اسلامصفحہ اول

نام نہاد مسلمان اور منافق

آج کل میں نے نام کے مسلمانوں کا یہ حال دیکھا ہے،کہ وہ حق بات سننے کے لیے ہی تیار نہیں، حق کو پہچاننے کے لیے ہی تیار نہیں، حق کا ساتھ دینے کے لیے ہی تیار نہیں۔

بلکہ اپنے زہن میں ایک دین کی حد مقرر کردی ہے، بس انکی اس سوچ کے مطابق جو دین ہے وہ قبول ہے، ان کی اس سوچ کے اندر اندر تک کا جو دین ہے وہ قبول ہے، پورا دین قبول نہیں ہے۔

یہاں تک کہ ایسے نام کے مسلمان بھی پیدا ہوگئے جو اللہ کے قرآن کی آیت،نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو پہلے اپنی عقل پر پیش کرتے ہیں، اگر انکی عقل میں آگیا، انکی سمجھ کے مطابق ہوا تو قبول ، اگر انکی عقل میں نہ آیا، انکی سمجھ کے خلاف ہوا تو قبول نہیں کرتے۔

سن لو! کان کھول کر سن لو! اس طرح کے نام کے مسلمان حقیقی مسلمان نہیں، انکا ایمان اللہ و اس کے رسول پر نہیں بلکہ اپنی عقل،سوچ اور سمجھ پر ہے۔ بہت سے ایسے مسلمان ہیں جن کی نظر صرف دنیا پر ہے۔

اپنا پیٹ، اپنی شرمگاہ اور اپنے ذاتی مفاد، نفسانی خواہشات، خود غرضی ان کا قبلہ، نصب العین ہے۔ ان کا رخ اسی طرف ہے، اس طرح کے مسلمان جب کسی بھی اللہ کے حکم کو ظاہری طور پر دنیاوی لحاظ سے نقصاندہ سمجھتے ہیں، تو اس کا انکار کردیتے ہیں۔ زبان سے چاہے انکار نہ بھی کریں لیکن اس حکم کو ان کا دل تسلیم نہیں کرتا۔

یہی لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں۔مسلمانی کا دھوکہ لگا ہوا ہے بلکہ مسلمان کے نام سے سادہ مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کہ دیکھو! ہم بھی مسلمان ہیں، ہمارے نزدیک دنیا ہی سب کچھ ہے، ہم بھی مسلمان ہیں ہمارے نزدیک دین کی کوئی اہمیت نہیں، ہم بھی مسلمان ہیں، ہماری مرضی جو حکم مانیں ،جو نہ مانیں، ہم بھی مسلمان ہیں، ہم لیکن بے وقوف نہیں بلکہ دین کی پابندی قبول کریں، ہم بھی مسلمان ہیں لیکن ہمیں ایک نماز پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہم بھی مسلمان ہیں۔ لیکن ہماری مرضی جس حکم میں شک کریں، جس حکم کا چاہیں مزاق اڑائیں، جس حکم کی چاہے کھلم کھلا مخالفت اور برائی کریں۔

جان لو! یہی لوگ منافق ہیں اور کچھ نہیں تو عملی طور پر منافق ہیں ہی۔ کوئی بھی چور خود کو چور نہیں کہتا۔ لیکن عمل سے چور ثابت ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی منافق خود کو منافق نہیں کہتا اور نہ ہی سمجھتا ہے۔ لیکن عمل سے منافق ثابت ہوتا ہے۔

اس لیے مسلمان اس طرح کے منافقوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کریں اور دین اسلام کی اہمیت کو سمجھیں۔ اور صرف نام کے نہیں کام کے مسلمان بن کر دکھائیں۔ کچے نہیں بلکہ پکے مسلمان بنیں۔

یاد رکھیں! صرف مسلمان کے گھر پیدا ہونا جنت میں جانے کے لیے کافی نہیں بلکہ اس کے لیے ایمان بنانا پڑتا ہے۔ اور عمل صالح کی بھٹی سے گذر کر ہی ایک مسلمان جنت میں جانے کے لائق ہوسکتا ہے۔ لیکن پھر بھی جنت میں جانے کے لیے اللہ کے فضل کے بغیر کوئی جنت میں نہیں جاسکتا!

اب وہ بے وقوف ذرا غور کریں! جو گناہوں کی، اللہ کی نافرمانی کی اور سنت کی مخالفت کی زندگی گزار کر بغیر توبہ کے جنت میں جانے کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ اصل میں شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں۔ اللہ ہم سب مسلمان کو شیطان کے دھوکے سے نکالے اور باعمل باکردار پکا سچا مسلمان بناے اور حق والوں کو پہچان کر انکا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close