اسلامصفحہ اول

اللہ کی محبت کا حصول

عشاءمقبول

اللہ نے انسان میں کئی طرح کی محبتیں بھردی ہیں۔ خودسے لے کر اپنی اولاد اور پھر مال تک وہ تمام محبتیں ہیں جو ہر کسی میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اگلا درجہ ہے اپنے ساتھ کے رشتوں سے محبت کرنا اور پھر اس سے محبت کرنا جو دکھائی نہ دے۔ اللہ سے محبت سب پر فوقیت رکھتی ہے ۔
اگر ہم کائنات کو دیکھیں توخیال آتا ہے کہ یہ سب کس نے بنایا اور اتنا منظم کون چلا رہا ہے۔ اس سوال کا جواب ہے خالق کائنات اللہ رب العزت کی ذات ہے جو ہے اور رہے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے تو ہم اس ہستی کے شکر گزار اور احسان مند کیوں نہ ہوں اور اس سے محبت کیوں نہ کی جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے ”اور اللہ کے احسانات کو گننا چاہو تو تم نہ گن سکو گے۔“ (ابرہیم)
محبت کو دیکھا جائے تو وہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک محبت حسی و جبلی ہوتی ہے۔ جیسے ماں کو اپنے بچے سے ہوتی ہے اور ایسی محبت جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے اور ایک محبت عقل کی بنیاد پر ہوتی ہے جو انسان کے ساتھ خاص ہوتی ہے جو عقل کی رہنمائی فرماتی ہے۔ مومن کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ صرف اللہ کی ذات سے محبت ہونی چاہیے۔
ارشاد ربانی ہے، ” ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھتے ہیں“ (البقرہ)
اللہ کے احسانات کو گننا ممکن نہیں مگر کچھ وہ ہیں جن کو دیکھ کر ہمیں محسوس ہوگا کہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کیوں کی جائے۔ اللہ نے ہمیں عقل و شعور عطا کیا ، دیگر مخلوقات سے ممتاز بنایا۔زمین میں رہنے کے تمام اسباب عطا کیے، خلافت ارضی عطا کی، انبیاءکرام اور پیغمبر اور رسول بھیجے، ہم پر اپنے پیارے نبی (صلی علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے آسمانی کتاب بھیجی جو نہ صرف دنیا میں ہماری رہنمائی کرتی ہے بلکہ آخرت میں بھی شفاعت کا ذریعہ ہے۔
اللہ ہر وقت ہماری فریاد سنتا ہے اور ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑتا، وہ ہمارے حق میں مہربان اور سدا رحم کرنےوالا ہے، ہمارے گناہوں پر پردہ پوشی کرنے والا ہماری توبہ قبول کرنے والا ہے۔
ان احسانات کا مطلب ہے کہ ہم بھی اللہ سے محبت کریں، اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر زندگی گزاریں۔ اللہ تعالیٰ کی محبت کے کچھ طریقے وتقاضے ہیں ، یعنی جو اللہ کو پسند ہے وہ کریں جو پسند نہیں وہ چھوڑ دیں اسی طرح ہم اس کی محبت کے مستحق بن سکتے ہیں ۔
جس سے محبت کی جاتی ہے اس کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اللہ کو شرک پسند نہیں، بدعت پسند نہیں، ہمیں ان سب سے بچنا چاہیے۔ ارشاد ربانی ہے”آپ (صلی علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہوتو میری اتباع کرو پھر اللہ تم سے محبت کریں گا۔“
اللہ کی محبت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے، ہمیں قرآن سے رہنمائی ملتی ہے
”بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ ۔۔ ”بے شک اللہ تقویٰ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ ۔۔ ”بے شک اللہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“۔۔”بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“۔۔اور کچھ اخلاق ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا جیسے کہ”’ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا’“۔” بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔۔”بے شک فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔
مختصراً ہم یوں کہہ سکتے ہیں ہمیں وہ اخلاق اپنانے چاہیے جس سے ہم اللہ کی محبت کی مستحق بن سکتے ہے جیسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ان اخلاق کو ترک کرنا چاہیے۔اللہ ہمیں اپنا محبوب ترین بنائے اور ہمیں اپنے غضب اور ناراضگی سے بچائے، آمین
٭….٭….٭

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close