خبریںصفحہ اول

آرٹس کونسل کراچی میں 4 روزہ عالمی اُردو کانفرنس کا آغاز

کراچی، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں 4 روزہ عالمی اُردو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہل علم و دانش نے کہا ہے کہ اُردوزبان کی آواز اور چاشنی ان سب تک پہنچتی ہے جو دل اور احساس رکھتے ہیں، اُردو زبان زبانوں کا معجزہ ہے، تخلیق کاروں کو جس فضاءکی ضرورت ہوتی ہے وہ مکمل طور پر انہیں دستیاب نہیں مگر وہ کسی حد تک اپنے لیے راہ نکال لیتے ہیں، عالمی اُردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت زہرا نگاہ، اسد محمد خان، کشور ناہید، منیزہ ہاشمی، نور الہدیٰ شاہ، یوسف خشک، منور سعید اور بھارت سے آن لائن گوپی چند نارنگ نے کی جبکہ محقق اور ماہرین تعلیم ڈاکٹر جعفر احمد اور ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق رحمن نے کلیدی مقالے پیش کیے.

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ نے کہاکہ ان کی پیدائش پاکستان کی ہے اور ان کی زبان بلوچی اور سرائیکی ہے جبکہ انہیں پشتو بھی آتی ہے، انہوں نے کہاکہ مجھے اُردو کا جادو اورجامع مسجد دہلی کی سڑھیوں کا فیضان بعد میں نصیب ہوا مگر اُردو میرے ڈی این اے میں شامل ہے، انہوں نے کہاکہ اردو زبان میرے لیے راز وں بھرا بستہ ہے اور یہ زبان میرے وجود کا حصہ بنتی چلی گئی ہے، انہوں نے کہاکہ یہ خطہ زبان کے معاملے میں بہت زرخیز ہے اتنی زیادہ زبانیں کہیں اور نہیں بولی جاتیں جو اس خطے میں بولی جاتی ہےں، انہوں نے کہاکہ اردو جیسی زبان اور شیرینی جس میں عربی اور فارسی کی لطافت اور شائستگی کے ساتھ ساتھ ہماری مٹی کی خوشبو بھی موجود ہے اُردو زبان میں ہماری دھرتی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، عربی اور فارسی کے لفظ اُردو زبان میں جس طرح سے گھل مل گئے ہیں اس سے اُردو زبان کی خوبصورتی مزید بڑھ گئی ہے.

ماہر تعلیم اور محقق ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ اُردو اور تہذیب کے باہمی تعلق کی صورت حال نے ادب کی پرورش کی ہے اور اس سے ہمار اکلچر بھی بہتر ہوا ہے، انہوں نے کہاکہ اس وقت کلچر کی وسعت کم ہو رہی ہے، ہم اپنے کلچر کا جشن ایسے حالات میں منا رہے ہیں جو ہمارے لیے موافق نہیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان وجوہات پر بھی نظر رکھیں کہ جن کیاریوں میں ادب کے پھول کھلتے ہیں اس میں عدم برداشت کا زہریلا پانی کس تیزی سے چھوڑا جارہا ہے، انہوں نے کہاکہ ادب کی دنیا میں تنقید کے معیار بدلتے رہتے ہیں ہمارے ہاں مختلف مکاتب فکر ہر دور میں موجود رہے ہیں جو ادب کے کاررواں کو آگے بڑھانے کا ذریعے بنے ہیں، کلچر کی کشادگی ادب کے لیے ناگزیر ہے، انہوں نے کہاکہ افکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کسی بھی دفتر میں ادب کی شرائط طے نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ ادیب کے دل کی بارگاہ میں رجسٹرڈ ہوتی ہیں.

ڈاکٹر طارق رحمن نے کہاکہ اُردو ہماری قومی زبان ہے لیکن ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ دیگر علاقائی زبانوں کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے، انہوں نے کہاکہ اردو زبان کبھی کبھی غلبے والی زبان کی طرح بھی ہوتی ہے مگر جب دیگر زبانوں کی بات کی جاتی ہے کہ اردو غلبے والی زبان ہی کہلاتی ہے، انہوں نے کہاکہ اردو زبان کی وسعت اور کشادگی اپنی جگہ مگر دیگر مقامی زبانوں کو بھی اہمیت دیتے ہوئے ہمیں اپنے ساتھ آگے لے کر چلنے اور انہیں فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی اُردو زبان کی طرح قومی زبان کا درجہ حاصل کریں.

صدر نشیں زہرا نگاہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر آج حالات شعر وسخن اور تہذیب و تمدن کے لیے سازگار نہیں ہیں تو اس طرح کی کانفرنسز اور اہل قلم کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی بدولت وہ وقت بھی آئے گا کہ جب معاشرہ بدلے گا، سماج کروٹ لے گا اور ہم دیکھیں گے کہ عدم برداشت کی جگہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے جذبات پیدا ہوچکے ہوں گے اس موقع پر سیکریٹری آرٹس کونسل پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے اظہارِ تشکر کیا جبکہ افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی اُردو کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسندی کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے ادباءاور شعراءبہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ہمیں اپنی نوجوان نسل کو کتابوں کے قریب لانا ہوگا، ہر ضلع میں نئی لائبریریاں قائم کی جائیں گی، ادب اور اُردو زبان کے فروغ کے لیے سندھ حکومت ہر ممکن تعاون کرے گی، شعراءاور ادباءکی کہی ہوئی باتیں دیرپااثر رکھتی ہےں، لہٰذا انہیں معاشرے میں موجود بگاڑ کو ختم کرنے کے لیے کردار ادا کریں.

اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت و تعلیم سید سردار علی شاہ، مشیر وزیراعلیٰ سندھ اور ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے بھی خطاب کیا.

 

Back to top button

New Report

Close