اسلامبلاگ

بہترین لوگ-فخر الدین

”بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچائیں“۔ زندگی کا حق ہے کہ اسے تقسیم کرو اور جو تقسیم کرو گے، اس کی تمہارے ساتھ فراوانی ہوگی۔ چاہے وہ دولت ہو، علم ہو، محبت ہو، آسانیاں ہوں یا خدانخواستہ کسی کو دی ہوئی پریشانیاں۔ اسے جتنا تقسیم کرو گے اتنا ہی اضافہ ہوگا۔ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو گے تو خدا تمہاری زندگی آسان فرما دے گا۔ مال تقسیم کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں غیبی خزانوں سے مال عطا فرمائے گا۔ دوسروں کی مدد کیا کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ دوسروں کو سکون دو، اللہ تمہیں سکون دے گا۔ جو چیز لینا چاہتے ہو، وہ دوسروں کو دینا شروع کر دو۔
انسان کو ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے لیکن بغیر کسی غرض کے، کیوں کہ جو بدلہ اسے اللہ کے ہاں ملے گا، وہ دنیا میں کوئی نہیں دے سکتا۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ میں قحط پڑگیا۔ آسمان نے پانی برسانا چھوڑ دیا تھا اور زمین نے اناج اگانے سے انکار کردیا تھا۔ اس قحط کی وجہ سے پورے شہر میں غربت پھیل گئی تھی، لوگ دانے دانے کے لیے محتاج ہو گئے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت بڑے تاجر تھے۔ ان کی تجارت پورے عرب میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس دوران اُن کا ایک تجارتی قافلہ شام سے لوٹا۔ اس قافلے میں ایک ہزار اونٹ تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ جب یہ قافلہ مدینے پہنچا تو لوگوں کو تھوڑی راحت ہوئی۔ بچے، بوڑھے خوش ہوئے لیکن جیسے ہی یہ قافلہ مدینہ پہنچا، تاجروں کا ایک وفد بھی وہاں پہنچ گیا۔
اس وفد نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنا مال فروخت کرنا چاہیں گے؟ ان کا ارادہ تھا کہ سارا مال خرید لیں اور قحط سے مجبور لوگوں کو مہنگے داموں فروخت کر کے بہت سارا نفع کمائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ آپ اس کی کیا قیمت لگاتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا، ہم آپ کو دُگنا نفع دیں گے۔ یعنی ایک دینار کا مال دو دینار میں خریدیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اتنا نفع تو مجھے پہلے ہی مل رہا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر انہوں نے نفع اور بڑھا دیا۔ پھر بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہی جواب دیا کہ اتنا تو مجھے پہلے ہی مل رہا ہے۔ انہوں نے نفع اور بڑھا دیا لیکن اب بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے یہی کہا کہ اتنا تو مجھے پہلے ہی مل رہا ہے۔
یہ سن کر وہ تاجر حیران ہوئے۔ انہوں نے کہا، عثمان! (رضی اللہ عنہ) ہم اہل مدینہ کو خوب جانتے ہیں، یہاں کوئی تاجر ایسا نہیں جو تمہارے مال کو ہم سے زیادہ قیمت میں خریدے۔ آخر وہ کون ہے جو تمہیں ہم سے زیادہ نفع دے رہا ہے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، ”اللہ، جو نفع تم مجھے دے رہے ہو، میرے رب نے مجھے اس سے بہت زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے“۔ یہ کہہ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ تمام مال اہل ِ مدینہ اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا جائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے اس وقت قرآن کی یہ آیت تھی، ”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس میں سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے بڑھا دیتا ہے، وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی“۔ (البقرہ261)
آج کل لوگ ایک دوسرے کی مدد اس لیے نہیں کرتے کیوں کہ انہیں اپنے اچھے سلوک کا بدلہ نہیں ملتا۔ تاہم، ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمیں جس کی بھی مدد کرنی ہے بغیر کسی غرض کے کریں اور اس کے اجر کی امید صرف اللہ سے رکھیں کیوں کہ جو کچھ ہمیں اللہ دے سکتا ہے وہ اس دنیا میں کوئی نہیں دے سکتا۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ ”جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا“۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کس وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کرلے ناکہ دے اور بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔
٭……٭……٭

جواب دیں

Back to top button

New Report

Close