
اسلام آباد: پاکستان نے ازبکستان اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی ریلوے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، اس معاہدے کا مقصد خطے میں روابط اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینا ہے۔
ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبے کا مقصد ایک ریلوے لائن تعمیر کرنا ہے جو ازبکستان کو افغانستان کے ذریعے پاکستان سے جوڑے گی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی دے گی۔
یہ منصوبہ خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کو فروغ دے کر استحکام، ترقی اور خوشحالی لانے کی توقع رکھتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر ایک پیغام میں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تینوں ممالک کے عوام اور حکومتوں کو نایاب آباد-خرلاچی ریلوے لنک پر مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے پر مبارکباد دی۔
ڈار کا کہنا تھا کہ یو اے پی ریلوے کاریڈور، جو علاقائی رابطوں اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگ میل ہے، وسطی ایشیائی ممالک کو افغانستان کے ذریعے پاکستانی بندرگاہوں سے منسلک کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ آج کے معاہدے پر دستخط، سابقہ پی ڈی ایم حکومت (2022-23) کی قیادت اور کمٹمنٹ کا نتیجہ ہیں، جب انہیں بطور وزیر خزانہ “برادر ممالک” کے ساتھ اس منصوبے کی بنیاد رکھنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، ان کے ہمراہ وزیر ریلوے حنیف عباسی، افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ، اور سیکرٹری ریلوے بھی موجود تھے ۔
دفتر خارجہ کے ایک سابقہ بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ کا دورہ کابل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسلام آباد یو اے پی ریلوے منصوبے کی کامیاب تکمیل کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، کابل میں تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر دستخط اس منصوبے کے نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں پاکستان نے افغانستان میں اپنے ناظم الامور کے عہدے کو سفیر کے عہدے میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی ماہ، اسلام آباد اور کابل نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سیکریٹری سطح کے مکینزم کے پہلے دور میں سرحد پار افراد کی قانونی نقل و حرکت کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں جن میں تجارت، ٹرانزٹ، سیکیورٹی اور علاقائی روابط پر تبادلہ خیال کیا، اور دہشت گردی کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ تسلیم کیا۔