
نعمان کے الفاظ سن کر صائمہ پر سکتہ طاری ہو گیا اور اسے وہ وقت یاد آنے لگا جب وہ بھی نعمان جتنی تھی اور اسی طرح اپنے والدین کو تنگ کیا تھا۔ آج 20 سال کے بعد وقت نے پلٹا کھایا اور آج اپنے والدین کی جگہ وہ خود ہے اور اس کی جگہ نعمان نے لے لی ہے۔ نعمان اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس لیے لاڈلا بھی بہت تھا۔ اس بے جا لاڈ پیار نے اس کو ضدی اور خود سر کر دیا تھا۔ صائمہ اپنی ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی ہر فرمائش پوری کرتی تھی۔ اس کے نتیجے میں بعض اوقات اسے خود پورا مہینہ انتہائی تنگ دستی میں گزارنا پڑتا تھا۔ وه نہیں چاہتی تھی کہ اس کا بیٹا احساس کمتری کا شکار ہو اور اپنے آپ کو رشتہ داروں اور دوستوں کے مقابلے میں کم تر سمجھے۔ اس لیے وہ اس کی ہر ضرورت بن کہے پوری کرتی تھی۔ صائمہ نے گھر کی مرمت کروانے کے لیے کمیٹی ڈالی تھی لیکن جیسے ہی نکلی تو نعمان اس کے سر ہو گیا کہ اس کے سارے دوستوں کے پاس موٹر سائیکل ہے اور اس کے پاس نہیں ہے۔ صائمہ نے بہت سمجھایا کہ گھر کے حالت بہت خراب ہو چکی ہے، جگہ جگہ سے پلستر اکھڑ چکا ہے، فرش ٹوٹ چکا ہے، ہر چیز قابل مرمت ہے۔ اڑھائی مرلے کا یہ گھر دیکھنے ہی میں انتہائی خستہ حال لگتا تھا اور اپنے مکینوں کی مفلسی کا منہ بولتا ثبوت تھا لیکن نعمان نے صائمہ کے بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بالآخر صائمہ نے اس کی خواہش کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور اسے کمیٹی کے روپے دے دیئے جو کہ اس نے ہر مہینے بہت مشکل سے ادا کی تھی۔
گھر میں سیکنڈ ہینڈ موٹر سائیکل آ گیا۔ اب بس نعمان تھا اور اس کا موٹر سائیکل۔ دن رات موٹر سائیکل پر گھومتا رہتا تھا۔ اپنے بوڑھے باپ اور بوڑھی ماں کا اسے کوئی خیال نہیں تھا۔ باپ ایک دفتر میں کلرک تھا۔ اس کی تنخواہ ہی سے گھر کا چولہا جلتا تھا۔ نعمان نے بہت مشکل سے بی اے کیا تھا اور اب افسر کی نوکری ڈھونڈ رہا تھا، کہتا تھا کسی دفتر میں افسر بن جاؤں تو ٹھیک ہے ورنہ میں نوکری نہیں کرتا۔ ایک دن نعمان گھر آیا تو اس نے صائمہ سے کہا: ماں میرے اوپر بہت قرض چڑھ چکا ہے۔ میرے دوست بہت امیر ہیں اس لیے قرض لے لے کر ان کے سامنے اپنی کم حیثیتی چھپاتا رہا ہوں اور کھلا خرچ کرتا رہا ہوں۔ میرا قرض پانچ لاکھ سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اب یہ چھوٹا سا مکان بیچ کر ہی قرض اتارا جا سکتا ہے۔ پراپرٹی ڈیلر سے میں بات کر چکا ہوں۔ ہم کرائے کے مکان میں شفٹ ہو جائیں گے۔ صائمہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچی کیونکہ اس نے اپنا سارا زیور بیچ کر یہ مکان خریدا تھا۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ جب اس کا رشتہ عارف سے ہوا تو اس نے والدین سے یہ شرط رکھی کہ مجھے اعلیٰ قسم کا جہیز چاہیے۔ اگر میری شرط پوری نہ ہوئی تو میں شادی نہیں کروں گی۔ بالآخر اس کے والدین نے اپنا گھر بیچ کر اس کی شرط پوری کی اور خود کرائے کے گھر میں چلے گئے۔ مگر آج 20 سال بعد اس کے ساتھ بھی وہی ہو رہا تھا جو اس نے اپنے والدین کے ساتھ کیا تھا۔ وہ خاموشی سے سامان باندھنے لگ گئی کیونکہ جانتی تھی کہ یہ مکافاتِ عمل ہے، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔