
بلڈ پریشر سے مراد وہ قوت ہے جو خون کی نالیوں کی دیواروں، بنیادی طور پر شریانوں کے خلاف گردش کرتے ہوئے لگائی جاتی ہے، کیونکہ دل اسے پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔ یہ ایک ضروری جسمانی پیرامیٹر ہے جو خون کے مناسب بہاؤ کو برقرار رکھنے اور مختلف ٹشوز اور اعضاء کو آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے.
نارمل بلڈ پریشر: نارمل بلڈ پریشر 90/60 mmHg سے 120/80 mmHg تک ہوتا ہے۔ یہ مجموعی صحت اور قلبی امراض کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک بہترین سطح سمجھا جاتا ہے۔ہائی بلڈ پریشر کا تعلق اکثر ذاتی زندگی میں اپنائی جانے والی خراب عادت کی وجہ سے ہوتا ہے مثال کے طور پر تمباکو نوشی، شراب پینا، وزن زیادہ ہونا اور ورزش نہ کرناتمباکو نوشی کے عادی افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ عام ہوتا ہے اس لیے تمباکوشی کو مرحلہ وار ختم کرنا، میٹھی اشیا جیسے سوڈا یا دیگر کا کم از کم استعمال کرنا چاہیے اور نمک کے کم استعمال سے بھی بلڈ پریشر سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بلڈ پریشر کی پیمائش دو طریقوں سے ہوتی ہے۔
ایک سسٹولک پریشر یعنی وہ دباؤ جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خون دل سے شریانوں میں جاتا ہے اور دوسرا ڈائسٹولک پریشر جو شریانوں میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دل آرام کرتا ہے۔
خطرات:ہائی بلڈ پریشر دل کی بیماری، فالج، گردے کی بیماری اور پردیی دمنی کی بیماری سمیت مختلف دل کی حالتوں کے لیے ایک اہم خطرے کا عنصر ہے۔ طرز زندگی میں تبدیلیاں اور اگر ضروری ہو تو، ہائی بلڈ پریشر کو منظم کرنے اور متعلقہ پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اکثر ادویات کی سفارش کی جاتی ہے
بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
بلڈ پریشر ہونے یا ہائی بلڈ پریشر ہونے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں عام طور پر یہ کسی بھی طبی حالت کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہےجیسے کہ گردے کی بیماری، تھائیرائڈ، کسی خاص قسم کا ٹیومر وغیرہ۔ اس کی علاوہ خاندانی تاریخ والے لوگوں میں بھی ہائی بلڈ پریشر کی زیادہ شکایت پائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض خاص قسم کی دوائیں اور خوراک بھی ہائی بلڈ پریشر کا سبب بن سکتی ہیں
موٹاپا بھی اس کی ایک اہم وجہ بنتا ہے
علامات :ہائی بلڈ پریشر کی شدت بڑھنے پر جو مخصوص علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
شدید سر درد
آنکھوں میں خون کے دھبے
چکر آنا
ناک سے خون بہنا
بینائی کے مسائل
سانس لینے میں مشکلات
دل کی دھڑکن میں بےترتیبی
تدارک:
اس بیماری سے بچنے کے لیے سب سے اہم اپنی زندگی کا جائزہ ہے مناسب دوا، خوراک، ورزش وہ اہم گر ہیں جو زندگی کو توازن میں رکھنے کے ضامن ہیں۔