
”بابا جانی چھت پر بلا رہے ہیں۔ جلدی آٶ…“ کرن نے چمن میں کھیلتے بہن بھائیوں کو آواز دی اور خود تیزی سے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ تھوڑی دیر میں سب ہی چھت پر موجود تھے۔ بابا جانی نے بچوں کے ساتھ مل کر پاکستانی پرچم لہرایا۔
”کل ہمارا پچھترواں یوم آزادی ہے۔“ بابا جانی نے بچوں کو بتایا۔
”بابا جانی میں نے ایک ترانہ یاد کیا ہے۔ سناٶں؟“ کاشف نے جوش سے پوچھا تو بابا جانی نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔
کاشف جوشیلے اندازمیں سنانے لگا۔
پاکستان کا مطلب کیا؟
لاالٰہ الّا اللہ
شب ظلمت میں گزاری ہے
اٹھ وقت بیداری ہے
جنگ شجاعت جاری ہے
آتش و آہن سے لڑ جا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
چھوڑ تعلق داری چھوڑ
اٹھ محمود بتوں کو توڑ
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ
غیر اللہ کا نام مٹا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
جرات کی تصویر ہے تو
ہمت عالمگیر ہے تو
دنیا کی تقدیر ہے تو
آپ اپنی تقدیر بنا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
پنجابی ہو یا افغان
مل جانا شرط ایمان
ایک ہی جسم ہے ایک ہی جان
ایک رسول اور ایک خدا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
تجھ میں ہے خالد کا لہو
تجھ میں ہے طارق کی نمو
شیر کے بیٹے شیر ہے تو
شیر بن اور میدان میں آ
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
مذہب ہو تہذیب کہ فن
تیرا جداگانہ ہے چلن
اپنا وطن ہے اپنا وطن
غیر کی باتوں میں مت آ
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
”ماشاءاللہ۔۔۔ ترانہ تو بہت اچھا یاد کیا ہے میرے بیٹے نے۔“ امی جان جو ابھی ابھی سب کے لیے چائے لے کر اوپر آئی تھیں، انھوں نے کاشف کو ترانہ یاد کرنے پر شاباش دی۔
وہ سب چھت پر پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔
”یہ ترانہ سن کر تو مجھے لا الہ الا اللہ سے متعلق ایک حدیث یاد آ رہی ہے۔“ سائرہ نے کہا.
”جی سنائیے۔“ بابا جانی نے سائرہ کی حوصلہ افزائی کی۔
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہی ہے، وہ یہ ہے ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، اور نہ اللہ کا کوئی اور شریک ہے، اسی کی بادشاہت ہے، ساری بڑائی اسی کے لئے ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔“
”ماشاءاللہ۔۔۔“ بابا جانی سائرہ کے حدیث سنانے پر خوش ہوئے۔
”لیکن بابا جانی یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ کیسے ہو گیا؟“ سلمان نے پوچھا تو بابا جانی مسکرا دیے۔
”اچھا بچو! سلمان کے سوال کا جواب دینے سے پہلے جو حدیث سائرہ نے سنائی ہے اس میں یہ بات سمجھیں کہ لا الہ الا اللہ تمام انبیائے کرام کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔“ بابا جانی نے بچوں کو سمجھانا شروع کیا تو وہ غور سے سننے لگے ۔
”اس کلمہ کی اہمیت خاتم النبیین حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے اپنی قوم کے سامنے یوں بیان فرمائی۔
”جو پیغام میں تم تک لایا ہوں اسے اگر تم قبول کرلو تو اس میں تمھاری دنیا کی بہتری بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی‘‘۔ پھر ایک اور موقع پر فرمایا،
”بس یہ ایک کلمہ ہے اسے اگر مجھ سے قبول کرلو تو اس کے ذریعے تم سارے عرب کو زیرنگین کرلو گے اور سارا عجم تمھارے پیچھے چلے گا۔“
”لیکن۔۔۔۔ بابا جانی! یہ کلمہ تو ایک چھوٹا سا جملہ ہی ہے۔۔۔۔۔“ کرن کو بات سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
”اچھا اس چھوٹے سے جملے کا مطلب تو بتائیے۔“ بابا جانی نے کرن سے پوچھا۔
”اس کا مطلب ہے اللہ پاک کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“ کرن نے جھٹ ترجمہ سنایا۔
”اللہ معبود برحق ہے یعنی صرف اللہ ہی کی ذات عبادت کے لائق ہے۔ اللہ تعالی ہی تمام جہان کا مالک و حاکم ہے۔ تمام چیزیں اس کی محتاج اور اس سے مدد مانگنے پر مجبور ہیں۔ ہم اسے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی ہماری عقل اس کی قدرت اور طاقت کا اندازہ لگا سکتی ہے۔ جس کو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے اس میں کچھ خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جو اللہ تعالی کی ذات سے انکار کرنے والوں اور شرک کرنے والوں میں ہو ہی نہیں سکتیں۔ جیسے لا الہ الا اللہ کا اعتقاد انسان کے اندر تمام مخلوقات کے لیے محبت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ یہ کائنات اس کے لیے خدائے واحد کا تخلیق کردہ ایک کنبہ ہے جس کا وہ خود ایک حصہ ہے اور باقی سب کے ساتھ اسے اپنائیت سے رہنا ہے۔ یہ کلمہ انسان میں خودی کو بیدار کرتا ہے۔ انسان جان لیتا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک اللہ تعالی ہے پس وہ اللہ کے سوا کسی کے بھی آگے جھکنے سے بچ جاتا ہے۔ خودی کے ساتھ ساتھ لا الہ الا اللہ پر ایمان انسان میں انکساری پیدا کرتا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ اسے عطا کردہ تمام نعمتیں اس کی اپنی نہیں بلکہ اللہ کی دی ہوئی ہیں اور یہ سوچ غرور کو ختم دیتی ہے۔ اس کلمے کو ماننے والا جانتا ہے کہ نیک عمل کے سوا نجات کا کوئی راستہ نہیں۔ اس لیے وہ نیکیاں کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ پھر اسی طرح ایک زبردست خدا کو ماننے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ مشکل حالات کو اس کا اللہ آسان کر سکتا ہے۔ پس وہ پر امید رہتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھتا ہے۔
کلمہ پر ایمان رکھنے والا انسان بہادر ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ اس کے ساتھ طاقت والا اللہ ہے۔ اسی یقین پر وہ بڑی سے بڑی طاقت اور مشکل کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ اس کلمے پر ایمان رکھنے والا انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہتا ہے۔ سب سے بڑھ کر لا الہ الا اللہ پر ایمان انسان کو اللہ کے قانون کا پابند بناتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ البصیر ہے وہ اسے دیکھ رہا ہے اس لیے لوگوں میں تو کیا، اکیلے میں بھی لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنے والا برائی کے قریب نہیں جاتا۔“
بچے بابا جانی کو غور سے سن رہے تھے۔
بابا جانی اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے۔
”پھر تاریخ بھی ہمیں بتاتی ہے کہ جن لوگوں نے یہ کلمہ قبول کیا ان کی شخصیت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ ان تبدیلیوں کے اثرات پھر معاشرے پر مرتب ہوئے اور آپ نے ایک ایسا نظام مدینہ منورہ میں قائم کر کے دکھایا جس کی نظیر نہیں ملتی۔
کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ جن لوگوں نے اس وقت یہ کلمہ قبول کیا ان میں کیا تبدیلیاں آئیں؟
”بابا جانی! اس وقت لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ شرم و حیا کا کوئی خاص تصور نہیں تھا۔ شراب نوشی عام تھی۔ چوری، قتل و غارت گری اور سود عام تھا۔ حقوق و فرائض متعین نہیں تھے۔ غرض بےشمار برائیاں تھیں جن کی بدولت انسان کی عزت، مال اور جان اپنے ہی جیسے انسانوں سے محفوظ نہیں تھی۔ پھر جن لوگوں نے آپ صلى الله عليه واله وسلم سے یہ کلمہ قبول کیا انہوں نے ایک اللہ کی غلامی قبول کرتے ہوئے ہر برائی چھوڑ دی اور نیکی کا راستہ اختیار کیا اور نہ صرف اختیار کیا بلکہ ہر طرح کے مشکل حالات میں اس پر جمے بھی رہے۔“ سائرہ جو جماعت نہم کی طالبہ تھی، نے جواب دیا۔
”جب کلمہ لا الہ الا اللہ قبول کرنے پر افراد کے کردار میں تبدیلی آئی تو کیا معاشرہ بھی کچھ تبدیل ہوا؟“ بابا جانی نے بچوں سے اگلا سوال کیا۔
”جی ہاں بابا جانی! میں نے بچوں کے لیے لکھی گئی سیرت کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ
کلمہ توحید قبول کرنے پر افراد کے اندر واقع ہونے والی تبدیلی کے اثرات معاشرے میں بھی نظر آئے۔ حضور ﷺ نے اسلامی ریاست کی بنیاد جب مدینہ میں رکھی تو زیادہ سے زیادہ وہ علاقہ 100 مربع میل ہوگا۔ آٹھ نو سال کے مختصر عرصے میں یہ ریاست پھیل کر 10، 12 لاکھ مربع میل تک وسیع ہوگئی جس میں کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر فضیلت حاصل نہ تھی۔ سب بھائی بھائی تھے۔ جرائم نہ ہونے کے برابر تھے۔ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرنے والے، سرکاری مال اور فرائض میں خیانت کرنے والے اور رشوتیں سمیٹنے والے نہ تھے۔ ہر کوئی دوسرے کے کام آتا تھا اور اپنے بھائی کو سہارا دیتا تھا۔ یہ ریاست اپنی حفاظت کرنا بھی خوب جانتی تھی۔ اس ریاست کے خلاف سازشیں کرنے والوں اور جنگی طاقت اکھٹی کرنے والوں کو بھی ہمیشہ منہ توڑ جواب دیا گیا۔ دراصل یہ حقیقی معنوں میں ایک فلاحی معاشرہ تھا جس کی مثال دنیا نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی۔“ سلمان جو بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، نے جواب دیا۔
”شاباش۔۔۔۔ سلمان بیٹے! آپ نے بالکل ٹھیک بتایا۔
اب آتے ہیں سلمان کے سوال کی جانب کہ پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ کیسے ہے؟
بابا جانی بچوں کو سمجھانے لگے
”حدیث کی رو سے انسان کی دنیا و آخرت کی کامیابی اسی لا الہ الا اللہ کے ساتھ جڑی ہے۔
اب اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کریں جس میں ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ نعرہ بلند کیا۔ وہ انگریزوں کے غلام تھے اور ان کے بنائے قوانین پر عمل کرنے کے پابند بھی۔ انگریزوں کے ہندوستان چھوڑ جانے کے بعد حکومت ہندوؤں کے ہاتھ میں جانی تھی اور مسلمان ان کے غلام بن کر رہنے پر مجبور تھے۔ وہ زبانی کلامی تو لا الہ الا اللہ کا ورد شاید کر سکتے تھے۔ گھروں میں بیٹھ کر کچھ عبادات بھی ہو سکتی تھیں لیکن لا الہ الا اللہ اپنے ماننے والوں سے جس نظام کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے وہ ناممکن تھا۔ اسلامی معاشرتی مساوات قائم نہیں ہو سکتی تھی۔ ظالمانہ سودی نظام کا خاتمہ ناممکن تھا اسی طرح اسلام کو بطور دین ہر شعبہ ہائے زندگی میں نافذ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
تو مسلمانوں کو لگا کہ ان کا اپنا آزاد خودمختار وطن ہونا چاہیے جہاں وہ لا الہ الا اللہ کا نظام قائم کریں۔ دنیا کو اسلامی فلاحی ریاست ایک بار پھر قائم کر کے دکھا دیں۔“
بابا جانی کچھ دیر کے لیے رکے تو کرن بولی۔
”جی بابا جانی! قائد اعظم کا فرمان بھی ہے ناں کہ ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘
”جی بالکل تو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے
کہ پاکستان میں فرد اور معاشرہ لا الہ الا اللہ سے محبت کرنے والے اور اسے بطور نظام قائم کرنے والے ہوں گے۔“
بابا جانی خاموش ہوئے تو بچے بھی چپ چاپ بیٹھ گئے۔ سب ہوا کے دوش پر لہراتے سبز ہلالی پرچم کو دیکھ رہے تھے۔
”بابا جانی! تو کیا اب پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ لا الہ الا اللہ پر قائم ریاست کتنی اچھی ہوتی ہے؟“ کاشف جو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، نے معصومیت سے پوچھا۔
کاشف کے سوال پر بابا جانی دکھ سے بولے،
”نہیں ابھی تک تو ہم یہ نظام قائم نہیں کر پائے۔“
سلمان اور سائرہ جو ان باتوں کو سمجھ رہے تھے پریشان ہو گئے۔
”بابا جانی! پچھتر سال کی مدت میں ہم پاکستان کا مطلب کیا عملی طور پر پورا کر کے نہیں دکھا پائے، یہ تو بہت مایوسی والی بات ہے۔“ سلمان بولا۔
”نہیں بیٹا! لا الہ الا اللہ سے ہم نے یہ ہی تو سیکھا ہے کہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ بس ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ لا الہ الا اللہ کے نام پر بیش بہا قربانیاں دے کر حاصل کیے گئے اس وطن کی تعمیر میں ہم اپنا حصہ کیسے ڈالیں؟“ امی جان نے بھی پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
سب سے پہلے تو اس حدیث رسول صلى الله عليه واله وسلم پر اپنا ایمان پختہ کریں۔
”جو پیغام میں تم تک لایا ہوں اسے اگر تم قبول کرلو تو اس میں تمہاری دنیا کی بہتری بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی‘‘۔ پھر ایک اور موقع پر فرمایا،
”بس یہ ایک کلمہ ہے اسے اگر مجھ سے قبول کرلو تو اس کے ذریعے تم سارے عرب کو زیرنگین کرلو گے اور سارا عجم تمھارے پیچھے چلے گا۔“
بابا جانی نے کہا تو امی جان بولیں ”جی بالکل!
لا الہ الا اللہ کو اپنی زندگیوں میں زبانی ہی نہیں عملاً بھی شامل کریں۔“
”مگر کیسے؟“ کرن نے سوال کیا۔
”اللہ تعالی کے احکامات کو سمجھنا، سچے دل سے ان پر عمل کرنا، دوسروں کو محبت و حکمت سے اس کی تعلیم دینا اور اسلامی تعلیمات کو اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کی مخلصانہ کوششیں کر کے ہم پاکستان کو لا الہ الا اللہ کی تفسیر بنا سکتے ہیں۔“
بابا جانی نے سمجھایا۔
”کاشف بیٹے! آپ کو بھی کچھ سمجھ آیا کہ نہیں؟“ امی جان نے شرارتی کاشف سے پیار سے پوچھا۔
”آپ مشکل مشکل کر کے بتا رہے ہیں جبکہ جو ترانہ میں نے آپ کو سنایا تھا اس میں تھا نا
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ۔۔۔۔ بس یہ ہی بات ہے ساری
چھوڑ تعلق داری چھوڑ
اٹھ محمود بتوں کو توڑ
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ
غیر اللہ کا نام مٹا
پاکستان کا مطلب کیا؟ ۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ
کاشف نے ایک بار پھر جوش و خروش سے ترانہ پڑھنا شروع کیا تو سب ہی مسکراتے ہوئے پاکستان کو لا الہ الا اللہ کی تفسیر بنانے کا عزم کرنے لگے۔