بلاگصفحہ اول

نقوش رفتگاں

از قلم: سمیہ اقبال

ایک وقت تھا زیادہ دور نہیں ہم سے بڑوں کا بچپن۔ کیا ہی خوبصورت وقت تھا۔ جب آسائشات نہیں تھیں مگر محبت تھی۔ احساس، مروت، دوستی، حیاء سے لبریز زمانہ۔ ایک دوجے کے دکھ درد سانجھے تھے، تب بیٹیاں بھی سانجھی ہوتی تھیں۔ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں تھا مگر دل بہت سخی تھے۔

اب جیسے جیسے وقت اپنی رفتار بڑھا رہا یے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کے سفر کے سبھی حسین مناظر کہیں بہت پیچھے رہ گئے ہیں، اور آنے والے راستے صرف پرخار ہیں، ایسا لگتا ہے ہم زندگی کے سرسبزوشاداب راستوں سے نکل کر صحراؤں کی اور چل پڑے ہیں اب صرف تیز دھوپ، پیاس، اور سراب ہی ملیں گے۔

زندگی کا حسن، چاشنی سبھی جیسے ہمارے بڑوں کے بچپن کے ساتھ ہی جاچکے ہیں۔ ہم مادیت کے نفسا نفسی کے اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جس میں انسان اپنے آپ سے نظریں چرائے ہوئے ہیں۔
ہمارے پاس ایک دوسرے کو دینے کے لیے گھنٹوں کیا منٹوں کا ہی وقت نہیں ہے۔

سوشل میڈیا کی تو خیر بات ہی کیا؟ اس نے تو تابوت میں آخری کیل کا کام دیا یے۔ یہ تو وہ میٹھا زہر تھا جو ہماری نسلوں میں سرائیت کر کے ہماری بقا کی جڑیں کاٹ گیا۔دنیا سمٹ آئی اور رشتے صدیوں کی مسافت پہ کہیں رہ گئے۔

اس دور کے کیسے کیسے المیے ہیں قلم ساتھ ہی نہیں دیتا لکھوں تو شاہد خود سے نظریں نہ ملا پاؤں بس سوچتی ہوں کاش وہ وقت لوٹ آئے جو گزر گیا۔
یہ پیسہ، سوشل میڈیا، یہ آسانیاں زندگی گزرے ہوئے وقت کی ایک گھڑی پہ قربان ہائے کاش ہم محسوس کر پاتے ہم نے اپنا کتنا نقصان کر لیا ہے۔ ہائے کاش!

Back to top button

New Report

Close