پاکستان میں خواتین کو فیس بک اور واٹس ایپ پر ہرساں کرنا سب سے زیادہ

خواتین کو ہراساںکرنے میں سب سے زیادہ جو ایپس استعال کیے جاتے ہیں ان میں فیس بک اور واٹس ایپ ہیں اور پاکستان میں ان دو ایپس سے عورتوںکو ہراساں کیا جاتا ہے ۔
تفصیل کے مطابق یہ بات ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (ڈی آر ایف) کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتائی گئی ہے کہ خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے ۔
ڈی آر ایف کی جانب سے سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن کے 5 سال مکمل ہونے ہونے پر یہ رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق 5 برسوں کے دوران 11 ہزار 681 شکایات موصول ہوئیں۔
2021 میں 4441 کیسز ہیلپ لائن میں رپورٹ ہوئے یعنی اوسطاً ہر ماہ 370 کیسز جبکہ مارچ سے ستمبر کے دوران ان میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ڈیٹا کے مطابق 68 فیصد کالز خواتین، 30 فیصد مردوں اور ایک فیصد خواجہ سراؤں نے کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں آن لائن ہراساں کیے جانے کے سب سے زیادہ کیسز واٹس ایپ کے تھے جس کے بعد فیس بک دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2021 میں موصول ہونے والی 893 شکایات بلیک میلنگ کے حوالے سے تھیں، 727 کیسز تصاویر کے بغیر اجازت کے استعمال کے تھے۔
ڈی آر ایف نے مطالبہ کیا کہ پریونٹیشن آف الیکٹرونکس کرائم ایکٹ (پیکا ) کی شق 53 کے مطابق ششماہی رپورٹ کا اجرا یقینی بنانے کے ساتھ عوام تک اس کی رسائی ممکن بنائی جائے۔
یاد رہے اب ان دو ایپس پر نگرانی کرنے کے لیے مالکان سے رابطہ کیا گیا ہے جلد اس پر عمل کیا جاسکے گا ۔