ایک احساس-صدف نایاب

آج سب گھر والے ایک رشتے دار کی طرف جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔ میں نے چھوٹی بیٹی کو بھی ساتھ ہی بھیج دیا کہ چلو… سیر ہو جائے گی۔ میرا بھی جانے کا ارادہ تھا مگر چھوٹے بیٹے کی طبیعت کی خرابی کے باعث جانے کا ارادہ ترک کردیا اور اسے لے کر ہسپتال چلی گئی۔ واپس آئی توگھر بالکل خالی تھا۔ اگرچہ بالائی منزل پر رشتے دار موجود تھے مگر نچلی منزل میں، میں بالکل اکیلی اپنے دو سال کے بچے کے ساتھ تھی۔ اوپر والوں نے بھی شاید یہ سمجھا کہ میں بھی گئی ہوئی ہوں لہٰذا، ان کا دروازہ بھی بند تھا۔اب میں بالکل تن تنہا تھی، نیچے کا پورشن ہوتا بھی خوب بڑا اور لمبا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ بچپن ہی سے کوئی بہت زیادہ ڈرپوک تو نہیں رہی کہ بالکل ہی اکیلی نہ رہ سکوں مگر اندھیرے اور اکیلے پن کا ایک نفسیاتی ساخوف بہرحال اعصاب پر طاری ہو ہی جاتا ہے۔ ابھی ساگ بھی رکھا ہے، وہ بھی بنانا ہے۔ میں یہ سوچ ہی رہی تھی اور پالک کی گڈیاں اٹھا کر لائی کہ اب کاٹوں گی، اچانک انتہائی زور وشور سے آندھی چلنے لگی۔ سائیں…. سائیں…. کی ہول ناک آواز۔ دروازے، کھڑکیاں، سب تڑتڑ بجنے لگے۔ بجلی ایک جھٹکے سے چلی گئی مگر اللہ کا شکر، یو پی ایس کی بدولت یہ پریشانی بھی ایک لمحے سے کم ہی کی تھی۔ وینٹ میں رکھے کوڑے کے ڈبے لڑکھڑانے لگے۔ ایک زوردار دھماکا ہوا اور بجلی کی کڑک وبادل کی گرج سے میں سہم گئی۔ وینٹ ہی میں لاؤنج کی جالی میں کولر لگا ہوا ہے۔ اس پر کچھ فالتو تھرماپول کی شیٹیں رکھی ہوئی ہیں، جو تیز آندھی کے باعث سر…. سر…. شیشیے سے ٹکرا کر ایک عجیب سی آواز پیدا کر رہی تھیں۔ پورچ میں کھڑی گاڑی بھی گرج چمک کی آواز سے بولنے لگی۔ بیٹھک کا دروازہ اگرچہ بند تھا مگر تند ہوا کے جھونکے اسے دھکا دے رہے تھے، جس کے باعث وہ دھڑ دھڑ بول رہا تھا۔
پانچ دس منٹ کے اس عرصے میں سارا گھر ایک پُراسرار حویلی کا نقشہ پیش کرنے لگا اور ان سب میں کچھ دیر کے لیے ڈر کے مارے میرے اوسان خطا ہونے لگے۔ بیٹا بھی ان آوازوں سے ڈر کر رونے لگا۔ میں نے اپنے میاں کو فون کر کے پوچھا کہ آپ کہاں ہیں؟ انہیں کسی جگہ ضروری کام سے جانا تھا جس کے باعث دیر سے گھر لوٹنا تھا۔ میں نے تھوڑا برہم ہوتے ہوئے کہا، ”آج جلدی آجائیں، چھوڑیں کل چلے جائیے گا“۔ مگر ان کا کام ضروری تھا اس لیے مجھے سمجھانے لگے۔ میں نے بھی ”ٹھیک ہے“۔ کہہ کر فون کاٹ دیا۔ ابھی میں اسی ٹینشن کی حالت میں تھی کہ ایک احساس نے دل ودماغ پر دستک دی اور میں اپنے آپ کو انتہائی طاقت ور محسوس کرنے لگی۔ اگرچہ میں ڈر گئی تھی مگر ”حَسبنا اللہ“ کا ورد بے اختیار زبان پر جاری ہوگیا۔ ایسے میں اس احساس کا پیدا ہونا کہ چلو…. کوئی اور ذی روح نہ سہی مگر اللہ تو ساتھ ہے۔ اس احساس نے مجھے بے پناہ حوصلہ اور ہمت بخشی۔ ایک اور اتفاق یہ ہوا کہ دن میں، میں اپنی بیٹی کو بتا رہی تھی کہ ”بیٹا! چاہے ماما بابا آپ کو دیکھیں نہ دیکھیں مگر اللہ آپ کی ہر حرکت کو دیکھ رہا ہے“۔ بس اس بات پر عمل کا وقت مجھ پر اس وقت آیا اور اللہ نے شاید مجھے چیک کرنے کے لیے ہی مجھے ان حالات میں رکھا کہ میں اپنے اس کہے پر کتنا ایمان رکھتی ہوں۔
اللہ کے ہونے کا احساس بہت ہی زبردست تھا۔ بالکل ایسا لگا کہ کوئی میرے ساتھ ہے، میرے دل کے بالکل قریب مجھے خود کو سنبھالنے میں مدد دی۔ ڈر وخوف کا ایسا عالم تھا کہ شیطان نے فوراً دماغ میں بسیرا کرلیا۔ بس اس ایک احساس کا آنا تھا کہ ’اللہ دیکھ رہا ہے۔‘ میرے حواس بحال کر دیے اور میں نے سکون سے جا کر نماز مغرب ادا کی پھر واپس کچن میں آکر کام نمٹائے۔ اتنی دیر میں آندھی کا زور بھی ٹوٹ گیا اور ابر ِرحمت برسنے لگا۔آج کے اس واقعے نے مجھے احساس دلایا کہ اگر آج ہم میں سے ہر کوئی یہ بات سمجھ لے کہ وہ ذات، جسے اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ وہ ہر پل ہماری نگرانی کر رہا ہے تو ہر انسان اپنے ہاتھوں سے کمائی جانے والی برائیوں کا بیش تر حصہ اپنی زندگی سے ختم کر دے بلکہ اللہ کی توفیق سے حسب استطاعت برائی کو حددرجہ دبا دے، یہاں تک کہ وہ ہماری زندگیوں سے حذف ہی ہو جائے، آمین اور ہر طرف نیکی کا دَور دَورہ ہو۔
٭……٭……٭