خبریںصفحہ اول

کراچی میں سجا کتابوں کا میلہ

کراچی کے ایکسپو سینٹر میں 5 روزہ اٹھارویں عالمی کتب میلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ آج کے اس کتب میلے کو دیکھ کر جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی، ان کی بات غلط لگی۔
یہاں تو جیسے یہ پہلی صدی لگ رہی تھی، طلبہ و طالبات اور شہریوں کی آمد کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، نمائش میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی، ایک اندازے کے مطابق اتوار کے روز ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے عالمی کتب میلے میں شرکت ہوئی۔
اس موقع پر الخدمت کی جانب سے طلبہ و طالبات اور شہریوں کے لیے منرل واٹر کی موبائل سروس بھی موجود تھی۔ عالمی کتب میلے میں سیاسی، مذہبی، علمی، ادبی، وکلاء، ججز سمیت دیگر شعبہ ہائے شخصیات کی آمد کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔ پبلشرز اور بک سیلرز کی جانب سے اتوار کے روز شہریوں کے لیے کتب پر خصوصی رعایت بھی دی گئی۔ کراچی عالمی کتب میلے میں 1لاکھ 40ہزار سے زائد کتب موجود ہے۔
عالمی کتب میلے میں مصنفین کی جانب سے ادبی کتب کی رونمائی ہوئی جبکہ مختلف پبلشرز کی جانب سے علمی و ادبی شخصیات کی حوصلہ افزائی کے لیے سمینار کا اہتمام کیا گیا۔ عالمی کتب میلے میں آنیوالے شہریوں کا کہنا تھا کہ عالمی کتب میلے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ سستی اور تمام شعبہ جات پر مبنی کتب مہیا ہوجاتی ہے اور بچوں کی کتب بھی مل جاتی ہے۔ اس میلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے اس کتب نمائش کا پورے سال انتظار کرتے ہیں تاکہ بچوں اور اپنے لیے کتب لے جائیں۔
طلبہ کے لیے مختلف سرگرمیوں میں کوئز، ٹیبلو اور دیگر مقابلے جاری رہے۔ پانچ روزہ عالمی کتب میلہ کا کل بروز پیر آخری روز ہوگا۔ عالمی کتب میلے کی انتظامیہ کی جانب سے معذور افراد کو کتب میلے کے داخلے کے دوران ویل چیئر کا بھی انتظام دیکھنے کو ملا۔ شہریوں نے عالمی کتب میلے کی انتظامیہ کے رویہ کی تعریف بھی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اسکول و مدرسہ کے طلبہ کی بڑی تعداد نے کتب نمائش میں شرکت کی۔
نوٹ:
اگر آپ نے کتب میلے میں شرکت کی ہے تو اپنی روداد ہمیں لکھ بھیجیے ویب سائٹ پر آپ کو جگہ دی جائے گی۔

 

عارف رمضان جتوئی

بلاگر رائٹرز کلب کے بانی ہیں، روزنامہ جسارت سے بطور نیوز سب ایڈیٹر اور نیوز کلیکشن انچارج وابستہ ہیں۔ مضمون و کالم نگاری بھی کرتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں مضامین، فیچر اور کہانیاں شایع ہوتی رہتی ہیں۔۔
Back to top button

New Report

Close