکھنے کی زحمت کرتا اور نہ ہی کوئی جواب دیتا۔
نیناں کو جلد ہی اپنی بے وقتی کا احساس ہونے لگا مگر وہ سب کے سامنے خود کو خوش اور مطمئن دکھاتی رہی۔
روشنی ہونے کو تھی جب اس کی آنکھ لگنے لگی۔ وہ نیند سے ہوش کے درمیان ڈول رہی تھی جب اسے اپنے قریب سے وکیل کے کالر سے آتی مخصوص مہک اپنے آس پاس محسوس ہونے لگی۔ اس مہک نے اس کے دل کو یوں سکون پہنچایا جیسے وہ اس کے پاس ہی موجود ہو ۔ وہ نیند میں سکون محسوس کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلی اور اسے ہوش آئی تو اس نے دیکھا وہ جس سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر سو رہی تھی اسی فرنٹ سیٹ پر جی آر بیٹھا کار ڈرائیور کر رہا تھا۔ اس نے شرمندگی سے اس سیٹ سے خود کو دور کیا۔ اسے جلد ہی احساس ہوا کہ وکیل کے کالر سے آتی مہک کی سی مہک اسی جانب سے آرہی تھی۔
وہ حیرانی اور بیزاری سے سوچنے لگی کہ کیا یہ شخص کبھی وکیل جیسا ہو سکتا ہے۔ دل نے خاموشی اختیار کر لی اور اب دماغ مسلسل اسے کوسنے لگا اور وکیل کی اچھائیاں یاد دلانے لگا۔ وکیل جیسا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر ہوتا تو وہ ابھی تک تنہا اور اداس نہ جی رہی ہوتی۔
وہ پھر سے آنکھیں موندیں سونے کی کوشش کرنے لگی۔ ہر بار آنکھ کھلتے ہی نادانستگی میں اس کی پہلی نظر جی آر پر پڑتی اور اس کا دل الگ سے انداز میں دھڑکنے لگتا۔ اچانک سے اسے سب کچھ اچھا سا لگنے لگا تھا۔ اب اسے وکیل کی یادیں اذیت نہیں دے رہی تھیں۔ اسے ہر منظر، ہر سنائی دینے والی بات اور ہر ذہن میں چلتی ہوئی یاد خوشی دینے لگی۔
وہ صبح مری پہنچے اور ناشتہ کر کے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ وہ اس انجان کمرے میں بڑی مشکل سے آنکھ لگا پائی تھی کہ نیناں نے آکر اسے جگا دیا۔
اس نےشور مچا دیا کہ ہم سب باہر گھومنے جا رہے ہیں۔۔
وہ بے دلی سے اٹھ کر تیار ہوئی اور چپ چاپ سی ان کے گروپ میں شامل ہو گئی۔
لڑکیوں کے گروپ سے وہ الگ تھلگ سا ہو کر چل رہا تھا۔ میرا اور نیناں بظاہر ساتھ ساتھ چل تو رہی تھیں مگر میرا اپنی ہی دھن میں مست چپ چاپ اپنے اردگرد دیکھ رہی تھی۔
دوپہر کا کھانا کھا کر وہ پھر سے گھومنے لگے۔ یونہی گھومتے ہوئے شام ہو گئی اور کچھ گھنٹے گھوم کر وہ اپنے کمروں کو لوٹ آئے۔
رات کے کھانے کے لیے جب وہ جانے لگے تو جی آر نے نیناں کے ساتھ جانے سے منع کر دیا۔ پھر وہ سب اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ نیناں بار بار جی آر کے بارے میں ذکر کرتی رہی کہ وہ بہت ہی سڑیل ہے اور بہت ہی روڈ ہے۔ وہ اسے بہت زیادہ اپنا ایٹیٹیوڈ دکھا رہا تھا اور ٹھیک سے بات نہیں کر رہا۔
اس نے شکایت کی کہ وہ کمرے میں بھی اپنے موبائل میں لگا رہتا ہے یا سگریٹ پھونکتا رہتا ہے۔۔ وہ یہ سب سن کر دل ہی دل میں اس کے لیے برا سوچنے لگی۔ اس نے شکر ادا کیا کہ وہ اس سلوک سے بچ گئی اور اس نے جی آر سے دوستی نہیں کر لی ورنہ اسے بھی یہ سب برداشت کرنا پڑتا۔
اسے ایسے اخلاق اور انا دکھانے والے لوگ سخت ناپسند تھے۔ پھر وہ نیناں سے اس کی برائیاں اور ایسے جملے سنتی رہی کہ اسے بھی بدلے میں تسلی دینے کے لیے جی آر کو برا بھلا کہنا پڑا۔ اس نے نیناں کو سمجھایا کہ اس طرح کے انسان سے تعلق بنانے سے تو اچھا ہے بندہ اکیلا ہی رہ لے۔۔ اور پھر یوں ہی باتیں کرتے کرتے ان کا سفر گزر گیا۔
وہ جب تک وہاں رہے اسے احساس ہوتا رہا کہ وہ خاموشی سے اسے ہی دیکھتا رہتا ہے۔ اس نے اسے اپنا وہم سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ البتہ اس کی موجودگی کا کچھ ایسا اثر ضرور ہوا کہ اب اسے وکیل کی یادیں خوش کرنے لگیں اور اسے یوں لگنے لگا جیسے وہ اس کے آس پاس ہی موجود ہو۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ وہ اکیلی ہر منظر انجوائے کرتی رہی۔ واپسی کے راستے میں وہ ایک دریا پر رکے تو وہ سب اس مقام اور موسم سے لطف اندوز ہونے لگے۔ یہ ایسا مقام تھا جہاں دریا میں ڈھیروں چارپائیاں لگا کر مسافروں کے آرام کرنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ وہ سب سے الگ تھلگ ایک چارپائی پر لیٹ کر سکون کرنے لگی تھی۔ اس کے سامنے ہی کچھ فاصلے پر پڑی چارپائی پر جی آر بھی اکیلا بیٹھا تھا۔ اسے جانے کیوں محسوس ہوتا رہا کہ وہ نظر بچا کر اسے ہی دیکھ رہا ہے۔
وہ سب سے بے نیاز خود میں مگن تنہا لیٹی موسم سے لطف اندوز ہوتی رہی اور پرانی یادوں میں کھوئی رہی۔
جن دنوں وہ نوکری کیا کرتی تھی اسے پک اینڈ ڈراپ کی سہولیت ملی ہوئی تھی۔ ایک دن اس کی ٹرانسپورٹ نہیں آئی تھی اور وہ خود ہی آفس سے گھر جا رہی تھی۔ اس کا گزر سنسان راستے سے ہو رہا تھا کہ اسی لمحے اس کے قریب ایک موٹر سائیکل رکی اور ایک نوجوان جس نے سیاہ چشمہ لگا کر اپنا سارا چہرہ کپڑے سے چھپا رکھا تھا وہ نیچے اتر آیا۔ اس اجنبی نے اس کے پیچھے سے اپنا بازو اس کی گردن کے گرد پھیلا کر اسے اپنے شکنجے میں لے لیا اور اس کے سر کے پیچھے کچھ پستول جیسا تان لیا۔ اس موقع پر وہ سانس لینا بھول چکی تھی۔ اجنبی نے بھاری آواز میں اسے دھمکایا کہ جو کچھ ہے اسے دے دیا جائے۔
اس نے موبائل اور پرس اسے پکڑا دیا۔ اجنبی نے سب لے کر اس کی گردن میں پہنی چین کی طرف نظر ڈالی اور چین اتارنے کو بھی کہا۔
وہ اپنی چین کو چھوتے ہی بے چین ہو گئی۔ یہ تو اسے وکیل نے اپنی کئی ماہ کی جیب خرچ جوڑ کر سالگرہ کے تحفے میں دی تھی اور یہ اس کے لیے آج تک کا سب سے قیمتی تحفہ تھا۔
اس نے چین پر ہاتھ رکھ لیا۔
”یہ نہیں دے سکتی۔۔“ اس نے صاف منع کر دیا۔
اجنبی نے چین کھینچی تھی۔
”جلدی اتارو ورنہ میں خود اتار لوں گا۔“
وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے منت بھرے انداز میں دیکھ رہی تھی۔
اجنبی نے اچانک ہنسنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اس کے سامنے آیا اور اس نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔ وہ اب اپنا سیاہ چشمہ بھی اتار چکا تھا۔ اس نے اپنے سانس بحال کرتے ہوئے اس کو زور سے دھکا دیا تھا۔ اس کے پاس کوئی پستول نہیں تھی وہ خالی ہاتھ تھا۔ وہ وکیل کو اس حلیے میں اپنے سامنے دیکھ کر ناراض ہو رہی تھی اور وہ شرارت سے ہنستا چلا جا رہا تھا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے دیکھ کر وکیل کی ہنسی تھم گئی تھی۔ اس نے میرا کو گلے سے لگا کر محبت سے کمر سہلائی تھی۔ وہ اسے روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
”پاگل۔۔ میں نے دے کر واپس تھوڑی لے لینی تھی۔۔ اور آپ مجھے پہچانی کیوں نہیں!“
اس نے ناراضگی سے شکوہ کیا تھا۔ وہ خاموشی سے اس کے گلے لگی سسکیاں لیتی رہی۔
”میں نے آپ کو اکیلے جاتے دیکھا تو ایسے ہی شرارت سوج گئی۔۔ آپ کو میرے ہوتے ہوئے بھلا کون لوٹ سکتا ہے!“
اس نے صفائی پیش کرتے ہوئے اسے چھیڑا تھا۔ پھر وہ اسے گھر چھوڑنے تک سارے راستے منانے اور ہنسانے کی کوشش کرتا رہا تھا۔
وہ آنکھیں موندے لیٹی پرانی یادوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ نیناں اسے اٹھانے چلی آئی۔ کھانا لگ چکا تھا اور وہ اصرار کر رہی تھی کہ وہ انہیں جوائن کرے۔ اس نے ہر بار منع کیا اور وہیں لیٹی رہی۔ کچھ دیر بعد جی آر نے اسے پیغام بھجوا ڈالا تھا۔ وہ تنگ آکر اٹھی تھی کہ انہوں نے اسے سکون نہیں لینے دینا۔ ویسے بھی وہ وہاں سے نکلنے والے تھے تو وہ اٹھی اور ان کا دل رکھنے کو کھانے میں کچھ ساتھ دیا۔ پھر وہ وہاں سے واپسی کے سفر پر نکل پڑے تھے۔ راستے کا سفر کچھ اداسی لیے ہوئے تھا۔ وہ وکیل کو مسلسل یاد کرتی رہی تھی۔ اس نے کار میں غمگین ساز لگوا کر اپنی اذیت کو اور ہوا دی۔ سب لوگ کار میں سوتے رہے سوائے اس کے اور ڈرائیونگ سیٹ پر موجود جی آر کے۔ قسمت سے اسے ہر بار اسی کے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا رہا تھا۔ کبھی وہ خود پر اور کبھی اپنی قسمت پر ہنس رہی تھی۔ صنم اور نیناں کی باتوں میں آکر مزہ لینے کے چکر میں اسے مشکل سفر کرنا پڑ رہا تھا۔ وہ اتنی تنگ تھی کہ کون سا لمحہ ہو اور وہ وہاں سے بھاگ جائے۔ آخر سفر ختم ہوا اور اس نے گھر آکر سکون کا سانس لیا۔
گھر لوٹنے پر اس کی بہن نے اسے بتایا کہ جی آر کی بار بار کال آ رہی تھی اور وہ اسی سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔
اس نے کہا کہ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی۔ بار بار صنم کی کال نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ ناچاہتے ہوئے اس کی بات سننے پر مجبور ہو گئی۔
———-
لاؤنج میں وہ صوفے پر بیٹھی کوئی کتاب پڑ رہی تھی جب وہ اس کے پاس آ بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔
”میرے لیے کچھ کھانے کو ہے تمہارے پاس؟“
اس نے اپنے سامنے پڑی میز پر رکھی پھلوں کی ٹوکری کی جانب دیکھا تو خوشی سے پوچھا۔
”سیب کاٹ دوں؟“
وہ اثبات میں سر ہلانے لگا تھا۔ میرا ٹوکری کے پاس پلیٹ میں رکھی چھری اٹھا کر سیب کاٹنے لگی۔
وکیل چپ چاپ اسے محبت سے سیب چھیلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ لمحے بھر کو وہ بھی نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی کہ اچانک اسے احساس ہوا اس کا انگوٹھا بھی سیب کے ساتھ چھل گیا ہے۔ اس نے تڑپ کر نظریں جھکائے اپنے انگوٹھے کو دیکھا تھا۔ اس کے ہاتھ سے چھری گر گئی تھی۔ درد کی لہر انگوٹھے سے ہاتھ کی طرف جا رہی تھی۔ اس نے دیکھا تو انگوٹھے کا کچھ ماسک کٹ گیا تھا اور کچھ چھلکا بن کر ساتھ ہی لگا رہ گیا تھا۔
وکیل نے اسے ٹشو دے کر صاف کرنے کو کہا۔ اس نے ٹشو سے دبا کر زخم صاف کیا تو خون نکلنا کم ہو گیا۔ وہ سیب کھانے لگا تھا۔ میرا نے بے چینی سے اپنے انگوٹھے کو دبا رکھا تھا۔
وہ سیب کھاتے ہوئے خاموشی سے اسے آدھے چھلے ہوئے ماس کو انگلی سے چھیڑ کر اپنے درد سے الجھتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
میرا کا دھیان صرف اپنے انگوٹھے کی جانب تھا۔ وہ اپنے زخمی انگوٹھے کے ماس سے الجھ رہی تھی۔ اچانک وکیل نے محبت اور اشتعال سے اس کا انگوٹھا پکڑ کر اپنے منہ کے قریب کر لیا تھا۔ وہ حیرانی سے اسے دیکھنے لگی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔
وکیل نے بےدردی سے اس کے زخم کے قریب بچا ہوا ماس اپنے دانتوں سے کاٹ کر الگ کیا تھا۔
وہ پہلے خوف سے اسے دیکھتی رہی تھی کہ وہ کیا کرنے والا ہے پھر اگلے ہی لمحے اسے اپنا زخمی ماس دانتوں سے کاٹ کر الگ کر کے پھینکتا دیکھ کر تعجب سے گھور رہی تھی۔
میرا نے چپ چاپ اپنے انگوٹھے کو دیکھا تھا۔ اس کا درد دینے والا ماس اب وہاں سے غائب تھا۔ خون جو وہاں سے ہلکا سا نکلا تھا وہ وکیل کے ہونٹوں پر لگا ہوا تھا۔
اس نے اپنا انگوٹھا منہ میں لے کر اسے کاٹ کر درد کا احساس کم کرنے کی کوشش کی تھی اور چبھتی ہوئی نظروں سے وکیل کو دیکھا تھا۔
وہ اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر جنونی کیفیت میں مسکرایا تھا۔ وہ اکثر یوں ہی اسے محبت کی شدت سے دیکھ کے مسکرا دیا کرتا تھا۔ اس کے اسی انداز نے ہی تو اس کا جنون بڑھا رکھا تھا۔
کچھ دیر بعد اس کی آنکھوں سے آنسو پھسل کر اس کے گالوں کو بھگونے لگے۔
اسے ہوش تب آئی تھی جب صنم کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ وہ سب آج مووی دیکھنے اکٹھے جا رہے ہیں۔ وہ آج بہت اداس تھی اور شاید اس اداسی سے باہر نکلنے کو وہ ان کے ساتھ جانے کو تیار ہو گئی۔
جب وہ سب مووی دیکھنے گئیں تو جی آر بھی وہیں آن پہنچا اس نے سب کی ٹکٹیں کروائیں اور فلم دیکھنے بھی ان کے ساتھ چلا آیا۔
وہ سب دوستیں جب بھی گروپ کی صورت کہیں جارہی ہوتیں تو وہ اکثر وہاں بہانے سے آجایا کرتا تھا بعد میں پتہ چلتا صنم نے اسے بلایا تھا۔
آج اس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ نیناں کی بجائے اس کے ساتھ آ بیٹھے گا۔ اسے ساتھ بیٹھے پا کر وہ بہت گھبرا گئی تھی۔ وہ صنم کو اشارے کرنے لگی کہ اسے جی آر کے ساتھ نہیں بیٹھنا۔ یہ دیکھ کر وہ حیران پریشان سا اسے دیکھنے لگا کہ وہ کیوں برا منا رہی ہے۔ پھر نیناں نے اس سے زبردستی کہہ کر سیٹ بدل لی اور وہ جی آر کے ساتھ بیٹھ گئی۔ اس پر جی آر برا مناتے ہوئے اگلے لمحے ہی وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔
اگلے ہی منٹ اس نے صنم کے ذریعے پیغام بھیج کر میرا کو باہر بلایا تھا۔ پہلے اس نے صنم کو منع کیا مگر اس کے اصرار پر وہ ناچاہتے ہوئے باہر چلی آئی تھی۔ نجانے اس میں ایسی کیا بات تھی کہ وہ نا چاہ کر بھی اس کی ہر بات مانتی چلی جا رہی تھی۔
جی آر نے اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ دل میں انکار کرتے ہوئے بھی چپ چاپ اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔ ”میں یہاں صرف آپ کے لیے آیا تھا اور ہر دفعہ آپ کے لیے ہی آتا ہوں پر آپ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتی ہیں۔“
اس نے موبائل دکھایا اور اسے بتایا کہ وہ بہت اہم میٹنگ چھوڑ کر اس کے لیے ہی وہاں آیا تھا۔ اس نے شرمندگی کا اظہار کیا اور اسے اندر چل کر فلم دیکھنے کے لیے کہا۔
وہ افسردگی اور طنز سے مسکرایا۔
”اور وہ بھی نیناں کے ساتھ بیٹھ کر! دیکھیں میں فلم دیکھتا ہی نہیں ہوں صرف آپ کے لیے ہی آیا تھا۔۔ خیر اب مجھے اجازت دیں۔۔ میں چلتا ہوں۔“
وہ سکتے کی کیفیت میں اسے اٹھ کر جاتا دیکھ رہی تھی۔ اس نے جاتے ہوئے ہاتھ ملانے کو آگے بڑھایا تو وہ حیرانی سے اس کے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اسے سمجھ آئی کہ اسے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھانا ہے۔ اس نے سوچوں میں الجھے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا تھا اور اسے ایک مسکراہٹ کے ساتھ جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ اسے اکثر ایسا لگتا تھا کہ اس شخص میں کچھ خاص ضرور ہے جو وہ ابھی تک اس کا راستہ نہیں چھوڑ پا رہا تھا ورنہ وہ اپنے ایٹیٹیوڈ سے اچھے اچھوں کو بھگا دیا کرتی تھی۔
اس کے کچھ دنوں بعد وہ صنم اور حادق کے ساتھ ہی کہیں جا رہی تھی جب انہوں نے ایک جگہ کار روک کر کہا تھا کہ اسے دوسری کار میں جی آر کے ساتھ جانا ہے۔ اسے میرا سے کچھ بات کرنی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آئی کہ اس سے ایسا کیوں کہا جا رہا ہے لیکن وہ خاموشی سے دوسری کار میں جا بیٹھی تھی۔
وہ سننا چاہتی تھی آخر جی آر اس سے نیا کیا کہنا چاہتا ہے۔ پھر جب وہ اس کار سے نکل کر دوسری کار میں بیٹھی تو وہ اسے خاموشی سے ایک انجان راستے پہ لے جانے لگا۔ اس سب سے وہ کچھ گھبرا گئی۔ اسے لگا کہ وہ اسے کہیں اور لے جائے گا۔ اس کے اڑے ہوئے رنگ دیکھ کر وہ کچھ مسکرایا تھا۔
اس نے شرارت سے کہا۔ ”میں آپ کو اغواء کر کے کہیں لے جا رہا ہوں۔“
بظاہر وہ مسکرائی تھی۔ ”لیکن آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں!“
”میں تو آپ سے اجازت لے رہا ہوں۔۔ کیا میں لے جاؤں؟“ اب وہ مزید گھبرا گئی۔
”نہیں۔۔ آپ مجھے گھر چھوڑ دیں۔۔“
اس پر وہ ہنسنے لگا۔
”نہیں نہیں۔۔ میں آپ کو کہیں نہیں لے جا رہا۔۔ بس مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ میں آپ کو ابھی چھوڑ دوں گا۔“ وہ یہ سن کر کچھ مطمئن ہو گئی۔
مگر اس کے ذہن سے ابھی تک ڈر نہیں گیا تھا کیونکہ وہ یوں کسی انجان کی کار میں نہیں بیٹھا کرتی تھی۔ لیکن اسے اتنا یقین تھا کہ اگر صنم اور حادق نے اسے اس کار میں بیٹھنے کو کہا ہے تو یقیناً وہ بھی اس کے پیچھے ہی اپنی کار رکھے ہوئے ہوں گے اور اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہو سکتا کیونکہ جی آر حادق کا اچھا دوست تھا۔
وہ اس کی بات سننے کی منتظر تھی۔
اس نے بات کا آغاز کیا۔
”دیکھیں میں کب سے آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔۔ میں نے کئی دفعہ آپ سے یہ سوال کیا مگر مجھے اس کا جواب نہیں ملا۔ آپ نے کبھی بھی غور سے میری بات نہیں سنی مگر میں آج پھر سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ میری بات پر غور کریں۔“
وہ الجھتے ہوئے پوچھنے لگی۔ ”اور اس دوستی میں مجھے کیا کچھ کرنا پڑے گا؟“
”میں اپنے اس غم سے باہر نکلنا چاہتا ہوں۔۔ عاشی کے بعد کوئی عورت مجھے بھائی نہیں پر جب سے آپ کو دیکھا ہے تو میں سب بھول گیا ہوں۔۔ مجھے لگتا ہے آپ مجھے سب بھلا دیں گی۔۔ مگر میں آپ کو میسج کرتا ہوں تو آپ میرے میسج کا جواب نہیں دیتیں۔۔ کال کرتا ہوں تو آپ کال نہیں اٹھاتیں۔ آپ اپنے مصروف دن میں سے کچھ وقت نکال کر میرے میسج کا جواب تو دے دیا کریں۔۔ ہم کبھی کبھی یوں اکٹھے باہر چلے جایا کریں گے۔۔ میں کچھ اداسی کا وقت آپ کے ساتھ گزار لیا کروں گا۔۔ مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔“
اس نے پریشانی سے سوچا میرے پاس تو اکثر اپنے لیے وقت نہیں ہوتا تو میں اسے کیسے وقت دوں گی۔ وہ ایک لکھاری تھی اور کچھ نا کچھ لکھتے رہنا اس کا پیشہ تھا۔ جب سے وکیل اس کی زندگی سے گیا تھا وہ گھر میں ہی بند رہتی تھی اور اس کا کہیں بھی جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ اب کسی کے لیے یوں باہر نکلنا اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ وہ اس کی ڈیمانڈ سن کر پریشان ہو چکی تھی۔ اس کے ذہن میں مسلسل انکار ہی چل رہی تھی۔
اگر وہ اس وقت اسے صرف میسج پر بھی بات کرنے کو کہہ دیتا تو اس کے پاس کسی کے لیے اتنا سا بھی وقت نہیں تھا کہ وہ میسج پر ہی بات کر لیتی۔ وہ چپ چاپ سوچتی رہی اور جی آر نے اپنی کار حادق کی کار کے پاس روک دی۔ جی آر بے چینی سے کہنے لگا۔ ”میں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار کروں گا۔“
اس نے کہا۔ ”میں آپ کو سوچ کر بتاؤں گی۔“
وہ اس کی کار سے اتری اور صنم کی گاڑی میں بٹھ کر اپنے گھر لوٹ آئی۔
وہ اس کی بات کبھی دلچسپی سے سنا ہی کب کرتی تھی کہ وہ اس کی بات پر غور کرتی اور وہ اس کے دل کے قریب آتا۔ اس کے دل و دماغ میں تو ہر وقت وکیل کی یادیں اور باتیں چلتی رہتی تھیں۔
اس نے اگلے دن اس سے بات کی تو انجانے میں وکیل کی باتیں شروع کر دیں۔ اچانک سے کوئی جنون اس پر اتنا غالب ہو گیا کہ وہ چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پائی۔ اس نے بہانہ کر کے فون بند کر دیا اور اسے یاد کر کے روتی رہی۔
صنم نے فون کر کے اسے احساس دلایا کہ اس نے جی آر کے سامنے وکیل کا ذکر کر کے اسے اذیت پہنچائی ہے۔ وہ بہت غمگین لگ رہا تھا۔ اس نے یہ سن کر فیصلہ کیا کہ وہ اس سے دوبارہ کبھی بات نہیں کرے گی کیوں کہ جب بھی اس کی جگہ وہ کسی اور کو دینے لگے گی تو وہ جس اذیت سے گزرے گی اسے کوئی نہیں سمجھ پائے گا اور وہ اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔
————*
جاری ہے۔